خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابامشرقی عشق اور شاطر شرفا
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزسید محمد زاہد

مشرقی عشق اور شاطر شرفا

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 7, 2020
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 7, 2020 0 تبصرے 85 مناظر
86

مشرقی عشق اور شاطر شرفا (ڈاکٹر خالد سہیل سے معذرت کے ساتھ)

گوتم بدھ نے کہا تھا ”گرچہ وہ ہزار آدمیوں کو ہزار بار فتح کر لے لیکن پھر بھی، جو خود کو فتح کر لیتا ہے وہی سب سے عظیم فاتح ہے۔“ قدیم چینی مذہب تاؤ مت کے بانی، 600 سال قبل مسیح کے دیوتا لاؤزی کہتے ہیں ”جو دوسروں کو فتح کرتا ہے وہ طاقت ور ہوتا ہے لیکن جو خود کو فتح کر لے وہ قوی تر ہے۔“ اس مذہب کی اخلاقیات میں خواہشات اور جذبات پر قابو پانے پر بہت زور دیا گیا ہے۔ اسلام میں خواہشات کو قابو میں لانے کی جدوجہد کو ’جہاد اکبر‘ کہا جاتا ہے۔ لارڈ بدھا کا ہی کہنا ہے ”اچھی صحت سے لطف اندوز ہونے، اپنے کنبے کو سچی خوشی پہنچانے اور سب کو امن و آشتی مہیا کرنے کے لئے سب سے پہلے سوچ پر قابو پانا اور خود کو نظم و ضبط کا پابند کرنا پڑے گا۔“

ڈاکٹر اسلم انصاری نے گوتم کا آخری وعظ ’تمام دکھ ہے‘ لکھا ہے۔ اس نظم میں بدھ مت کی چار بڑی سچائیوں کو بیان کیا گیا ہے۔ ان میں سے ایک دکھ ہے۔

”میں دکھ اٹھا کر، مرے عزیزو، میں دکھ اٹھا کر
حیات کی رمز آخری کو سمجھ گیا ہوں، تمام دکھ ہے
وجود دکھ ہے، وجود کی یہ نمود دکھ ہے،
حیات دکھ ہے، ممات دکھ ہے ”

بدھا نے کہا کہ خواہشات مصائب کا سبب ہیں۔ اگر خواہشات کو، جو تمام انسانی جذبات کی بنیاد ہیں، دور کر دیا جائے تو یہ جذبات ختم ہوجائیں گے اور پھر انسانی دکھ اور مصائب بھی ختم ہو جائیں گے۔

اس مقصد کا حصول ہشت پہلو دائرہ نما راستے پر چل کر کیا جا سکتا ہے۔ یہ راستہ صحیح سوچ، رویے، بول چال، خیالات اور محنت سے مراقبہ تک پہنچتا ہے۔

مراقبہ جس میں انسان اپنے من میں ڈوب کر، دنیا کی ہر چیز کو بھول کر، بقول اقبال سراغ زندگی پا لیتا ہے۔ وہ نفع نقصان سے ماورا ہو جاتا ہے۔ پھر اس کے اندر ایک ایسا شعلہ جل اٹھتا ہے جو کہ شعلگی سے ماورا ہوتا ہے۔ ہندو ازم کہتا ہے ”نفسانی خواہشات سے آزادی اور نروان حاصل کرنے کے لئے اپنے فرائض کسی بھی قسم کے اجر کی توقع کیے بغیر سر انجام دینے چاہئیں۔“

مشرقی مفکرین کی یہ وہ سوچ ہے، یہ وہ مشرقی خیالات ہیں، جس نے صدیوں سے مشرقی لوگوں کو گرویدہ کیا ہوا ہے۔ جرمن مفکر فریڈرک ہیگل کا کہنا ہے ”خیالات، آئیڈیاز ہی انسان کے دنیا کے ساتھ تعلق کی بنیاد ہیں۔ کسی دور اور علاقے کی تاریخ کو اس تعلق کی بنیاد پر ہی سمجھا جا سکتا ہے۔“

تصورات ہی کسی علاقے اور دور کے رسم و رواج، اقدار اور ثقافت کی بنیاد بنتے ہیں۔ مشرقی معاشرہ ان بڑے بڑے مذاہب کا پیروکار رہا ہے۔ اکیسویں صدی میں بھی بدھ مت، ہندو مت، تاؤ مت اور اسلام کا مشرق کے لوگوں کی زندگی میں بہت گہرا اثر ہے۔ مشرقی لوگ ہر چیز کو مذہب کی کسوٹی پر ہی پرکھتے ہیں کیونکہ صدیوں سے انہوں نے اپنے بزرگوں کو اس کے مطابق ہی زندگی گزارتے دیکھا ہے۔ مشرق کی رسوم، رواج، اقدار اور حدود اس معاشرہ کی ثقافت ہیں جس پر ان اقوام کے بیشتر افراد با رضا و رغبت مشترکہ طور پر عمل کرتے ہیں۔ محبت، رومانس اور جنس دو عاقل و بالغ افراد کا ذاتی معاملہ ہی ہے لیکن یہ عاقل و بالغ اس علاقے کے رسم و رواج اور ثقافت سے بالا ہو کر زندگی گزاریں گے تو یہ معاشرہ اسے قبول نہیں کرے گا۔ یہ صرف گناہ و ثواب کی بات نہیں، اس بنیاد پر معاشرہ کی پوری عمارت کھڑی ہے۔

ہیر کو اس کی مرضی اور مذہبی طور پر اس کی ’ہاں‘ لئے بغیر کھیڑوں کے ساتھ ماں باپ اور برادری نے رخصت بھی کر دیا لیکن اس ماورائے مذہب بیاہ کو ہیر اور رانجھا دونوں نے قبول نہ کیا اور پنجاب کی اس دھی کے رونے پر وارث شاہ نے بھی لکھ لکھ مارے وین۔

کالم۔
مشرقی عشق اور شاطر شرفا (ڈاکٹر خالد سہیل سے معذرت کے ساتھ)
06/12/2020 سید محمد زاہد 1 Views father, health, history, love, mother, punjab, sexual

گوتم بدھ نے کہا تھا ”گرچہ وہ ہزار آدمیوں کو ہزار بار فتح کر لے لیکن پھر بھی، جو خود کو فتح کر لیتا ہے وہی سب سے عظیم فاتح ہے۔“ قدیم چینی مذہب تاؤ مت کے بانی، 600 سال قبل مسیح کے دیوتا لاؤزی کہتے ہیں ”جو دوسروں کو فتح کرتا ہے وہ طاقت ور ہوتا ہے لیکن جو خود کو فتح کر لے وہ قوی تر ہے۔“ اس مذہب کی اخلاقیات میں خواہشات اور جذبات پر قابو پانے پر بہت زور دیا گیا ہے۔ اسلام میں خواہشات کو قابو میں لانے کی جدوجہد کو ’جہاد اکبر‘ کہا جاتا ہے۔ لارڈ بدھا کا ہی کہنا ہے ”اچھی صحت سے لطف اندوز ہونے، اپنے کنبے کو سچی خوشی پہنچانے اور سب کو امن و آشتی مہیا کرنے کے لئے سب سے پہلے سوچ پر قابو پانا اور خود کو نظم و ضبط کا پابند کرنا پڑے گا۔“

ڈاکٹر اسلم انصاری نے گوتم کا آخری وعظ ’تمام دکھ ہے‘ لکھا ہے۔ اس نظم میں بدھ مت کی چار بڑی سچائیوں کو بیان کیا گیا ہے۔ ان میں سے ایک دکھ ہے۔

”میں دکھ اٹھا کر، مرے عزیزو، میں دکھ اٹھا کر
حیات کی رمز آخری کو سمجھ گیا ہوں، تمام دکھ ہے
وجود دکھ ہے، وجود کی یہ نمود دکھ ہے،
حیات دکھ ہے، ممات دکھ ہے ”

بدھا نے کہا کہ خواہشات مصائب کا سبب ہیں۔ اگر خواہشات کو، جو تمام انسانی جذبات کی بنیاد ہیں، دور کر دیا جائے تو یہ جذبات ختم ہوجائیں گے اور پھر انسانی دکھ اور مصائب بھی ختم ہو جائیں گے۔

اس مقصد کا حصول ہشت پہلو دائرہ نما راستے پر چل کر کیا جا سکتا ہے۔ یہ راستہ صحیح سوچ، رویے، بول چال، خیالات اور محنت سے مراقبہ تک پہنچتا ہے۔

مراقبہ جس میں انسان اپنے من میں ڈوب کر، دنیا کی ہر چیز کو بھول کر، بقول اقبال سراغ زندگی پا لیتا ہے۔ وہ نفع نقصان سے ماورا ہو جاتا ہے۔ پھر اس کے اندر ایک ایسا شعلہ جل اٹھتا ہے جو کہ شعلگی سے ماورا ہوتا ہے۔ ہندو ازم کہتا ہے ”نفسانی خواہشات سے آزادی اور نروان حاصل کرنے کے لئے اپنے فرائض کسی بھی قسم کے اجر کی توقع کیے بغیر سر انجام دینے چاہئیں۔“

مشرقی مفکرین کی یہ وہ سوچ ہے، یہ وہ مشرقی خیالات ہیں، جس نے صدیوں سے مشرقی لوگوں کو گرویدہ کیا ہوا ہے۔ جرمن مفکر فریڈرک ہیگل کا کہنا ہے ”خیالات، آئیڈیاز ہی انسان کے دنیا کے ساتھ تعلق کی بنیاد ہیں۔ کسی دور اور علاقے کی تاریخ کو اس تعلق کی بنیاد پر ہی سمجھا جا سکتا ہے۔“

تصورات ہی کسی علاقے اور دور کے رسم و رواج، اقدار اور ثقافت کی بنیاد بنتے ہیں۔ مشرقی معاشرہ ان بڑے بڑے مذاہب کا پیروکار رہا ہے۔ اکیسویں صدی میں بھی بدھ مت، ہندو مت، تاؤ مت اور اسلام کا مشرق کے لوگوں کی زندگی میں بہت گہرا اثر ہے۔ مشرقی لوگ ہر چیز کو مذہب کی کسوٹی پر ہی پرکھتے ہیں کیونکہ صدیوں سے انہوں نے اپنے بزرگوں کو اس کے مطابق ہی زندگی گزارتے دیکھا ہے۔ مشرق کی رسوم، رواج، اقدار اور حدود اس معاشرہ کی ثقافت ہیں جس پر ان اقوام کے بیشتر افراد با رضا و رغبت مشترکہ طور پر عمل کرتے ہیں۔ محبت، رومانس اور جنس دو عاقل و بالغ افراد کا ذاتی معاملہ ہی ہے لیکن یہ عاقل و بالغ اس علاقے کے رسم و رواج اور ثقافت سے بالا ہو کر زندگی گزاریں گے تو یہ معاشرہ اسے قبول نہیں کرے گا۔ یہ صرف گناہ و ثواب کی بات نہیں، اس بنیاد پر معاشرہ کی پوری عمارت کھڑی ہے۔

ہیر کو اس کی مرضی اور مذہبی طور پر اس کی ’ہاں‘ لئے بغیر کھیڑوں کے ساتھ ماں باپ اور برادری نے رخصت بھی کر دیا لیکن اس ماورائے مذہب بیاہ کو ہیر اور رانجھا دونوں نے قبول نہ کیا اور پنجاب کی اس دھی کے رونے پر وارث شاہ نے بھی لکھ لکھ مارے وین۔

رانجھا دنیا تیاگ دیتا ہے، جوگ لے کر رنگ پور کھیڑیاں پہنچتا ہے۔ ہیر اس کے پاس باغ میں آتی ہے تو وہ سب سے پہلے یہی پوچھتا ہے کہ کہیں اس نے سیدے کو قبول تو نہیں کر لیا۔ ہیر جواب میں خدا رسول کی قسم کھا کر انکار کر دیتی ہے۔

کھیڑیاں وچ نہ پرچدا جیو میرا، شاہد حال دا رب رسول ہویا۔ (پرچدا، گھل مل جانا۔ جیو، دل)
پھر وہ سیدے کھیڑے کو بھی باتوں میں الجھا کر یہی سوال کرتا ہے۔
تیرے نال ناں چلیاں نفع کوئی، میرا عمل نہ پھرے وواہیاں نوں

(میرا عمل شادی شدہ عورتوں پر اثر انداز نہیں ہوتا اس لیے تمہارے ساتھ جانے سے اسے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ )

اس کے جواب میں کھیڑا پیر فقیر کی قسم کھا کر کہتا ہے۔
لوک آکھدے پری ہے ہیر جٹی، اساں نہیں ڈٹھی صورت ہیر دی جی
(لوگ کہتے ہیں کہ ہیرجٹی ایک پری ہے لیکن ہم نے تو اس کی شکل بھی نہیں دیکھی۔ )
جب رانجھے کو یقین ہو گیا کہ وہ بن نکاحی کھیڑوں کے پاس ہے تو اسے لے کر چلا آیا۔

مشرقی عشق صرف جنس پر مبنی نہیں، اس کے ساتھ یہ قربانی بھی مانگتا ہے۔ رانجھے نے ہیر سیال کے لئے بارہ برس چوچک کی بھینسیں چرائیں۔ یہ ویسا ہی حق مہر تھا جیسا نبی شعیب ؑ نے پیغمبر موسیؑ سے مانگا تھا۔ رانجھا تخت ہزارے کا چوہدری تھا اور ہیر کے عشق میں اپنی ذات کو ختم کر کے کاما بن بیٹھا۔ یہ وہی بات ہے جو کہ مشرق کا مفکر لاؤزی کہتا ہے ”اگر آپ حقیقتاً سب کچھ پانا چاہتے ہیں تو سب کچھ قربان کر دیں۔“

مشرقی عشق میں محبت اور ہوس میں فرق ہے۔ محبت جو کہ اعتماد پر پروان چڑھتی ہے۔ محبت جو کہ گناہ و ثواب سے مبرا ہو۔ جس میں کسی فریق کو شرمندگی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ خفیہ محبت میں دھوکا کا شکار کوئی بھی ہو سکتا ہے وہ چاہے مشرقی عورت ہو یا مغربی۔

بی بی سی کے پنوراما میں جب لیڈی ڈیانا سے گھڑسوار انسٹرکٹر میجر جیمز ہاوٹ سے تعلقات کے بارے میں پوچھا گیا تو اس کا جواب تھا ”وہ میرا مشکل وقت کا ساتھی تھا۔“

مارٹن بشیر نے آہستہ آہستہ آگے بڑھتے ہوئے سیدھا سوال داغ دیا ”کیا آپ کے تعلقات دوستی کی حدود پار کر گئے تھے؟“ لیڈی ڈیانا نے شرمندگی سے اقرار کیا ”ہاں، وہ مجھے پسند تھا۔ ہاں، مجھے اس سے محبت تھی۔ لیکن اس نے مجھے بہت شرمسار کیا۔“ جب وہ یہ کہہ رہی تھی تو اس وقت اس کی آنکھوں کی نمی سارا دکھ بیان کر رہی تھی۔

محبت نہیں یہ تو ہوس ہی ہوس تھی، وہ بھی نہ پہچان سکی۔ جنس کی ہوس اور پھر پیسے کی ہوس جس کے حصول کے لئے اس نے خفیہ تعلقات کی خبر بیچ ڈالی۔ ایک نفسیاتی طور پر آزاد اور معاشی طور پر خود مختار مغربی عورت بھی شاطر (شرفا، شریف) مرد کا شکار بن گئی۔ ہاں، یہ سچ ہے کہ خفیہ شرافت مشرق میں زیادہ برپا ہے کیونکہ یہاں چیزوں کو خفیہ رکھنا اور بھی زیادہ بڑی مجبوری ہے، مغرب میں تو کوئی پوچھتا ہی نہیں۔

مشرق کا عشق اور محبت یہاں کی ثقافت کے عین مطابق ہے۔ مشرقی مفکروں کے آئیڈیاز، نظریات یہاں کے عشق اور جنسی محبت پر پوری طرح اثر انداز ہوئے ہیں۔ عشق دکھ ہی دکھ ہے۔ جذبات کو دبا کر خواہشات کو تابع کرنے کا نام ہے۔ یہ سوچ پر قابو پانے کا نام ہے۔ یہ امن و آشتی کا نام ہے۔ یہ خود کو نظم و ضبط کا پابند کرنے کا نام ہے۔ یہ خیالات کی پاکی کے راستے مراقبہ تک پہنچنے کا نام ہے۔ یہ خود کو مٹانے کا نام ہے۔ یہ قربانی مانگتا ہے۔

ہم گرم علاقوں کے رہنے والے ہیں۔ ہمیں آگ سے خوف آتا ہے لیکن ہمارا عشق آگ میں جل جا نا ہے۔ ہماری سیتا اگنی پرکشا دیتے ہوئے آگ سے گزر جاتی ہے، جنگلوں میں درندوں کا سامنا کرتی ہے لیکن رام نام ہی جپتی ہے۔ ہماری سسی تھل کی تپتی ریت پر چلتے ہوئے بھی پنوں پنوں پکارتی ہے۔ اگر برف کے پہاڑ بھی مشرقی عشق کے راستے میں آ جاتے، اگر کوہ قاف کی دھولی دھار بھی پار کرنی پڑتی تو یہ ہنسی خوشی پار اتر جاتا۔ مشرقی محبت سردی سے ڈر کر پندرہ سالہ رفاقت توڑ کر، کم عمر بیٹی کو اکیلے باپ کے پاس چھوڑ کر کلے فورنیا نہ چلی جاتی۔ مشرقی محبت ’عمراں دے سودے‘ ہے بلکہ یہ نسل در نسل ساتھ نبھاتی ہے۔

یہ درست ہے کہ چند شاطر شرفا نے مشرقی معاشروں میں خٖفیہ شرافت برپا کر کے معاشرہ میں عشق اور محبت کا نام بدنام کیا ہوا ہے۔ مشرق کو اس بارے میں سوچنا پڑے گا۔ لیکن ان کی شاطرانہ شرافت کی وجہ سے پورے نظام کو تلپٹ نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی کوشش کا مقدر ناکامی ہی ہے۔ ویسے بھی ایسے شاطر دنیا میں ہر جگہ پائے جاتے ہیں۔

ہاں یہ بات بالکل صحیح ہے کہ ”ہمیں اپنی بچیوں اور بیٹیوں کو سکھانا ہے کہ وہ کیسے محبت اور ہوس میں فرق کریں تا کہ وہ کسی مرد، کسی محبوب اور کسی شوہر سے دھوکہ نہ کھائیں۔“

سید محمد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • سیلاب، سیاست اور مہنگائی!
  • دیوار کے پہلو سے بجھے دیپ اٹھا دیں
  • باغ میں تُو اگر نہیں آتا
  • احساس ۔ حصول سکون کا زریعہ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
اشفاق احمد
پچھلی پوسٹ
تخلیقی ذہن پہ تبلیغی اثرات

متعلقہ پوسٹس

کیا کورونا کسی نئے نظام کی تشکیل چاہتا ہے ؟

جولائی 15, 2020

روشن ذہن

جنوری 24, 2025

چراغ ہو کے لڑا ہوں ہواؤں سے تنہا

فروری 10, 2020

توبہ ہزار بار مری لب کشائی سے

اکتوبر 25, 2025

حملہ ہوا تھا

دسمبر 16, 2019

پیرِ کامل کس کو کہتے ہیں

جنوری 5, 2022

تلافی

جون 14, 2020

امن

اکتوبر 12, 2025

رات بھر جاگنا قبول کیا

جون 21, 2020

اردو لشکری زبان؟

دسمبر 18, 2019

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز

اسلامی گوشہ

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

اردو شاعری

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

اگست 30, 2026

ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

تیسری ہندکو کانفرنس

اگست 24, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط

    اگست 30, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

بساط پہ اک نظر

اگست 22, 2022

داد کب ضبطِ مسلسل پہ

اکتوبر 26, 2025

اُردو منقبت کی روایت

جنوری 1, 2023
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں