خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامکردار، کردار نگاری اور تخلیقیت
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزمدثر عباس

کردار، کردار نگاری اور تخلیقیت

از سائیٹ ایڈمن مارچ 16, 2026
از سائیٹ ایڈمن مارچ 16, 2026 0 تبصرے 140 مناظر
141

تخلیق میں کردار محض نام یا چہرہ نہیں ہوتا؛ وہ کہانی کا دل ہے جس سے معنی پیدا ہوتے ہیں۔ کردار کو مصنف تخلیق کرتا ہے، مگر اسے زندہ رکھنے کی ذمہ داری اسی بنیاد پر ہوتی ہے جو قاری کو انسان کا احساس دلائے۔

کردار کا پہلا ستون خواہش ہے۔ کردار کیا چاہتا ہے اور کیوں؟ یہی خواہش اسے حرکت دیتی ہے۔ دوسرا ستون کمزوری ہے؛ کوئی خوف، خامی یا ماضی کا زخم جو اسے مکمل بناتا ہے۔ تیسری چیز انتخاب ہے: دباؤ میں وہ کیا فیصلہ کرتا ہے؟ یہی لمحہ کردار کی سچائی ثابت کرتا ہے۔

کردار نگاری میں بولنے کا انداز، کوئی عادت یا پس منظر کی ایک جھلک کردار کو پہچان دے دیتی ہے۔ لیکن سب کچھ بیان کرنا نقصان دہ ہے۔ دو ٹھوس اشارے دے کر باقی قاری پر چھوڑ دینا بہتر ہوتا ہے تاکہ وہ خود کردار کو مکمل کرے۔

جب خواہش، رکاوٹ اور انتخاب آپس میں جڑتے ہیں تو تخلیق میں نکھار آتا ہے۔ ایسی کردار نگاری قاری کو صرف کہانی سننے نہیں دیتی بلکہ اسے کردار کے ساتھ جینے پر مجبور کر دیتی ہے۔ یہی تخلیقیت کی اصل طاقت ہے۔ کردار تخلیق کرنے کے حوالے سے مدثر نظر جدون کی نظم ملاحظہ ہو:

ــ لکه زما پۀ خپله ژاړې کۀ نه ــ

قلم مې لاس کښې دے او سوچ کوَمه
د ژوند پۀ سختو افسانه لیکمه
د افسانې نوم مې "امجد” خوښ کړے
ځکه چې دا یې مرکزي کردار دے
زما مرضي چې پۀ امجد سۀ کوَم
دا یو خالق تۀ مکمل اختیار دے
دې افسانې له واقعات خوَښوَم
حیران یم سۀ سۀ پۀ امجد اوکمه
د دۀ سپیرۀ تقدیر کښې سۀ ولیکم
عجبه دا چې دې فرضي کردار ته
زۀ یو خالق پۀ خپله هم ژاړمه
خدایه! نو تۀ چې د دې دومره افسانو خالق یې
هر یو کردار دې نوې نوې المیې سرا مخ
اووایه خپل دې کردارونو ته اوس
لکه زما پۀ خپله ژاړې کۀ نه …

کردار نگاری صرف شخصیت تراشنا نہیں بلکہ زبان، تاریخ اور معاشرتی کشمکش کے اندر سے ایسا آدمی تخلیق کرنا ہے جو اپنے زمانے کی خوشبو اور زخم دونوں ساتھ لے چلے۔ یہ عناصر مجید امجد کی نظموں میں بھی نمایاں طور پر سامنے آتے ہیں۔ ان کی نظم "آٹوگراف” اس کی ایک اہم مثال ہے، جس میں انہوں نے کردار نگاری کا مرکز خود شاعر کے متکلم کو بنایا ہے—ایک ایسا فنکار جو غیر معروف، تنہا اور وقت کے ہجوم میں "پا بہ گِل” کھڑا ہے۔

وہ دنیا کے بڑے اسٹیج پر نہیں بلکہ کنارے پر موجود ہے، جہاں کوئی اس کی موجودگی کو خاص اہمیت نہیں دیتا۔ یہی خاموش اور نظر انداز شدہ ہستی نظم کا بنیادی کردار ہے اور اس کی سب سے نمایاں صفت اس کی تنہائی ہے:
"میں روز ادھر سے گزرتا ہوں، کون دیکھتا ہے؟”

یہ احساس کردار کو عصری بے اعتنائی کے خلاف کھڑا کرتا ہے۔ وہ شکوہ نہیں کرتا، بلکہ صرف یہ ثبت کرتا ہے کہ اس کا وجود بھی تھا اور اس کی آواز بھی تھی۔ یہی خواہش کردار کو اندرونی طاقت دیتی ہے۔

اگرچہ یہاں فطرت کی تشخیص کم ہے، لیکن کردار خود وقت اور ماحول کے سامنے ایسی چیز بن جاتا ہے جیسے کوئی بے جان نشان، جو بولتا تو نہیں مگر "آٹوگراف” کے طور پر اپنا اثر چھوڑ دیتا ہے۔ نظم کا یہ حصہ ملاحظہ ہو:

کھلاڑیوں کے خود نوشت دستخط کے واسطے
کتابچے لیے ہوئے
کھڑی ہیں منتظر حسین لڑکیاں
ڈھلکتے آنچلوں سے بے خبر حسین لڑکیاں

مہیب پھاٹکوں کے ڈولتے کِواڑ چیخ اُٹھے
ابِل پڑے الجھتے بازوؤں، چٹختی پسلیوں کے پُر ہراس قافلے
گرے، بڑھے، مُڑے، بھنور ہجوم کے

وہ بولر ایک مہ وشوں کے جمگھٹوں میں گھر گیا
وہ صفحہِ بیاض پر بصد غرور کلکِ گوہریں پھری
حسین کھلکھلاہٹوں کے درمیاں وکٹ گِری

میں اجنبی، میں بے نشان
میں پا بہ گِل
نہ رفعتِ مقام ہے نہ شہرتِ دوام ہے
یہ لوحِ دل، یہ لوحِ دل
نہ اس پہ کوئی نقش ہے نہ اس پہ کوئی نام ہے

نثری ادب میں کردار نگاری ریڑھ کی ہڈی ہے۔ مختصر جگہ میں وہی کردار قاری کو باندھتا ہے جو چند جملوں میں عادت، لہجہ یا ایک انتخاب سے سامنے آ جاتا ہے۔ لیکن کردار کی خواہش اور اس کی رکاوٹ ہی پلاٹ بناتی ہے۔ جب یہ دونوں واضح ہوں تو مختصر افق میں بھی تناؤ پیدا ہوتا ہے۔

سعادت حسن منٹو، عصمت چغتائی اور راجندر سنگھ بیدی کے افسانوں میں کردار براہِ راست وقت اور سماج کی سچائی دکھاتے ہیں۔ ایک چہرہ پورے نظام کو بے نقاب کر دیتا ہے۔

قاری کردار کے فیصلے سے جُڑتا ہے۔ اگر کردار سچا ہو تو اختتام کی مار گہری ہوتی ہے۔ افسانہ وقت کم دیتا ہے، اس لیے کردار کا ایک ٹھوس فیصلہ یا نشانی پوری کہانی کا بوجھ اٹھا لیتی ہے۔ کردار جتنا زندہ ہو، افسانہ اتنا ہی دیرپا رہتا ہے۔

مدثر عباس
14 مارچ 2026ء

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • حکومت، حکمراں اور طریقۂ حکمرانی
  • عوام کی آواز ( ہیلمٹ )
  • سفر نامہ بھارت – دوسری قسط
  • قدرت کا نازک رقاص
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
امن بورڈ یا امن سے اکتاہٹ؟
پچھلی پوسٹ
ہر چند گام گام! حوادث سفر میں ہیں

متعلقہ پوسٹس

مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

مارچ 8, 2026

آزادی کے نعروں میں چھپی قانون شکنی

جنوری 25, 2026

خوشامد کے جھولے

مئی 5, 2026

فیس بک پر شادیوں کا رجحان

فروری 16, 2020

یہ پریشانی مبارک ہو!

اکتوبر 29, 2025

برطانیہ – بچوں کے تحفظ کا اصل سوال

جنوری 19, 2026

عشق کیا ہے؟

دسمبر 25, 2024

مزاح نگاری کا پہلا سبق

مئی 25, 2024

کفن میں ایک سو ایک سال

جون 14, 2020

لمبا قصّہ

جنوری 11, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

میں تتی دھی پنجاب دی

جون 6, 2013

جس نے مجھے بیکار میں

مئی 5, 2026

ماں کی خاموشی اور بیٹی کی...

نومبر 27, 2024
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں