خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےننگی آوازیں
اردو افسانےاردو تحاریرسعادت حسن منٹو

ننگی آوازیں

اردو افسانہ از سعادت حسن منٹو

از سائیٹ ایڈمن جنوری 12, 2020
از سائیٹ ایڈمن جنوری 12, 2020 0 تبصرے 317 مناظر
318

ننگی آوازیں

بھولو اور گاما دو بھائی تھے۔ بے حد محنتی۔ بھولو قلعی گر تھا۔ صبح دھونکنی سر پر رکھ کر نکلتا اور دن بھر شہر کی گلیوں میں ’’بھانڈے قلعی کرالو‘‘ کی صدائیں لگاتا رہتا۔ شام کو گھر لوٹتا تو اس کے تہہ بند کے ڈب میں تین چار روپے کا کریانہ ضرور ہوتا۔

گاما خوانچہ فروش تھا۔ اس کو بھی دن بھر چھابڑی سر پر اٹھائے گھومنا پڑتا تھا۔ تین چار روپے یہ بھی کما لیتا تھا۔ مگر اس کو شراب کی لت تھی۔ شام کو دینے کے بھٹیار خانے سے کھانا کھانے سے پہلے ایک پاؤ شراب اسے ضرور چاہیے تھی۔ پینے کے بعد وہ خوب چہکتا۔ دینے کے بھٹیار خانے میں رونق لگ جاتی۔ سب کو معلوم تھا کہ وہ پیتا ہے اور اسی کے سہارے جیتا ہے۔

بھولو نے گاما سے جو کہ اس سے دو سال بڑا تھا بہت سمجھایا کہ دیکھو یہ شراب کی لت بہت بری ہے۔ شادی شدہ ہو، بیکار پیسہ برباد کرتے ہو۔ یہی جو تم ہر روز ایک پاؤ شراب پر خرچ کرتے ہو بچا کر رکھو تو بھابھی ٹھاٹ سے رہا کرے۔ ننگی بُچی اچھی لگتی ہے تمہیں اپنی گھر والی۔ گاما نے اس کان سنا۔ اس کان سے نکال دیا۔ بھولو جب تھک ہار گیا تو اس نے کہنا سننا ہی چھوڑ دیا۔

دونوں مہاجر تھے۔ ایک بڑی بلڈنگ کے ساتھ سرونٹ کوارٹر تھے۔ ان پر جہاں اوروں نے قبضہ جما رکھا تھا، وہاں ان دونوں بھائیوں نے بھی ایک کوارٹر کو جو کہ دوسری منزل پر تھا اپنی رہائش کے لیے محفوظ کر لیا تھا۔

سردیاں آرام سے گزر گئیں۔ گرمیاں آئیں تو گاما کو بہت تکلیف ہوئی۔ بھولو تو اوپر کوٹھے پر کھاٹ بچھا کر سو جاتا تھا۔ گاما کیا کرتا۔ بیوی تھی۔ اور اوپر پردے کا کوئی بندوبست ہی نہیں تھا۔ ایک گاما ہی کو یہ تکلیف نہیں تھی۔ کوارٹروں میں جو بھی شادی شدہ تھا اسی مصیبت میں گرفتار تھا۔

کلّن کو ایک بات سوجھی۔ اس نے کوٹھے پر کونے میں اپنی اور اپنی بیوی کی چار پائی کے اردگرد ٹاٹ تان دیا۔ اس طرح پردے کا انتظام ہو گیا۔ کلّن کی دیکھا دیکھی دوسروں نے بھی اس ترکیب سے کام لیا۔ بھولو نے بھائی کی مدد کی اور چند دنوں ہی میں بانس وغیرہ گاڑ کر ٹاٹ اور کمبل جوڑ کر پردے کا انتظام کر دیا۔ یوں ہوا تو رک جاتی تھی مگر نیچے کوارٹر کے دوزخ سے ہر حالت میں یہ جگہ بہتر تھی۔

اوپر کوٹھے پر سونے سے بھولو کی طبیعت میں ایک عجیب انقلاب ہو گیا۔ وہ شادی بیاہ کا بالکل قائل نہیں تھا۔ اس نے دل میں عہد کر رکھا تھا کہ یہ جنجال کبھی نہیں پالے گا۔ جب گاما کبھی اس کے بیاہ کی بات چھیڑتا تو وہ کہا کرتا نہ بھائی۔ میں اپنے نردئے پنڈے پر جونکیں نہیں لگوانا چاہتا۔ لیکن جب گرمیاں آئیں اور اس نے اوپر کھاٹ بچھا کر سونا شروع کیا تو دس پندرہ دن ہی میں اس کے خیالات بدل گئے۔ ایک شام کو دینے کے بھٹیار خانے میں اس نے اپنے بھائی سے کہا۔ ’’میری شادی کر دو، نہیں تو میں پاگل ہو جاؤں گا۔‘‘

گاما نے جب یہ سنا تو اس نے کہا۔ ’’یہ کیا مذاق سوجھا ہے تمہیں۔‘‘

بھولو بہت سنجیدہ ہو گیا۔ ’’تمہیں نہیں معلوم۔۔۔ پندرہ راتیں ہو گئی ہیں مجھے جاگتے ہوئے۔‘‘

گاما نے پوچھا۔ ’’کیوں کیا ہوا؟‘‘

’’کچھ نہیں یار۔۔۔ دائیں بائیں جدھر نظر ڈالو کچھ نہ کچھ ہو رہا ہوتا ہے۔۔۔ عجیب عجیب آوازیں آتی ہیں۔ نیند کیا آئے گی خاک!‘‘

گاما زور سے اپنی گھنی مونچھوں میں ہنسا۔ بھولو شرما گیا۔ ’’وہ جو کلن ہے، اس نے تو حد ہی کر دی ہے۔۔۔ سالا رات بھر بکواس کرتا رہتا ہے۔ اس کی بیوی سالی کی زبان بھی تالو سے نہیں لگتی۔۔۔ بچے پڑے رو رہے ہیں مگر وہ۔۔۔ ‘‘

گاما حسبِ معمول نشے میں تھا۔ بھولو گیا تو اس نے دینے کے بھٹیار خانے میں اپنے سب واقف کاروں کو خوب چہک چہک کر بتایا کہ اس کے بھائی کو آج کل نیند نہیں آتی۔ اس کا باعث جب اس نے اپنے مخصوص انداز میں بیان کیا تو سننے والوں کے پیٹ میں ہنس ہنس کر بل پڑ گئے۔ جب یہ لوگ بھولو سے ملے تو اس کا خوب مذاق اڑایا۔ کوئی اس سے پوچھتا۔ ’’ہاں بھئی، کلن اپنی بیوی سے کیا باتیں کرتا ہے۔‘‘ کوئی کہتا۔ ’’میاں مفت میں مزے لیتے ہو۔۔۔ ساری رات فلمیں دیکھتے رہتے ہو۔۔۔ سو فیصدی گالی بولتی۔‘‘

بعض نے گندے گندے مذاق کیے۔ بھولو چڑ گیا۔ گاما صوفی حالت میں تھا تو اس نے اس سے کہا۔ ’’تم نے تو یار میرا مذاق بنا دیا ہے۔۔۔ دیکھو جو کچھ میں نے تم سے کہا یہ جھوٹ نہیں۔ میں انسان ہوں۔ خدا کی قسم مجھے نیند نہیں آتی۔ آج بیس دن ہو گئے ہیں جاگتے ہوئے۔۔۔ تم میری شادی کا بندوبست کر دو، ورنہ قسم پنجتن پاک کی میرا خانہ خراب ہو جائے گا۔۔۔ بھابھی کے پاس میرا پانسو روپیہ جمع ہے۔۔۔ جلدی کر دو بندوبست!‘‘

گاما نے مونچھ مروڑ کر پہلے کچھ سوچا پھر کہا۔ ’’اچھا ہو جائے گا بندوبست۔ تمہاری بھابھی سے آج ہی بات کرتا ہوں کہ وہ اپنی ملنے والیوں سے پوچھ گچھ کرے۔‘‘

ڈیڑھ مہینے کے اندر اندر بات پکی ہو گئی۔ صمد قلعی گر کی لڑکی عائشہ گاما کی بیوی کو بہت پسند آئی۔ خوبصورت تھی۔ گھر کا کام کاج جانتی تھی۔ ویسے صمد بھی شریف تھا۔ محلے والے اس کی عزت کرتے تھے۔ بھولو محنتی تھی۔ تندرست تھا۔ جون کے وسط میں شادی کی تاریخ مقرر ہو گئی۔ صمد نے بہت کہا کہ وہ لڑکی اتنی گرمیوں میں نہیں بیا ہے گا مگر بھولو نے جب زور دیا تو وہ مان گیا۔

شادی سے چار دن پہلے بھولو نے اپنی دہن کے لیے اوپر کوٹھے پر ٹاٹ کے پردے کا بندوبست کیا۔ بانس بڑی مضبوطی سے فرش میں گاڑے۔ ٹاٹ خوب کر کس کر لگایا۔ چارپائیوں پر نئے کھیس بچھائے۔ نئی صراحی منڈیر پر رکھی۔ شیشے کا گلاس بازار سے خریدا۔ سب کام اس نے بڑے اہتمام سے کیے۔

رات کو جب وہ ٹاٹ کے پردے میں گھر کر سویا تو اس کو عجیب سا لگا وہ کھلی ہوا میں سونے کا عادی تھا مگر اب اس کو عادت ڈالنی تھی۔ یہی وجہ یہ کہ شادی سے چار دن پہلے ہی اس نے یوں سونا شروع کر دیا۔ پہلی رات جب وہ لیٹا اور اس نے اپنی بیوی کے بارے میں سوچا تو وہ پسینے میں تر بتر ہو گیا۔ اس کے کانوں میں وہ آوازیں گونجنے لگیں جو اسے سونے نہیں دیتی تھیں اور اس کے دماغ میں طرح طرح کے پریشان خیالات دوڑاتی تھیں۔

کیا وہ بھی ایسی ہی آوازیں پیدا کرے گا؟۔۔۔ کیا آپ پاس کے لوگ یہ آوازیں سنیں گے۔ کیا وہ بھی اسی کے مانند راتیں جاگ جاگ کر کاٹیں گے۔ کسی نے اگر جھانک کر دیکھ لیا تو کیا ہو گا؟

بھولو پہلے سے بھی زیادہ پریشان ہو گیا۔ ہر وقت اس کو یہی بات ستاتی رہتی کہ ٹاٹ کا پردہ بھی کوئی پردہ ہے، پھر چاروں طرف لوگ بکھرے پڑے ہیں۔ رات کی خاموشی میں ہلکی سی سرگوشی بھی دوسرے کانوں تک پہنچ جاتی ہے۔۔۔ لوگ کیسے یہ ننگی زندگی بسر کرتے ہیں۔۔۔ ایک کوٹھا ہے۔ اس چارپائی پر بیوی لیٹی ہے۔ اس چارپائی پر خاوند پڑا ہے۔ سینکڑوں آنکھیں، سینکڑوں کان آس پاس کھلے ہیں۔ نظر نہ آنے پر بھی آدمی سب کچھ دیکھ لیتا ہے۔ ہلکی سی آہٹ پوری تصویر بن کر سامنے آ جاتی ہے۔۔۔ یہ ٹاٹ کا پردہ کیا ہے۔ سورج نکلتا ہے تو اس کی روشنی ساری چیزیں بے نقاب کر دیتی ہے۔ وہ سامنے کلّن اپنی بیوی کی چھاتیاں دبا رہا ہے۔ وہ کونے میں اس کا بھائی گاما لیٹا ہے۔ تہہ بند کھل کر ایک طرف پڑا ہے۔ ادھر عبدو حلوائی کی کنواری بیٹی شاماں کا پیٹ چھدرے ٹاٹ سے جھانک جھانک کر دیکھ رہا ہے۔

شادی کا دن آیا تو بھولو کا جی چاہا کہ وہ کہیں بھاگ جائے مگر کہاں جاتا۔ اب تو وہ جکڑا جا چکا تھا۔ غائب ہو جاتا تو صمد ضرور خود کشی کر لیتا۔ اس کی لڑکی پر جانے کیا گزرتی۔ جو طوفان مچتا وہ الگ۔

’’اچھا جو ہوتا ہے ہونے دو۔۔۔ میرے ساتھی اور بھی تو ہیں۔ آہستہ آہستہ عادت ہو جائے گی۔ مجھے بھی‘‘۔۔۔ بھولو نے خود کو ڈھارس دی اور اپنی نئی نویلی دلہن کی ڈولی گھر لے آیا۔

کوارٹروں میں چہل پہل پیدا ہو گئی۔ لوگوں نے بھولو اور گاما کو خوب مبارکبادیں دیں۔ بھولو کے جو خاص دوست تھے، انھوں نے اس کو چھیڑا اور پہلی رات کے لیے کئی کامیاب گُر بتائے۔ بھولو خاموشی سے سنتا رہا۔ اس کی بھابھی نے اوپر کوٹھے پر ٹاٹ کے پردوں کے نیچے بستر کا بندوبست کر دیا۔ گاما نے چار موتیے کے بڑے بڑے ہار تکیے کے پاس رکھ دیے۔ ایک دوست اس کے لیے جلیبیوں والا دودھ لے آیا۔

دیر تک وہ نیچے کوارٹر میں اپنی دلہن کے پاس بیٹھا رہا۔ وہ بے چاری شرم کی ماری سر نیوڑھائے، گھونگٹ کاڑھے سمٹی ہوئی تھی۔ سخت گرمی تھی۔ بھولو کا نیا کرتا اس کے جسم کے ساتھ چپکا ہوا تھا۔ پنکھا جھل رہا تھا مگر ہوا جیسے بالکل غائب ہی ہو گئی تھی۔ بھولو نے پہلے سوچا تھا کہ وہ اوپر کوٹھے پر نہیں جائے گا۔ نیچے کوارٹر ہی میں رات کاٹے گا۔ مگر جب گرمی انتہا کو پنچ گئی تو وہ اٹھا اور دولھن سے چلنے کو کہا۔

رات آدھی سے زیادہ گزر چکی تھی۔ تمام کوارٹر خاموشی میں لپٹے ہوئے تھے۔ بھولو کو اس بات کی تسکین تھی کہ سب سو رہے ہوں گے۔ کوئی اس کو نہیں دیکھے گا۔ چپ چاپ دبے قدموں سے وہ اپنے ٹاٹ کے پردے کے پیچھے اپنی دولہن سمیت داخل ہو جائے گا اور صبح منہ اندھیرے نیچے اتر جائے گا۔

جب وہ کوٹھے پر پہنچا تو بالکل خاموش تھی۔ دولہن نے شرمائے ہوئے قدم اٹھائے تو پازیب کے نقرئی گھنگھرو بجنے لگے۔ ایک دم بھولو نے محسوس کیا کہ چاروں طرف جو نیند بکھری ہوئی تھی چونک کر جاگ پڑی ہے۔ چارپائیوں پر لوگ کروٹیں بدلنے لگے، کھانسنے، کھنکارنے کی آوازیں اِدھر اُدھر ابھریں۔ دبی دبی سرگوشیاں اس تپی ہوئی فضا میں تیرنے لگیں۔ بھولو نے گھبرا کر اپنی بیوی کا ہاتھ پکڑا اور تیزی سے ٹاٹ کی اوٹ میں چلا گیا۔ دبی دبی ہنسی کی آواز اس کے کانوں کے ساتھ ٹکرائی۔ اس کی گھبراہٹ میں اضافہ ہو گیا۔ بیوی سے بات کی تو پاس ہی کھُسر پھُسر شروع ہو گئی۔ دور کونے میں جہاں کلن کی جگہ تھی۔ وہاں چارپائی کی چرچوں چرچوں ہونے لگی۔ ’’یہ دھیمی پڑی تو گاما کی لوہے کی چارپائی بولنے لگی۔۔۔ عیدد حلوائی کی کنواری لڑکی شاداں نے دو تین بار اٹھ کر پانی پیا۔ گھڑے کے ساتھ اس کا گلاس ٹکراتا تو ایک چھنا کا سا پیدا ہوتا۔ خیرے قصائی کے لڑکے کی چارپائی سے بار بار ماچس جلانے کی آواز آتی تھی۔

بھولو اپنی دلہن سے کوئی بات نہ کر سکا۔ اسے ڈر تھا کہ آس پاس کے کھلے ہوئے کان فوراً اس کی بات نگل جائیں گے۔ اور ساری چارپائیاں چرچوں چرچوں کرنے لگیں گی۔ دم سادھے وہ خاموش لیٹا رہا۔ کبھی کبھی سہمی ہوئی نگاہ سے اپنی بیوی کی طرف دیکھ لیتا جو گٹھڑی سی بنی دوسری چارپائی پر لیٹی تھی۔ کچھ دیر جاگتی رہی، پھر سو گئی۔

بھولو نے چاہا کہ وہ بھی سو جائے مگر اس کو نیند نہ آئی۔ تھوڑے تھوڑے وقفوں کے بعد اس کے کانوں میں آوازیں آتی تھیں۔۔۔ آوازیں جو فوراً تصویر بن کر اس کی آنکھوں کے سامنے سے گزر جاتی تھیں۔

اس کے دل میں بڑے ولولے تھے۔ بڑا جوش تھا۔ جب اس نے شادی کا ارادہ کیا تھا تو وہ تمام لذتیں جن سے وہ نا آشنا تھا اس کے دل و دماغ میں چکر لگاتی رہتی تھیں۔ اس کو گرمی محسوس ہوتی تھی۔ بڑی راحت بخش گرمی، مگر اب جیسے پہلی رات سے کوئی دلچسپی ہی نہیں تھی۔ اس نے رات میں کئی بار یہ دلچسپی پیدا کرنے کی کوشش کی مگر آوازیں۔۔۔ وہ تصویریں کھینچنے والی آوازیں سب کچھ درہم برہم کر دیتیں۔ وہ خود کو ننگا محسوس کرتا۔ الف ننگا جس کو چاروں طرف سے لوگ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھ رہے ہیں اور ہنس رہے ہیں۔

صبح چار بجے کے قریب وہ اٹھا، باہر نکل کر اس نے ٹھنڈے پانی کا ایک گلاس پیا۔ کچھ سوچا۔ وہ جھجک جو اس کے دل میں بیٹھ گئی تھی اس کو کسی قدر دور کیا۔ اب ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی جو کافی تیز تھی۔۔۔ بھولو کی نگاہیں کونے کی طرف مڑیں۔ کلّن کا گھسا ہوا ٹاٹ ہل رہا تھا۔ وہ اپنی بیوی کے ساتھ بالکل ننگ دھڑنگ لیٹا تھا۔ بھولو کو بڑی گھن آئی۔ ساتھ ہی غصہ بھی آیا کہ ہوا ایسے کوٹھوں پر کیوں چلتی ہے چلتی ہے تو ٹاٹوں کو کیوں چھیڑتی ہے۔ اس کے جی میں آئی کہ کوٹھے پر جتنے ٹاٹ ہیں، سب نوچ ڈالے اور ننگا ہو کے ناچنے لگے۔

بھولو نیچے اتر گیا۔ جب کام پر نکلا تو کئی دوست ملے۔ سب نے اس سے پہلی رات کی سرگزشت پوچھی۔ پھوجے درزی نے اس کو دور ہی سے آواز دی، ’’کیوں استاد بھولو، کیسے رہے، کہیں ہمارے نام پر بٹہ تو نہیں لگا دیا تم نے۔‘‘

چھاگے ٹین ساز نے اس سے بڑے راز دارانہ لہجے میں کہا۔ ’’دیکھو اگر کوئی گڑبڑ ہے تو بتا دو۔ ایک بڑا اچھا نسخہ میرے پاس موجود ہے۔‘‘

بالے نے اس کے کاندھے پر زور سے دھپا مارا۔ ’’کیوں پہلوان، کیسا رہا دنگل؟‘‘

بھولو تو خاموش رہا۔

صبح اس کی بیوی میکے چلی گئی۔ پانچ چھ روز کے بعد واپس آئی تو بھولو کو پھر اسی مصیبت کا سامنا کرنا پڑا۔ کوٹھے پر سونے والے جیسے اس کی بیوی کی آمد کے منتظر تھے۔ چند راتیں خاموش رہی تھی لیکن جب وہ اوپر سوئے تو وہی کھسر پھسر وہی چرچوں چرچوں، وہی کھانسنا کھنکارنا۔۔۔ وہی گھڑے کے ساتھ گلاس کے ٹکرانے کے چھناکے۔۔۔ کروٹوں پر کروٹیں، دبی دبی ہنسی۔۔۔ بھولو ساری رات اپنی چارپائی پر لیٹا آسمان کی طرف دیکھتا رہا۔ کبھی کبھی ایک ٹھنڈی آہ بھر کر اپنی دولہن کو دیکھ لیتا اور دل میں کڑھتا، مجھے کیا ہو گیا ہے۔۔۔ یہ مجھے کیا ہو گیا ہے۔۔۔ یہ مجھے کیا ہو گیا ہے۔‘‘

سات راتوں تک یہی ہوتا رہا، آخر تنگ آ کر بھولو نے اپنی دولہن کو میکے بھیج دیا۔ بیس پچیس دن گزر گئے تو گاما نے بھولو سے کہا۔ ’’یار تم بڑے عجیب و غریب آدمی ہو نئی نئی شادی اور بیوی کو میکے بھیج دیا۔ اتنے دن ہو گئے ہیں اسے گئے ہوئے۔ تم اکیلے سوتے کیسے ہو۔‘‘

بھولو نے صرف اتنا کہا۔ ’’ٹھیک ہے؟‘‘

گاما نے پوچھا۔ ’’ٹھیک کیا ہے۔۔۔ جو بات ہے بتاؤ۔ کیا تمہیں پسند نہیں آئی عائشہ؟‘‘

’’یہ بات نہیں ہے۔‘‘

’’یہ بات نہیں ہے تو اور کیا ہے؟‘‘

بھولو بات گول کر گیا تھوڑے ہی دنوں کے بعد اس کے بھائی نے پھر بات چھیڑی۔ بھولو اٹھ کر کوارٹر کے باہر چلا گیا۔ چارپائی پڑی تھی اس پر بیٹھ گیا۔ اندر سے اس کو اپنی بھابھی کی آواز سنائی دی۔ وہ گاما سے کہہ رہی تھی۔ ’’تم جو کہتے ہو نا کہ بھولو کو عائشہ پسند نہیں، یہ غلط ہے۔‘‘

گاما کی آواز آئی ’’تو اور کیا بات ہے۔۔۔ بھولو کو اس سے کوئی دلچسپی ہی نہیں۔‘‘

’’دلچسپی کیا ہو۔‘‘

’’کیوں؟‘‘

گاما کی بیوی کا جواب بھولو نہ سن سکا مگر اس کے باوجود اس کو ایسا محسوس ہوا کہ اس کی ساری ہستی کسی نے ہاون میں ڈال کر کوٹ دی ہے۔ ایک دم گاما اونچی آواز میں بولا۔ ’’نہیں نہیں۔۔۔ یہ تم سے کس نے کہا۔‘‘

گاما کی بیوی بولی۔ ’’عائشہ نے اپنی کسی سہیلی سے ذکر کیا۔۔۔ بات اڑتی اڑتی مجھ تک پہنچ گئی۔‘‘

بڑی صدمہ زدہ آواز میں گاما نے کہا۔ ’’یہ تو بہت بُرا ہوا!‘‘

بھولو کے دل میں چھری سی پیوست ہو گئی۔ اس کا دماغی توازن بگڑ گیا۔ اٹھا اور کوٹھے پر چڑھ کر جتنے ٹاٹ گئے تھے اکھیڑنے شروع کر دیے۔ کھٹ کھٹ پھٹ پھٹ سن کر لوگ جمع ہو گئے۔ انھوں نے اس کو روکنے کی کوشش کی تو وہ لڑنے لگا۔ بات بڑھ گئی۔ کلن نے بانس، اٹھا کر اس کے سر پر دے مارا۔ بھولو چکرا کر گِرا اور بے ہوش ہو گیا۔ جب ہوش آیا تو اس کا دماغ چل چکا تھا۔

اور وہ الف ننگا بازاروں میں گھومتا پھرتا ہے کہیں ٹاٹ لٹکا دیکھتا ہے تو اس کو اتار کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے۔

٭٭٭

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • چڑ چڑانے کی بات کرتے ہو۔۔۔۔!!!
  • گورمکھ سنگھ کی وصیت
  • گلینا
  • گوادر کا در کُھلا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
خالد میاں
پچھلی پوسٹ
بسم اللہ

متعلقہ پوسٹس

چوتھی کا جوڑا

دسمبر 12, 2019

لالچ

مارچ 25, 2022

آپا

جنوری 15, 2020

یہ ابھی بہت چھوٹا ہے

اکتوبر 28, 2025

بلائوں کو ٹالنے کا سبب

مئی 27, 2024

نیا سال

نومبر 15, 2019

سیرت مصطفی ﷺ: دنیا کے لیے روشن راستہ

اگست 30, 2025

کھجور ٹانک، دوا اور غذا

اکتوبر 19, 2021

پاکستان میں ڈرائیونگ لائسنس کا نظام

مارچ 29, 2026

رشوت اور اس کےنقصانات

جون 5, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • امتیاز الحق امتیاز کا شعری مجموعہ

    اگست 7, 2026
  • پیر نصیر الدین نصیر کی نعتیہ شاعری

    اگست 7, 2026
  • درد کی سرحد سے دل بھی

    اگست 7, 2026
  • ماٹی قدم کریندی یار

    اگست 7, 2026
  • دل لگی یاد آئے گی

    اگست 7, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید

اسلامی گوشہ

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

صفر کا مہینہ اعلی حضرت کا مہینہ

جولائی 23, 2026

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

جولائی 19, 2026

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

جولائی 19, 2026

سیکھتے رہنے کی جستجو

جولائی 11, 2026

اردو شاعری

درد کی سرحد سے دل بھی

اگست 7, 2026

دل لگی یاد آئے گی

اگست 7, 2026

دیے تھے ہم تو ماند سے

اگست 7, 2026

دل حویلی میں سدا بیٹھی رہیں چمگادڑیں

اگست 7, 2026

سب جانتا ہوں راز مگر کھولتا نہیں

اگست 1, 2026

اردو افسانے

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

اردو کالمز

ماٹی قدم کریندی یار

اگست 7, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اگست 3, 2026

مخلوق خدا سے محبت

جولائی 29, 2026

متن کے تعاقب میں

جولائی 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • امتیاز الحق امتیاز کا شعری مجموعہ

    اگست 7, 2026
  • پیر نصیر الدین نصیر کی نعتیہ شاعری

    اگست 7, 2026
  • درد کی سرحد سے دل بھی

    اگست 7, 2026
  • ماٹی قدم کریندی یار

    اگست 7, 2026
  • دل لگی یاد آئے گی

    اگست 7, 2026
  • دیے تھے ہم تو ماند سے

    اگست 7, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

مذہب کا مسئلہ

جنوری 4, 2022

پراسرار ملاقات

دسمبر 22, 2024

معاصر اُردو غزل کا نمایندہ شاعر-...

جنوری 15, 2021
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں