خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامکردار، کردار نگاری اور تخلیقیت
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزمدثر عباس

کردار، کردار نگاری اور تخلیقیت

از سائیٹ ایڈمن مارچ 16, 2026
از سائیٹ ایڈمن مارچ 16, 2026 0 تبصرے 60 مناظر
61

تخلیق میں کردار محض نام یا چہرہ نہیں ہوتا؛ وہ کہانی کا دل ہے جس سے معنی پیدا ہوتے ہیں۔ کردار کو مصنف تخلیق کرتا ہے، مگر اسے زندہ رکھنے کی ذمہ داری اسی بنیاد پر ہوتی ہے جو قاری کو انسان کا احساس دلائے۔

کردار کا پہلا ستون خواہش ہے۔ کردار کیا چاہتا ہے اور کیوں؟ یہی خواہش اسے حرکت دیتی ہے۔ دوسرا ستون کمزوری ہے؛ کوئی خوف، خامی یا ماضی کا زخم جو اسے مکمل بناتا ہے۔ تیسری چیز انتخاب ہے: دباؤ میں وہ کیا فیصلہ کرتا ہے؟ یہی لمحہ کردار کی سچائی ثابت کرتا ہے۔

کردار نگاری میں بولنے کا انداز، کوئی عادت یا پس منظر کی ایک جھلک کردار کو پہچان دے دیتی ہے۔ لیکن سب کچھ بیان کرنا نقصان دہ ہے۔ دو ٹھوس اشارے دے کر باقی قاری پر چھوڑ دینا بہتر ہوتا ہے تاکہ وہ خود کردار کو مکمل کرے۔

جب خواہش، رکاوٹ اور انتخاب آپس میں جڑتے ہیں تو تخلیق میں نکھار آتا ہے۔ ایسی کردار نگاری قاری کو صرف کہانی سننے نہیں دیتی بلکہ اسے کردار کے ساتھ جینے پر مجبور کر دیتی ہے۔ یہی تخلیقیت کی اصل طاقت ہے۔ کردار تخلیق کرنے کے حوالے سے مدثر نظر جدون کی نظم ملاحظہ ہو:

ــ لکه زما پۀ خپله ژاړې کۀ نه ــ

قلم مې لاس کښې دے او سوچ کوَمه
د ژوند پۀ سختو افسانه لیکمه
د افسانې نوم مې "امجد” خوښ کړے
ځکه چې دا یې مرکزي کردار دے
زما مرضي چې پۀ امجد سۀ کوَم
دا یو خالق تۀ مکمل اختیار دے
دې افسانې له واقعات خوَښوَم
حیران یم سۀ سۀ پۀ امجد اوکمه
د دۀ سپیرۀ تقدیر کښې سۀ ولیکم
عجبه دا چې دې فرضي کردار ته
زۀ یو خالق پۀ خپله هم ژاړمه
خدایه! نو تۀ چې د دې دومره افسانو خالق یې
هر یو کردار دې نوې نوې المیې سرا مخ
اووایه خپل دې کردارونو ته اوس
لکه زما پۀ خپله ژاړې کۀ نه …

کردار نگاری صرف شخصیت تراشنا نہیں بلکہ زبان، تاریخ اور معاشرتی کشمکش کے اندر سے ایسا آدمی تخلیق کرنا ہے جو اپنے زمانے کی خوشبو اور زخم دونوں ساتھ لے چلے۔ یہ عناصر مجید امجد کی نظموں میں بھی نمایاں طور پر سامنے آتے ہیں۔ ان کی نظم "آٹوگراف” اس کی ایک اہم مثال ہے، جس میں انہوں نے کردار نگاری کا مرکز خود شاعر کے متکلم کو بنایا ہے—ایک ایسا فنکار جو غیر معروف، تنہا اور وقت کے ہجوم میں "پا بہ گِل” کھڑا ہے۔

وہ دنیا کے بڑے اسٹیج پر نہیں بلکہ کنارے پر موجود ہے، جہاں کوئی اس کی موجودگی کو خاص اہمیت نہیں دیتا۔ یہی خاموش اور نظر انداز شدہ ہستی نظم کا بنیادی کردار ہے اور اس کی سب سے نمایاں صفت اس کی تنہائی ہے:
"میں روز ادھر سے گزرتا ہوں، کون دیکھتا ہے؟”

یہ احساس کردار کو عصری بے اعتنائی کے خلاف کھڑا کرتا ہے۔ وہ شکوہ نہیں کرتا، بلکہ صرف یہ ثبت کرتا ہے کہ اس کا وجود بھی تھا اور اس کی آواز بھی تھی۔ یہی خواہش کردار کو اندرونی طاقت دیتی ہے۔

اگرچہ یہاں فطرت کی تشخیص کم ہے، لیکن کردار خود وقت اور ماحول کے سامنے ایسی چیز بن جاتا ہے جیسے کوئی بے جان نشان، جو بولتا تو نہیں مگر "آٹوگراف” کے طور پر اپنا اثر چھوڑ دیتا ہے۔ نظم کا یہ حصہ ملاحظہ ہو:

کھلاڑیوں کے خود نوشت دستخط کے واسطے
کتابچے لیے ہوئے
کھڑی ہیں منتظر حسین لڑکیاں
ڈھلکتے آنچلوں سے بے خبر حسین لڑکیاں

مہیب پھاٹکوں کے ڈولتے کِواڑ چیخ اُٹھے
ابِل پڑے الجھتے بازوؤں، چٹختی پسلیوں کے پُر ہراس قافلے
گرے، بڑھے، مُڑے، بھنور ہجوم کے

وہ بولر ایک مہ وشوں کے جمگھٹوں میں گھر گیا
وہ صفحہِ بیاض پر بصد غرور کلکِ گوہریں پھری
حسین کھلکھلاہٹوں کے درمیاں وکٹ گِری

میں اجنبی، میں بے نشان
میں پا بہ گِل
نہ رفعتِ مقام ہے نہ شہرتِ دوام ہے
یہ لوحِ دل، یہ لوحِ دل
نہ اس پہ کوئی نقش ہے نہ اس پہ کوئی نام ہے

نثری ادب میں کردار نگاری ریڑھ کی ہڈی ہے۔ مختصر جگہ میں وہی کردار قاری کو باندھتا ہے جو چند جملوں میں عادت، لہجہ یا ایک انتخاب سے سامنے آ جاتا ہے۔ لیکن کردار کی خواہش اور اس کی رکاوٹ ہی پلاٹ بناتی ہے۔ جب یہ دونوں واضح ہوں تو مختصر افق میں بھی تناؤ پیدا ہوتا ہے۔

سعادت حسن منٹو، عصمت چغتائی اور راجندر سنگھ بیدی کے افسانوں میں کردار براہِ راست وقت اور سماج کی سچائی دکھاتے ہیں۔ ایک چہرہ پورے نظام کو بے نقاب کر دیتا ہے۔

قاری کردار کے فیصلے سے جُڑتا ہے۔ اگر کردار سچا ہو تو اختتام کی مار گہری ہوتی ہے۔ افسانہ وقت کم دیتا ہے، اس لیے کردار کا ایک ٹھوس فیصلہ یا نشانی پوری کہانی کا بوجھ اٹھا لیتی ہے۔ کردار جتنا زندہ ہو، افسانہ اتنا ہی دیرپا رہتا ہے۔

مدثر عباس
14 مارچ 2026ء

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • پڑیئے گر بیمار
  • شعر، غیر شعر اور نثر
  • آشفتہ خوابِ آشپزخانه
  • نوجوان اور ورچوئل دنیا کی گرفت
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
امن بورڈ یا امن سے اکتاہٹ؟
پچھلی پوسٹ
ہر چند گام گام! حوادث سفر میں ہیں

متعلقہ پوسٹس

کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا

اکتوبر 13, 2025

سرکس کے شیر

ستمبر 20, 2020

یودھا

مئی 23, 2023

انار کلی

اپریل 2, 2018

قلب و جگر کو اضطراب نے مارا ہوگا

جنوری 22, 2026

سیاسی جماعتوں کی رسہ کشی

اکتوبر 28, 2025

تمہارے اس سلیقہِ محبّت کا میں شیدائی

فروری 14, 2026

رضائی

دسمبر 29, 2019

قبروں کے بیچوں بیچ

جون 15, 2020

12 سالہ تنازع

دسمبر 12, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

سرکارؐ رازِ حق سے مجھے آشنا کریں

اپریل 6, 2026

قرآنِ کریم میں تدبر کیسے کریں؟

اپریل 4, 2026

ایک تھپڑ اور کئی سوال

مارچ 26, 2026

کلام نبویؐ کی کرنیں

مارچ 23, 2026

اردو شاعری

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

اپریل 15, 2026

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

اپریل 14, 2026

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

اپریل 14, 2026

دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے

اپریل 7, 2026

تمہیں میری محبت کا جو اندازہ نہیں ہوتا

اپریل 6, 2026

اردو افسانے

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

گل مصلوب

مارچ 25, 2026

اردو کالمز

مودی کا ہندو خطرے میں ہے

اپریل 11, 2026

طاقت کا توازن اور پائیدار امن!

اپریل 10, 2026

ماں بننے کا سفر اور جوائنٹ فیملی کا...

اپریل 8, 2026

سوچ کا انقلاب

اپریل 7, 2026

جنگ کے شعلے اور سسکتی انسانیت

اپریل 5, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • تنقید کیا ہے

    اپریل 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

بھلے ہی رائیگاں رکھتے مگر مسکن...

مارچ 20, 2026

نسوانی شعور کی نئی تعبیر

مئی 27, 2025

میں اپنی وفاؤں کا بھرم لے...

جنوری 12, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں