خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباباباجی!
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزشیخ خالد زاہد

باباجی!

از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 14, 2020
از سائیٹ ایڈمن اکتوبر 14, 2020 0 تبصرے 80 مناظر
81

باباجی!

لمحہ لمحہ بدلتی ہوئی دنیا نے معاشرتی اقدارتہس نہس کر دئے ہیں رہی سہی کثر کورونا نے پوری کر دی ہے اوراقدار کی تبدیلی،انکی جگہ نمود و نمائش کیلئے کھوکھلے عالی شان محل کھڑے کر لئے ہیں۔ ایک وقت تھا جب لوگ پائیداری کو فوقیت دیا کرتے تھے اور آج لوگ زیبائش و نمائش کو اہمیت دیتے ہیں۔ماضی میں گھر کے بڑے بوڑھے انتقال اقدار کی اگلی نسل میں بحالی کو یقینی بنانے میں قلیدی کردار ادا کرتے تھے اور اپنی جگہ رہتے ہوئے معاملات کو نافذ العمل کرنے کیلئے انتہائی سفاکی اور سنگدلی سے بھی گریز نہیں کرتے تھے۔کتابی علمی فراوانی محدود ہونے کے باعث تحقیق بھی زبانی ہوا کرتی تھی ایک بزرگ کی کہی گئی بات دوسرے بزرگ سے کی جاتی تھی، گوکہ مرزا اسد اللہ خاں غالب کا کہنا تھا کہ بوڑھے اور بزرگ میں فرق ہوتا ہے بڑھاپا بڑھتی ہوئی عمر کی نشاندہی کرتا ہے جبکہ بزرگی کیلئے عمر کی کوئی قید نہیں ہے یہ عمر کے کسی بھی حصے میں فہم و فراست کے تیجے میں دستیاب ہوسکتی ہے۔ اس بات کی گواہی دینے کیلئے ہم میں سے اکثریت غالب کی حمائت کرتی دیکھائی دے رہی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ علم مشاہدے سے حاصل کیا گیا اور تجربے کی بنیاد پر مرتب کیا گیااور قلم، دوات اور کاغذ سے قبل سینہ با سینہ منتقل ہوتا چلا آیا۔ کلام الہی نے انسان کیلئے آسانیوں کے دریچے کھول دئے اور ہمارے پیارے نبی ﷺ نے ان دریچوں تک رسائی دلائی اور انسانی زندگیوں کو آسانیوں سے بھرپور مزین کردیا۔اشرف المخلوقات ہونے کا زعم انسان میں لاشعوری یا شعوری موجود ہے، اور یہ ہی ایک اہم وجہ ہے کہ جو انا یا میں کی ترغیب دیتا ہے۔

وقت نے علم کی شکل تبدیل کردی مشاہدے اور تجربے سے حاصل شدہ علم کتابوں میں منتقل ہونا شروع ہوا اور لکھنے والوں نے تحقیق کا سفر شروع کیا اس سفر کی بدولت جانکاری کی تہہ در تہہ کھلتی چلی گئیں جو کہ آج تک کھل رہی ہیں اور حضرت علامہ محمد اقبال ؒ نے اس امر کی عکاسی کیا خوب کی کہ

یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شائد

کہ آرہی ہے دما دم صدائے کن فیکوں

انسان جتنا بھی جاننے کا دعوای کر لے لیکن قدرت کا کوئی ایک معمولی سا راز سارے کئے کرائے پر پانی پھیرنے کیلئے کافی ہوتا ہے لیکن اس کا قطعی یہ مطلب نہیں کہ انسان اللہ تعالی کی دی ہوئی عقل کو اور اشرف المخلوقات کے مرتبے کو بھول جائے، اس بات کے پیش نظر کائنات میں چھپے رازوں کی کھوج کیلئے رب کائنات نے خود انسان کو اکسایا،تبھی تو اناج سے لیکر معدنی وسائل تک رسائی ممکن ہوسکی ہے۔ جہاں بحر و بر پر انسان نے کارہائے نمایاں سرانجام دئے اور کسی حد تک اپنی حکمرانی کے جھنڈے گاڑنے کا دعویدار ہوا ہے پھر اسنے پرواز شروع کی خلاؤں کی کھوج میں نکل کھڑا ہوا قدرت نے انسان کی اس جہد کو بھی سراہا اور اسکا پتہ ایسے چلا کہ خلاؤں میں داخل ہونے کی اجازت مل گئی۔ آج دعوای کرنے والے چاند سے ہوتے ہوئے مریخ پر زندگی کے آثار تلاش کر رہے ہیں۔ بات نکلتی ہے تو دور تک چلی جاتی ہے ہم تذکرہ کر رہے تھے معاشرے میں سسکتے ہوئے اقدار کی۔گوکہ ایک باشعور طبقہ اس موضوع پر بات کرنے کو اہمیت نہیں دیتا اسکی وجہ بدلتے ہوئے وقت کیساتھ بدلتے رہنا ہے، وہ اس بات پر غور دینا بھی وقت کا ضیائع سمجھتے ہیں کہ اپنی اقدار سے انحراف ہماری بنیادے کھوکھلی کردیگا۔اقدار سے بغاوت کوئی بری بات نہیں لیکن ان اقدار سے جو صرف خاندانی حدود ہوتی ہیں جہاں بات معاشرے کی اور پھر اسلامی معاشرے کی تو پھر ان اقدار کو عبور کرنا اپنے لئے برائی کو دعوت دینا سمجھا جاتا ہے جوکہ آج کل ہم دیکھ ہی رہے ہیں۔

اقدار کی رسی سے بندھے رہنے اور اپنے خالق سے تعلق قائم رکھنے والے کو باباجی کے نام سے پکارا جاتا ہے، یہاں بھی حضرت غالب کا کہا ہوا صادق ہوتا ہے کہ باباجی ہونے کیلئے بھی نا عمر کی کوئی شرط ہے اور ناہی کسی سند کی۔ جہاں تاریخ حق باہو، بلھے شاہ، وارث شاہ، شاہ عبدالطیف بھٹائی، بابا عبدالرحمان،اقبال، رومی اور غزالی جیسے گہرے نایاب اپنے گلے میں لٹکائے ہوئے گھوم رہی ہے، انہی کی نقشِ قدم پر چلنے والوں میں اشفاق احمد، قدرت اللہ شہاب، واصف علی واصف، علیم الحق حقی و دیگر نے دنیاوی علوم کیساتھ اپنے باباجی ہونے کے دلائل ہمارے لئے چھوڑ رکھے ہیں۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اعلی دنیاوی علوم پر بھی اپنی دسترس قائم کی دنیا کے مختلف درسگاہوں میں بھی بطور طالب علم اور بطور معلم تعینات رہے۔ لیکن یہ لوگ اپنے جسم کی بودوباش کیلئے حاصل کردہ علم تک محدود نہیں رہے بلکہ انہوں نے بابوں کے ڈیروں کی خاک چھانی جس کی بدولت یہ لوگ اقدار کی رسی سے ترقی یافتہ ادوار میں بھی بندھے رہے۔

سماجی ابلاغ نے جہاں معلومات تک رسائی کو آسان بنایا ہے وہیں ہیجانی کیفیات کو بھی فروغ دینے کا راستہ کھولا ہے۔ عقائد اقدار سے اوپر ہوتے ہیں اقدار کا تعلق معاشرے سے ہے لیکن عقائد کا تعلق مذاہب سے ہوتا ہے۔پاکستان میں رہنے والے دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد خصوصی طور پر خواتین اس بات کا خیال رکھتی ہیں کہ وہ معاشرتی اقدار کی پاسداری کرتے ہوئے اپنے لباس زیب تن کریں ناکہ وہ اپنے مذہب کے اکثریت والے ممالک میں رائج لباس پاکستان میں پہن کر بازاروں میں دیکھائی دیں۔ لیکن بہت ہی افسوس کیساتھ یہ لکھنا پڑ رہا ہے کہ اب لباس کے معاملے میں یہ فیصلہ کرنا بہت مشکل ہوگیا ہے کہ زیب تن کرنے والا جسم کن عقائد پر یقین رکھنے والا ہے۔

دنیاوی علوم نے انسان کی نفس پر کوئی خاطر خواہ کام نہیں کیا، البتہ یہ ضرور بتایا کہ اسے کب کس چیز کی ضرورت پڑ سکتی ہے اور اسے کس طرح سے سدھارنے کی کوشش کی جاسکتی ہے،دنیاوی تعلیم نے خواہشات کو اجاگر کرنے کا سامان تو پیدا کیا اور روحانیت سے دور رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی یا پھر اسے نشے یا اس جیسی شے کی لت سے منسلک کر دیا۔ اس سے یہ ہوا کہ بڑے بڑے علم پر قدرت رکھنے والے تو پیدا ہوتے گئے اور کارگردگی بھی دیکھانے لگے لیکن روح کے سامان سے باز رکھنے کا ہر ممکن حربہ استعمال کیا ہے۔ یہ بھی ایک اچھی بات ہے کہ ہم سب میں ایک باباجی موجود ہوتے ہیں لیکن رنگ و روشنی میں لپٹی اس فریبی دنیا کے ہوکر رہنے کی وجہ سے اپنے اندر موجود باباجی کو چھپائے رکھتے ہیں اور گاہے بگاہے انہیں مارنے کی ہر ممکن کوشش میں مصروف رہتے ہیں۔

اگر ہم اپنی اقدار پر قائم رہتے بلکہ انکو اور پروان چڑھاتے تو ہم اپنے باباجی کو ہمیشہ اپنے ساتھ رکھتے، گلی محلوں کی حفاظت بھی انہی بابا ؤں کے ذمہ ہوتی تھی یہ وہ عظیم ہستیاں تھیں جن کے جسم کمزور مگر حوصلے اور یقین بہت مضبوط ہوا کرتے تھے۔مائیں سب سے بڑی باباجی ہوتی ہیں جو دکھ تکلیف سہتی ہیں اور پرورش میں جھول نہیں آتے دیتیں، حقیقت میں یہ انکا ہی خاصہ ہے کہ باباجی کی تربیت انکی ہی گود میں ہوتی ہے۔ باباجی ایسے ہی کسی کو ترغیب دے دیا کرتے تھے لوگ ایسے ہی گھنٹوں انکے ڈیروں پر بیٹھے رہتے تھے جہاں کی آب و ہوا بھی فیض سے معمور تھی (جیسیا آجکل وائی فائی کے گرد لوگ جمع ہوتے ہیں اور کہیں جائیں تو فورا وہا ں کا خفیہ پتہ پوچھتے ہیں)۔ یہ بابے صرف اتنا جانتے تھے کہ لوگوں کو جوڑے رکھو اور جڑے رہنے کیلئے ایک دوسرے کے کام آنے کی ترغیب دیتے تھے یہی اپنے خالق سے جڑنے کا سبب بنتا ہے۔ ایسا نہیں کہ ماؤں نے باباؤں کی تربیت بند کردی ہے آج بھی ہمارے ارد گرد بہت سارے باباجی گھومتے پھر رہے ہیں بس حالات کے سبب کچھ مزاج کے مختلف ہیں، کچھ لب و لہجے کے مختلف اور کچھ لباس کے لیکن ہیں ہمارے درمیان ہی بس تھوڑا سا موبائل کا وائی فائی بند کرکے کچھ دیر کیلئے اپنے آپ سے مل لیں تو شائد ایک باباجی سے تو فوری ہی ملاقات ہوجائے۔ اللہ تعالی ہمیں آسانیاں بانٹنے کی توفیق دے اور ہمارے آسانیاں پیدا فرمائے۔ (آمین یا رب العالمین)

شیخ خالد زاہد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • گُل رخے
  • سو جہاں اور بھی ہیں
  • جانے دیتا ہوں جہاں
  • یہ آگہی کی مسافت یہ ہاؤ ہو کی تھکن
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
حد
پچھلی پوسٹ
فلسفہ استقبالِ ربیع الاول

متعلقہ پوسٹس

گفتگو ایک سوکھی بیل کی ہے

نومبر 14, 2021

شعور نوحہ کناں ہوا ہے

مارچ 31, 2020

ادویات،کمیشن اور ضمیر کا سود

اگست 15, 2025

مت دکھانا کسی کو کوٸی قبالہ صاحب

جولائی 28, 2020

دل نہیں کرتا

اکتوبر 16, 2025

گرہ کھلنے تک کا تنقیدی جائزہ

اپریل 27, 2025

میرے لفظوں میں جہاں لطف و معانی آئے

مئی 8, 2020

بیٹی، تعلیم اور بدلتا ہوا دیہی معاشرہ

مارچ 21, 2026

خواتین کا عالمی دن

مارچ 14, 2021

خوابوں کی کشتی اور زندگی کا سمندر

دسمبر 1, 2024

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز

اسلامی گوشہ

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

اردو شاعری

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

اگست 30, 2026

ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

تیسری ہندکو کانفرنس

اگست 24, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط

    اگست 30, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ڈھلے جب شام دل میں

دسمبر 26, 2024

پورا ہو چاند صبح کا تارا...

اگست 23, 2020

آنکھ ہے پر عجب تماشا ہے

مئی 8, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں