365
قریب آئے سماعت کو آشنائی دے
وہ اک صدا جو کہیں دور سے سنائی دے
نہ چاند نکلا نہ کھڑکی کوئی گلی میں کھلی
بھٹک رہا ہوں کہ رستہ مجھے دکھائی دے
یقیں نہیں تو چلے آؤ مانگ کر دیکھو
وہ کیا ہے جو نہ یہاں قُربِ اولیائی دے
خموش لہجے کی الجھن سمجھ, نہ پھیر آنکھیں
ضرورتوں کو دلاسا ہی میرے بھائی دے
درِ طلب کو مقفل فقیر کیوں نہ کرے
بڑا کٹھن ہے کسی کو خدا خدائی دے
میں عکس آنکھ سے بچھڑا تلاش کر لوں گا
یہ آئنہ مجھے دیوار تک رسائی دے
کوئی تو باندھ کے لائے چراغ کو ارشاد
سفر خراب کیا, جرم کی صفائی دے
ارشاد نیازی
