خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامآزادی کے نعروں میں چھپی قانون شکنی
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

آزادی کے نعروں میں چھپی قانون شکنی

از سائیٹ ایڈمن جنوری 25, 2026
از سائیٹ ایڈمن جنوری 25, 2026 0 تبصرے 104 مناظر
105

پاکستان میں آج کل ایک مخصوص طبقہ یہ سمجھ بیٹھا ہے کہ اگر زبان پر انسانی حقوق، مزاحمت یا آزادی اظہار کا نعرہ ہو تو ہر بات جائز ہو جاتی ہے۔ قانون، ضابطہ اور ریاستی نظم ثانوی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ ایمان مزاری کا معاملہ اسی غلط فہمی کی ایک واضح مثال بن کر سامنے آیا ہے، جہاں قانون شکنی کو مزاحمت اور بدتمیزی کو آزادی اظہار کے خوبصورت نام دے کر پیش کرنے کی کوشش کی گئی۔

ریاست کا مؤقف ابتدا ہی سے یہ رہا ہے کہ ایمان مزاری کی جانب سے سوشل میڈیا پر دیے گئے بیانات محض تنقید نہیں تھے۔ ان میں پولیس اور ریاستی اداروں کو براہ راست ہدف بنایا گیا، ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے والی زبان استعمال کی گئی اور ایسا تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ ریاستی مشینری کسی جبر کے تحت کام کر رہی ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں اختلاف رائے ختم اور اشتعال انگیزی شروع ہو جاتی ہے۔

یہ بات نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ ایمان مزاری کوئی عام شہری نہیں بلکہ ایک وکیل ہیں۔ قانون کو پڑھنے، سمجھنے اور دوسروں کو سمجھانے والا اگر خود قانون کی حدود پامال کرے تو یہ معاملہ دوگنا سنگین ہو جاتا ہے۔ ایک وکیل سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ احتجاج اور قانون شکنی کے فرق کو اچھی طرح جانتا ہوگا، مگر یہاں معاملہ اس کے برعکس دکھائی دیتا ہے۔

اکثر کہا جاتا ہے کہ احتجاج آئینی حق ہے، یہ بات درست ہے، مگر یہ حق غیر مشروط نہیں۔ کوئی بھی آئین یا قانون یہ اجازت نہیں دیتا کہ سرکاری اہلکاروں کو گالیاں دی جائیں، انہیں دھمکایا جائے یا عوام کو ان کے خلاف ابھارا جائے۔ اگر ایسا کرنے کی اجازت دے دی جائے تو پھر احتجاج اور ہجوم کے تشدد میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا۔

یہی وہ نکتہ ہے جہاں پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 سامنے آتا ہے۔ پیکا ایکٹ کے تحت ایسا آن لائن مواد جرم کے زمرے میں آتا ہے جو نفرت کو ہوا دے، اشتعال پیدا کرے یا ریاستی اداروں کے وقار کو مجروح کرے۔ یہ قانون کسی مخصوص دور یا کسی خاص حکومت کی پیداوار نہیں بلکہ ڈیجیٹل انتشار کو روکنے کی ایک کوشش ہے۔ اگر اس قانون پر عمل نہ ہو تو سوشل میڈیا ایک ایسا میدان بن جاتا ہے جہاں ہر شخص ریاست کو للکارنے لگتا ہے۔

یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے۔ اگر یہی زبان کوئی عام شہری استعمال کرتا، اگر وہ پولیس کے خلاف یہی انداز اختیار کرتا تو کیا اس کے حق میں بھی یہی آوازیں اٹھتیں؟ غالباً نہیں۔ مسئلہ زبان کا نہیں بلکہ بولنے والے کے نام اور پہچان کا ہے۔ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم قانون کو افراد کے قد کاٹھ سے تولتے ہیں۔

عدالت کے فیصلے کو آزادی اظہار کے خلاف قرار دینا بھی ایک آسان نعرہ ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ فیصلہ آزادی کے غلط استعمال کے خلاف ہے۔ آزادی اظہار کا مطلب یہ نہیں کہ ریاستی اداروں کو تضحیک کا نشانہ بنایا جائے اور پھر یہ توقع کی جائے کہ قانون خاموش رہے۔ اگر قانون خاموش ہو جائے تو پھر وہ صرف کتابوں میں رہ جاتا ہے۔

ریاستی رٹ کا تصور محض طاقت کا نام نہیں بلکہ نظم و ضبط کا نام ہے۔ اگر پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ہر وقت گالی، دھمکی اور دباؤ کے نیچے ہوں تو وہ اپنی ذمہ داری کیسے ادا کریں گے۔ ایسے ماحول میں عام شہری سب سے زیادہ غیر محفوظ ہوتا ہے۔ اس لیے عدالت کا سخت مؤقف دراصل معاشرتی توازن کی بحالی کی کوشش ہے۔

یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ فیصلے مثال کے طور پر ہوتے ہیں۔ یہ پیغام دینا ضروری تھا کہ انسانی حقوق کا نعرہ قانون سے بچنے کی ڈھال نہیں بن سکتا۔ وکالت، شہرت یا سوشل میڈیا کی مقبولیت کسی کو یہ اجازت نہیں دیتی کہ وہ قانون کی حد پار کرے اور پھر خود کو مظلوم ثابت کرے۔

میری رائے میں ایمان مزاری کے معاملے میں عدالت نے کسی فرد کو نشانہ نہیں بنایا بلکہ ایک اصول کو زندہ کیا ہے۔ یہ اصول کہ قانون سب کے لیے برابر ہے۔ جو اس اصول کو مانے گا وہ محفوظ رہے گا، اور جو اسے چیلنج کرے گا اسے انجام کا سامنا کرنا ہوگا۔

آخر میں بات بہت سادہ ہے۔ اختلاف کرنا جرم نہیں، مگر قانون توڑنا جرم ہے۔ جو شخص اس فرق کو مٹا دے، چاہے وہ وکیل ہی کیوں نہ ہو، سزا کا مستحق ٹھہرتا ہے۔ اس مقدمے میں یہی ہوا، اور اسی لیے یہ فیصلہ درست بھی ہے اور ضروری بھی۔

یوسف صدیقی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • کورونا وائرس اور پاکستان
  • ایک معمولی سی عورت
  • نِکّی
  • ایقان کے ہم راہ کچھ اوہام پڑے تھے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ولی دکنی اُردو غزل کا باوا آدم ؟
پچھلی پوسٹ
حریص اس قدر ہے انساں

متعلقہ پوسٹس

بیگانگی

جنوری 17, 2020

شیرو

جنوری 21, 2020

چوتھی کا جوڑا

دسمبر 12, 2019

اداس آنکھ میں زینت دکھائی دیتی ہے

اگست 17, 2026

آدم بو

نومبر 26, 2020

کینوس پر چہرے اور میں

جنوری 30, 2023

سر محمد اقبال

جنوری 25, 2020

کودک و برگِ فرو افتاده

فروری 3, 2025

کشمکش

جون 21, 2026

بھارتی لُٹیا اور بلاول بھٹو

جون 13, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • مردانگی

    نومبر 1, 2026
  • دوسروں کے درد میں جلتے لوگ!

    نومبر 1, 2026
  • پروفیسر محمد فرید

    نومبر 1, 2026
  • ہر سمت جبر و ظلم کی تاریک شام ہے

    نومبر 1, 2026
  • دروازہ

    اکتوبر 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

محبت الٰہی

اکتوبر 29, 2026

نسبتوں کا فیضان

اکتوبر 23, 2026

آزاد نعتیہ نظم "حضورِ اکرم”

اکتوبر 18, 2026

امیر کون غریب کون

اکتوبر 13, 2026

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

اردو شاعری

ہر سمت جبر و ظلم کی تاریک شام...

نومبر 1, 2026

ہم ترے نام سے ہر خواب سنوارا کرتے

اکتوبر 29, 2026

میں نے سوچا ہے تمہیں

اکتوبر 29, 2026

اس شہر میں اتنا ویرانہ کیوں ہے

اکتوبر 26, 2026

اس شہر کی کہانیاں بہت ہیں

اکتوبر 26, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مردانگی

نومبر 1, 2026

دوسروں کے درد میں جلتے لوگ!

نومبر 1, 2026

نسبتوں کا فیضان

اکتوبر 23, 2026

اور عذاب کسے کہتے ہیں؟

اکتوبر 23, 2026

"دیا” (کالمز کا مجموعہ)

اکتوبر 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • مردانگی

    نومبر 1, 2026
  • دوسروں کے درد میں جلتے لوگ!

    نومبر 1, 2026
  • پروفیسر محمد فرید

    نومبر 1, 2026
  • ہر سمت جبر و ظلم کی تاریک شام ہے

    نومبر 1, 2026
  • دروازہ

    اکتوبر 29, 2026
  • ہم ترے نام سے ہر خواب سنوارا کرتے

    اکتوبر 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

پہلے میں خود میں فرض کی...

جولائی 16, 2026

حد کے اس پار

نومبر 7, 2019

آنسو کیا ہیں؟

اکتوبر 6, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں