خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابااشفاق احمد
آپکا اردو بابااردو بابا سپیشلسوانح حیات

اشفاق احمد

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 7, 2020
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 7, 2020 0 تبصرے 91 مناظر
92

اشفاق احمد

پاکستانی ڈرامہ نویس و افسانہ نگار

حالات زندگی

جناب اشفاق احمد خان ہندوستان کے شہر ہوشیار پور کے ایک چھوٹے سے گاؤں خان پور میں ڈاکٹر محمد خان کے گھر 22 اگست، 1925ء کو بروز پیر پیدا ہوئے اشفاق احمد ایک کھاتے پیتے پٹھان گھرانے میں پیدا ہوئے تھے۔ آپ کے والد ایک قابل محنتی اور جابر پٹھان تھے۔ جن کی مرضی کے خلاف گھر میں پتا بھی نہیں ہل سکتا تھا۔ گھر کا ماحول روایتی تھا۔ بندشیں ہی بندشیں تھیں۔

تعلیم

اشفاق احمد کی پیدائش کے بعد اُن کے والد ڈاکٹر محمد خان کا تبادلہ خان پور (انڈیا) سے فیروز پور ہو گیا۔ اشفاق احمد نے اپنی تعلیمی زندگی کا آغاز اسی گائوں فیروز پورسے کیا۔ اور فیروز پور کے ایک قصبہ مکستر سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ بقول اے حمید۔
” اشفاق احمد کا حویلی نما آبائی مکان محلہ ہجراہ واری پتی میں واقع تھا ۔ اس ایک منزلہ مکان کے سامنے ایک باڑہ تھا جس میں گھوڑے بھینس اور دوسرے جانور بندھے رہتے ۔ اسی قصبے مکستر کے اسکول میں اشفاق احمد نے 1943ء میں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔
اشفاق احمد نے ایف ۔ اے کا امتحان بھی اسی قصبہ فیروز پور کے ایک کالج ”رام سکھ داس “ سے پاس کیا ۔ اس کے علاوہ بی ۔اے کا امتحان امتیازی نمبروں کے ساتھ فیروز پور کے ”آر، ایس ،ڈی “RSD کالج سے پاس کیا۔ قیام پاکستان کے بعد اشفاق احمداپنے خاندان کے ہمراہ فیروز پور (بھارت) سے ہجرت کرکے پاکستان آ گئے۔ پاکستان آنے کے بعد اشفاق احمد نے گورنمنٹ کالج لاہور کے ”شعبہ ارد و “ میں داخلہ لیا۔ جہاںکل چھ طلباءو طالبات زیر تعلیم تھے۔ کالج میں انگریزی کے اساتذہ اردو پڑھایا کرتے تھے۔ کتابیں بھی انگریزی میں تھیں،جبکہ اپنے وقت کے معروف اساتذہ پروفیسر سراج الدین، خواجہ منظور حسین ،آفتاب احمد اور فارسی کے استاد مقبول بیگ بدخشانی گورنمنٹ کالج سے وابستہ تھے ۔اور یہ سب اشفاق احمد کے استاد رہے۔ اُس زمانے میں بانو قدسیہ (اہلیہ اشفاق احمد ) نے بھی ایم اے اردو میں داخلہ لیا۔جب بانو نے پہلے سال پہلی پوزیشن حاصل کی تو اشفاق احمد کے لیے مقابلے کا ایک خوشگوار ماحول پیدا ہوا۔ انھوں نے بھی پڑھائی پر توجہ مرکوز کر لی۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سالِ آخر میں اشفاق احمد اوّل نمبر پر رہے۔ جبکہ بانو قدسیہ نے دوسری پوزیشن حاصل کی ” یہ وہ دور تھا جب اورینٹل کالج پنجاب یونیورسٹی میں اردو کی کلاسیں ابھی شروع نہیں ہوئی تھیں۔ ”

*اعلیٖ تعلیم *

گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اے کیا، اٹلی کی روم یونیورسٹی اور گرے نوبلے یونیورسٹی فرانس سے اطالوی اور فرانسیسی زبان میں ڈپلومے کیے اور نیویارک یونیورسٹی سے براڈکاسٹنگ کی خصوصی تربیت حاصل کی۔

ملازمت

اشفاق احمد نے ديال سنگھ کالج، لاہور میں دو سال تک اردو کے لیکچرر کے طور پر کام کیا اور بعد میں روم یونیورسٹی میں اردو کے استاد مقرر ہو گئے۔ وطن واپس آکر انہوں نے ادبی مجلہ داستان گو جاری کیا جو اردو کے آفسٹ طباعت میں چھپنے والے ابتدائی رسالوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ انہوں نے دو سال ہفت روزہ لیل و نہار کی ادارت بھی کی۔وہ 1967ء میں مرکزی اردو بورڈ کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے جو بعد میں اردو سائنس بورڈ میں تبدیل ہو گیا۔ وہ 1989ء تک اس ادارے سے وابستہ رہے۔ وہ صدر جنرل ضیاءالحق کے دور میں وفاقی وزارت تعلیم کے مشیر بھی مقرر کیے گئے۔

*ازدواجی زندگی *

گورنمنٹ کالج لاہور میں ایم اے کے دوران میں بانو قدسیہ ان کی ہم جماعت تھیں۔ بانو قدسیہ کا تعلق فیروز وپور مشرقی پنجاب ( بھارت ) سے تھا۔ قیام پاکستان کے ہجرت کرکے لاہور میں آکر قیام کیا۔ دونوں میں ذہنی ہم آہنگی اتنی ہو گئی کہ شادی کا فیصلہ کر لیا۔ اُن کے والد ایک غیر پٹھان لڑکی کو بہو بنانے کے حق میں نہ تھے۔ بقول ممتاز مفتی:

” اس نے جوانی میں روایت توڑ محبت کی اسے اچھی طرح علم تھا کہ گھر والے کسی غیر پٹھان لڑکی کو بہو بنانے کے لیے تیار نہ ہوں گے ۔ اسے یہ بھی علم تھا کہ گھر میں اپنی محبت کا اعلان کرنے کی اس میں کبھی جرات پیدا نہ ہوگی اس کے باوجود ایسے حالات پیدا ہو گئے کہ وہ محبت میں کامیاب ہو گیا۔ اگر چہ شادی کے بعد اُسے مجبوراً گھر چھوڑنا پڑا۔“

*ادبی خدمات *

اشفاق احمد ان نامور ادیبوں میں شامل ہیں جو قیام پاکستان کے فورا بعد ادبی افق پر نمایاں ہوئے ۔

ادبی تصانیف

1953ء میں ان کا افسانہ گڈریا ان کی شہرت کا باعث بنا۔ انہوں نے اردو میں پنجابی الفاظ کا تخلیقی طور پر استعمال کیا اور ایک خوبصورت شگفتہ نثر ایجاد کی جو ان ہی کا وصف سمجھی جاتی ہے۔ اردو ادب میں کہانی لکھنے کے فن پر اشفاق احمد کو جتنا عبور تھا وہ کم لوگوں کے حصہ میں آیا۔

افسانہ نگاری

ایک محبت سو افسانے اور اجلے پھول ان کے ابتدائی افسانوں کے مجموعے ہیں۔ بعد میں سفردر سفر (سفرنامہ)، کھیل کہانی (ناول)، ایک محبت سو ڈرامے (ڈراما سیریز) اور توتا کہانی (ڈراما سیریز) ان کی نمایاں تصانیف ہیں۔ 1965ءسے انہوں نے ریڈیو پاکستان لاہور پر ایک ہفتہ وار فیچر پروگرام تلقین شاہ کے نام سے کرنا شروع کیا جو اپنی مخصوص طرز مزاح اور دومعنی گفتگو کے باعث مقبول عام ہوا اور تیس سال سے زیادہ چلتا رہا۔

▪آسودگی
▪ایک ہی بولی
▪ایک محبت سو ڈرامے
▪ایک محبت سو افسانے
▪اور ڈرامے
▪بند گلی
▪بندئہ زمانہ (تلقین شاہ)
▪ڈھنڈورا
▪دھینگا مشتی
▪گڈریا * اُجلے پھول
▪گلدان
▪حیرت کدہ
▪حسرت تعمیر
▪جنگ بجنگ
▪کھیل تماشا
▪گھٹیا وٹیا
▪من چلے کا سودا
▪مہمان سرائے
▪ننگے پاؤں
▪پڑاؤ
▪سفر در سفر
▪سفرمینا
▪شہر آرزو
▪شاہلا کوٹ
▪شوارا شواری
▪صبحانے فسانے
▪طلسم ہوش افزا
▪توتا کہانی
▪اُچے بُرج لہور دے
▪وداع جنگ
▪زاویہ
▪زاویہ ( 2 )
▪زاویہ ( 3 )

ریڈیو

ساٹھ کی دہائی میں اشفاق احمد نے دھوپ اور سائے نام سے ایک نئی طرح کی فیچر فلم بنائی جس کے گیت مشہور شاعر منیر نیازی نے لکھے اور طفیل نیازی نے اس کی موسیقی ترتیب دی تھی اور اداکار قوی خان اس میں پہلی مرتبہ ہیرو کے طور پر آئے تھے۔ اس فلم کا مشہور گانا تھا اس پاس نہ کئی گاؤں نہ دریا اور بدریا چھائی ہے۔ تاہم فلم باکس آفس پر ناکامیاب ہو گئی۔

*ڈراما نگاری *

ستر کی دہائی کے شروع میں اشفاق احمد نے معاشرتی اور رومانی موضوعات پر ایک محبت سو افسانے کے نام سے ایک ڈراما سیریز لکھی اور اسی کی دہائی میں ان کی سیریز توتا کہانی اور تیرے من چلے کا سودا نشر ہوئی۔ توتا کہانی اور من چلے کا سودا میں وہ تصوف کی طرف مائل ہو گئے اور ان پر خاصی تنقید کی گئی۔ اشفاق احمد اپنے ڈراموں میں پلاٹ سے زیادہ مکالمے پر زور دیتے تھے اور ان کے کردار طویل گفتگو کرتے تھے۔
کچھ عرصہ سے وہ پاکستان ٹیلی وژن پر زاویہ کے نام سے ایک پروگرام کرتے رہے جس میں وہ اپنے مخصوص انداز میں قصے اور کہانیاں سناتے تھے۔

مطبوعات

افسانوی مجموعے و غیر مطبوعہ افسانے

ایک محبت سو افسانے (مطبوعہ 1951ء ۔ 13 افسانے)

▪توبہ
▪فہیم
▪رات بیت رہی ہے
▪تلاش
▪سنگ دل
▪مسکن
▪شبِ خون
▪توتا کہانی
▪عجیب بادشاہ
▪بندرابن کی کنج گلی میں
▪بابا
▪پناہیں
▪امی

اُجلے پھول (مطبوعہ 1957ء۔ 8 افسانے، 1رپورتاژ)

▪اُجلے پھول
▪گُل ٹریا
▪تنکہ
▪حقیقت ست نیوش
▪توشے بلے
▪صفدر ٹھیلا
▪گدڑیا
▪برکھا
▪ایل ویرا (روم سے رپورتاژ)

*سفرِ مینا (مطبوعہ 1983ء۔ 11 افسانے)
*
▪اٹوٹ مان
▪قاتل
▪قصہ نل دمنیتی
▪چور
▪مانوس اجنبی
▪بیا جاناں
▪محسن محلّہ
▪پانچ میل دور
▪کالج سے گھر تک
▪گاتو
▪فُل برائٹ

صبحانے فسانے

▪اماں سردار بیگم
▪خود بدولت
▪آڑھت منڈی
▪بٹیر باز
▪ماسٹر روشی
▪خانگیٔ سیاست
▪مسرور مرثیہ
▪شازیہ کی رخصتی
▪بے غیرت مدت خان
▪بندر لوگ
▪ڈھور ڈنگر کی واپسی
▪رازداں
▪پلِ صراط اور پاسپورٹ
▪وکھو وکھو
▪قصہ شاہ مراد اور ایک
▪احمق چڑیا کا
▪مہمان عزیز
▪بیک گراؤنڈ
▪زرناب گل
▪دم بخود
▪بدلی سے بدلی تک
▪چاند کا سفر
▪سہیل کی سالگرہ

پھلکاری

▪داؤ
▪اپنی ذات
▪رشوت
▪سلامتے کی ماں

غیر مطبوعہ افسانے (مختلف مجلات اور ادبی رسائل میں شائع ہوئے)

▪گھر نائیاں اور گھروندے
▪سونی
▪قصاص

طنز و مزاح

▪قلمکار
▪گرما گرم

ناولٹ

▪مہمانِ بہار (مطبوعہ 1955ء)
▪کھیل تماشا

دیگر

▪ہفت زبانی لغات
▪ایک ہی بولی
▪بابا صاحبا
▪طلسم ہوش افزاء
▪زاویہ
▪مہمان سرائے
▪شہر آرزو
▪عرض مصنف
▪پڑاؤ (تلقین شاہ)
▪آشیانے (تلقین شاہ)
▪بندۂ زمانہ (تلقین شاہ)

سفر نامہ

▪سفر در سفر

تراجم

▪ودائے جنگ (ارنسٹ ہیمنگوے کے ناول A Farewell to Arms کا ترجمہ)
▪چنگیزخان کے سنہری شاہین (ریٹا رتاشی کے ناول The Golden Hawks of Genghis Khan کا ترجمہ)
▪دوسروں سے نباہ (ہیلن سیڈمن شیکٹر کے ناول Getting Along With Others کا ترجمہ)

شاعری

▪کھٹیا وٹیا (پنجابی شاعری)

ٹی وی ڈرامے

▪ایک محبت سو ڈرامے (1988ء)
▪قلعہ کہانی (1990ء)
▪ٹاہلی تھلے
▪اچے برج لاہور دے
▪ننگے پاؤں (1991ء)
▪اور ڈرامے (1993ء)
▪حیرت کدہ (1995ء)
▪توتا کہانی (1998ء)
▪بند گلی
▪شاہلہ کوٹ
▪مہمان سرائے
▪من چلے کا سودا
▪تلقین شاہ
▪گلدان
▪جنگ بہ جنگ
▪حسرتِ تعمیر
▪دھینگا مشتی
▪ڈھنڈورا
▪شورا شوری
▪زاویہ (90 اقساط)

فیچر فلم

▪دھوپ اور سائے (بطور مصنف و ہدایتکار)

آخری ایام

7 ستمبر، 2004ء کو جگر کی رسولی کی وجہ سے اشفاق احمد کا اچانک انتقال ہوا۔

تحریر : نعمان حیدر حامی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • کشمیر میں بھارتی استعماریت
  • یہ جو ٹینشن ہے، دشمن ہے ہمارا
  • خوبصورت انعام
  • میں اللہ کا شکر ادا کرتی ھوں
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
یہ ہی چراغ جلینگے تو روشنی ہوگی!
پچھلی پوسٹ
مشرقی عشق اور شاطر شرفا

متعلقہ پوسٹس

روٹی کھاتی مورتیاں

نومبر 23, 2019

سوراخ

دسمبر 23, 2021

میلاد االنبیؐ کی خوشی

ستمبر 29, 2023

مری آنکھوں میں کوئی اشک اتارا جائے

مئی 14, 2020

ایک تو دھوپ نہیں اس پہ یہ سہرا بھی نہیں

اپریل 4, 2020

اینٹونینا کی جرات گناہ

مئی 27, 2023

آج تو اور کے سینے سے

مئی 14, 2024

ہم کو جہانِ شوق کا منظر

فروری 26, 2025

وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ

دسمبر 31, 2019

عشق ترا جاگیر نہ ہوتا

اکتوبر 21, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Visal abbasi on نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اسلامی گوشہ

آمد

ستمبر 4, 2026

چلو چلیں

ستمبر 2, 2026

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

اردو شاعری

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

ستمبر 4, 2026

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں...

ستمبر 2, 2026

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

اگست 31, 2026

سچ سامنے آنے لگا ہے

اگست 31, 2026

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • سچ سامنے آنے لگا ہے

    اگست 31, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

تیور جبینِ یار کے مبہم نہیں...

مئی 19, 2020

ٹھیک سے مسکرا نہیں رہا تھا

نومبر 14, 2021

 جل پری

فروری 26, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں