خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابااللہ کو بھولنے سے لے کر اللہ سے جڑنے تک کا سفر
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزاسلامی گوشہ

اللہ کو بھولنے سے لے کر اللہ سے جڑنے تک کا سفر

از حافظہ سیدہ حفظہ احمد نومبر 9, 2020
از حافظہ سیدہ حفظہ احمد نومبر 9, 2020 0 تبصرے 71 مناظر
72

عنوان : اللہ کو بھولنے سے لے کر اللہ سے جڑنے تک کا سفر

ضمیر سے گفتگو:

وہ ایک مصروف زندگی گزار رہی تھی، خوش یا ناخوش؟ زندگی بس چلتی جارہی تھی. وہ چند عرصہ پہلے ادبی دنیا میں قدم رکھ چکی تھی، وہ خوش تھی یا ناخوش؟ بس چلتی جارہی تھی. اپنے آپ کو پرسکون اور خوش رکھنے کی کوشش میں وہ خود کو مصروف رکھنے لگی تھی…….
●●●●●●●●●●●●

شش ماہی امتحان قریب تھے، اب وہ اپنی ادبی دنیا سے باہر نکل کر امتحانی دنیا میں قدم رکھ کر امتحان کے لیے تگ و دو کررہی تھی. باقی تمام امتحان کی وہ کم تیاری کرکے بھی مطمئن تھی اور صرف ایک مضمون کی مکمل تیاری کرکے بھی وہ غیر مطمئن تھی. اس کی بہت سی وجوہات تھیں……..
●●●●●●●●●●●

امتحان شروع ہوچکے تھے، دو امتحان وہ خوش طبعی کے ساتھ گزار چکی تھی لیکن اب باری تھی اس غیر مطمئن امتحان کی. اس کا دل دہل رہا تھا کہ کچھ اچھا نہیں ہونے والا، کچھ گڑبڑ ہونے والی ہے. اس کا دل اندر سے دستک دے رہا تھا………

اب وہ وقت آگیا تھا کہ اس کا امتحان لیا جارہا تھا. وہ تمام سوالات کے جوابات فرفر دیتی جارہی تھی آخر کو اس امتحان کی تیاری میں سمسٹر کے اول روز سے تگ و دو کررہی تھی، ایسا ہونا بھی چاہیئے تھا. لیکن جب مضمون سے ہٹ کر دوسرے مضمون سے سوالات کیے گئے تو اس نے اسی طرح سے فر سے جواب دینا چاہا اور تکا لگایا کیوں کہ وہ بھی سرسری سا پڑھا تو تھا نا۔۔ لیکن آہ! تکا نشانے پر نہ لگا. گھوم پھر کر جواب تک پہنچ ہی گئی اور جواب دے دیا. مزید سوالات آتے گئے اس کو تکوں کی بنیاد پر جواب دینے پڑے لیکن نشانہ نہیں لگا بالآخر اسے کہنا پڑا کہ یہ نہیں پڑھا………….

اتنی محنت کے بعد بھی وہ غیر مطمئن امتحان، دل کی دستک کی وجہ بن گیا تھا اب نہ تو وہ اگلے امتحان کی تیاری کر پا رہی تھی نہ ہی کچھ دل کو بھا رہا تھا ….

اچانک ہی اس کا ضمیر اس سے مخاطب ہوا.

ضمیر: کتنی پرواہ ہے نا امتحان کے نتیجے کی.

میں: ہاں تو ہونی چاہیئے اتنی تیاری کی تھی. نتیجہ تو اچھا آنا چاہیئے نا. تمام سوالات کے جوابات دیے ہٹ کر سوالات کیوں کیے گئے. اگر ہٹ کر سوالات کرنے تھے تو آگاہ کیوں نہیں کیا گیا؟

ضمیر: دنیا کا امتحان ہی تو ہے۔ چھوڑو! تم آخرت کے امتحان کی تیاری کرو.

میں: لیکن یہ امتحان بھی تو ہے اس کی محنت بھی تو کی ہے نتیجہ بھی اچھا آنا چاہیئے. پتا نہیں سر کیسے مارکس دیں گے؟

ضمیر: جنت میں جانے کے لیے سلیبس بھی دیا گیا ہے اور اس آخرت کے امتحان میں کیے جانے والے سوالات بھی دے دیے گئے ہیں .. اس کی تیاری کا کبھی سوچا؟

میں : ہاں وہ تھوڑی تھوڑی تیاری تو چلتی رہتی ہے، کوشش رہتی ہے اللہ راضی رہے.

ضمیر: یہ تم اپنے آپ کو مطمئن رکھنے کے لیے کہہ رہی ہو. اللہ کو راضی رکھنے اور منانے کی کوشش کب کرتی ہو؟ تمہیں تو اپنی پڑی ہے بس! کہ میں اعلی تعلیم حاصل کرلوں، میں کچھ بن جاؤں، میں ڈگری حاصل کرلوں، میں آگے بڑھ جاؤں.

میں: نہیں ! ایسا تو نہیں ڈگری حاصل کرنے کے بعد بھی تعلیم کو عام کرنا صدقہ جاریہ ہی تو ہے.

ضمیر: اوہ اچھا! اچھے بہانے ہیں بھئی، لیکن تم اللہ کو بھول چکی ہو. کب تم اللہ کی عبادت کرتی ہو؟ کیا صرف دو چار سجدے کرلینے سے اللہ کاحق ادا ہوجائے گا؟ کیا اس سے اللہ راضی ہوجائے گا؟ اللہ تو کہتا ہے کہ :

"وَلَا تَكُوۡنُوۡا كَالَّذِيۡنَ نَسُوا اللّٰهَ فَاَنۡسٰٮهُمۡ اَنۡفُسَهُمۡ ”
(سورۃ الحشر: 19)
ترجمہ:
اور تم ان جیسے نہ ہوجانا جو اللہ کو بھول بیٹھے تھے، تو اللہ نے انہیں خود اپنے آپ سے غافل کردیا.

میں: نن نہیں تو میں نے ایسا کب کہا؟
وہ سوچ رہی تھی کہ میں واقعی اللہ کو بھول چکی ہوں.

ضمیر: تو پھر اتنے دن سے اللہ کو جو بھلائے بیٹھی ہو اس کا کیا ؟

وہ خود سے مخاطب ہوئی ..ہاں! واقعی میں اللہ کو بھلا چکی ہوں. تمام اذکار جو پہلے پڑھتی تھی سب چھوڑ دیے میں نے، رمضان کے بعد کتنی بار قرآن کی تلاوت کی، سب کہاں چلی گئی؟ بس! نماز وہ بھی افضل وقت نکال کر آخری وقت میں….

وہ پہلے ہی دل کی دستک کی وجہ سے بہت گھبرائی ہوئی تھی اب ضمیر مزید ملامت کرنے لگا تھا …
وہ اپنے ضمیر سے پِسی جارہی تھی، وہ واقعی اپنے آپ پر بہت شرمندہ تھی، وہ واقعی اپنے رب سے بہت دور ہوچکی تھی، وہ بھلا چکی تھی اپنے رب کو.

یہ کیسے ممکن تھا کہ کوئی اپنے رب کو بھول جائے، وہ رب جب کوئی کسی مشکل میں کام نہ آئے وہ رب کام آئے، جب کوئی بھی بات نہ سنے وہ رب سنے اور وہ ہر مشکل کا حل نکالے ہر مشکل سے نجات دے، وہ یہ سب بھلا کر کیسے منحرف ہوسکتی تھی؟

ضمیر پھر مخاطب ہوا:
ضمیر: تمہیں وہ سب کچھ مل تو رہا ہے جو تمہیں چاہیئے تھا. عزت، شہرت، کامیابی سب کچھ. تو اللہ کو کیوں یاد کرو گی اب؟

ضمیر اسے جھنجھوڑ چکا تھا، وہ ضمیر کے ہاتھوں کچلی جاچکی تھی. وہ خود سے مطمئن نہیں تھی کیوں کہ وہ خود سے مخلص بھی تو نہیں تھی.

اسے ایک ایک کرکے اپنے تمام گناہ یاد آتے گئے، جو کھل کر کیے، جو چھپ کر کیے، جو صغیرہ تھے، جو کبیرہ تھے وہ تمام گویا نظر کے سامنے سے گزرتے گئے.

ضمیر پھر مخاطب ہوا :
ضمیر: تم نے فلاں دن فلاں گناہ کیا تھا.

وہ جانتی تھی اپنے تمام گناہوں کو… فورا ہی حامی بھرلی.

ضمیر: یہ گناہ بھی تو کیے تھے فلاں دن.

ایک ایک کرکے ضمیر گنواتا گیا، وہ حامی بھرتی گئی وہ اپنے آپ سے ہی شرمندہ ہوکر شرم سے پانی پانی ہوتی گئی.

اسے یاد آیا اللہ قرآن میں فرماتا :

وَلَا تَقۡتُلُوا النَّفۡسَ ” (الأنعام 151)

ترجمہ:
اور مت قتل کرو اپنے نفس (جان) کو.

وہ خود سے مخاطب ہوئی: میں اپنے نفس کے تابع ہوچکی ہوں تبھی مجھے کسی بات کا فرق نہیں پڑتا تبھی میں خدا کو بھلا چکی ہوں..

وہ ضمیر کے ہاتھوں شرمسار ہوکر اب نماز پڑھنے لگی خشوع و خضوع والی نماز …. نماز کے بعد اسے اپنے رب سے بہت ساری باتیں کرنی تھیں. اپنی سنانی تھی۔ نماز کے بعد وہ اپنے اللہ سے مخاطب ہوئی.
●●●●●●●●●●●

رب اور بندے کے درمیان گفتگو:

اب وہ اپنے رب سے مخاطب تھی اور کہہ رہی تھی کہ اللہ میں مانتی ہوں میں گناہ گار ہوں. گناہ کر کرکے میں نے اپنے آپ پر بہت ظلم کیا ہے.

تو اللہ نے اس کی بات کا جواب دیا:

” يٰعِبَادِىَ الَّذِيۡنَ اَسۡرَفُوۡا عَلٰٓى اَنۡفُسِهِمۡ لَا تَقۡنَطُوۡا مِنۡ رَّحۡمَةِ اللّٰهِ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ يَغۡفِرُ الذُّنُوۡبَ جَمِيۡعًا‌ ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِيۡمُ ” (سورۃ الزمر: 53)

ترجمہ:

اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کر رکھی ہے اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا۔ یقین جانو اللہ سارے کے سارے گناہ معاف کردیتا ہے. یقینا وہ تو بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے.

وہ اب کچھ مطمئن ہوگئی تھی. لیکن اس کے دل کو سکون نہیں مل رہا تھا وہ جب بھی بے سکون ہوتی تھی اسے یہ آیت یاد آتی تھی.

اَلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَتَطۡمَئِنُّ قُلُوۡبُهُمۡ بِذِكۡرِ اللّٰهِ‌ ؕ اَلَا بِذِكۡرِ اللّٰهِ تَطۡمَئِنُّ الۡقُلُوۡبُ ” (سورۃ الرعد 28)

ترجمہ:
یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے ہیں اور جن کے دل اللہ کے ذکر سے اطمینان حاصل کرتے ہیں. یاد رکھو کہ صرف اللہ کا ذکر ہی وہ چیز ہے جس سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے.

آج بھی اسے یہ آیت یاد آئی تھی. وہ اللہ سے بات کرکے اس کو یاد کرکے اس کا ذکر کرکے تھوڑا پر سکون محسوس کررہی تھی.

اس نے کہا اللہ مجھے کوئی نہیں سنتا .

اللہ نے اس کی بات کا جواب دیا اور آواز آئی:

وَقَالَ رَبُّكُمُ ادۡعُوۡنِىۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَـكُمۡ ” (سورۃ مؤمن:60)

ترجمہ:
اور تمہارے پروردگار نے کہا ہے کہ: "مجھے پکارو،میں تمہاری دعائیں قبول کروں گا”.

اس نے اپنے رب کو پکارا اور آنسو گرتے چلے گئے۔ وہ بہت غمگین ہوئی. کہنے لگی! اللہ میرے خوشی وغم میں میرا کوئی ساتھ بھی تو نہیں دیتا.

اس کے رب نے اسے جواب دیا:

” لَا تَخَفۡ وَلَا تَحۡزَنۡ ” (سورۃ العنكبوت: 33)

ترجمہ:
آپ نہ ڈریے، اور نہ غم کیجیے.

اور

جواب آیا:
” لَا تَحۡزَنۡ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا ” ( التوبة 40

ترجمہ:
غم نہ کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔

اب اس کے آگے سے غم کے بادل بھی چھٹ گئے تھے.
لیکن وہ سوچ رہی تھی اس ملامت کا کیا جو اسے اس کے ضمیر نے کیا اور مزید لوگ بھی کرسکتے ہیں.

اللہ رب العالمین نے اسے جواب دیا اور فرمایا:

” وَلَا يَخَافُوۡنَ لَوۡمَةَ لَاۤئِمٍ ” (سورۃ المائدة : 54)

ترجمہ:
اور کسی ملامت کرنے والی کی ملامت سے نہیں ڈریں.

اب وہ اس خوف سے بھی نکل چکی تھی ملامت کرنے والوں کی اسے پرواہ نہیں کیوں کہ اسے اس کے رب نے تھاما تھا. لیکن بس اسے گناہوں پر شرمندگی تھی اسے یہ آیت سنائی دی.

” فَاسۡتَغۡفِرُوۡهُ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ‌ ؕ اِنَّ رَبِّىۡ قَرِيۡبٌ مُّجِيۡبٌ ” (سورۃ هود: 61)

ترجمہ:
لہٰذا اس سے اپنے گناہوں کی مانگو، پھر اس کی طرف رجوع کرو۔ یقین رکھو کہ میرا پروردگار قریب بھی ہے، دعائیں قبول کرنے والا بھی.

ہاں ! وہ پر امید ہوچکی تھی۔ اسے جوابات مل رہے تھے لیکن کیا اللہ اسے اس وقت سن رہا تھا؟

وہ خود سے مخاطب ہوئی ہاں میرا رب مجھے سن رہا ہے۔ وہ فرماتا ہے:

” اِنَّ رَبِّىۡ لَسَمِيۡعُ الدُّعَآءِ ” ( ابراهيم : 39)

ترجمہ:
بےشک میرا رب بڑا دعائیں سننے والا ہے.

وہ کہنے لگی: اللہ میرا تیرے سوا کوئی نہیں ہے۔ میں تیرے سوا کسی اور سے مدد نہیں مانگتی, تو میری مدد کر.

ایک بار اس کے رب نے اسے پھر جواب دیا :

"وَاسۡتَعِيۡنُوۡا بِالصَّبۡرِ وَالصَّلٰوةِ ” (البقرة: 45)

ترجمہ:
اور صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو.

وہ پر امید، مطمئن اور پر سکون ہوچکی تھی، اس نے ایک لمبی سانس بھری, آنسوؤں اور چہرے کو صاف کیا اور یہ ایت پڑھی:

” اِنۡ اَجۡرِىَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ ۚ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ شَهِيۡدٌ ” (سبإ : 47)

ترجمہ:
میرا اجر تو اللہ کے سوا کسی کے ذمے نہیں ہے، اور وہ ہر چیز کا مشاہدہ کرنے والا ہے.

اب اسے کوئی ڈر نہیں تھا اسے اللہ نے تھام لیا تھا.

وہ سوچ رہی تھی:
اللہ نے اسے اس آزمائش میں ڈالا. کیوں کہ وہ اپنے بندوں کو اس لیے بھی آزمائش میں ڈالتا ہے. تاکہ جب اس کا بندہ ٹوٹ کر گر جائے، زمین پر ریزہ ریزہ ہوجائے، تو وہ خود اپنے بندے کو تھامے. اس کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا تھا.
●●●●●●●●●●●●●

وہ اسی طرح اگلی نماز کی طرف بڑھی، نماز سے فارغ ہو کر وہ بیٹھی ہی تھی. اس نے اتنے مسجز منظر عام پر دیکھے، امتحانات کی وجہ سے گروپ پر گہما گہمی تھی. آج اس نے گروپ چیک کیا تھا، صرف ضرورت کی حد تک اور ایک دو باتوں کے جوابات دے کر وہ بس رک گئی تھی کیوں کہ اگلا امتحان آسان تھا تیاری تو ہو ہی جانی تھی. وہ تو آج اپنے ضمیر سے لڑ رہی تھی.

اس نے دیکھا کہ آج والے رزلٹ کی وجہ سے سب ان کو داد دے رہے تھے جن کا نتیجہ آچکا تھا. اس نے جلدی سے اس تصویر کو ڈاؤن لوڈ کیا. اس نے درود پڑھا کیوں کہ لازما اس کا نام بھی اس میں موجود تھا۔ اس نے اللہ سے کہا: اللہ ہمیشہ کی طرح میری لاج رکھ لینا.

وہ ایک ایک کرکے سب کے نمبر دیکھتی گئی آخر میں اس کا نام جگمگا رہا تھا. وہ اول آئی تھی.

ایک لمحے کے لیے اسے لگا کہ جیسے اللہ اب بھی اس سے ناراض ہے، اور یہ کامیابی گویا اس کے منہ پر مار دی گئی ہو، جیسے قیامت کے دن لوگوں کو ان کے ریاکاری والے اعمال مارے جائیں گے. کیوں کہ اس نے کامیابی کے لیے ہی تو اللہ سے رجوع کیا تھا. یہ بھی ایک طرح سے ریاکاری ہی تو تھی.

ضمیر ایک بار پھر کہا: مل تو گیا تمہیں جو چاہیئے تھا اب اور کیا چاہیئے؟
میں: اللہ کی رضا ………………

وہ اب مطمئن اور پر سکون تھی وہ جانتی اللہ نے اس کی بات سنی ہے، اس کی بات کا جواب دیا ہے، اللہ بندوں کی طرح نہیں ہے کہ بار بار طعنے دے وہ تو اپنے بندوں کا منتظر رہتا ہے کہ میرا بندہ مجھ سے رجوع کرے اور اس نے بھی اللہ سے رجوع کیا اس کو راضی کیا تھا.

اس نے ضمیر کو منہ توڑ جواب دے کر خاموش کروایا اور شکرانے کے نفل ادا کرنے کے لیے کھڑی ہوگئی….
●●●●●●●●●●

اللہ ہمارے ارد گرد ہی موجود ہوتا ہے. ہمیں نظر نہیں آتا تو ہم یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ اللہ ہمیں دیکھ نہیں رہا, ہمیں سن نہیں رہا …
لیکن ایسا نہیں ہوتا وہ ہمیں ہر لمحہ دیکھ اور سن رہا ہوتا ہے…
بس دیر اتنی سی ہوتی ہے کہ ہم اسے سنائیں کیوں کہ وہ ہمیں سننا چاہتا ہے، وہ چاہتا ہے ہم اس سے بات کریں اس سے گڑگڑائیں ۔۔۔۔۔
وہ کبھی ہمیں خالی ہاتھ نہیں لوٹاتا, چاہے ہم اس کی مانیں یا نہ مانیں..
وہ ہمیں طعنے نہیں دیتا….
وہ ہماری سن کر تھکتا نہیں۔۔ شروع سے آخر تک ہماری ہر بات کو دلچسپی سے سنتا جاتا ہے….

میری اس تحریر کا مقصد صرف لوگوں تک پیغام پہنچانا شاید کہ کوئی ہدایت حاصل کرے. اور خود میں بھی …

وہ کہتے ہیں نا کہ امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا کام سرانجام دو ہوسکتا ہے تم بھی اس پر عمل پیرا ہوجاؤ..

کیوں کہ ہم آخرت کو بھول گئے ہیں جیسے ہمیشہ ہمیں یہاں ہی رہنا ہے۔

اللہ سے دعا ہے اللہ ہمیں آخرت کی فکر کرنے اس کی تیاری کرنے کی توفیق دے. آمین

اللھم اخلصنا لک
یا مقلب القلوب ثبت قلبی علی دینک
جزاکم اللہ خیرا
دعاگو: سیدہ حفظہ احمد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • جھلّی چلی گئی
  • فاختہ کی چونچ میں دانہ
  • قریب آئے سماعت کو آشنائی دے
  • لیڈی ڈیانا ،بے نظیر اور حامد میر
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
حافظہ سیدہ حفظہ احمد

اگلی پوسٹ
میرے دل کی راکھ کرید مت
پچھلی پوسٹ
تحفظ ناموس رسالتؐ اور رعب مسلم

متعلقہ پوسٹس

مشہور علماء کے تعارف

دسمبر 6, 2025

تجھ کو لگتا ہے عارضی دکھ ہے

دسمبر 20, 2022

ایران امریکہ جنگ بندی کے مصالحتی مطالبات

اپریل 26, 2026

ہم تو قائل ہی نہ تھے

ستمبر 20, 2020

شہرت سے نہ دولت سے نہ کار سے ملنی ہے

جنوری 28, 2020

شیر آیا شیر آیا دوڑنا

جنوری 21, 2020

تبدیلئ مزاج کو آب و ہوا ملے

اپریل 23, 2022

صعوبتیں ہیں جو مجھ پر رواسمجھتی ہوں

ستمبر 19, 2020

دل کی دہلیز تلک خود کو رسائی دے گا

ستمبر 24, 2025

ایران میں احتجاجی طوفان

جنوری 12, 2026

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

سلامتی کی دعا دے کے با...

نومبر 16, 2021

غیر آئینی بندوبست اور عوامی احتجاج

فروری 21, 2023

انشاء کا اعظمی کو پہلا خط

نومبر 28, 2019
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں