342
لفظ میرے مری تحریر نہیں رہنی ہے
جب میری بات میں تاثیر نہیں رہنی ہے
نقش جتنے ہیں بگڑنے کے لیے ہیں مرے دوست
اس جہاں میں کوئی تصویر نہیں رہنی ہے
ایک گھر میں نے بنانا ہے تمہارے دل میں
پھر مجھے حسرت تعمیر نہیں رہنی ہے
میں نہتا بھی اگر الجھوں گا ترے لشکر سے
میرے دشمن تری توقیر نہیں رہنی ہے
مجھ کو معلوم نہیں تھا کہ دیا بجھتے ہی
ان ستاروں میں بھی تنویر نہیں رہنی ہے
یہ تماشا بھی بالآخر سمٹ آنا ہے عتیق
ایک دن خواب کی تعبیر نہیں رہنی ہے
ملک عتیق
