چند دن پہلے ایک واٹس ایپ گروپ میں ایک خبر گردش کر رہی تھی کہ ایک معروف تعلیمی ادارہ بند کیا جا رہا ہے۔ خبر اتنی سنجیدہ تھی کہ والدین میں پریشانی پھیل گئی، فون کالز شروع ہو گئیں، سوالات اٹھنے لگے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ وہ خبر مکمل طور پر جعلی تھی۔ کسی نے بغیر تصدیق ایک پیغام آگے بڑھا دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے خوف اور بے چینی پھیل گئی۔ یہ کوئی ایک واقعہ نہیں، یہ ہمارے معاشرے کی روزمرہ کہانی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں یہ کہنا پڑتا ہے کہ ڈیجیٹل شعور کی کمی اب ایک معمولی مسئلہ نہیں رہی بلکہ ایک سنگین المیہ بن چکی ہے۔
ڈیجیٹل شعور سے مراد صرف موبائل چلانا، فیس بک یا واٹس ایپ استعمال کرنا نہیں۔ اصل ڈیجیٹل شعور یہ ہے کہ انسان ٹیکنالوجی کو سمجھ کر، سوچ سمجھ کر اور ذمہ داری کے ساتھ استعمال کرے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں سہولت تو عام ہو گئی ہے مگر شعور پیدا نہیں ہو سکا۔ ہر ہاتھ میں موبائل ہے لیکن ہر ذہن میں سمجھ بوجھ نہیں۔
سوشل میڈیا نے اظہار کی آزادی دی، مگر اس آزادی کے ساتھ ذمہ داری کا احساس پیدا نہ ہو سکا۔ آج ہر شخص خود کو صحافی، تجزیہ کار اور فیصلہ سنانے والا سمجھتا ہے۔ کسی کی تصویر، کسی کا آڈیو، کسی کا بیان، سب کچھ بغیر تحقیق پھیلا دیا جاتا ہے۔ یہ نہیں سوچا جاتا کہ اس کا اثر کسی کی عزت، کسی کے خاندان یا کسی کے مستقبل پر کیا پڑے گا۔ ڈیجیٹل شعور کا فقدان انسان کو بے رحم بنا دیتا ہے، جہاں اسکرین کے پیچھے بیٹھ کر دوسروں کی تذلیل آسان لگتی ہے۔
نوجوان نسل اس صورتحال کا سب سے بڑا شکار ہے۔ انٹرنیٹ علم کا سمندر ہے، لیکن سمت کے بغیر سمندر میں اترنا ڈوبنے کے مترادف ہوتا ہے۔ ہمارے نوجوان گھنٹوں اسکرین کے سامنے رہتے ہیں مگر یہ نہیں جانتے کہ انہیں کیا دیکھنا ہے اور کیا چھوڑ دینا ہے۔ تعلیم، تحقیق اور مہارت کے بجائے وقت کا بڑا حصہ فضول بحثوں، غیر اخلاقی مواد اور لاحاصل سرگرمیوں میں ضائع ہو جاتا ہے۔ اگر ڈیجیٹل شعور ہوتا تو یہی نوجوان ٹیکنالوجی کو اپنی طاقت بنا سکتے تھے۔
ایک اور تشویشناک پہلو آن لائن گفتگو کا اخلاقی زوال ہے۔ گالی دینا، تمسخر اڑانا، کردار کشی کرنا اب معمول سمجھا جانے لگا ہے۔ اختلاف رائے کو دشمنی بنا دیا گیا ہے۔ یہ سب کچھ اس لیے ہو رہا ہے کہ ہمیں ڈیجیٹل اخلاقیات سکھائی ہی نہیں گئیں۔ ہم یہ بھول گئے ہیں کہ لفظ چاہے اسکرین سے نکلے، دل پر اثر وہی ڈالتا ہے۔
ڈیجیٹل شعور کی کمی ہمیں مالی اور ذاتی نقصان بھی پہنچا رہی ہے۔ آئے دن فراڈ کے واقعات سامنے آتے ہیں۔ لوگ اپنی ذاتی معلومات، شناختی تفصیلات اور تصاویر آسانی سے دوسروں کو دے دیتے ہیں۔ بعد میں پچھتاوا رہ جاتا ہے۔ اگر بنیادی ڈیجیٹل آگاہی ہوتی تو شاید بہت سے لوگ ان مسائل سے محفوظ رہ سکتے تھے۔
اس سارے معاملے میں والدین اور اساتذہ کی ذمہ داری سب سے زیادہ ہے۔ اکثر والدین یہ سمجھ کر مطمئن ہو جاتے ہیں کہ بچہ گھر میں ہے، موبائل اس کے ہاتھ میں ہے، اس لیے
وہ محفوظ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بغیر نگرانی اور رہنمائی کے موبائل ایک خاموش خطرہ بن سکتا ہے۔ اسی طرح ہمارے تعلیمی ادارے جدید ٹیکنالوجی تو متعارف کرا رہے ہیں مگر ڈیجیٹل اخلاقیات اور ذمہ داری پر بات نہیں کی جاتی۔
پاکستان میں ڈیجیٹل ترقی کے بڑے دعوے کیے جا رہے ہیں، لیکن اگر شعور شامل نہ ہوا تو یہ ترقی کھوکھلی ثابت ہوگی۔ ہمیں ایسے معاشرے کی ضرورت ہے جہاں سوال اٹھانے کے ساتھ تحقیق ہو، اظہار کے ساتھ اخلاق ہو، اور آزادی کے ساتھ ذمہ داری ہو۔
آخر میں سوال یہ نہیں کہ ٹیکنالوجی اچھی ہے یا بری۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم اسے کس نیت اور کس سمجھ کے ساتھ استعمال کر رہے ہیں۔ ڈیجیٹل شعور کے بغیر ٹیکنالوجی روشنی نہیں، اندھیرا بن جاتی ہے۔ اگر ہم نے آج اس المیے کو سنجیدگی سے نہ لیا تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ڈیجیٹل شعور کو نصاب، تربیت اور گفتگو کا حصہ بنایا جائے، تاکہ ہم ٹیکنالوجی کے صارف نہیں بلکہ اس کے ذمہ دار وارث بن سکیں۔
یوسف صدیقی
