ملیں قربتیں نئے سال میں
تُو رہے نہ رنج و ملال میں
ترا سال گزرے وصال میں
ملے ہر خوشی نئے سال میں
دیے خواہشوں کے جلے رہیں
کھلے تھے جو پھول کھلے رہیں
ہوں محبتیں تری فال میں
ملے ہر خوشی نئے سال میں
تجھے زندگی میں ملے نہ غم
تری آنکھ ہو نہ کبھی بھی نم
رہے ربّ کے فضل کی شال میں
ملے ہر خوشی نئے سال میں
کوئی لمحہ ہو نہ جدائی کا
رہے بازو بن کے تُو بھائی کا
ہو ستارہ اُوجِ کمال میں
ملے ہر خوشی نئے سال میں
جو نظر سے دور قریب ہوں
ترے ارد گرد حبیب ہوں
سَدا مطمئن رہے حال میں
ملے ہر خوشی نئے سال میں
تُو ملا کرے ہمیں پیار سے
رہے گفتگو تری یار سے
تُو ستاروں کی نہ ہو چال میں
ملے ہر خوشی نئے سال میں
کوئی کیجئے نہ نیا ستم
ہے یہ غصہ دشمنِ جاں صنم
کرو فیصلہ نہ اُبال میں
ملے ہر خوشی نئے سال میں
تجھے قدر ہو مرے پیار کی
کرے بات تُو نہ ہزار کی
تُو جواب ڈھونڈ سوال میں
ملے ہر خوشی نئے سال میں
تُو امیر بھی ہے بصیر بھی
بنے امن کا تُو سفیر بھی
رہے عزّتوں کی تُو شال میں
ملے ہر خوشی نئے سال میں
ترے دل میں عشقِ رسول ﷺ ہو
تری زیست کا یہ اصول ہو
پڑھے اُن ﷺ کی نعت خیال میں
ملے ہر خوشی نئے سال میں
تُو جو مانگے بشریٰؔ ملا کرے
تجھے خوش نصیب خدا کرے
رہے تُو وفا کی مثال میں
ملے ہر خوشی نئے سال میں
بشریٰ سعید عاطف
