خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامکردار، کردار نگاری اور تخلیقیت
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزمدثر عباس

کردار، کردار نگاری اور تخلیقیت

از سائیٹ ایڈمن مارچ 16, 2026
از سائیٹ ایڈمن مارچ 16, 2026 0 تبصرے 183 مناظر
184

تخلیق میں کردار محض نام یا چہرہ نہیں ہوتا؛ وہ کہانی کا دل ہے جس سے معنی پیدا ہوتے ہیں۔ کردار کو مصنف تخلیق کرتا ہے، مگر اسے زندہ رکھنے کی ذمہ داری اسی بنیاد پر ہوتی ہے جو قاری کو انسان کا احساس دلائے۔

کردار کا پہلا ستون خواہش ہے۔ کردار کیا چاہتا ہے اور کیوں؟ یہی خواہش اسے حرکت دیتی ہے۔ دوسرا ستون کمزوری ہے؛ کوئی خوف، خامی یا ماضی کا زخم جو اسے مکمل بناتا ہے۔ تیسری چیز انتخاب ہے: دباؤ میں وہ کیا فیصلہ کرتا ہے؟ یہی لمحہ کردار کی سچائی ثابت کرتا ہے۔

کردار نگاری میں بولنے کا انداز، کوئی عادت یا پس منظر کی ایک جھلک کردار کو پہچان دے دیتی ہے۔ لیکن سب کچھ بیان کرنا نقصان دہ ہے۔ دو ٹھوس اشارے دے کر باقی قاری پر چھوڑ دینا بہتر ہوتا ہے تاکہ وہ خود کردار کو مکمل کرے۔

جب خواہش، رکاوٹ اور انتخاب آپس میں جڑتے ہیں تو تخلیق میں نکھار آتا ہے۔ ایسی کردار نگاری قاری کو صرف کہانی سننے نہیں دیتی بلکہ اسے کردار کے ساتھ جینے پر مجبور کر دیتی ہے۔ یہی تخلیقیت کی اصل طاقت ہے۔ کردار تخلیق کرنے کے حوالے سے مدثر نظر جدون کی نظم ملاحظہ ہو:

ــ لکه زما پۀ خپله ژاړې کۀ نه ــ

قلم مې لاس کښې دے او سوچ کوَمه
د ژوند پۀ سختو افسانه لیکمه
د افسانې نوم مې "امجد” خوښ کړے
ځکه چې دا یې مرکزي کردار دے
زما مرضي چې پۀ امجد سۀ کوَم
دا یو خالق تۀ مکمل اختیار دے
دې افسانې له واقعات خوَښوَم
حیران یم سۀ سۀ پۀ امجد اوکمه
د دۀ سپیرۀ تقدیر کښې سۀ ولیکم
عجبه دا چې دې فرضي کردار ته
زۀ یو خالق پۀ خپله هم ژاړمه
خدایه! نو تۀ چې د دې دومره افسانو خالق یې
هر یو کردار دې نوې نوې المیې سرا مخ
اووایه خپل دې کردارونو ته اوس
لکه زما پۀ خپله ژاړې کۀ نه …

کردار نگاری صرف شخصیت تراشنا نہیں بلکہ زبان، تاریخ اور معاشرتی کشمکش کے اندر سے ایسا آدمی تخلیق کرنا ہے جو اپنے زمانے کی خوشبو اور زخم دونوں ساتھ لے چلے۔ یہ عناصر مجید امجد کی نظموں میں بھی نمایاں طور پر سامنے آتے ہیں۔ ان کی نظم "آٹوگراف” اس کی ایک اہم مثال ہے، جس میں انہوں نے کردار نگاری کا مرکز خود شاعر کے متکلم کو بنایا ہے—ایک ایسا فنکار جو غیر معروف، تنہا اور وقت کے ہجوم میں "پا بہ گِل” کھڑا ہے۔

وہ دنیا کے بڑے اسٹیج پر نہیں بلکہ کنارے پر موجود ہے، جہاں کوئی اس کی موجودگی کو خاص اہمیت نہیں دیتا۔ یہی خاموش اور نظر انداز شدہ ہستی نظم کا بنیادی کردار ہے اور اس کی سب سے نمایاں صفت اس کی تنہائی ہے:
"میں روز ادھر سے گزرتا ہوں، کون دیکھتا ہے؟”

یہ احساس کردار کو عصری بے اعتنائی کے خلاف کھڑا کرتا ہے۔ وہ شکوہ نہیں کرتا، بلکہ صرف یہ ثبت کرتا ہے کہ اس کا وجود بھی تھا اور اس کی آواز بھی تھی۔ یہی خواہش کردار کو اندرونی طاقت دیتی ہے۔

اگرچہ یہاں فطرت کی تشخیص کم ہے، لیکن کردار خود وقت اور ماحول کے سامنے ایسی چیز بن جاتا ہے جیسے کوئی بے جان نشان، جو بولتا تو نہیں مگر "آٹوگراف” کے طور پر اپنا اثر چھوڑ دیتا ہے۔ نظم کا یہ حصہ ملاحظہ ہو:

کھلاڑیوں کے خود نوشت دستخط کے واسطے
کتابچے لیے ہوئے
کھڑی ہیں منتظر حسین لڑکیاں
ڈھلکتے آنچلوں سے بے خبر حسین لڑکیاں

مہیب پھاٹکوں کے ڈولتے کِواڑ چیخ اُٹھے
ابِل پڑے الجھتے بازوؤں، چٹختی پسلیوں کے پُر ہراس قافلے
گرے، بڑھے، مُڑے، بھنور ہجوم کے

وہ بولر ایک مہ وشوں کے جمگھٹوں میں گھر گیا
وہ صفحہِ بیاض پر بصد غرور کلکِ گوہریں پھری
حسین کھلکھلاہٹوں کے درمیاں وکٹ گِری

میں اجنبی، میں بے نشان
میں پا بہ گِل
نہ رفعتِ مقام ہے نہ شہرتِ دوام ہے
یہ لوحِ دل، یہ لوحِ دل
نہ اس پہ کوئی نقش ہے نہ اس پہ کوئی نام ہے

نثری ادب میں کردار نگاری ریڑھ کی ہڈی ہے۔ مختصر جگہ میں وہی کردار قاری کو باندھتا ہے جو چند جملوں میں عادت، لہجہ یا ایک انتخاب سے سامنے آ جاتا ہے۔ لیکن کردار کی خواہش اور اس کی رکاوٹ ہی پلاٹ بناتی ہے۔ جب یہ دونوں واضح ہوں تو مختصر افق میں بھی تناؤ پیدا ہوتا ہے۔

سعادت حسن منٹو، عصمت چغتائی اور راجندر سنگھ بیدی کے افسانوں میں کردار براہِ راست وقت اور سماج کی سچائی دکھاتے ہیں۔ ایک چہرہ پورے نظام کو بے نقاب کر دیتا ہے۔

قاری کردار کے فیصلے سے جُڑتا ہے۔ اگر کردار سچا ہو تو اختتام کی مار گہری ہوتی ہے۔ افسانہ وقت کم دیتا ہے، اس لیے کردار کا ایک ٹھوس فیصلہ یا نشانی پوری کہانی کا بوجھ اٹھا لیتی ہے۔ کردار جتنا زندہ ہو، افسانہ اتنا ہی دیرپا رہتا ہے۔

مدثر عباس
14 مارچ 2026ء

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • گرم سوٹ
  • وکالت بزنس یا ایمانداری
  • ضرورتاں دے پیالیاں وچ
  • اتر آئی ہے رحمت کی
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
امن بورڈ یا امن سے اکتاہٹ؟
پچھلی پوسٹ
ہر چند گام گام! حوادث سفر میں ہیں

متعلقہ پوسٹس

محروم چئیو کھبی نہیں مرتی

جنوری 1, 2022

اماں اسکو دیکھتی رہ گئی

جنوری 25, 2025

"کرونا” حقائق اور جھوٹ

مارچ 30, 2020

آزادی کے نعروں میں چھپی قانون شکنی

جنوری 25, 2026

کیا دنیا کو تباہی سے بچایا جاسکتا ہے؟

جولائی 4, 2024

وی آئی پی کارڈ

مئی 21, 2020

عجب موجودگی ہے جو کمی پر مشتمل ہے

فروری 15, 2026

جنسی ہراسمنٹ پر گالیاں، تھپڑ اور ویڈیو

نومبر 11, 2019

امریکی ثقافت اور روڈیو

دسمبر 6, 2024

شریفوں کی بستی میں طوائف

جون 26, 2018

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

غیر قانونی مہاجرت

ستمبر 14, 2025

ایک خطرناک بیماری

جنوری 16, 2022

روپا

فروری 14, 2022
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں