خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےکفن میں ایک سو ایک سال
اردو افسانےاردو تحاریردیوندر ستیارتھی

کفن میں ایک سو ایک سال

از فضّہ جون 14, 2020
از فضّہ جون 14, 2020 0 تبصرے 28 مناظر
29

کفن میں ایک سو ایک سال
(ایک)

ناگ دیو مر گیا۔۔۔ اب وہ لوٹ کر نہیں آئے گا۔

کل رات میں نے اس کی ارتھی دیکھی۔ سفید کفن میں رسیوں سے کس کر بندھا ہوا اس کا جسم ارتھی اٹھانے والوں کے کندھوں پر تیرتا ہوا نکل رہا تھا۔

میں ارتھی کے ساتھ نہ جا سکا۔

دماغ نے میرے جسم سے الگ ہو کر کہا۔ ’’جاؤ، ناگ دیوتا کو چِتا پر جلتے دیکھ آؤ۔‘‘

میں ارتھی کے ساتھ جانے والوں کی آہ و زاری سنتا رہا۔

انجام رسیدہ داستان کی طرح میرا دماغ ٹھنڈا ہو گیا۔

اندھیرے میں خارش زدہ کتا اسی طرح بھونکتا رہا جیسا کہ وہ کبھی تندرستی میں بھونکا کرتا تھا۔

سردار کیفے میں چائے پینے والے اسی طرح چائے کی چسکیاں بھرتے رہے۔

میرے ہاتھ میں وہ ہفتہ وار اخبار تھا، جو ہر مہینے سٹوری سپلیمنٹ شائع کیا کرتا ہے۔

اس اخبار کا یہ شمارہ وہی تھا، جس میں اس مہینے کاسٹوری سپلیمنٹ شائع ہوا تھا۔

اخبار کے معمولی شمارے کی قیمت پچاس پیسے ہوتی ہے۔ سٹوری سپلیمنٹ والے شمارے کی قیمت پچھتّر پیسے ہے۔ پچیس پیسے میں سٹوری سپلیمنٹ مہنگا نہیں۔ کبھی کہانی میں ’’اوپر، نیچے، درمیان‘‘ کی سی کیفیت، کسی میں ضد اور تندی کا تال میل، کسی میں منہ چڑانے کی سی نفسیاتی الجھن، کسی میں جسم کا دباؤ، کسی میں روح کی پرواز۔

دیوار کی کہانی لکھتے وقت دیوار بن جانا پڑتا ہے، اندھیرے کی کہانی لکھتے وقت اندھیرا۔

شبد بدکتے ہیں، رنگ ڈرتے ہیں۔ کیا کہانی گلوکوز کے انجکشن کی محتاج ہوکر رہ گئی ہے۔ جیسا کہ اس مہینے کی سٹوری سپلیمنٹ کے اداریے میں لکھا گیا ہے۔

یہ تو ناگ دیو بھی مانتا تھا کہ محض الفاظ کی بندش کافی نہیں۔ کہانی تو احساس کا سفر ہے۔

واقعی ناگ دیو نے زہر کو ہضم کرنے کا گُر سیکھ لیا تھا۔

اگلے مہینے کی سٹوری سپلیمنٹ میں میری کہانی چھپے گی۔ اس میں ناگ دیو کی تصویر پیش کی جائے گی۔

اس کہانی کا تال میل اس درویش سے ملایا جائے گا جو پہلے گانجا پیتا ہے اور پھر سنکھیا کھانے کا ابھیاس کرتے کرتے سانپ سے زبان ڈسوانے کا کرشمہ دکھانے لگتا ہے۔

ایک سو ایک سال کا ہوکر مرا ناگ دیو۔

(دو)

اس کے گلے میں پچھلے سال ایک سو ایک پھولوں کا ہار پہنایا گیا تھا اور جب اس نے سپیرے کی طرح جھولے سے سانپ نکال کر اس سے اپنی زبان ڈسوائی تو دیکھنے والے دنگ رہ گئے۔

ناگ دیو کی ایک سو ایک ویں سالگرہ کے موقع پر جتنے حضرات نے اس کو خراج تحسین ادا کیا، ان کی مشترکہ آواز یہی تھی کہ ناگ دیو کے روپ میں درویش آخری منزل تک پہنچ چکا ہے۔

سردار کیفے کی میز پر بیٹھے بیٹھے میں نے وہ کہانی پڑھی، جس میں ہار سنگار سے دوپٹّہ رنگنے کا ذکر کیا گیا تھا۔

’’پیچھے کون جا سکتا ہے؟‘‘

یہ تھا دوپٹہ کہانی کا عنوان۔ یہ ایک حملہ آور کی داستان تھی، جو دولت لوٹ کر چلا گیا۔

’’میرا وطن وہی ہے!‘‘

یہ تیسری کہانی تھی، جس کا خمیر ڈھائی ہزار سال پہلے کے اتہاس سے اٹھایا گیا تھا۔

ناگ دیو زندہ ہوتا تو کردار، گفتار اور عمل کی ہم آہنگی کی کسوٹی پر کستے ہوئے ان کہانیوں کے احساس پر اپنی رائے دیتا۔

آج کوئی ناگ دیو ہیرو نہیں بن سکتا! اس طرح کا بیان دینے کی حماقت میں نہیں کروں گا۔

’’خدا کا قتل ہوگیا اور ہم سب اس کے قاتل ہیں۔‘‘ یہ قول سب سے پہلے میں نے ناگ دیو سے سنا۔

ناگ دیو کی کہانی ایک ایسے آدمی کی کہانی ہے، جس کے اندر اتہاس دھندلے چہرے کے باوجود پوری طرح روشن ہے۔

وہ کہا کرتا تھا ’’اتہاس لمحاتی نہیں ہوتا۔‘‘

وہ ایک صفر کی موت مرنے کے خلاف تھا۔

وحشت کے ہر لمحے کے اندر اسے اتہاس کے دیوتا کی آواز سنائی دیتی۔۔۔

’’شانتی! شانتی! شانتی!‘‘

ناگ دیو نے گروہ بندی کی دوڑ میں دوڑنے سے اپنے آپ کو الگ نہ کرلیا ہوتا تو اس کے نیچے بہت اونچی کرسی ہوتی۔

تنہائی کا جو راستہ ناگ دیو نے اپنایا، اسے کچھ لوگ زوال کا راستہ قرار دیتے ہیں۔

’’حواس کی دھار پر زندہ رہنا ہی زندگی ہے۔‘‘ ناگ دیو اکثر کہا کرتا تھا۔

شاید اسے میرا چہرہ پسند نہیں تھا۔ ادھر ادھر سے اٹھائی ہوئی باتیں اسے اچھّی لگتی تھیں۔

’’تم کب اپنے کو قبر سے باہر نکال کر دیکھو گے۔‘‘ یا

’’ان لوگوں کو یہاں سے بھگا دو، جو پانچ منٹ بھی اپنی تعریف کیے بغیر نہیں گزار سکتے۔‘‘ یا

’’ ہمارا بہترین دوست ہمارا جسم ہے۔‘‘

ناگ دیو کو نہ نمائشی جملے پسند تھے، نہ گستاخ مذاق، نہ اکتا دینے والے لطیفے۔

وہ یہ مانتا تھا کہ غصّے کا دائرہ بہت محدود ہے۔

’’محبت کی رچنا تو روح کی گہرائی میں ڈوب کر ہی ہو سکتی ہے۔‘‘

یہ کہتے کہتے ناگ دیو اسی عورت کا ذکر کرنے لگتا، جس کے بارے میں یہ مشہور تھا کہ وہ سانپ کو مار کر چھت پر پھینک دے اور کسی کو کانوں کان خبر تک نہ ہونے دے۔

غصّے کی رنگ بھومی سے دور رہ کر ناگ دیو کی موت ہوئی۔

شور کی رنگ بھومی سے اسے نفرت تھی۔

(تین)

میں جب بھی اس سے ملتا، وہ اس ناٹک کا ذکر کیے بغیر نہ رہتا جس میں ریت کے ٹیلے میں کمر تک دھنسی ہوئی عورت دکھائی گئی تھی۔ دھوپ اور لُو سے جھلسے ہوئے چہرے والی عورت، جو ٹیلے کے پیچھے بیٹھے ہوئے اپنے خاوند سے باتیں کررہی ہے، اپاہج خاوند اخبار پڑھ رہا ہے۔ دوسرے منظر میں عورت گلے گلے تک ٹیلے میں دھنسی جاتی ہے۔ عورت تسلسل سے باتیں کرتی رہتی ہے۔ اناپ شناپ باتیں۔۔۔ خوف اور حیرت سے پھٹی پھٹی آنکھیں ہم سب کو دیکھ رہی ہیں۔ ویسے ناٹک میں کسی حرکت کا احساس نہیں ہوتا۔

ناٹک کار کا نام ناگ دیو نے بھلا دیا تھا۔ لیکن بیمار ذہن کی الجھی ہوئی باتیں اسے یاد رہ گئی تھیں۔

اسے اکثر یہی احساس ہوتا کہ اخبار پڑھنے والا اپاہج وہ خود ہے۔ اور اب اس عورت کا چہرہ بھی اس کی آنکھوں سے اوجھل ہو گیا ہے۔

(چار)

سٹوری سپلیمنٹ کی پانچویں کہانی کا عنوان ہے ’’عورت کہاں ہے؟‘‘

اسّی سال کی عمر میں ایک شخص شادی کرتا ہے چالیس برس کی عورت سے، جو اب تک نوکرانی رہی ہے۔

بوڑھا شوہر چاہتا ہے کہ وہ نوکرانی سے مالکن بن جائے۔ لیکن وہ مالکن نہیں بن پاتی۔

بوڑھا شوہر جانتا ہے کہ وہ عورت کو وہ کہانی سنائے جو اس نے اب تک کسی کو نہیں سنائی۔

لیکن وہ کہانی سننے کو تیار نہیں ہوتی۔

بوڑھا شوہر ہر وقت عورت کا انتظار کرتا رہتا ہے۔

وہ یہ سوچ کر شرمندہ نہیں ہوتا کہ اس نے بُڑھاپے میں شادی کا ڈھول گلے میں ڈالا۔

بوڑھا شوہر ہر وقت محسوس کرتا ہے کہ وہ جِلاوطن ہے اور یہ عورت اس کا وطن ہے، لیکن وہ عورت کو ہر وقت اپنے آپ میں رکھنے کے لیے راضی نہیں کر پاتا۔

بوڑھا شوہر ہروقت عورت کا انتظار کرتا رہتا ہے۔

وہ یہ سوچ کر شرمندہ نہیں ہوتا کہ وہ ہر وقت کام سوتر پڑھتا رہتا ہے اور تنہائی میں سانپ سے اپنی زبان ڈسواتا رہتا ہے۔

وہ کبھی نہیں سوچتا کہ عورت اس سے دور کیوں بھاگتی ہے۔

عورت کی چاہ، عورت کی یاد اسے بھی لگتی ہے۔ جھوٹ اور سچ کا تال میل، غصّے اور محبت کی داستان۔

وہ سوچتا ہے کہ اس کی زندگی میں عورت نہ آئی ہوتی تو اس کی کہانی کتنی بے ربط اور اوٹ پٹانگ ہوتی۔

اسے وہ دن یاد آتے ہیں، جب اسے پھانسی کی کوٹھری میں رہنا پڑا تھا۔

(پانچ)

کتنی دلچسپ کہانی ہے۔۔۔ پھانسی کی سزا ٹل گئی۔ عمرقید ہو گئی۔

کالے پانی میں گزارے ہوئے لمبے سال گھومتے پہیّوں کی طرح اس کے ذہن میں حرکت کرتے ہیں۔

(چھ)

کالے پانی سے واپس آکر کرانتی کا مارگ اپنانے سے اس نے اپنے آپ کو دور رکھا اور عورت کی یاد پر غلبہ پانے کی کوشش میں سانپ سے اپنی زبان ڈسواتا رہا۔

(سات)

یہی تو ہے ناگ دیو کی کہانی۔

لکھنے والے کا کمال یہ ہے کہ اس نے ناگ دیو کی زندگی میں ہی اس کی موت کا نقشہ کھینچ دیا۔

اب میرے لیے لکھنے کو کیا رہ گیا ہے؟ میں تو یہی عرض کر سکتا ہوں کہ میں نے تو ہر سڑک پر ارتھی نکلتے دیکھی۔ لیکن سردار کیفے کے اندر سے یہ ارتھی دیکھنے کا میرا پہلا تجربہ ہے۔

اب یہ منظر ہمیشہ میری آنکھوں میں تیرتا رہے گا۔

سفید کفن میں رسّیوں سے لپٹے ہوئے ایک سو ایک سال۔ ایک بوڑھے کرانتی کاری کا جسم۔

دیوندر ستیارتھی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • واہ! محمد علی سدپارہ
  • مس مالا
  • کمہارن
  • میاں، بیوی اور واہگہ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
فضّہ

اگلی پوسٹ
نئے دیوتا
پچھلی پوسٹ
تانگے والا

متعلقہ پوسٹس

بابا جمہورا

مارچ 10, 2020

سنگھار کمرے میں!

مئی 20, 2020

مرد کی عزت

اپریل 1, 2023

آلو کھا کر آنسو جھیل دیکھیے

اکتوبر 9, 2022

جانشینی سرٹیفیکیٹ

نومبر 26, 2025

موبائل کیمرہ اور بےحسی

جون 5, 2020

شہرت کیلئے ملک اور قوم کی عزت

ستمبر 7, 2021

تعاقب

جون 9, 2020

احساس ۔ حصول سکون کا زریعہ

اپریل 20, 2020

عورت کی زندگی پر معاشرتی دباؤ

اکتوبر 21, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • سوچتے رہو، جیتے رہو

    مارچ 18, 2026
  • بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

    مارچ 17, 2026
  • اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

    مارچ 17, 2026
  • ماورا ہے سوچوں سے

    مارچ 17, 2026
  • گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں

    مارچ 17, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

استخارہ

مارچ 15, 2026

مختصر سیرتِ رسولﷺ

مارچ 10, 2026

لیلۃ القدر – ایک رات اور پوری زندگی

مارچ 9, 2026

صدقۂ فطر کی حکمت و اہمیت

مارچ 9, 2026

اعتکاف احکام اور آداب

مارچ 9, 2026

اردو شاعری

بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

مارچ 17, 2026

ماورا ہے سوچوں سے

مارچ 17, 2026

گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد...

مارچ 17, 2026

نشے میں ہم ہیں مگر

مارچ 17, 2026

یہ مرے گھر کے تین چار درخت

مارچ 17, 2026

اردو افسانے

عید کا ادھورا وعدہ اور لفظوں کا مصور

مارچ 17, 2026

دہلیز کا آخری وعدہ

مارچ 9, 2026

آدھی عورت آدھا خواب

جنوری 14, 2026

طوائف کون؟

جنوری 14, 2026

لمس

جنوری 12, 2026

اردو کالمز

سوچتے رہو، جیتے رہو

مارچ 18, 2026

اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

مارچ 17, 2026

میڈیا کا اثر اور ہماری سوچ تحریر

مارچ 17, 2026

کردار، کردار نگاری اور تخلیقیت

مارچ 16, 2026

امن بورڈ یا امن سے اکتاہٹ؟

مارچ 16, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • سوچتے رہو، جیتے رہو

    مارچ 18, 2026
  • بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

    مارچ 17, 2026
  • اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات

    مارچ 17, 2026
  • ماورا ہے سوچوں سے

    مارچ 17, 2026
  • گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں

    مارچ 17, 2026
  • نشے میں ہم ہیں مگر

    مارچ 17, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ڈیجیٹل شعور کی کمی ایک المیہ

دسمبر 24, 2025

عطر کافور

جون 15, 2020

ایک تھا بجو کا

نومبر 27, 2022
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں