خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےکفن میں ایک سو ایک سال
اردو افسانےاردو تحاریردیوندر ستیارتھی

کفن میں ایک سو ایک سال

از فضّہ جون 14, 2020
از فضّہ جون 14, 2020 0 تبصرے 78 مناظر
79

کفن میں ایک سو ایک سال
(ایک)

ناگ دیو مر گیا۔۔۔ اب وہ لوٹ کر نہیں آئے گا۔

کل رات میں نے اس کی ارتھی دیکھی۔ سفید کفن میں رسیوں سے کس کر بندھا ہوا اس کا جسم ارتھی اٹھانے والوں کے کندھوں پر تیرتا ہوا نکل رہا تھا۔

میں ارتھی کے ساتھ نہ جا سکا۔

دماغ نے میرے جسم سے الگ ہو کر کہا۔ ’’جاؤ، ناگ دیوتا کو چِتا پر جلتے دیکھ آؤ۔‘‘

میں ارتھی کے ساتھ جانے والوں کی آہ و زاری سنتا رہا۔

انجام رسیدہ داستان کی طرح میرا دماغ ٹھنڈا ہو گیا۔

اندھیرے میں خارش زدہ کتا اسی طرح بھونکتا رہا جیسا کہ وہ کبھی تندرستی میں بھونکا کرتا تھا۔

سردار کیفے میں چائے پینے والے اسی طرح چائے کی چسکیاں بھرتے رہے۔

میرے ہاتھ میں وہ ہفتہ وار اخبار تھا، جو ہر مہینے سٹوری سپلیمنٹ شائع کیا کرتا ہے۔

اس اخبار کا یہ شمارہ وہی تھا، جس میں اس مہینے کاسٹوری سپلیمنٹ شائع ہوا تھا۔

اخبار کے معمولی شمارے کی قیمت پچاس پیسے ہوتی ہے۔ سٹوری سپلیمنٹ والے شمارے کی قیمت پچھتّر پیسے ہے۔ پچیس پیسے میں سٹوری سپلیمنٹ مہنگا نہیں۔ کبھی کہانی میں ’’اوپر، نیچے، درمیان‘‘ کی سی کیفیت، کسی میں ضد اور تندی کا تال میل، کسی میں منہ چڑانے کی سی نفسیاتی الجھن، کسی میں جسم کا دباؤ، کسی میں روح کی پرواز۔

دیوار کی کہانی لکھتے وقت دیوار بن جانا پڑتا ہے، اندھیرے کی کہانی لکھتے وقت اندھیرا۔

شبد بدکتے ہیں، رنگ ڈرتے ہیں۔ کیا کہانی گلوکوز کے انجکشن کی محتاج ہوکر رہ گئی ہے۔ جیسا کہ اس مہینے کی سٹوری سپلیمنٹ کے اداریے میں لکھا گیا ہے۔

یہ تو ناگ دیو بھی مانتا تھا کہ محض الفاظ کی بندش کافی نہیں۔ کہانی تو احساس کا سفر ہے۔

واقعی ناگ دیو نے زہر کو ہضم کرنے کا گُر سیکھ لیا تھا۔

اگلے مہینے کی سٹوری سپلیمنٹ میں میری کہانی چھپے گی۔ اس میں ناگ دیو کی تصویر پیش کی جائے گی۔

اس کہانی کا تال میل اس درویش سے ملایا جائے گا جو پہلے گانجا پیتا ہے اور پھر سنکھیا کھانے کا ابھیاس کرتے کرتے سانپ سے زبان ڈسوانے کا کرشمہ دکھانے لگتا ہے۔

ایک سو ایک سال کا ہوکر مرا ناگ دیو۔

(دو)

اس کے گلے میں پچھلے سال ایک سو ایک پھولوں کا ہار پہنایا گیا تھا اور جب اس نے سپیرے کی طرح جھولے سے سانپ نکال کر اس سے اپنی زبان ڈسوائی تو دیکھنے والے دنگ رہ گئے۔

ناگ دیو کی ایک سو ایک ویں سالگرہ کے موقع پر جتنے حضرات نے اس کو خراج تحسین ادا کیا، ان کی مشترکہ آواز یہی تھی کہ ناگ دیو کے روپ میں درویش آخری منزل تک پہنچ چکا ہے۔

سردار کیفے کی میز پر بیٹھے بیٹھے میں نے وہ کہانی پڑھی، جس میں ہار سنگار سے دوپٹّہ رنگنے کا ذکر کیا گیا تھا۔

’’پیچھے کون جا سکتا ہے؟‘‘

یہ تھا دوپٹہ کہانی کا عنوان۔ یہ ایک حملہ آور کی داستان تھی، جو دولت لوٹ کر چلا گیا۔

’’میرا وطن وہی ہے!‘‘

یہ تیسری کہانی تھی، جس کا خمیر ڈھائی ہزار سال پہلے کے اتہاس سے اٹھایا گیا تھا۔

ناگ دیو زندہ ہوتا تو کردار، گفتار اور عمل کی ہم آہنگی کی کسوٹی پر کستے ہوئے ان کہانیوں کے احساس پر اپنی رائے دیتا۔

آج کوئی ناگ دیو ہیرو نہیں بن سکتا! اس طرح کا بیان دینے کی حماقت میں نہیں کروں گا۔

’’خدا کا قتل ہوگیا اور ہم سب اس کے قاتل ہیں۔‘‘ یہ قول سب سے پہلے میں نے ناگ دیو سے سنا۔

ناگ دیو کی کہانی ایک ایسے آدمی کی کہانی ہے، جس کے اندر اتہاس دھندلے چہرے کے باوجود پوری طرح روشن ہے۔

وہ کہا کرتا تھا ’’اتہاس لمحاتی نہیں ہوتا۔‘‘

وہ ایک صفر کی موت مرنے کے خلاف تھا۔

وحشت کے ہر لمحے کے اندر اسے اتہاس کے دیوتا کی آواز سنائی دیتی۔۔۔

’’شانتی! شانتی! شانتی!‘‘

ناگ دیو نے گروہ بندی کی دوڑ میں دوڑنے سے اپنے آپ کو الگ نہ کرلیا ہوتا تو اس کے نیچے بہت اونچی کرسی ہوتی۔

تنہائی کا جو راستہ ناگ دیو نے اپنایا، اسے کچھ لوگ زوال کا راستہ قرار دیتے ہیں۔

’’حواس کی دھار پر زندہ رہنا ہی زندگی ہے۔‘‘ ناگ دیو اکثر کہا کرتا تھا۔

شاید اسے میرا چہرہ پسند نہیں تھا۔ ادھر ادھر سے اٹھائی ہوئی باتیں اسے اچھّی لگتی تھیں۔

’’تم کب اپنے کو قبر سے باہر نکال کر دیکھو گے۔‘‘ یا

’’ان لوگوں کو یہاں سے بھگا دو، جو پانچ منٹ بھی اپنی تعریف کیے بغیر نہیں گزار سکتے۔‘‘ یا

’’ ہمارا بہترین دوست ہمارا جسم ہے۔‘‘

ناگ دیو کو نہ نمائشی جملے پسند تھے، نہ گستاخ مذاق، نہ اکتا دینے والے لطیفے۔

وہ یہ مانتا تھا کہ غصّے کا دائرہ بہت محدود ہے۔

’’محبت کی رچنا تو روح کی گہرائی میں ڈوب کر ہی ہو سکتی ہے۔‘‘

یہ کہتے کہتے ناگ دیو اسی عورت کا ذکر کرنے لگتا، جس کے بارے میں یہ مشہور تھا کہ وہ سانپ کو مار کر چھت پر پھینک دے اور کسی کو کانوں کان خبر تک نہ ہونے دے۔

غصّے کی رنگ بھومی سے دور رہ کر ناگ دیو کی موت ہوئی۔

شور کی رنگ بھومی سے اسے نفرت تھی۔

(تین)

میں جب بھی اس سے ملتا، وہ اس ناٹک کا ذکر کیے بغیر نہ رہتا جس میں ریت کے ٹیلے میں کمر تک دھنسی ہوئی عورت دکھائی گئی تھی۔ دھوپ اور لُو سے جھلسے ہوئے چہرے والی عورت، جو ٹیلے کے پیچھے بیٹھے ہوئے اپنے خاوند سے باتیں کررہی ہے، اپاہج خاوند اخبار پڑھ رہا ہے۔ دوسرے منظر میں عورت گلے گلے تک ٹیلے میں دھنسی جاتی ہے۔ عورت تسلسل سے باتیں کرتی رہتی ہے۔ اناپ شناپ باتیں۔۔۔ خوف اور حیرت سے پھٹی پھٹی آنکھیں ہم سب کو دیکھ رہی ہیں۔ ویسے ناٹک میں کسی حرکت کا احساس نہیں ہوتا۔

ناٹک کار کا نام ناگ دیو نے بھلا دیا تھا۔ لیکن بیمار ذہن کی الجھی ہوئی باتیں اسے یاد رہ گئی تھیں۔

اسے اکثر یہی احساس ہوتا کہ اخبار پڑھنے والا اپاہج وہ خود ہے۔ اور اب اس عورت کا چہرہ بھی اس کی آنکھوں سے اوجھل ہو گیا ہے۔

(چار)

سٹوری سپلیمنٹ کی پانچویں کہانی کا عنوان ہے ’’عورت کہاں ہے؟‘‘

اسّی سال کی عمر میں ایک شخص شادی کرتا ہے چالیس برس کی عورت سے، جو اب تک نوکرانی رہی ہے۔

بوڑھا شوہر چاہتا ہے کہ وہ نوکرانی سے مالکن بن جائے۔ لیکن وہ مالکن نہیں بن پاتی۔

بوڑھا شوہر جانتا ہے کہ وہ عورت کو وہ کہانی سنائے جو اس نے اب تک کسی کو نہیں سنائی۔

لیکن وہ کہانی سننے کو تیار نہیں ہوتی۔

بوڑھا شوہر ہر وقت عورت کا انتظار کرتا رہتا ہے۔

وہ یہ سوچ کر شرمندہ نہیں ہوتا کہ اس نے بُڑھاپے میں شادی کا ڈھول گلے میں ڈالا۔

بوڑھا شوہر ہر وقت محسوس کرتا ہے کہ وہ جِلاوطن ہے اور یہ عورت اس کا وطن ہے، لیکن وہ عورت کو ہر وقت اپنے آپ میں رکھنے کے لیے راضی نہیں کر پاتا۔

بوڑھا شوہر ہروقت عورت کا انتظار کرتا رہتا ہے۔

وہ یہ سوچ کر شرمندہ نہیں ہوتا کہ وہ ہر وقت کام سوتر پڑھتا رہتا ہے اور تنہائی میں سانپ سے اپنی زبان ڈسواتا رہتا ہے۔

وہ کبھی نہیں سوچتا کہ عورت اس سے دور کیوں بھاگتی ہے۔

عورت کی چاہ، عورت کی یاد اسے بھی لگتی ہے۔ جھوٹ اور سچ کا تال میل، غصّے اور محبت کی داستان۔

وہ سوچتا ہے کہ اس کی زندگی میں عورت نہ آئی ہوتی تو اس کی کہانی کتنی بے ربط اور اوٹ پٹانگ ہوتی۔

اسے وہ دن یاد آتے ہیں، جب اسے پھانسی کی کوٹھری میں رہنا پڑا تھا۔

(پانچ)

کتنی دلچسپ کہانی ہے۔۔۔ پھانسی کی سزا ٹل گئی۔ عمرقید ہو گئی۔

کالے پانی میں گزارے ہوئے لمبے سال گھومتے پہیّوں کی طرح اس کے ذہن میں حرکت کرتے ہیں۔

(چھ)

کالے پانی سے واپس آکر کرانتی کا مارگ اپنانے سے اس نے اپنے آپ کو دور رکھا اور عورت کی یاد پر غلبہ پانے کی کوشش میں سانپ سے اپنی زبان ڈسواتا رہا۔

(سات)

یہی تو ہے ناگ دیو کی کہانی۔

لکھنے والے کا کمال یہ ہے کہ اس نے ناگ دیو کی زندگی میں ہی اس کی موت کا نقشہ کھینچ دیا۔

اب میرے لیے لکھنے کو کیا رہ گیا ہے؟ میں تو یہی عرض کر سکتا ہوں کہ میں نے تو ہر سڑک پر ارتھی نکلتے دیکھی۔ لیکن سردار کیفے کے اندر سے یہ ارتھی دیکھنے کا میرا پہلا تجربہ ہے۔

اب یہ منظر ہمیشہ میری آنکھوں میں تیرتا رہے گا۔

سفید کفن میں رسّیوں سے لپٹے ہوئے ایک سو ایک سال۔ ایک بوڑھے کرانتی کاری کا جسم۔

دیوندر ستیارتھی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟
  • اتفاقیہ ملاقات
  • شیدا
  • تھالی کا بینگن
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
فضّہ

اگلی پوسٹ
نئے دیوتا
پچھلی پوسٹ
تانگے والا

متعلقہ پوسٹس

رنگِ سوات

جنوری 19, 2020

سیاہ جھیل سی آنکھیں

جولائی 31, 2022

آج یاد آرہی ھے

جنوری 10, 2025

لال دھرتی

جون 15, 2020

پاکستان کیسے ترقی کر سکتا ہے

مارچ 25, 2022

ریشم کی مہک

دسمبر 5, 2024

بے نام

جنوری 24, 2020

قادرا قصائی

جنوری 19, 2020

بچوں اور خواتین کے خلاف جرائم

اکتوبر 15, 2025

بھینٹ

جون 14, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

وقار محل کا سایہ

جنوری 17, 2020

اکثر اس طرح بھی رقصِ فغاں...

جنوری 13, 2020

چپ

جنوری 12, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں