خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامڈیجیٹل شعور کی کمی ایک المیہ
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

ڈیجیٹل شعور کی کمی ایک المیہ

از سائیٹ ایڈمن دسمبر 24, 2025
از سائیٹ ایڈمن دسمبر 24, 2025 0 تبصرے 48 مناظر
49

چند دن پہلے ایک واٹس ایپ گروپ میں ایک خبر گردش کر رہی تھی کہ ایک معروف تعلیمی ادارہ بند کیا جا رہا ہے۔ خبر اتنی سنجیدہ تھی کہ والدین میں پریشانی پھیل گئی، فون کالز شروع ہو گئیں، سوالات اٹھنے لگے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ وہ خبر مکمل طور پر جعلی تھی۔ کسی نے بغیر تصدیق ایک پیغام آگے بڑھا دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے خوف اور بے چینی پھیل گئی۔ یہ کوئی ایک واقعہ نہیں، یہ ہمارے معاشرے کی روزمرہ کہانی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں یہ کہنا پڑتا ہے کہ ڈیجیٹل شعور کی کمی اب ایک معمولی مسئلہ نہیں رہی بلکہ ایک سنگین المیہ بن چکی ہے۔

ڈیجیٹل شعور سے مراد صرف موبائل چلانا، فیس بک یا واٹس ایپ استعمال کرنا نہیں۔ اصل ڈیجیٹل شعور یہ ہے کہ انسان ٹیکنالوجی کو سمجھ کر، سوچ سمجھ کر اور ذمہ داری کے ساتھ استعمال کرے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں سہولت تو عام ہو گئی ہے مگر شعور پیدا نہیں ہو سکا۔ ہر ہاتھ میں موبائل ہے لیکن ہر ذہن میں سمجھ بوجھ نہیں۔

سوشل میڈیا نے اظہار کی آزادی دی، مگر اس آزادی کے ساتھ ذمہ داری کا احساس پیدا نہ ہو سکا۔ آج ہر شخص خود کو صحافی، تجزیہ کار اور فیصلہ سنانے والا سمجھتا ہے۔ کسی کی تصویر، کسی کا آڈیو، کسی کا بیان، سب کچھ بغیر تحقیق پھیلا دیا جاتا ہے۔ یہ نہیں سوچا جاتا کہ اس کا اثر کسی کی عزت، کسی کے خاندان یا کسی کے مستقبل پر کیا پڑے گا۔ ڈیجیٹل شعور کا فقدان انسان کو بے رحم بنا دیتا ہے، جہاں اسکرین کے پیچھے بیٹھ کر دوسروں کی تذلیل آسان لگتی ہے۔

نوجوان نسل اس صورتحال کا سب سے بڑا شکار ہے۔ انٹرنیٹ علم کا سمندر ہے، لیکن سمت کے بغیر سمندر میں اترنا ڈوبنے کے مترادف ہوتا ہے۔ ہمارے نوجوان گھنٹوں اسکرین کے سامنے رہتے ہیں مگر یہ نہیں جانتے کہ انہیں کیا دیکھنا ہے اور کیا چھوڑ دینا ہے۔ تعلیم، تحقیق اور مہارت کے بجائے وقت کا بڑا حصہ فضول بحثوں، غیر اخلاقی مواد اور لاحاصل سرگرمیوں میں ضائع ہو جاتا ہے۔ اگر ڈیجیٹل شعور ہوتا تو یہی نوجوان ٹیکنالوجی کو اپنی طاقت بنا سکتے تھے۔

ایک اور تشویشناک پہلو آن لائن گفتگو کا اخلاقی زوال ہے۔ گالی دینا، تمسخر اڑانا، کردار کشی کرنا اب معمول سمجھا جانے لگا ہے۔ اختلاف رائے کو دشمنی بنا دیا گیا ہے۔ یہ سب کچھ اس لیے ہو رہا ہے کہ ہمیں ڈیجیٹل اخلاقیات سکھائی ہی نہیں گئیں۔ ہم یہ بھول گئے ہیں کہ لفظ چاہے اسکرین سے نکلے، دل پر اثر وہی ڈالتا ہے۔

ڈیجیٹل شعور کی کمی ہمیں مالی اور ذاتی نقصان بھی پہنچا رہی ہے۔ آئے دن فراڈ کے واقعات سامنے آتے ہیں۔ لوگ اپنی ذاتی معلومات، شناختی تفصیلات اور تصاویر آسانی سے دوسروں کو دے دیتے ہیں۔ بعد میں پچھتاوا رہ جاتا ہے۔ اگر بنیادی ڈیجیٹل آگاہی ہوتی تو شاید بہت سے لوگ ان مسائل سے محفوظ رہ سکتے تھے۔

اس سارے معاملے میں والدین اور اساتذہ کی ذمہ داری سب سے زیادہ ہے۔ اکثر والدین یہ سمجھ کر مطمئن ہو جاتے ہیں کہ بچہ گھر میں ہے، موبائل اس کے ہاتھ میں ہے، اس لیےdigital awareness وہ محفوظ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بغیر نگرانی اور رہنمائی کے موبائل ایک خاموش خطرہ بن سکتا ہے۔ اسی طرح ہمارے تعلیمی ادارے جدید ٹیکنالوجی تو متعارف کرا رہے ہیں مگر ڈیجیٹل اخلاقیات اور ذمہ داری پر بات نہیں کی جاتی۔

پاکستان میں ڈیجیٹل ترقی کے بڑے دعوے کیے جا رہے ہیں، لیکن اگر شعور شامل نہ ہوا تو یہ ترقی کھوکھلی ثابت ہوگی۔ ہمیں ایسے معاشرے کی ضرورت ہے جہاں سوال اٹھانے کے ساتھ تحقیق ہو، اظہار کے ساتھ اخلاق ہو، اور آزادی کے ساتھ ذمہ داری ہو۔

آخر میں سوال یہ نہیں کہ ٹیکنالوجی اچھی ہے یا بری۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم اسے کس نیت اور کس سمجھ کے ساتھ استعمال کر رہے ہیں۔ ڈیجیٹل شعور کے بغیر ٹیکنالوجی روشنی نہیں، اندھیرا بن جاتی ہے۔ اگر ہم نے آج اس المیے کو سنجیدگی سے نہ لیا تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔

اب وقت آ گیا ہے کہ ڈیجیٹل شعور کو نصاب، تربیت اور گفتگو کا حصہ بنایا جائے، تاکہ ہم ٹیکنالوجی کے صارف نہیں بلکہ اس کے ذمہ دار وارث بن سکیں۔

یوسف صدیقی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • جلوس
  • مولوی عبدالحق اور اُردو زبان
  • آل رسول ﷺ کے گھرانے کے دو یتیم بچے
  • اقبال احمد ساجد
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
بھٹکے ہوئے عالی سے پوچھو
پچھلی پوسٹ
بیگانۂ قیود بہار و خزاں رہے

متعلقہ پوسٹس

علامہ اقبال کی اُردو

اکتوبر 16, 2025

آہ ! اے دوست

جنوری 3, 2020

دھول چہرے پر تھی اور صاف آئینہ کرتا رہا

ستمبر 7, 2025

پیٹو پیٹریاٹ اور جنک فوڈ کی جنگ

نومبر 28, 2024

بہار میں نقاب ہٹانے کا واقعہ اور عالمی ردعمل

دسمبر 18, 2025

صبیحہ سے امامہ کی پہلی ملاقات

جنوری 4, 2022

بچوں پر حقیقی انویسٹمنٹ

نومبر 9, 2024

عابد ہاشمی اور ’’مقصدِ حیات‘‘

اکتوبر 20, 2025

مِرے سُخن میں یہی اِک کلام کافی ہے

دسمبر 12, 2025

شہزاد نیر ایک آفاقی شاعر

جنوری 21, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

خوابوں کے شہسوار

دسمبر 25, 2024

نوجوان نسل اور معاشرتی ذمہ داریاں

اکتوبر 20, 2025

غلامی کا زیور

مئی 29, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں