خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامخاموش انسان اور پہلی دعا
آپ کا سلامابو خالد قاسمیاردو تحاریراردو کالمزاسلامی گوشہ

خاموش انسان اور پہلی دعا

از سائیٹ ایڈمن جنوری 3, 2026
از سائیٹ ایڈمن جنوری 3, 2026 0 تبصرے 27 مناظر
28

سورۃ الفاتحہ تمہید: خاموش انسان اور پہلی دعا

انسان ہمیشہ بولتا نہیں، اکثر وہ خاموش ہوتا ہے۔ یہ وہ خاموشی نہیں جو سکون کی علامت ہو، یہ وہ خاموشی ہے جو دل کے اندر شور بن کر رہ جاتی ہے۔ سوال بہت ہوتے ہیں، لیکن الفاظ نہیں ملتے۔ کبھی انسان کو معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کس سے بات کرے،
کبھی یہ بھی سمجھ نہیں آتا کہ مانگا کیا جائے۔ دل بھرا ہوتا ہے مگر زبان ساتھ نہیں دیتی۔ ایسے ہی لمحے میں انسان اپنے خالق کے سامنے کھڑا ہوتا ہے۔ نہ مکمل یقین کے ساتھ، نہ مکمل انکار کے ساتھ۔ بس ایک کیفیت کے ساتھ۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سورۃ الفاتحہ انسان کو **دعا کی زبان عطا کرتی ہے**۔ یہ سورۃ انسان کو یہ نہیں سکھاتی
کہ کیا مانگو، بلکہ یہ سکھاتی ہے کہ **اللہ کے سامنے کھڑا کیسے ہونا ہے**۔

یہ سات آیات انسان کی پوری بے بسی کو الفاظ میں ڈھال دیتی ہیں۔ یہ پہلی دعا ہے جو انسان اپنی مرضی سے نہیں بلکہ اللہ کی سکھائی ہوئی زبان میں مانگتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے اللہ خود بندے کا ہاتھ پکڑ کر فرماتا ہو: “یوں کہو… میں سن رہا ہوں۔”

حصہ اوّل: حمد — رشتہ قائم ہونا

انسان کی دعا کا آغاز مانگنے سے نہیں ہوتا، شکایت سے نہیں ہوتا، مسئلہ بیان کرنے سے بھی نہیں ہوتا۔ بلکہ آغاز ہوتا ہے **حمد سے**۔ یہ کوئی رسمی جملہ نہیں، یہ تعلق کی پہلی اینٹ ہے۔ جب انسان کہتا ہے: تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں تو دراصل وہ یہ اعتراف کر رہا ہوتا ہے کہ میں اکیلا نہیں ہوں، میں بے سہارا نہیں ہوں، میری زندگی کا کوئی رب ہے۔ حمد شکر سے آگے کی چیز ہے۔ شکر نعمت پر ہوتا ہے، حمد ذات پر ہوتی ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب انسان اپنی نظر خود سے ہٹا کر اللہ کی طرف موڑ دیتا ہے۔ وہ یہ مان لیتا ہے کہ جو کچھ بھی ہے وہ اتفاق نہیں، وہ کسی کی ربوبیت کا نتیجہ ہے۔ یہی اعتراف رشتے کو جنم دیتا ہے۔ یہاں بندہ بولتا ہے اور اللہ قبول فرماتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں دعا محض الفاظ نہیں رہتی بلکہ تعلق بن جاتی ہے۔ جب انسان حمد کرتا ہے تو وہ اللہ کو نہیں بدلتا، وہ خود بدلنا شروع ہو جاتا ہے۔ اس کی سوچ بدلتی ہے، اس کا زاویہ بدلتا ہے، اس کی شکایت دعا میں ڈھلنے لگتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ سورۃ الفاتحہ کی پہلی آیت انسان کے اندر ایک نیا دروازہ کھول دیتی ہے۔ یہ دروازہ اللہ تک جانے کا نہیں، بلکہ **اللہ کو پہچاننے کا** دروازہ ہے۔ اور یہی پہچان آگے آنے والی ہر آیت کی بنیاد بنتی ہے۔

انسان جب بولنا شروع کرتا ہے تو وہ عموماً اپنی ضرورت سے بولتا ہے۔ کبھی شکوہ،
کبھی خواہش، کبھی مطالبہ۔ لیکن سورۃ الفاتحہ انسان کو بولنے سے پہلے **رکنا** سکھاتی ہے۔ یہ رک جانا کمزوری نہیں، یہ شعور کی پہلی علامت ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے
جہاں انسان اپنی ذات کے گرد گھومنے والی دنیا سے نکل کر اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ اور اسی موڑ پر لفظ آتا ہے: **حمد**۔

حمد: صرف تعریف نہیں، پہچان ہے

حمد کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اللہ کو بتا رہا ہو کہ وہ قابلِ تعریف ہے۔ اللہ کو ہماری تعریف کی ضرورت نہیں۔ حمد دراصل انسان کی اپنی آنکھیں کھولتی ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے
جب انسان مان لیتا ہے کہ اس کی زندگی میں جو کچھ بھی درست ہے، جو کچھ بھی قائم ہے، جو کچھ بھی خوبصورت ہے، وہ خود اس کا کمال نہیں۔ یہ اعتراف غرور کی جڑ کاٹ دیتا ہے۔ انسان جب حمد کرتا ہے تو وہ اپنی ذات کے بت کو خاموشی سے گرا دیتا ہے۔

شکر اور حمد کا فرق — ایک نازک مگر فیصلہ کن نکتہ

شکر تب ہوتا ہے جب کچھ مل جائے۔ لیکن حمد تب بھی ہوتی ہے جب کچھ نہ بھی ملا ہو۔ شکر نعمت پر ہے، حمد رب پر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سورۃ الفاتحہ کی ابتدا شکر سے نہیں حمد سے ہوتی ہے۔ کیونکہ یہ سورۃ اللہ کو مانگنے سے پہلے اللہ کو ماننا سکھاتی ہے۔

ربوبیت کا پہلا شعور

جب انسان کہتا ہے کہ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں تو وہ لاشعوری طور پر ایک اور بات بھی مان رہا ہوتا ہے: کہ وہ اللہ میرا رب ہے۔ رب جو صرف پیدا نہیں کرتا، بلکہ پالتا ہے، سنبھالتا ہے، تربیت دیتا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں انسان کی زندگی اتفاق سے نکل کر نظم میں داخل ہو جاتی ہے۔ مصیبت بھی اب اندھی نہیں رہتی، وہ تربیت بن جاتی ہے۔ نعمت بھی محض خوشی نہیں رہتی، وہ ذمہ داری بن جاتی ہے۔

حمد: رشتے کی پہلی اینٹ

ہر رشتہ کسی نہ کسی پہچان سے شروع ہوتا ہے۔ اگر پہچان غلط ہو تو رشتہ بوجھ بن جاتا ہے۔ سورۃ الفاتحہ اللہ سے رشتہ درست پہچان پر قائم کرتی ہے۔ نہ خوف کے بل پر، نہ لالچ کے سہارے، بلکہ معرفت کی بنیاد پر۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں اللہ کو کسی مشکل کشا کے طور پر سب سے پہلے پیش نہیں کیا جاتا، بلکہ قابلِ حمد ذات کے طور پر متعارف کرایا جاتا ہے۔

مکالمہ شروع ہوتا ہے

یہاں دعا یک طرفہ نہیں رہتی۔ حدیث کے مطابق اللہ فرماتا ہے: “میرے بندے نے میری حمد کی” یہ جملہ دعا کو آسمان تک نہیں لے جاتا، بلکہ آسمان کو دل کے قریب لے آتا ہے۔ یہاں بندہ جان لیتا ہے کہ وہ تنہا نہیں بول رہا، وہ سنا جا رہا ہے۔ اور یہی احساس
دعا کی جان ہے۔

حمد انسان کو کیسے بدلتی ہے؟

حمد اللہ کو نہیں بدلتی، یہ انسان کو بدلتی ہے۔ شکایت کرنے والا انسان حمد کے بعد
سوچنے والا بن جاتا ہے۔ مطالبہ کرنے والا انسان حمد کے بعد سمجھنے والا بن جاتا ہے۔ وہ اب صرف یہ نہیں پوچھتا کہ مجھے کیا ملا، وہ یہ بھی دیکھنے لگتا ہے کہ مجھے کون سنبھال رہا ہے۔

نماز میں حمد — روزانہ تجدیدِ رشتہ

نماز میں سورۃ الفاتحہ بار بار پڑھی جاتی ہے کیونکہ انسان بار بار بھول جاتا ہے۔ وہ اپنی محنت کو سب کچھ سمجھنے لگتا ہے، وہ اپنی عقل پر ناز کرنے لگتا ہے، وہ اپنے دکھ کو سب سے بڑا دکھ سمجھنے لگتا ہے۔ حمد ہر دن اسے واپس حقیقت پر لے آتی ہے۔ یہ حقیقت کہ اللہ رب ہے، اور بندہ بندہ۔

یہی بنیاد آگے کا راستہ کھولتی ہے

اگر حمد درست نہ ہو تو دعا بگڑ جاتی ہے۔ اگر پہچان درست نہ ہو تو عبادت رسم بن جاتی ہے۔ اسی لیے سورۃ الفاتحہ کا پہلا قدم اتنا مضبوط رکھا گیا ہے کہ اس پر پوری زندگی کی عمارت کھڑی ہو سکے۔ یہی حمد آگے ربوبیت کو سمجھنے کا دروازہ کھولے گی، رحمت پر یقین دے گی، جزا کے شعور کو بیدار کرے گی، اور صراط کی طلب کو سچا بنائے گی۔

ربوبیت — سہارا اور نظم

انسان حمد کے بعد اچانک ایک نئے شعور میں داخل ہو جاتا ہے۔ اب وہ صرف یہ نہیں مانتا کہ اللہ قابلِ تعریف ہے، بلکہ یہ بھی مان لیتا ہے کہ **وہی میرا رب ہے**۔ یہ مان لینا زندگی کا رخ بدل دیتا ہے۔

رب کون ہوتا ہے؟

رب وہ نہیں جو صرف پیدا کر دے اور پھر چھوڑ دے۔ رب وہ ہوتا ہے جو ہر لمحہ سنبھالے، ہر مرحلے پر تربیت دے، اور ہر موڑ پر سمت درست کرے۔ ربوبیت صرف ابتدا نہیں، یہ مسلسل تعلق ہے۔ یہ وہ رشتہ ہے جو انسان کے شعور میں آہستہ آہستہ اترتا ہے۔

انسان اور بے سمتی کا خوف

انسان کا سب سے بڑا خوف غربت نہیں، تکلیف نہیں، تنہائی نہیں۔ انسان کا اصل خوف
بے سمتی ہے۔ یہ احساس کہ: میری زندگی کا کوئی مقصد نہیں، میرے دکھ کا کوئی مطلب نہیں، میرے سوالوں کا کوئی جواب نہیں۔ سورۃ الفاتحہ اسی خوف کا علاج ہے۔ جب انسان کہتا ہے: رب العالمین تو وہ اعلان کرتا ہے: میری زندگی اتفاق نہیں۔

عالمین — صرف میں نہیں

یہاں ایک نازک مگر گہرا نکتہ ہے۔ اللہ صرف میرا رب نہیں، وہ **تمام جہانوں کا رب** ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ میری کہانی اکیلی کہانی نہیں۔ میرا دکھ کسی بڑے نظام کا حصہ ہے، میری خوشی کسی وسیع حکمت کا عکس ہے۔ یہ شعور انسان کو خود ترسی سے نکال کر توازن میں لے آتا ہے۔

ربوبیت اور آزمائش

انسان اکثر یہ سوال کرتا ہے: اگر اللہ رب ہے تو یہ مشکل کیوں؟ یہ سوال تب پیدا ہوتا ہے جب ہم ربوبیت کو صرف آسائش سمجھ لیتے ہیں۔ ربوبیت صرف نرمی نہیں، یہ تربیت بھی ہے۔ جیسے ماں بچے کو گرنے دیتی ہے تاکہ وہ چلنا سیکھے، ویسے ہی رب
انسان کو آزمائش میں ڈالتا ہے تاکہ وہ مضبوط ہو۔ یہاں دکھ سزا نہیں رہتا، سبق بن جاتا ہے۔

نظم — جو نظر نہیں آتا

انسان صرف وہ نظم مانتا ہے جو اسے نظر آئے۔ مگر اللہ کا نظم اکثر پردوں میں ہوتا ہے۔ کبھی وقت لگتا ہے، کبھی صبر، کبھی خاموشی۔ لیکن ربوبیت کبھی رکی نہیں ہوتی۔ سانس چل رہی ہے، دل دھڑک رہا ہے، دن رات بدل رہے ہیں۔ یہ سب خاموش ربوبیت کے مظاہر ہیں۔

جب انسان خود رب بننا چاہے

انسان کی سب سے بڑی لغزش یہ ہے کہ وہ اپنی زندگی کا رب خود بننے لگتا ہے۔ اپنی عقل پر، اپنے وسائل پر، اپنے منصوبوں پر مکمل اعتماد۔ اور جب یہ سب ہلتے ہیں
تو انسان ٹوٹ جاتا ہے۔ سورۃ الفاتحہ انسان کو یاد دلاتی ہے: رب تم نہیں ہو۔ یہ یاد دہانی
انسان کو کمزور نہیں کرتی، آزاد کرتی ہے۔

ربوبیت اور سکون

جس دن انسان دل سے مان لیتا ہے کہ اللہ میرا رب ہے، اس دن ہر مسئلہ حل نہیں ہوتا، مگر ہر مسئلہ قابلِ برداشت ہو جاتا ہے۔ کیونکہ اب انسان جانتا ہے: میرا رب غافل نہیں۔ یہی یقین سکون کی جڑ ہے۔

نماز میں ربوبیت کا اقرار

نماز میں جب یہ الفاظ دہرائے جاتے ہیں تو یہ محض تلاوت نہیں ہوتی۔ یہ روزانہ کا اعلان ہوتا ہے: اے اللہ! آج بھی میں نے تیری ربوبیت کو مان لیا۔ یہ اعلان انسان کو دنیا کے دباؤ سے بچاتا ہے۔

ربوبیت اگلے مرحلے کی بنیاد

جب انسان ربوبیت کو مان لیتا ہے، تو اس کے دل میں ایک اور سوال جنم لیتا ہے: اگر میرا رب اتنا بڑا ہے، اتنا منظم ہے، تو کیا وہ مجھ پر مہربان بھی ہے؟ یہی سوال اگلے حصے کا دروازہ کھولتا ہے۔ جہاں انسان رحمت کو دریافت کرے گا، اور امید خوف پر غالب آئے گی۔

حصہ سوم: رحمت — امید کا دروازہ

آیت **الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ**

تشریح و توضیح

ربوبیت کو مان لینے کے بعد انسان کے دل میں ایک فطری لرزش پیدا ہوتی ہے۔ اگر میرا رب اتنا طاقتور ہے، اتنا بااختیار ہے، اتنا منظم ہے— تو کیا میں اس کے سامنے محفوظ بھی ہوں؟ یہی وہ نازک لمحہ ہے جہاں اللہ انسان کو خوف کے حوالے نہیں کرتا، بلکہ خود کو **رحمت کے تعارف** کے ساتھ پیش کرتا ہے۔

الرحمٰن — وہ رحمت جو مانگے بغیر ملے

الرحمٰن اللہ کی وہ صفت ہے جو کسی ایک کے لیے مخصوص نہیں۔ یہ وہ رحمت ہے
جو مانگنے سے پہلے پہنچ جاتی ہے۔ سانس بغیر دعا کے، ماں کی محبت بغیر سوال کے، زمین کی پیداوار بغیر ایمان کے۔ یہ سب الرحمٰن کی رحمت ہے۔ یہ رحمت نیک اور بد میں فرق نہیں کرتی، یہ انسان ہونے کا حق ہے۔ یہاں انسان پہلی بار سمجھتا ہے کہ میرا وجود کسی غصے کی پیداوار نہیں، بلکہ رحمت کا نتیجہ ہے۔

الرحیم — وہ رحمت جو تعلق کے بعد ملے

الرحیم وہ رحمت ہے جو رشتے کے بعد ظاہر ہوتی ہے۔ یہ وہ رحمت ہے جو توبہ پر جھکتی ہے، جو آنسوؤں پر متوجہ ہوتی ہے، جو لوٹ آنے والے کو گلے لگا لیتی ہے۔ یہ رحمت صرف دینے کی نہیں، ڈھانپ لینے کی ہے۔ یہ انسان کو یہ یقین دلاتی ہے کہ گناہ
آخری شناخت نہیں ہوتا۔

رحمت — خوف کا علاج

انسان اگر صرف ربوبیت کو دیکھے تو دب سکتا ہے، لرز سکتا ہے۔ لیکن جب الرحمٰن الرحیم ساتھ آ جاتا ہے تو خوف امید میں بدل جاتا ہے۔ یہی توازن انسان کو زندہ رکھتا ہے۔ نہ بے خوفی، نہ مایوسی۔

گناہ اور رحمت کا تصادم

انسان اکثر سوچتا ہے: میں اس قابل نہیں رہا۔ یہ سوچ اللہ کی رحمت کی توہین ہے۔ کیونکہ الرحمٰن الرحیم انسان کے معیار سے نہیں، اپنی شان سے معاف کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سورۃ الفاتحہ میں رحمت احتساب سے پہلے آتی ہے۔

نماز میں الرحمان الرحیم کہنا

جب انسان نماز میں یہ الفاظ دہراتا ہے تو وہ صرف پڑھ نہیں رہا ہوتا۔ وہ اپنے دل کو
یاد دلا رہا ہوتا ہے کہ میرا رب صرف لینے والا نہیں، لوٹانے والا بھی ہے۔ یہی یاد دہانی
انسان کو دوبارہ کھڑا ہونے کی ہمت دیتی ہے۔

رحمت کے بعد اگلا سوال

جب انسان رحمت کو پہچان لیتا ہے تو اس کے دل میں ایک نیا سوال جنم لیتا ہے: اگر میرا رب اتنا مہربان ہے تو کیا وہ میرے انجام سے بھی باخبر ہے؟ یہی سوال اگلی آیت کی طرف لے جاتا ہے— جہاں **جوابدہی** کا تصور رحمت کے سائے میں سمجھایا جاتا ہے۔

حصہ چہارم: جواب دہی اور بیداری

آیت **مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ**

تشریح و توضیح

رحمت کو پہچان لینے کے بعد انسان کے دل میں ایک اور سوال جنم لیتا ہے: اگر میرا رب
اتنا مہربان ہے تو پھر حساب کیوں؟ یہ سوال صرف کمزور ایمان کا نہیں، یہ باشعور انسان کا سوال ہے۔ اور سورۃ الفاتحہ اس سوال سے بھاگتی نہیں، اسے سامنے لا کر
درست جگہ پر رکھ دیتی ہے۔

مالک — اختیار کی آخری حقیقت

یہاں اللہ خود کو خالق یا رب کہہ کر نہیں، **مالک** کہہ کر متعارف کراتا ہے۔ مالک
وہ ہوتا ہے جس کے اختیار میں فیصلہ بھی ہو اور انجام بھی۔ دنیا میں انسان بہت سی چیزوں کا مالک بنتا ہے، مگر یہ ملکیت عارضی ہوتی ہے۔ یومِ دین وہ دن ہے جہاں ہر عارضی اختیار ختم ہو جائے گا، اور صرف ایک ہی ملکیت باقی رہے گی: اللہ کی۔

یوم — جو دن نہیں، حقیقت ہے

یومِ دین کو صرف ایک آنے والا دن سمجھ لینا اس کی گہرائی کو کم کر دیتا ہے۔ یہ صرف
کیلنڈر کا دن نہیں، یہ **انکشاف کا لمحہ** ہے۔ اس دن انسان کو وہ سب دکھا دیا جائے گا جو وہ خود سے چھپاتا رہا۔ نہ صرف اعمال، بلکہ نیتیں، ارادے، اور ٹوٹے ہوئے وعدے بھی۔

دین — بدلہ، انجام، حقیقت

دین کا مطلب صرف مذہب نہیں، یہ **بدلے کا نظام** ہے۔ جو کچھ بویا، وہی کاٹا جائے گا۔ یہ تصور انسان کو خوفزدہ کرنے کے لیے نہیں، بلکہ زندگی کو سنجیدہ بنانے کے لیے ہے۔ اگر جواب دہی نہ ہو تو ظلم کھیل بن جائے، سچ کمزوری بن جائے، اور حق بے معنی ہو جائے۔

رحمت اور حساب — تضاد نہیں، توازن

اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ رحمت اور حساب ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ حالانکہ یہ دونوں
ایک ہی حقیقت کے دو رخ ہیں۔ رحمت بغیر حساب کے لاپرواہی بن جاتی ہے، اور حساب
بغیر رحمت کے مایوسی۔ اللہ اپنی پہچان رحمت سے کرواتا ہے، مگر نظام جوابدہی سے چلاتا ہے۔ یہی توازن انسان کو نہ بے خوف بننے دیتا ہے نہ ٹوٹنے دیتا ہے۔

یومِ دین کا شعور — آج کی زندگی میں

جو انسان یومِ دین کو مان لیتا ہے، وہ صرف آخرت کے لیے نہیں بدلتا، وہ دنیا میں بھی بدل جاتا ہے۔ وہ جان لیتا ہے: کوئی بات بے معنی نہیں، کوئی عمل ضائع نہیں۔ وہ تنہائی میں بھی محتاط ہو جاتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اصل تنہائی وہاں ہو گی جہاں کوئی وکیل نہ ہوگا۔

ظلم، صبر اور یومِ دین

دنیا میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ظالم بچ جاتا ہے، اور مظلوم دب جاتا ہے۔ اگر یومِ دین نہ ہو
تو یہ سب ناقابلِ برداشت ہو جائے۔ یومِ دین مظلوم کے لیے امید ہے، اور ظالم کے لیے
مہلت۔ یہ اعلان ہے کہ کوئی ظلم ہمیشہ نہیں بچتا۔

نماز میں مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ کہنا

جب انسان نماز میں یہ آیت پڑھتا ہے تو وہ صرف آخرت کو یاد نہیں کرتا، وہ **اپنی آج کی زندگی کو ترتیب** دیتا ہے۔ یہ آیت اس کے ضمیر کو جگاتی ہے، اس کے فیصلوں کو ناپتی ہے، اور اس کے قدموں کو سنبھالتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نماز انسان کو برائی سے روکتی ہے۔

جواب دہی کے بعد انسان کا اگلا قدم

جب انسان یہ مان لیتا ہے کہ ایک دن ہر بات کا حساب ہونا ہے، تو اس کے اندر ایک فطری سوال پیدا ہوتا ہے: اگر مجھے اس دن کامیاب ہونا ہے تو مجھے آج کس کے سامنے جھکنا ہے؟ یہی سوال اگلی آیت کا دروازہ کھولتا ہے— جہاں **عبادت اور استعانت** ایک واضح اعلان بن جاتی ہیں۔

حصہ پنجم: وفاداری اور انحصار

آیت **إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ**

تشریح و توضیح

یہاں آ کر سورۃ الفاتحہ کا لہجہ بدل جاتا ہے۔ اب تک اللہ کا تعارف تھا، اللہ کی صفات تھیں، اللہ کی ربوبیت، اللہ کی رحمت، اللہ کی ملکیت۔ لیکن اب بات **بندے کی طرف مڑتی ہے**۔ یہ آیت اللہ کے بارے میں نہیں، بلکہ **بندے کے فیصلے** کے بارے میں ہے۔

“ایاک” — حصر اور حتمیت

آیت کا آغاز عام ترتیب سے نہیں کیا گیا۔ یہ نہیں کہا گیا: ہم تیری عبادت کرتے ہیں بلکہ کہا گیا: **صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں** یہ لفظ حصر کا اعلان ہے، یعنی: تیرا کوئی شریک نہیں، تیرا کوئی متبادل نہیں۔ یہاں بندہ نہ صرف زبان سے بلکہ دل سے
ایک فیصلہ کرتا ہے۔

عبادت — صرف نماز نہیں

عبادت کو صرف سجدہ اور رکوع سمجھ لینا اس آیت کے ساتھ ناانصافی ہے۔ عبادت
اطاعت کا نام ہے، جھک جانے کا نام ہے، اور اپنی مرضی چھوڑ دینے کا نام ہے۔ جس کی بات بلا چون و چرا مان لی جائے، جس کے حکم پر خواہش قربان کر دی جائے، وہی معبود بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان اکثر نماز بھی پڑھتا ہے اور عبادت بھی کسی اور کی کرتا ہے۔

نفس، دنیا اور خواہش — خاموش معبود

یہ آیت انسان سے سوال کرتی ہے: کیا واقعی تیری عبادت صرف اللہ کے لیے ہے؟ یا پھر تیرا نفس، تیری خواہش، تیرا خوف تجھے چلاتا ہے؟ یہ آیت انسان کے دل میں چھپے ہوئے بتوں کو ایک ایک کر کے سامنے لے آتی ہے۔

“نعبد” — ہم، میں نہیں

یہاں بندہ اکیلا نہیں بولتا۔ وہ کہتا ہے: ہم عبادت کرتے ہیں یہ “ہم” انفرادی غرور کو توڑتا ہے۔ یہ اعلان ہے کہ بندگی صرف ذاتی نجات نہیں، بلکہ اجتماعی ذمہ داری ہے۔ میں اکیلا نیک بن کر دوسروں کو بھول نہیں سکتا۔

استعانت — مدد مانگنے کا صحیح مقام

عبادت کے فوراً بعد مدد کا ذکر آتا ہے۔ یہ ترتیب بہت معنی خیز ہے۔ پہلے وفاداری، پھر مدد۔ یہ نہیں کہ: پہلے مسئلہ، پھر اللہ۔ یہاں بندہ یہ مان لیتا ہے کہ میں کوشش بھی کروں گا، لیکن سہارا صرف اللہ سے مانگوں گا۔

اسباب اور توکل کا توازن

یہ آیت انسان کو کاہل نہیں بناتی۔ یہ نہیں کہتی کہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ لو۔ یہ کہتی ہے: کوشش کرو، لیکن دل کسی اور پر نہ ٹکاؤ۔ یہی توکل ہے۔ انسان سبب اختیار کرتا ہے، لیکن یقین رب پر رکھتا ہے۔

غرور کا خاتمہ

مدد مانگنا انسان کے نفس پر سب سے بھاری بات ہے۔ کیونکہ مدد مانگتے ہی انسان مان لیتا ہے کہ میں مکمل نہیں ہوں۔ یہ آیت انسان کو توڑتی نہیں، نرم کرتی ہے۔ یہ غرور کی دیوار خاموشی سے گرا دیتی ہے۔

نماز میں یہ آیت — عہد کی تجدید

نماز میں یہ آیت محض تلاوت نہیں ہوتی۔ یہ روزانہ کا عہد ہوتا ہے: اے اللہ! آج بھی
میں نے اپنی وفاداری تیرے نام کی۔ اور اپنی کمزوری تیرے سامنے رکھ دی۔

اس آیت کے بعد اگلا سوال

جب بندہ یہ اعلان کر لیتا ہے کہ میں تیری عبادت کرتا ہوں اور تجھ ہی سے مدد مانگتا ہوں، تو اب ایک فطری سوال جنم لیتا ہے: اگر میں واقعی تیرا بندہ بننا چاہتا ہوں تو مجھے
چلنا کس راستے پر ہے؟ یہی سوال اگلی آیت کا دروازہ کھولتا ہے— جہاں **ہدایت کی درخواست** مرکزی دعا بن جاتی ہے۔

حصہ ششم: راستے کی طلب — ہدایت کی حقیقی دعا

آیت **اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ**

تشریح و توضیح

یہ وہ مقام ہے جہاں سورۃ الفاتحہ اپنی انتہا کو پہنچتی ہے۔ اب تک تعریف تھی، پہچان تھی، رحمت کا یقین تھا، جوابدہی کا شعور تھا، وفاداری کا اعلان تھا۔ اب بندہ خاموش نہیں رہ سکتا۔ اب وہ مانگتا ہے۔ اور جو مانگتا ہے وہ دولت نہیں، آسانی نہیں، کامیابی نہیں— وہ مانگتا ہے: **راستہ**۔

ہدایت — معلومات نہیں، سمت

اکثر لوگ ہدایت کو صرف علم سمجھ لیتے ہیں۔ حالانکہ ہدایت معلومات کا نام نہیں، یہ **سمت کا نام** ہے۔ بہت سے لوگ سچ جانتے ہیں، لیکن اس پر چلتے نہیں۔ یہ آیت
انسان کی اسی کمزوری کا اعتراف ہے: میں جان سکتا ہوں، مگر چل نہیں سکتا جب تک تو مجھے تھام نہ لے۔

“اِهْدِنَا” — عاجزی کا اقرار

یہ لفظ ایک خاموش اعتراف ہے۔ اے اللہ! میں خود اپنے بل پر درست راستہ نہیں پا سکتا۔ یہ اعتراف انسان کو چھوٹا نہیں کرتا، یہ اسے حقیقت پسند بناتا ہے۔ جو شخص ہدایت مانگنا چھوڑ دے وہ گمراہی کے پہلے قدم پر ہوتا ہے۔

صراط — وقتی راستہ نہیں

صراط کوئی وقتی راستہ نہیں، کوئی شارٹ کٹ نہیں، کوئی وقتی فائدہ نہیں۔ یہ زندگی بھر کا راستہ ہے۔ یہ وہ راستہ ہے جس پر چلتے ہوئے کبھی نفس ٹوٹتا ہے، کبھی خواہش قربان ہوتی ہے، کبھی صبر آزمایا جاتا ہے۔ مگر یہی راستہ انسان کو اندر سے مضبوط بناتا ہے۔

مستقیم — سیدھا مگر مشکل

مستقیم کا مطلب صرف سیدھا نہیں، بلکہ **متوازن** بھی ہے۔ نہ افراط، نہ تفریط۔ نہ حد سے زیادہ سختی، نہ بے لگام آزادی۔ یہ راستہ ظاہر میں مشکل ہے، مگر انجام میں آسانی رکھتا ہے۔

یہ دعا کیوں بار بار؟

یہ سوال اکثر اٹھتا ہے: اگر ہم مسلمان ہیں تو پھر ہدایت کیوں مانگتے ہیں؟ کیونکہ ہدایت کوئی جامد چیز نہیں۔ آج کا درست فیصلہ کل غلط بھی ہو سکتا ہے اگر اللہ ساتھ نہ ہو۔ اسی لیے یہ دعا ہر نماز میں دہراتی ہے، تاکہ انسان ہر دن نئے سرے سے سیدھا کیا جائے۔

زندگی کے موڑ اور یہ دعا

جب انسان فیصلے کے موڑ پر کھڑا ہوتا ہے، جب حق اور فائدہ ٹکراتے ہیں، جب سچ مہنگا لگنے لگتا ہے— یہی آیت اس کے اندر بولتی ہے: اے اللہ! مجھے سیدھا رکھ۔ یہ دعا انسان کو خود فریبی سے بچاتی ہے۔

اجتماعی دعا — صرف میں نہیں

یہاں بھی لفظ “ہم” ہے۔ ہمیں ہدایت دے۔ یعنی میں اپنی نجات دوسروں کی تباہی پر نہیں چاہتا۔ یہ دعا انسان کو خود غرضی سے نکال کر امت کے شعور میں لے آتی ہے۔

اس دعا کے بعد اگلا مرحلہ

راستہ مانگ لینے کے بعد ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے: کون سا راستہ؟ کس کی پیروی؟
کون سی مثال؟ یہی سوال اگلی آیات کا دروازہ کھولتا ہے— جہاں اللہ راستے کی **وضاحت** بھی فرما دیتا ہے، اور **انتباہ** بھی۔

حصہ ہفتم کامیاب لوگوں کا راستہ اور تباہی کے دو انجام

آیات **صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ**

تمہید: راستہ مانگنے کے بعد خاموشی نہیں رہتی

جب انسان یہ دعا مانگ لیتا ہے: **اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ** تو یہاں کہانی ختم نہیں ہوتی۔ یہ دعا اگر بغیر وضاحت کے چھوڑ دی جاتی تو انسان ہر راستے کو سیدھا سمجھ سکتا تھا۔ اسی لیے اللہ راستہ بتانے کے بعد اسے **واضح بھی کرتا ہے** اور **خبردار بھی** کرتا ہے۔ یہاں سورۃ الفاتحہ محض دعا نہیں رہتی، یہ **زندگی کا نقشہ** بن جاتی ہے۔

صراط — مگر کن لوگوں کا؟

اللہ یہ نہیں فرماتا: وہ راستہ جو تمہیں اچھا لگے وہ یہ بھی نہیں فرماتا: وہ راستہ جو اکثریت اختیار کرے بلکہ فرماتا ہے: **ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام فرمایا** یہاں کامیابی کی تعریف اللہ خود کر رہا ہے، انسان نہیں۔

انعام — دنیا نہیں، اللہ کی رضا

سب سے پہلی غلط فہمی یہاں ٹوٹتی ہے۔ انعام سے مراد دولت نہیں، طاقت نہیں،
شہرت نہیں، حکومت نہیں۔ کیونکہ یہ سب اکثر ان لوگوں کو بھی مل جاتی ہیں جو اللہ کے نافرمان ہوتے ہیں۔ یہاں انعام اس چیز کا نام ہے جس کے بعد اللہ ناراض نہ ہو۔ یہ انعام دل کے سکون کا ہے، ضمیر کی سلامتی کا ہے، اور انجام کی کامیابی کا ہے۔

انعام یافتہ لوگ کون ہیں؟

قرآن خود دوسری جگہ ان لوگوں کی وضاحت کرتا ہے: انبیا صدیقین شہدا صالحین یہ سب ایک بات میں مشترک ہیں: انہوں نے سچ کو پہچاننے کے بعد اس پر سودا نہیں کیا۔

انعام یافتہ لوگوں کی زندگی کی نمایاں صفات

یہ لوگ غلطی سے پاک نہیں ہوتے، مگر ضد سے بھرے نہیں ہوتے۔ یہ لوگ لغزش کے بعد جواز نہیں ڈھونڈتے، واپسی کا راستہ ڈھونڈتے ہیں۔ یہ لوگ حق کو جان کر اسے چھپاتے نہیں، چاہے اس کی قیمت دینی پڑے۔ یہی لوگ تاریخ میں کم ہوتے ہیں، مگر اللہ کے نزدیک وزنی ہوتے ہیں۔ یہاں “تو نے انعام فرمایا” کیوں؟ یہ نہیں کہا گیا: جنہوں نے خود کامیابی حاصل کی بلکہ کہا گیا: جن پر **تو نے** انعام فرمایا یہ جملہ انسان کی خود ساختہ نیکی کو توڑ دیتا ہے۔ یہ اعلان ہے کہ ہدایت کامیابی اور انجام سب اللہ کی توفیق سے ہے۔ یہ بندے کو غرور سے بچاتا ہے اور شکر کی طرف لے جاتا ہے۔

اب رخ بدلتا ہے — انتباہ کا آغاز

اب سورۃ الفاتحہ صرف مثال نہیں دیتی، خبردار بھی کرتی ہے۔ یہاں دو راستے واضح طور پر بتائے جاتے ہیں جن سے بچنا ضروری ہے۔ یہ دونوں راستے بہت خطرناک ہیں
کیونکہ اکثر لوگ ان پر چلتے ہوئے خود کو حق پر سمجھتے ہیں۔

پہلا انجام: مغضوب علیہم — جان بوجھ کر بگاڑ
مغضوب علیہم کون ہیں؟ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے حق کو پہچان لیا مگر پھر بھی
اسے چھوڑ دیا۔ یہ جہالت کا گناہ نہیں، یہ **ضد کا گناہ** ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو سچ جانتے ہیں مگر فائدے، طاقت، یا انا کی خاطر اسے دبا دیتے ہیں۔

غضب کیوں؟
اللہ کا غضب کسی غلطی پر نہیں آتا، یہ **بغاوت پر آتا ہے**۔ جب علم ذمہ داری بن جائے اور انسان اس ذمہ داری سے بھاگے تو پھر غضب آتا ہے۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں دل سخت ہو جاتا ہے، اور حق ناقابلِ برداشت لگنے لگتا ہے۔

مغضوب علیہم کی نمایاں علامات

یہ لوگ آیات کو موڑتے ہیں، احکام کو اپنے مطلب کے مطابق بناتے ہیں، اور ضمیر کو خاموش کر دیتے ہیں۔ یہ خود کو ہمیشہ حق پر سمجھتے ہیں، اور دوسروں کو حقیر جانتے ہیں۔ یہ سب سے خطرناک لوگ ہیں کیونکہ یہ گمراہ نہیں ہوتے، یہ **گمراہ کرتے ہیں**۔

دوسرا انجام: ضالین بھٹک جانا

ضالین کون ہیں ؟

یہ وہ لوگ ہیں جو نیت میں برے نہیں ہوتے، مگر علم کے بغیر راستہ اختیار کر لیتے ہیں۔ یہ جذبات میں بہہ جاتے ہیں روایت میں الجھ جاتے ہیں، یا اندھی تقلید میں سچ کھو بیٹھتے ہیں۔

ضلالت سچ کھونے کا خاموش عمل

ضلالت اچانک نہیں آتی۔ یہ آہستہ آہستہ صحیح سوال چھوڑ دینے سے شروع ہوتی ہے۔ جب انسان سوچنا چھوڑ دے، پوچھنا چھوڑ دے، اور تحقیق کو گناہ سمجھ لے تو وہ ضال ہو جاتا ہے۔

ضالین کی علامات

یہ لوگ سچ کی بجائے احساس کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہ نیت کو علم کا متبادل سمجھ لیتے ہیں۔ یہ کہتے ہیں دل صاف ہونا چاہیے مگر یہ نہیں دیکھتے کہ دل علم کے بغیر اکثر خود کو دھوکا دیتا ہے۔

مغضوب اور ضال – فرق مگر انجام ایک

یہ دونوں ظاہر میں مختلف ہیں مگر انجام میں قریب ایک نے جانتے ہوئے بگاڑا، دوسرا

نہ جانتے ہوئے بھٹکا۔ ایک نے علم کو دفن کیا، دوسرے نے علم حاصل ہی نہ کیا۔ اسی لیے دونوں سے پناہ مانگی گئی ہے۔

یہ آیات آج کے انسان سے کیا کہتی ہیں؟
یہ آیات ہم سے یہ نہیں پوچھتیں کہ تم کس مذہب سے ہو۔ یہ پوچھتی ہیں کیا تم سچ جان کر اس پر قائم ہو ؟ کیا تم سیکھنے کے بعد جھکتے ہو ؟ یا پھر اپنی خواہش کے مطابق دین گھڑ لیتے ہو ؟

نماز میں یہ آیات – روزانہ احتساب

جب انسان روزانہ نماز میں یہ الفاظ دہراتا ہے تو دراصل وہ خود کو کٹہرے میں کھڑا کرتا ہے۔ اے اللہ! مجھے ان لوگوں میں شامل نہ کرنا جو جانتے ہوئے بگڑ گئے، یا جو سوچے بغیر بھٹک گئے۔

سورة الفاتحہ یہاں مکمل کیوں ہو جاتی ہے؟

کیونکہ اب انسان کے سامنے پورا نقشہ ہے: اللہ کون ہے میں کون ہوں راستہ کیا ہے

خطرات کہاں ہیں اب عذر باقی نہیں رہتا۔ یہی وجہ ہے کہ سورة الفاتحہ نماز کے بغیر قبول نہیں اور نماز سورة الفاتحہ کے بغیر مکمل نہیں۔

آخری نکتہ آمین کیوں؟

آمین محض لفظ نہیں۔ یہ ایک لرزتی ہوئی التجا ہے: اے اللہ! میں نے مانگ لیا اب مجھے اپنے حال پر نہ چھوڑنا۔

سورة الفاتحہ کا خلاصہ ایک جملے میں

یہ سورۃ انسان کو اللہ سے متعارف کرا کے انسان کو خود اس کے سامنے کھڑا کر دیتی ہے۔

سورة الفاتحہ آج کی زندگی میں مکمل اطلاق.
سورۃ الفاتحہ صرف نماز کی تلاوت نہیں، یہ زندگی گزارنے کا مکمل نقشہ ** ہے۔ اگر سورۃ الفاتحہ کو واقعی "فتح” کرنا ہے تو اسے زبان سے نہیں، طرزِ حیات سے پڑھنا ہوگا۔ یہ حصہ اسی مقصد کے لیے ہے کہ سورۃ الفاتحہ آج کے انسان آج کے مسائل، آج کی الجھنوں اور آج کے فیصلوں میں کیسے زندہ ہو سکتی ہے۔

۱۔ حمد سے زندگی کی شروعات ** الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ

الْعَالَمِينَ **

آج کا انسان شکایت سے دن شروع کرتا ہے۔ کمیوں کو گنتا ہے، مسائل کو دہراتا ہے، اور خود کو مظلوم سمجھ کر جیتا ہے۔ سورۃ الفاتحہ زندگی کا زاویہ بدل دیتی ہے۔ یہ سکھاتی ہے دن کی شروعات شکر سے کرو، نہ کہ شکایت سے۔

عملی اطلاق

* صبح آنکھ کھلے تو پہلا خیال میرے رب کا شکر کہ میں زندہ ہوں * * * جو چیز نہیں ملی اس پر غم نہیں جو ملی ہے اس پر حمد * بچوں کو کامیابی سے پہلے شكر سکھانا یہی رویہ انسان کو اندر سے مضبوط کرتا ہے۔

۲۔ ربوبیت کا شعور – کنٹرول چھوڑنا ** رَبِّ الْعَالَمِينَ ** آج انسان بر چیز پر کنٹرول چاہتا ہے رشتے، نتائج لوگ مستقبل اسی کنٹرول کی خواہش اسے بے چین بناتی ہے۔ یہ آیت زندگی کا بوجھ ہلکا کر دیتی ہے: تم رب نہیں ہو،

رب موجود ہے۔

عملی اطلاق

جو چیز تمہارے بس میں نہیں اس پر خود کو مجرم نہ بناؤ * محنت تمہاری ذمہ داری ہے، نتیجہ اللہ کے ہاتھ میں اولاد رزق صحت امانت ہیں ملکیت نہیں یہ شعور ذہنی دباؤ کم کرتا ہے اور سکون بڑھاتا ہے۔

رحمت کے دو دروازی – خود پر اور دوسروں پر
** الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ **

آج کا معاشرہ سخت ہوتا جا رہا ہے۔ غلطی پر فوراً سزا

کمزوری پر تضحیک نرمی کو کمزوری سمجھا جاتا ہے۔ سورۃ

الفاتحہ اللہ کا تعارف رحمت سے کرواتی ہے۔

عملی اطلاق

خود پر سختی کم کریں * ماضی کی غلطیوں پر خود کو

معاف کرنا سیکھیں * گھر میں

سختی کے بجائے سمجھداری * دوسروں کی نیت پر نہیں عمل پر بات یہ رحمت دلوں کو جوڑتی ہے اور معاشرے کو انسان دوست بناتی ہے۔

جوابدہی کا شعور – بے خوف آزادی نہیں ** مَالِكِ يَوْمِ

الدين **

آج انسان آزاد ہونا چاہتا ہے مگر جوابدہی سے بھاگتا ہے۔ یہ آیت یاد دلاتی ہے زندگی بے مقصد نہیں، ہر عمل محفوظ ہے۔

عملی اطلاق

حرام اور حلال صرف قانون کا مسئلہ نہیں آخرت کا سوال ہے * امانت جھوٹ

دھو کہ وقتی فائدہ دے سکتا ہے مگر دائمی نقصان لاتا ہے * طاقت ہو تو بھی ظلم سے رک جانا یہ شعور انسان کو

اندر سے مہذب بناتا ہے۔

۵ عبادت – صرف نماز نہیں ** إِيَّاكَ نَعْبُدُ **

عبادت کو صرف مسجد تک محدود کرنا سورۃ الفاتحہ کی

روح کے خلاف ہے۔ عبادت کا مطلب زندگی کے فیصلوں میں اللہ کو مرکز بنانا۔

عملی اطلاق

روزگار میں دیانت * رشتوں میں انصاف * زبان میں سچ

نیت میں خلوص یہ سب

عبادت کے دائرے میں آتا ہے۔
مدد کی طلب – خود کفالت کا غرور توڑنا

** وَإِيَّاكَ

نَسْتَعِينُ **

آج کا انسان مدد مانگنے کو کمزوری سمجھتا ہے۔ یہ آیت سکھاتی ہے مدد مانگنا ایمان کی علامت ہے۔

عملی اطلاق

دعا کو آخری نہیں پہلی ترجیح بنائیں * فیصلوں سے پہلے اللہ کو شامل کریں

ناکامی میں خود کو ختم نہ کریں یہ تعلق انسان کو تنہا نہیں رہنے دیتا۔

ہدایت کی مسلسل دعا خود اعتمادی نہیں، عاجزی

** اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ **

یہ آیت زندگی کی سب سے بڑی دعا ہے۔ آج کا انسان خود کو سب کچھ سمجھ بیٹھا ہے۔ یہ آیت اس غرور کو توڑتی ہے۔

عملی اطلاق

ہر بڑے فیصلے میں اللہ سے رہنمائی * حق واضح ہو پھر بھی دعا * علم کے ساتھ

ہدایت مانگنا یہی دعا انسان کو بھٹکنے سے بچاتی ہے۔

رول ماڈل کا انتخاب

** صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ **

آج کا مسئلہ یہ ہے کہ ہم غلط لوگوں کو آئیڈیل بنا لیتے ہیں۔ یہ آیت سکھاتی ہے: کامیاب وہ نہیں جس کے پاس سب

کچھ ہو بلکہ وہ جس پر اللہ کی نعمت ہو۔

عملی اطلاق

کردار کو معیار بنائیں * شہرت کو نہیں سچائی کو فالو کریں * بچوں کو نیک مثالیں سنائیں یہ انتخاب زندگی کا رخ بدل دیتا ہے۔

دو راستوں سے بچاؤ

** غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا
الضَّالِّينَ **
یہ آیت آج کے انسان کے لیے سخت وارننگ ہے۔ * جان بوجھ کر حق چھوڑنا * یا لاعلمی میں بھٹکنا دونوں خطرناک ہیں۔

عملی اطلاق

علم کے بغیر رائے نہ بنائیں * ضد کو حق پر ترجیح نہ دیں

اصلاح کو قبول کریں یہ احتیاط انسان کو تباہی سے

بچاتی ہے۔

اختتامی بات

اگر سورۃ الفاتحہ نماز سے نکل کر زندگی میں داخل ہو جائے تو انسان بدل جاتا ہے۔ یہ سورۃ انسان کو رب سے جوڑتی ہے، خود سے متعارف کرواتی ہے اور دنیا میں سیدھا چلنا سکھاتی ہے۔ یہی سورۃ الفاتحہ کو آج کی زندگی میں کامل طور پر نافذ کرنے کا راستہ ہے۔

ابو خالد قاسمی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • نعت کیا ہے ابتدائے زندگی
  • ذہنی سکون کا سفر
  • کوئلہ بھئی نہ راکھ
  • انگریزی نظام برصغیر میں
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
اعداد و شمار کا پاکستان
پچھلی پوسٹ
کفر اور کافر کا مسئلہ

متعلقہ پوسٹس

ردِّ عمل

اپریل 5, 2020

نوری نت اور موگیمبو کا زمانہ لوٹ آیا

اپریل 7, 2023

منقبت خلیفۂ دوم رضی اﷲ عنہ

اکتوبر 28, 2020

کرونا لاک ڈاؤن کے دوران

مارچ 18, 2025

گڈ ڈیڈ،بیڈ ڈیڈ

اگست 25, 2025

روداد بابت اجلاس (حصہ دوئم)

اکتوبر 26, 2025

والد – جنت کا دروازہ

جون 29, 2020

مسدسات

اکتوبر 30, 2020

قرطبہ کا قاضی

جنوری 12, 2020

سلام بر امام حسین علیہ السّلام

نومبر 22, 2022

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • پاکستان اور خلیج

    جنوری 3, 2026
  • زندگی میں اک موڑ

    جنوری 3, 2026
  • کفر اور کافر کا مسئلہ

    جنوری 3, 2026
  • خاموش انسان اور پہلی دعا

    جنوری 3, 2026
  • اعداد و شمار کا پاکستان

    جنوری 2, 2026
  • 1

    ادب،ناول اور معاشرے کا باہم اتصال

    جولائی 12, 2023
  • 2

    نئے انداز سے تعمیر مجھے ہونا ہے

    اپریل 15, 2018
  • 3

    کھلا خط

    دسمبر 31, 2025
  • 4

    جدید الحاد

    دسمبر 25, 2025
  • 5

    نئے سال کے تقاضے اور کامیابی کی حکمت عملی

    دسمبر 30, 2025
  • احمد رضا on لہو اشکوں میں مِلنے دو
  • حسین فرید on ٹوٹ کر گرتے ستاروں کی
  • محمد جواد on دہلی کا ایک یادگار مشاعرہ
  • حافظ اکبر on منتظر کوئی نہیں، کون وہاں بیٹھا ہے
  • رشید حسرت on منتظر کوئی نہیں، کون وہاں بیٹھا ہے

اسلامی گوشہ

کفر اور کافر کا مسئلہ

جنوری 3, 2026

خاموش انسان اور پہلی دعا

جنوری 3, 2026

سماجی تجزیہ

جنوری 2, 2026

علی بزبانِ علی بن موسیٰ الرضاؑ

جنوری 1, 2026

نقظہ نواز

جنوری 1, 2026

اردو شاعری

اگلی گلی میں رہتا ہے

جنوری 1, 2026

ہم کون

جنوری 1, 2026

بزرگوں کے سرہانے بیٹھ جائیں

جنوری 1, 2026

نیا سال مبارک

دسمبر 30, 2025

یہ جو بڑھتی ہوئی جدائی ہے

دسمبر 29, 2025

اردو افسانے

تعارف کا دوسرا قدم

دسمبر 16, 2025

احساس محبت

نومبر 11, 2025

جہاں سے میں دیکھتا ہوں

اکتوبر 24, 2025

خسارے کی اجازت

اکتوبر 24, 2025

تمنا کا دوسرا قدم

اکتوبر 24, 2025

اردو کالمز

پاکستان اور خلیج

جنوری 3, 2026

کفر اور کافر کا مسئلہ

جنوری 3, 2026

خاموش انسان اور پہلی دعا

جنوری 3, 2026

اعداد و شمار کا پاکستان

جنوری 2, 2026

سماجی تجزیہ

جنوری 2, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • پاکستان اور خلیج

    جنوری 3, 2026
  • زندگی میں اک موڑ

    جنوری 3, 2026
  • کفر اور کافر کا مسئلہ

    جنوری 3, 2026
  • خاموش انسان اور پہلی دعا

    جنوری 3, 2026
  • اعداد و شمار کا پاکستان

    جنوری 2, 2026
  • سماجی تجزیہ

    جنوری 2, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    ادب،ناول اور معاشرے کا باہم اتصال

    جولائی 12, 2023
  • 2

    نئے انداز سے تعمیر مجھے ہونا ہے

    اپریل 15, 2018
  • 3

    کھلا خط

    دسمبر 31, 2025
  • 4

    جدید الحاد

    دسمبر 25, 2025
  • 5

    نئے سال کے تقاضے اور کامیابی کی حکمت عملی

    دسمبر 30, 2025
  • 6

    25 دسمبر

    دسمبر 25, 2025

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

روپ

مئی 21, 2020

غالب اور میر: مطالعے کے چند...

مئی 27, 2024

کبوتر

دسمبر 16, 2019
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں