خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابامیرا جسم میری مرضی
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزعلی عبد اللہ ہاشمی

میرا جسم میری مرضی

علی عبداللہ ہاشمی کا اردو کالم

از سائیٹ ایڈمن مارچ 10, 2020
از سائیٹ ایڈمن مارچ 10, 2020 0 تبصرے 608 مناظر
609

"میرا جسم میری مرضی”

ایک زمانہ تھا جب لوگ کہتے تھے کہ پاکستان میں دو طرح کا ووٹر ہے، ایک وہ جو بھٹو کو ووٹ دیتا ہے، دوسرا وہ جو بھٹو کو ووٹ نہیں دیتا اور اس مفروضے پر ملکی سیاست تیس برس چلی۔ وقت گزرا تو معلوم پڑا ہمارے ملک میں دو طرح کے لوگ ہیں، ایک وہ جو ایسٹیبلشمنٹ کے ہر طرح سے حامی ہیں اور دوسرے وہ جو اسکے سیاسی چہرے کے مخالف ہیں لیکن پچھلے کچھ دنوں میں پاکستانیوں کی ایک مزید تفریق سامنے آئی ہے، ایک وہ جو عورتوں کے حقوق کیلئے آواز اٹھاتے ہیں اور دوسرے وہ جو آواز اٹھانے والوں کو گالیاں دیتے ہیں۔ پہلی دونوں مثالیں ملکی سیاسی مزاج کی عکاس ہیں جبکہ حالیہ تضاد ہماری اجتماعی اخلاقیات کی دراڑ سے نکلا ہے۔

‘میرا جسم میری مرضی’ کا نعرہ کچھ برس پہلے عورتوں کے عالمی دن کے موقع پر ایک پلے کارڈ سے مستعار ہے جسے پچھلے دنوں ایک ٹاک شو میں دوہرانے پر ایک خاتون بلاگر کو ایک نام نہاد ادیب سے گندی گالیاں پڑیں۔ یہ وہی ادیب صاحب ہیں جنہوں نے کچھ برس پہلے اپنے دورِ جوانی کی محبت پر ایک ڈرامہ بنایا تھا جو لوگوں کی نظر میں انکے عشق کی داستان جبکہ اصل میں یکطرفہ محبت اور رشتہ مانگنے پر پیش آنے والی ذلت کا جواب تھا۔ شناختی کارڈ پر موصوف کے کاغذی والد اور والدہ جب ‘رخسانہ’ کے گھر رشتہ مانگنے گئے تو اُسکے والد ٹھیکیدار امین نے برملا پوچھ لیا تھا کہ ‘رشتہ داری تو اگلی بات ہے، پہلے یہ تو بتاو کہ یہ لڑکا عبدالرحمٰن میں سے ہے یا صادق میں سے؟’ اور رشتہ دینے سے انکار کر دیا۔

واقعہ کچھ یوں ہے کہ عنائیت بی بی صادق کی بیوی تھی جس میں سے اسکے تین بیٹے اور ایک بیٹی تاج پیدا ہوئے۔ اس دوران صادق کا بھتیجا عبدالرحمٰن اپنی چاچی کو بھگا لے گیا جس میں سے ایک بچہ پیدا ہوا۔ ٹھیکیدار امین سمیت کوئی قریبی رشتہ دار نہ عنائیتی لاہور والی اور عبدالرحمٰن کے نکاح میں بیٹھا نہ ہی انھیں ‘کھِیلے’ کی اصل ولدیت بارے علم تھا اور یہی وہ بے عزتی تھی جسکا بدلہ لینے کیلئے اس نے وہ ڈرامہ بنایا جس میں لوگوں کے نام سے لیکر گاوں کے نام تک ہر شئے سچی تھی، بس جس معاشقے پر ساری کہانی کھڑی کی گئی اسکا اصل کہانی میں کہیں کوئی وجود نہیں تھا۔ اب ایسا شخص جو اپنی ماں بارے طعنے سن سن کر جوان ہوا ہو اگر اسکے ڈرامے میں "عورت دو ٹکے کی” نظر آئے یا پھر خود نیشنل ٹی وی پر بیٹھ کر وہ کسی عورت کے جسم پر تھُوکنے کی بات کرے یا اسے کُتیا، حرامزادی کہے اور اوپر سے لوگ حیران ہوں یا شور مچائیں تو یہ اس بیچارے کیساتھ سخت زیادتی ہوگی۔ میرے خیال میں پوری قوم کو اسے Get Well Soon کے کارڈز بھیجنے کی ضرورت ہے کیونکہ ادیب موصوف ذہن کی سطح پر شدید بیمار ہیں۔ گالیاں کھا کر خاتون بلاگر نے بھی کوئی لگی لپٹی نہیں رکھی اور آج پوری دنیا میں ادیب صاحب کو جو گالیاں پڑ رہی ہیں اس میں وہ بھی کُھلے دل حصہ ڈال رہی ہیں۔

افسوس کہ اس سارے قضیئے میں اصل مدعا یعنی عورت مارچ متنازعہ ہو گیا۔ ایک تو وہ سارے عوامل جو 2020 میں بھی عورت کو پیروں کی جوتی سمجھتے ہیں ادیب موصوف کے پچھواڑے خیمہ زن ہو گئے ہیں دوسرا موجودہ حکومت جو پچھلے ڈیڑھ برس میں اپنی ایک سے بڑھ کر ایک نالائقیوں کیوجہ سے سخت ترین تنقید کا شکار تھی، وہ بھی کھُل کر ادیب موصوف کی حمائیت میں نکل آئی ہے کہ کسی طرح ہی سہی لوگوں کی گالیوں سے انکا نام تو ہٹے۔ اس مدعے میں ہزاروں ایسے بھی ہیں جو بظاہر اپوزیشن جماعتوں سے ہیں لیکن مرد کی برتری کے نام پر میری زبان میری مرضی کے داعی بنے ہوئے ہیں۔

اس سارے پُتلی تماشے میں کسی نے یہ دیکھنا گوارا ہی نہیں کیا کہ عورتوں کے عالمی دن پر عورت مارچ کا اصل مقصد میرا جسم میری مرضی نہیں بلکہ عالمی سطح بالخصوص پاکستان میں عورت سمیت تمام لوگوں بالخصوص پسے ہوئے طبقات کے حقوق کا احیاء ہے۔ جو تنظیم اسکا انعقاد کر رہی ہے اس نے عورت مارچ کے مقاصد جاری کیئے ہیں جن میں انصاف کی بنیاد پر سماجی اصلاحات سمیت غیرت کے نام پر قتل، کاروکاری، جبری شادی، ہراساں کرنے، جنسی تشدد، تیزاب گردی اور عوامی مقامات پر مورل پولیسنگ کے خاتمے کے مطالبات شامل ہیں۔ یہ مارچ صرف عورتوں کے حقوق کیلئے نہیں کیا جا رہا بلکہ اس میں سکول کالج سے لیکر یونیورسٹی کی سطح تک کے طالب علموں کے مسائل اور انکے حل کیلئے بھی آواز اٹھانے کا اعلان ہوا ہے۔ سبھی اصناف کیلئے یکساں مواقع بالخصوص خواتین، خواجہ سراوں اور دیگر صنفی اقلیتوں کے حقوق کا جامع چارٹر بھی اس مارچ کے مقاصد میں شامل ہے لیکن اس مارچ کے ناقدین میرا جسم میری مرضی کی ذو معنویت کے لطف سے باہر نکلیں تب ناں۔

انہیں کیا پتہ کہ عورت مارچ ملازمت کرنے والی عورتوں، خواجہ سراوں یہاں تک کہ گھروں میں کام کرنے والے لاکھوں مزدوروں تک کیلئے یونین کا حق مانگنے کیلئے کیا جارہا ہے۔ سب کیلئے باوقار روزگار کے مواقع، مناسب اجرت، کمزور اصناف کیخلاف ہراسیت کا خاتمہ، لیبر قوانین کا اطلاق، کام کرنے والی عورتوں کے بچوں کی مناسب نگہداشت کیلئے سرکاری ڈے کیئر سینٹرز کا قیام، زچہ کیلئے تنخواہ کیساتھ چھ ماہ کی جبکہ اسکے شوھر کیلئے تین ماہ کی چھٹی، غیر مساوی وراثت کا خاتمہ، کچی آبادیوں کی ریگولرائزیشن، فوسل فیول کے بے دریغ استعمال کی روک تھام، قابلِ تجدید ذرائع توانائی کیطرف منتقلی، پبلک ٹرانسپورٹ کی بہتری اور جنگلات کی بحالی تک اسکے ایجنڈے میں شامل ہیں۔

یہ مارچ جہاں گھریلو تشدد کیخلاف ہے وہیں یہ شہری حقوق اور قانونِ شہادت کی کمیوں، جیون ساتھی چُننے کی آزادی، عورتوں کی فوجداری نفاذ کے اداروں میں %33 نمائیندگی، تھانے کچہری میں عورتوں کیلئے الگ ڈیسک اور جنسی و گھریلو تشدد کا شکار افراد کیلئے مراکز قائم کرنے کیلئے بھی کوشاں ہے۔ انکی نظر بچوں کیساتھ بدسلوکی سے لیکر جنسی بداعمالیوں کیخلاف کڑی سے کڑی قانون سازی پر ہے اور یہ تھانوں میں خواجہ سراوں کیساتھ بدسلوکی اور تنازعات کی صورت میں تحفظ و تصفیہ مراکز کے قیام کیلئے بھی سرگرم ہیں۔

میرا جسم میری مرضی سے طبعاً گندے گندے مطلب نکالنے والے کیا یہ جانتے ہیں کہ مارچ کے مقاصد میں میرے آپکے بچے کیلئے معیاری تعلیم بھی عورت مارچ کا ایجنڈہ ہے۔ یہی نہیں بلکہ یہ تو ملکی پیداوار کا %6 تعلیمی بجٹ کیلئے مختص کرنے کیلئے آواز اٹھا رہا ہے۔ انکا مطالبہ ہے کہ طلباء یونینز بحال کی جائیں اور عورتوں کی بھرپور نمائندگی کو یقینی بنایا جائے۔ یہی نہیں تعلیمی اداروں سے فوج سمیت تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے انخلاء کا پہلی بار مطالبہ اسی عورت مارچ نے کیا ہے۔ اب اگر وہ یہ کہیں کہ زنانہ ہوسٹلوں سے اوقاتِ کار کا امتیازی مارشل لاء اٹھایا جائے یا ہھر انہیں اظہارِ رائے یا سیاسی وابستگی، اجتماع و احتجاج کے آئینی حقوق دیئے جائیں تو کیا یہ غلط ہے؟ اگر عورت مارچ کا مطالبہ ہے کہ عورتوں کو منتخب ایوانوں میں %33 نشستیں دی جائیں یا پھر سیاسی جماعتوں کی فیصلہ ساز کمیٹیوں میں عورتوں یہاں تک کہ خواجہ سراوں کی مناسب نمائیندگی مانگتا ہے تو اس میں غلط کیا ہے؟

8 مارچ کو یہ خواتین جبری گمشدگی کیخلاف آواز اٹھانے جا رہی ہیں تو یہ کتنا بڑا جرم ہے جو ساری سرکاری مشینری اس مارچ کو متنازع بنانے پر تُل گئی ہے۔ اللہ جانے کس نے انہیں بتایا ہے کہ جسم کیساتھ مرضی لکھنے کا مطلب ننگا پھرنا یا پھر جنسی بے راہ روی ہوتا ہے۔ دراصل یہ ساری ہائپ عوام کی توجہ حکومتی کارکردگی سے ہٹانے کیلئے کیلئے کھڑی کی گئی ہے اور پہلی بار خان صاحب اس کام میں سو فیصد کامیاب ہوئے ہیں اور ایسا کامیاب کہ ن لیگ کا بیانیہ حکومتی بیانیئے سے باہم شیر و شکر دیکھا جا سکتا ہے۔

ماسوائے بلاول بھٹو زرداری کے کوئی قابلِ ذکر لیڈر عورت مارچ کی حمائیت میں منہ کھولنے کو تیار نہیں یہاں تک کہ پشتون تحفظ موومنٹ جو درحقیقت انسانی حقوق اور جبری گمشدگی پر عورت مارچ والوں سے کہیں پہلے سے کام کر رہی ہے، نے شکر ادا کیا ہے کہ ماروی سرمد نے تنقید کا منہ علی وزیر کی متنازعہ تقریر سے عورت مارچ کیطرف پھیر دیا ہے۔اب یہاں یہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم ایک صحتمند معاشرے میں رہتے ہیں؟ کیا ہماری اولاد اس معاشرت میں محفوظ ہے جہاں شوھر تو صرف اس لیئے اپنی بیوی کا بچہ گرانے ہسپتال لیجا سکتا ہے کہ دو مہینے بعد اسکے بھائی کی شادی ہے جسکے واسطے بغیر تنخواہ کے ملازمہ کا فُل ٹائم ایکٹیو ہونا ضروری ہے لیکن عورت اپنی صحت طبیعت کو درپیش مسائل کیوجہ سے اسقاطِ حمل مراکز بارے بات بھی نہیں کر سکتی ورنہ کوئی خلیل الرحمٰن قمر برسرِ عام اسکے جسم پر تھُوکنے کی بات کرے گا-

علی عبداللہ ہاشمی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • ایک تیری دید کی میں پھر پیاسی رہ گئی
  • نسل نو میں عدم برداشت
  • ایموجیز اور سیکسٹنگ
  • قریب ہے کہ وہ کہہ دے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
صاحبِ دل والوں کی دلی یا۔۔؟
پچھلی پوسٹ
بابا جمہورا

متعلقہ پوسٹس

چائے- پانی

دسمبر 16, 2019

وہ جان بوجھ کے مجھ کو اداس رکھتا ہے

مارچ 5, 2020

رومانوی خیالات کی دنیا

اپریل 1, 2023

گلاب چہرہ بہاروں میں آ کے بیٹھ گئے

نومبر 16, 2025

اکثر لوگ بھول جاتے ہیں

جنوری 5, 2025

سلِیپ ڈِس آرڈر

دسمبر 20, 2021

پاکستانی یونیورسٹیوں کی بقا کا واحد راستہ

دسمبر 22, 2025

اقبال احمد ساجد

مارچ 28, 2020

جب سہولت نہیں ہے جینے کی

جنوری 2, 2022

چشمِ گریہ ترے رونے کے بہانے کتنے

دسمبر 12, 2021

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • سوچتے رہو، جیتے رہو

    مارچ 18, 2026
  • بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

    مارچ 17, 2026
  • اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

    مارچ 17, 2026
  • ماورا ہے سوچوں سے

    مارچ 17, 2026
  • گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں

    مارچ 17, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

استخارہ

مارچ 15, 2026

مختصر سیرتِ رسولﷺ

مارچ 10, 2026

لیلۃ القدر – ایک رات اور پوری زندگی

مارچ 9, 2026

صدقۂ فطر کی حکمت و اہمیت

مارچ 9, 2026

اعتکاف احکام اور آداب

مارچ 9, 2026

اردو شاعری

بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

مارچ 17, 2026

ماورا ہے سوچوں سے

مارچ 17, 2026

گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد...

مارچ 17, 2026

نشے میں ہم ہیں مگر

مارچ 17, 2026

یہ مرے گھر کے تین چار درخت

مارچ 17, 2026

اردو افسانے

عید کا ادھورا وعدہ اور لفظوں کا مصور

مارچ 17, 2026

دہلیز کا آخری وعدہ

مارچ 9, 2026

آدھی عورت آدھا خواب

جنوری 14, 2026

طوائف کون؟

جنوری 14, 2026

لمس

جنوری 12, 2026

اردو کالمز

سوچتے رہو، جیتے رہو

مارچ 18, 2026

اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

مارچ 17, 2026

میڈیا کا اثر اور ہماری سوچ تحریر

مارچ 17, 2026

کردار، کردار نگاری اور تخلیقیت

مارچ 16, 2026

امن بورڈ یا امن سے اکتاہٹ؟

مارچ 16, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • سوچتے رہو، جیتے رہو

    مارچ 18, 2026
  • بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

    مارچ 17, 2026
  • اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

    مارچ 17, 2026
  • ماورا ہے سوچوں سے

    مارچ 17, 2026
  • گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں

    مارچ 17, 2026
  • نشے میں ہم ہیں مگر

    مارچ 17, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

تقدیرِ رنگین

جنوری 8, 2025

میں کہ سائر بھی ہوں ہدایت...

اگست 28, 2025

تم جاننا چاھو کہ میرے اندر...

مارچ 1, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں