خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباانگریزی نظام برصغیر میں
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزعابد ضمیر ہاشمی

انگریزی نظام برصغیر میں

از سائیٹ ایڈمن اپریل 3, 2022
از سائیٹ ایڈمن اپریل 3, 2022 0 تبصرے 61 مناظر
62

علم و تربیت انسان کی سب سے پہلی اور بنیادی ضرورت ہے۔ہماری تاریخ میں اس کی عملی تابندہ امثال موجود ہیں۔ ایک طرف جہاں مسجد نبوی ﷺ میں چبوترے پر اہلِ صفہ علم حاصل کر رہے ہیں‘ تو دوسری طرف جنگی قیدیوں کے لیے آزادی کے بدلے اَن پڑھ صحابہ کرام کو تعلیم یافتہ بنانے کی شرط رکھی جاتی ہے اور کبھی مسجد نبویﷺ کا ہال دینی‘ سماجی اور معاشرتی مسائل کی افہام و تفہیم کا منظر پیش کرتا ہے۔ ایک وہ وقت بھی تھا جب اس روئے زمین پر مسلمان ایک ترقی یافتہ اور سپر پاور کے طور پر موجود تھے۔ اس علم نے انسان کو اپنے خائق حقیقی کی پہچان دِی جس کے علم نے انسان کو شعور بخشا۔اس علم میں اپنی تہذیب و تمدن‘ عدل و انصاف‘ مساوی حقوق‘اتفاق واتحاد‘ یگانگت اور معاشرہ امن کا گہوارہ بنایا۔ آخر کیا وجہ ہے کہ ہم تعلیم یافتہ ہونے کے باوجوداخلاقی‘علمی تنزلی کا شکار‘ معاشرہ ٹوٹ رہا‘ ہر طرف بدامنی‘ افراتفری‘ اَدب واحترام کا فقدان ہے۔ ہماری تعلیم صرف ایک کاغذ کا ٹکڑا ہو کر رہ گئی۔ اِس کی بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ یہ وہ علم ہی نہیں جو آدمی کو انسان بنائے۔ یہ نظامِ ہی الگ ہے جس کا بنیادی مقصد ہمیں اپنی تہذیب و تمدن سے دور دھکیل کر انتشار کی دلدل میں اتارنا ہے۔ یہ نظامِ تعلیم برصغیر میں کب اور کیوں لایا گیا:

ایسٹ انڈیا کمپنی کے سابق ملازم چارلس گرانٹ نے تجویز پیش کی کہ عظیم برطانیہ کو ہندوستان میں عیسائت کی تبلیغ انگریزی زبان و اَدب اور مغربی سائنسی علوم کے ذریعے طاقت بڑھانی چاہیے۔ اس رائے کو پسند کیا گیاا ور اس مقصد کے لیے ایک لاکھ روپے کی گرانٹ کی منظوری دی گئی(چارٹر ایکٹ 1813ء)۔1830ء میں مشرقی اور مغربی علوم کے بارے میں مخالفت زور پر تھی۔لارڈ میکالے نے وزنی نکات پیش کر کے اس مسئلے کے حل کی کامیاب کوشش کی۔ لارڈ میکالے 25اکتوبر 1800ء میں پیدا ہوا۔ وہ ایک مضمون نگا ر تھا‘ سماجی و سیاسی موضوعات پر مضامین لکھے۔ میکالے 1839ء اور 1841ء کی جنگوں میں ”سیکریٹری آف وار“ کے عہدے پر فائز رہا۔ 1846ء اور 1848ء کے دوران ”پے ماسٹر جنرل“ کی ذمہ داریاں بھی نبھائیں۔ 1835ء میں جب انگلش ایجوکیشن ایکٹ بنا تو میکالے نے اصرار کیا کہ ہندوستان کے لوگوں کو انگریزی اَدب پڑھایا جائے‘کیونکہ انگریز اچھی طرح جانتے تھے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم سے برصغیر معاشی ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا تھا جبکہ انگلش لٹریچر پڑھنے سے معاشی ترقی ممکن نہیں تھی۔

لارڈ میکالے نے 1834ء میں ہندوستان آیا تھا۔ وہ وائسرائے کی کونسل کا قانونی ممبر تھا لارڈ بنٹنک نے اسے پبلک انسٹرکشن کی جنرل کمپنی کا چیئر مین بنا دیا۔لارڈ میکالے کے ذمہ تھا کہ و ہ گورنمنٹ کو اس کے تعلیمی پالیسی کے حوالے سے رہنمائی دے۔اگرچہ لارڈ میکالے نے سابقہ نظام تعلیم کا صفایا کرنے سے متعلق تجاویز دینے سے گریز کیا تاہم ذریعہ تعلیم سے متعلق اس نے اپنی مشہور تجاویز فروری 1835ء میں پیش کیں جو کارنامہ لارڈ میکالے نے انگریزو ں کے لیے سر انجام دیا۔لارڈ میکالے نے سارے ہندوستان کو انگریزی رنگ میں رنگ دیا (لارڈ میکالے رپوٹ 1835ء)۔

لارڈ میکالے کی رپورٹ کے نمایا ں نکات:1۔ذریعہ تعلیم انگریزی ہو:ہندوستانی تعلیم کے لیے ذریعہ تعلیم انگریزی ہو گی کیونکہ تمام ہندوستانی زبانیں بڑی ناقص ہیں اور انگریزی،عربی اور سنسکرت سے بہتر ہے۔ انگریزی کے حق میں لارڈ میکالے نے درج ذیل دلائل پیش کیے:ا۔ انگریزی جدید علوم کی کنجی ہے اس وجہ سے عربی اور سنسکرت سے بہتر ہے۔ب۔مغربی زبانوں میں بھی انگریزی کی حیثیت بڑی نمایاں ہے۔ ہندوستان میں انگریزی حکمران طبقہ کی زبان ہے۔ اس لیے تمام مشرقی سمندروں میں اس زبان کا تجارتی و کاروباری زبان بننا زیادہ مناسب ہے۔ج۔ انگریزی ہندوستان کو زیادہ تہذیب یافتہ بنائے گی۔یہ ہندوستان میں نشاۃ ثانیہ لائے گی۔د۔ہندوستانی خود بھی انگریزی زبان سیکھنا چاہتے ہیں۔ ہ۔عوام کے بجائے خاص طبقے کی تعلیم کی وکالت عوام کی بجائے خواص کے طبقے کی تعلیم کی وکالت کی گئی میکالے نے کہا انگریزی زبان کی تعلیم کے ذریعہ سے ہی یہ ممکن تھا کہ ہندوستانی لوگوں میں سے ایک ایسا گروہ تیار کیا جائے جو رنگ اور خون کے اعتبار سے تو ہندوستانی ہو لیکن سوچ و فکر کے لحاظ سے انگریزی ہو اور یہ تعلیم حکمران طبقہ سے عوام میں منتقل کی گئی۔

2۔اَد ب کا مطلب:لارڈ میکالے نے کہا: اَدب کا مطلب ہے انگریزی اَدب جیسا کہ 1833ء کے چارٹر میں بیان کیا گیا ہے۔ اس جد و جہد کو تقویت پہنچانے کے لیے میکالے نے ایک عمدہ عبارت پیش کی ایک اچھی یورپی لائبریری کا ایک شیلف تمام مقامی اَدب سے زیادہ قیمتی ہے۔3۔ ہندستانی سکالر ز کی تعریف:ہندوستانی سکالر سے مراد وہ شخص ہے جس نے لاک کی فلاسفی اور ملٹن کی شاعری پڑھی ہو۔4۔ مشرقی و مذہبی مدارس کی گرانٹ بند کر دی گئی:میکالے نے کہا: اگر حکومت نے محسوس کیا کہ اس کی پرانی تعلیمی پالیسی ناکام ہو گئی ہے تو اس پالیسی کو تبدیل کر دیا جائے گا اور اس کی گرانٹ بند کر دی جائے گی۔

میکالے رپورٹ کے مقاصد:اس رپورٹ کا سب سے نمایا ں مقصد انگریزی ذریعہ تعلیم کے ذریعے انگریزی تعلیم کا فروغ تھا۔ لارڈ ولیم‘ بنٹنک نے اس کی تائید کی اور اس کی رپورٹ کو قبول کیا اور 7مارچ 1835ء کی اپنی قرارداد میں اسے منظور کرنے کے احکام جاری کیے۔کیونکہ متحدہ ہندوستان کے گورنرجنرل کی قونصل کے پہلے رکن برائے قانون کے طور پر لارڈ میکالے نے برطانوی پارلیمان میں 2فروری 1835ء کو اپنے خطاب میں کہا، ”میں نے ہندوستان کے ہر خطے کا سفر کیا ہے۔ مجھے وہاں کوئی بھکاری اور چور نظر نہیں آیا۔ میں نے اس ملک میں بہت خوشحالی دیکھی ہے۔ لوگ اخلاقیات و اقدار سے مالا مال ہیں‘ عمدہ سوچ کے مالک لوگ ہیں اورمیرے خیال میں ہم اس وقت تک اس ملک کو زیر نہیں کرسکتے جب تک ہم انہیں مذہبی اور ثقافتی طور پر توڑ نہ دیں، جو کہ ان کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس لیے میں تجویز کرتاہوں کہ ہم ان کا قدیم نظامِ تعلیم اور تہذیب بدل دیں۔ اگر ہندوستانیوں نے یہ سمجھ لیا کہ ہر انگریزی اور غیر ملکی شے ان کی اشیاء سے بہترہے تو وہ اپنا قومی وقار اور تہذیب کھودیں گے اور حقیقت میں ہماری مغلوب قوم بن جائیں گے‘جیسا کہ ہم انہیں بنانا چاہتے ہیں“۔اس تقریرکے بعد لارڈ میکالے کو ہی ہندوستان کا نظام تعلیم وضع کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی اور ٹھیک 22سال بعد 1857ء میں اس نے اپنا مقصد حاصل کرلیا۔ ہندوستان کے لوگوں میں اپنی زبان‘ ثقافت اور تہذیب و تمدن کے بارے میں نفرت پیدا ہوتی چلی گئی اور لوگوں نے ترقی کا ضامن اپنے زبان کی بجائے انگریزی زبان کو سمجھنا شروع کردیا۔

یہی سوچ پاکستان میں آج تک برقرار ہے‘ بلکہ اس کی جڑیں آج گہری در گہری ہو تی چل جارہی ہیں۔ہم اسلام کی زریں اصولوں کو اپنائے بغیر ترقی کر سکتے ہیں نہ ہی نسل ِ نو کا مستقبل تابناک ہو سکے گا۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم اپنا دستور چھوڑ کر غیروں کے بنائے اصول اپنا کر انصاف کر سکیں یا ترقی کی منازل طے کر سکیں۔ یہ مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے۔ اس نظام سے مساوات‘عدل‘ اَمن کی اُمید مردہ گھوڑے پر چابک برسانے کے مترادف ہے۔ہمیں سمجھنا ہو گا کہ اسلام کا نظام‘ اس نظام سے بہترہے تو ہم اپنا قومی وقار اور تہذیب بحال کر سکیں گے۔

عابد ہاشمی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • سنگم کا ٹینڈوا
  • گاؤں سے لایا تھا شناختی کارڈ
  •  جنگل کا قانون​
  • اجوائن ایک گھریلو جڑی بوٹی
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ووٹ کا صحیح استعمال
پچھلی پوسٹ
کبھی اندھا کبھی بہرا

متعلقہ پوسٹس

چراغِ شب جلا کہیں ؟ نہیں ، نہیں ، ابھی...

مئی 19, 2020

حافظ حسین دین

جنوری 24, 2020

جو وحشت ہے عقیدت بھی تو ہو سکتی ہے

مئی 15, 2020

گلزارِ دل

مئی 27, 2025

یہی تو بھول ہو گئی قطار میں نہیں رہے

دسمبر 9, 2019

کیوں کہ

مئی 3, 2026

مندر والی گلی

جون 14, 2020

ننگی آوازیں

جنوری 12, 2020

دیپ جلے تو دیپ بجھانے آتے ہیں

نومبر 4, 2020

میں سو رہا تھا خواب کی زنجیر کھینچ کر

فروری 24, 2022

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

میری زندگی، میری کہانی

جنوری 31, 2025

کتب : کہانی چل رہی ہے...

جون 27, 2025

سرد ہوا سی کیوں ہے

اکتوبر 9, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں