431
نظروں نے مرے دل کی ہر اک بات عیاں کی
حاجت نہ رہی مجھ کو کسی اور زباں کی
پہروں وہ مجھے تکتا ہے یوں پاس بٹھا کر
جیسے کہ میں باسی ہوں کسی اور جہاں کی
اے کاش ترے دل میں ملے مجھ کو ٹھکانہ
خواہش ہی نہیں یار کسی اور مکاں کی
کیسا ہے ترا شہر ترے شہر کی گلیاں
مجھ کو بھی بتاؤ نا کوئی بات وہاں کی
سہتا نہیں کوئی بھی محبت میں خسارہ
پھر بات کرے کون یہاں سود و زیاں کی
منزہ سیّد
