خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریرمیاں، بیوی اور واہگہ
اردو تحاریراردو کالمززاہدہ حنا

میاں، بیوی اور واہگہ

ایک اردو کالم از زاہدہ حنا

از سائیٹ ایڈمن اپریل 9, 2018
از سائیٹ ایڈمن اپریل 9, 2018 0 تبصرے 379 مناظر
380

میاں، بیوی اور واہگہ

حسینہ معین سے دوستی اتنی پرانی ہے کہ ان کی کوئی بات ٹالنی ممکن نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ جب مجھے کسی کھیل کے پریمیئر پر لے گئیں تو میں کچھ زیادہ خوش نہیں تھی۔ آرٹس کونسل پہنچ کر معلوم ہوا کہ دبئی سے آنے والے تھیٹر گروپ ’’گونج‘‘ کا کھیل ’’میاں، بیوی اور واہگہ‘‘ کا پریمیئر ہے تو اندازہ ہوا کہ اس میں بٹوارے کی کہانی کسی دوسرے زوایے سے بیان کی گئی ہوگی۔ یہ میرا محبوب موضوع ہے۔

آرٹس کونسل کا آڈیٹوریم خنک تھا اور اس کے مدارالمہام احمدشاہ گرم جوشی سے آنے والوں کا استقبال کررہے تھے۔ اختری بیگم کی مدھر آواز میں مومن اور غالب کی غزلیں خواب وخیال کی دنیا میں لے جارہی تھیں۔ انتظار تھا گورنر سندھ کا، وہ آئے اور احمد شاہ انھیں شہر کے مشہور اور اہم لوگوں سے فرداً فرداً ملواتے رہے۔ حسینہ سے ملتے ہوئے انھوں نے بے ساختہ کہا ’’میں تو آپ کا پرانا فین ہوں‘‘۔ مجھ سے بھی وہ تپاک سے ملے۔ کچھ دیر میں دبئی سے آنے والے تھیٹر گروپ گونج کے کسی رکن نے پردے کے پیچھے سے اپنا تعارف کرایا۔ یہ پاکستان اور ہندوستان کے وہ نوجوان ہیں جو تھیٹر سے جڑے ہوئے ہیں اور اس میدان میں اپنے قدم جمانے کی کوشش کررہے ہیں۔

پاکستان اور ہندوستان کے درمیان ہونے والی شادیاں خوشی سے زیادہ اذیت کا باعث بن جاتی ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر دوسرے چوتھے دن گولہ باری ہوتی رہتی ہے۔ سرحدیں بند ہو جاتی ہیں، میاں اور بیوی اس انتظار میں رہتے ہیں کہ دونوں طرف کے افسران بالا کے مزاج کی چڑھی ہوئی کمان کب ذرا اترے اور کب بچھڑے ہوئے لوگ ایک دوسرے سے مل سکیں۔ وہ لوگ جو خوشحال ہیں، انھوں نے اس مسئلے کا یہ حل نکالا ہے کہ پاکستان اور ہندوستان سے وہ دبئی کا رخ کرتے ہیں، کچھ کے رشتہ دار وہاں ہیں اور کچھ نے عارضی طور پر وہاں گھر بنالیے ہیں۔ اس کھیل کی کہانی جس میں دلہا پٹنہ کا ہے اور دلہن کی ددھیال لکھنو کی، لیکن بٹوارے کے بعد اس کا گھرانا کراچی میں رہتا ہے۔ دادی کو اس کے گھر والے زبردستی کراچی لے آئے ہیں اور وہ لکھنو کی گلیوں کو یاد کرتے کرتے اس جہان سے گزر جاتی ہیں۔

دونوں طرف سے خط لکھے جارہے ہیں، کچھ پہنچتے ہیں اور کچھ راستے میں ہی کھو جاتے ہیں۔ فراز وقار ایک ڈاکیا ہے، جو ان دنوں کو یاد کرتا ہے جب وہ صبح شام گھروں میں خط پہنچاتا تھا اور خوشیاں بانٹتا تھا، لیکن ای میل کی آمد نے خطوں کے لکھنے اور ایک دوسرے کو بھیجے جانے کا زمانہ ختم کیا۔ جوہان ڈی سوزا ایک بنجارہ ہے جو غم انگیز گانے گاتا ہے۔ ہولی کا ذکر ہے اور اس کے ساتھ ہی راحت فتح علی اور امجد صابری کی آوازیں امیر خسرو کا رنگ سناتی ہیں۔ آج رنگ ہے ری ماں رنگ ہے۔

درمیان میں نیرہ نور ’کبھی ہم خوبصورت تھے‘ اور فیض صاحب کی نظم کا ایک بند ’لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجیے‘ ایسے من موہنے گیتوں اور غزلوں کے ٹکڑے دل کو لبھاتے ہیں۔ آمنہ خیشگی، احتشام شاہد، صنوبر صباح، ماہا جمیل، شہزاد کلیم، واہگہ کا کردار ادا کرنے والا ماجد محمد ہے، پروڈیوسر اور ہیڈ آف پروڈکشن حسن شیخ ہیں اور سب سے بڑھ کر دھروتی Dhruti شاہ ڈی ہیں، جو تھیٹر آرٹسٹ ہیں۔ دبئی میں رہتی ہیں۔ انگریزی، ہندی اور اردو میں کئی کھیل ڈائریکٹ کرچکی ہیں۔ دھروتی پاکستان ہندوستان کے آرٹسٹوں کو جوڑ کر ایسے کھیل پیش کرتی ہیں جو برصغیر کے کلچر، رسم و رواج اور ان کے تشخص کو تھیٹر کے ذریعے زندہ کرسکیں۔

پاکستان اور ہندوستان کے بیچ جو تناؤ اور تناتنی ہے، اسے کم اور ختم کرنے کے لیے دبئی میں رہنے والی نئی پیڑھی کے لوگوں نے جس سلیقے سے یہ کھیل پیش کیا، اس کے لیے انھیں بہت داد ملنی چاہیے۔ ایک طرف یہ لوگ انٹرنیٹ اور ای میل کے ذریعے خطوں کی تہذیب اور روایت کے ختم ہونے پر اداس ہیں اور چاہتے ہیں کہ کسی طرح ہماری یہ شاندار روایت زندہ رہے اور دوسری طرف واضح الفاظ میں کچھ کہے بغیر اشارہ کرتے ہیں کہ دونوں طرف کے رہنے والے ایک ہی مٹی سے اٹھے ہیں، ان کے دکھ درد ایک ہیں، ان کے موسم اور تیوہار ایک دوسرے کے لیے اجنبی نہیں۔ تو پھر کیوں نہ وہ مل جل کر رہیں، ایک دوسرے کے دکھ درد باٹیں، اور اپنی بھلا دی جانے والی روایتوں کو پھر سے زندہ کریں۔

’’گونج پروڈکشن‘‘ نے یہ کھیل اس سے پہلے دلی میں پیش کیا تھا، کراچی میں بھی ان کا کھیل پسند کیا گیا۔ سندھ کے گورنر محمد زبیر نے اپنی تقریر میں بھی گزرے ہوئے ان دنوں کو یاد کیا جب ان کے والد علی گڑھ اور دہرہ دون میں پڑھتے تھے۔

اس کھیل میں خطوں کو بنیادی اہمیت ہے اور واہگہ ایک بنیادی کردار ہے جس کی شناخت خاردار تار ہیں۔ ان خاردار تاروں کے باوجود وہ دونوں طرف کے لوگوں کے غم سمجھتا ہے، ان پر آہ بھرتا ہے اور خود کلامی کرتا رہتا ہے۔ ’گونج‘ کے بینر تلے پیش کیے جانے والے کھیل میں ہماری زندگیوں سے رخصت ہوجانے والے خطوں کا بار بار ذکر کیا گیا ہے۔ ان کی رخصت ایک بہت بڑا تہذیبی، ادبی اور انسانی سانحہ ہے۔ یہ کسی ایک زبان یا کسی ایک سماج کا نہیں دنیا کے تمام سماجوں سے ایک بھری پری شاندار روایت کی رخصت ہے۔

یہ 3600 قبل مسیح کی بات ہے جب سمیریوں نے ’لکھائی‘ ایجاد کی۔ 2500 سال قبل مسیح میں سمیریوں کے یہاں ادب کی پنیری لگی۔ 2000 سال قبل مسیح سے 1400 قبل مسیح کے دوران دنیا کا پہلا رزمیہ ’’گل گامش کی داستان‘‘ مٹی کی تختیوں پر تحریر ہوا۔ 1600 قبل مسیح میں یہ چین کی شانگ شاہی تھی جس میں ’تحریر‘ کو فروغ ہوا۔ قبل مسیح کنعانی حروف تہجی ایجاد ہوئے۔

1500 سے 1100 قبل مسیح کے دوران ہندوئوں کی مقدس کتاب رگ وید لکھی گئی۔ اس کے بعد چل سو چل کا معاملہ تھا۔ 1100 قبل مسیح اور اس کے بعد فونیقی، چینی اور یونانی خط تحریر ایجاد ہوتے چلے گئے۔ پہلا تحریری ریکارڈ 4 ہزار برس پرانا ہے جس میں اناج کی بوریوں اور جانوروں کی تعداد کا حساب رکھا گیا ہے۔ ہمیں تاریخ میں 500 برس قبل مسیح ایرانی ملکہ اتوسا ملتی ہے جو تعلیم یافتہ تھی اور جس کے ہاتھ کا لکھا ہوا پہلا خط تاریخ میں محفوظ ہے۔

ہمارے یہاں اردو نثر کی تاریخ میں غالب کے خطوط کی جو اہمیت ہے اس سے ادب کا کون سا طالب علم ہے جو واقف نہیں، انھوں نے صرف اردو میں ہی نہیں، فارسی میں بھی خطوط لکھے جن میں سے بہت سے ہمارے پرتو روہیلہ نے اردو میں ترجمہ کیے۔ ان خطوط سے انیسویں صدی کی معاشرت اور غالب ایسے نابغہ روزگار کی مصرونیات کا اندازہ ہوتا ہے۔ ایک خط میں مرزا احمد بیگ پتاں کو لکھتے ہیں کہ کسی ملازم کو اخبار ’جام جہاں نما‘ دے کر کہا کہ ساتھ میرے پاس بھجوا دیں۔

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انیسویں صدی کے شاعروں اور ادیبوں میں اخبار بینی کا شوق کس طرح بیدار ہوچکا تھا، اردو اور انگریزی میں لکھے جانے والے خطوں کا ایک انبار ہے۔ کون ہے جو مکتوبات صدی کو فراموش کردے اور کون پنڈت نہرو کے ان خطوط کو بھلا سکتا ہے جو انھوں نے اپنی بیٹی اندرا پریہ درشنی کے نام لکھے اور نوجوانوں کے لیے تاریخ عالم کا سبق بن گئے۔ مولانا ابوالکلام آزاد، شبلی نعمانی، حالی، سرسید اور اقبال کے خطوط۔ ان لوگوں نے یہ خط نہ لکھے ہوتے تو ہماری تاریخ کس قدر ادھوری ہوتی۔

اس وقت مجھے نقوش کا ’خطوط نمبر‘ یاد آگیا جسے کھول کر بیٹھیے تو ادیبوں اور شاعروں کی زندگی کے کیسے پہلو نمایاں ہوتے ہیں۔ یہ سلسلہ چل رہا تھا کہ اچانک جدید سائنس بیچ میں کود پڑی۔ انٹرنیٹ اور ای میل نے زندگی کا لطف ہی ختم کردیا، کہاں خطوں کا جانا اور پھر ان کے انتظار میں دن کاٹنا اور کہاں یہ عالم کہ دو سطر میں کہانی تمام ہوئی۔ نہ حکایتیں، نہ شکایتیں۔ نہ فراق کے معاملات، نہ ہجر کے طول طویل قصے۔

سائنس سے اور جدید ایجادات سے کون کمبخت انکاری ہے لیکن خطوط کا ہماری زندگی سے یوں نکل جانا کہ جیسے وہ کبھی ہوتے ہی نہ تھے۔ ایک ادبی اور تہذیبی سانحے سے کم نہیں۔ ’گونج‘ سے متعلق تمام لوگ نئی نسل سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن انھیں احساس ہے کہ ہماری زندگی خطوط کے بغیر کیسی بے رس ہوگئی ہے۔ یہ نئی نسل خوش رہے کہ وہ اس بارے میں کچھ سوچتی ہے۔

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • اُلو کا پٹھا
  • شیخ خالد زاہد
  • اخروٹ قوتوں کا خزانہ
  • ماں کو حنوط کرنا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
کوئی دن کا آب و دانہ اور ہے
پچھلی پوسٹ
زخم نیا بھی دو تو کیا

متعلقہ پوسٹس

مقصد حیات

جون 20, 2024

نیا سال، نیا عزم – نئے ارادے!

جنوری 1, 2026

زندگی میں کام آنے والی باتیں

ستمبر 19, 2024

کتھا سرکس

جون 15, 2020

خیالستان کی پری

اپریل 1, 2023

اکثر لوگ بھول جاتے ہیں

جنوری 5, 2025

یومِ آزادی اور ہم

اگست 15, 2020

جال

مئی 21, 2020

لوگو! مُجھے اِس شہر کے آداب سکھا دو

نومبر 12, 2025

احتجاج کی پیچیدگی اور شہری تحفظ کا چیلنج

اکتوبر 11, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Visal abbasi on نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اسلامی گوشہ

آمد

ستمبر 4, 2026

چلو چلیں

ستمبر 2, 2026

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

اردو شاعری

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

ستمبر 4, 2026

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں...

ستمبر 2, 2026

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

اگست 31, 2026

سچ سامنے آنے لگا ہے

اگست 31, 2026

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • سچ سامنے آنے لگا ہے

    اگست 31, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ایک گھریلو سا خراج ِ عقیدت

اکتوبر 27, 2020

ہماری غلامی اور اقبال کی تنبیہ

مارچ 30, 2025

میر واہ کی راتیں 

فروری 17, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں