خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباانسان ہوں پیالہ و ساغر نہیں ہوں میں
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزمحبوب صابر

انسان ہوں پیالہ و ساغر نہیں ہوں میں

ایک اردو کالم از محبوب صابر

از سائیٹ ایڈمن جنوری 29, 2020
از سائیٹ ایڈمن جنوری 29, 2020 0 تبصرے 357 مناظر
358

” انسان ہوں پیالہ و ساغر نہیں ہوں میں”

کتاب اور حقیقی زندگی میں موجود بیشتر شخصیات اُس خاکے سے قطعی مختلف ہوتی ہیں جسے دلکش الفاظ کا بے داغ لباس پہنا کر اُس شخصیت کی عمدہ ترین تصویر کشی کی جاتی ہے یا پھر وہ خود جس انداز میں اپنے آپ کو اپنی تحاریر میں ظاہر کر رہیے ہوتے ہیں- میرے خیال میں ایک بہت بڑا جذباتی اور تجزیاتی خلا جو نہ صرف عام انسانوں بلکہ اعلی تعیلم یافتہ اذہان میں بھی کثرت سے پایا جاتا ہے وہ ہے حقیقی زندگی اور اس سے وابستہ تقاضوں سے عمومی بے خبری یا یکسر فرار ہو کر ایک ایسی تخیلیاتی اور افسانوی دُنیا کی تلاش جہاں بے عیب اور اعلی ترین اخلاقیات سے مزین افراد کی بہتات ہو- جو ایثار، محبت و یگانگت، وضع داری، حلم، برداشت اور باہمی عزت و تکریم سے مالا مال ہوں- جہاں بھوک و افلاس اور محرومیاں بھی ادائے بے نیازی سے کپڑوں پر لگی دھول کی طرح با آسانی جھاڑ دی جائیں- جہاں چوٹ لگے تو درد سے کراہنے کی بجائے ہونٹوں پہ مسکراہٹیں سجائے ہر کوئ درگزر کا راگ الاپتے ہوئے جھومتا پھرے-جہاں عزتِ نفس کا مجروح ہوجانا محض معمولی سی بات ہو اور ایسے جرم کا ارتکاب کرنے والے کو باآسانی معاف کر دیا جائے- جھوٹ کو ایسا نایاب خزانہ تصور کر لیا جائے جس کی کھوج میں بنی نوع انسان اپنی تخلیق سے لیکر آج تک سرگرداں ہے اور یہ کسی کے ہاتھ نہیں آ سکا لہذا اس پر ردِ عمل لا یعنی سی بات ہے
رشتوں میں منافقت، اُن کی حق تلفی اور محض مادی بنیادوں پر اُن سے فاصلہ رکھنے کو ایک صحت مند نفسیاتی مشغلہ تصور کر لیا جائے اور جب اُن نظر انداز کیے جانے والوں کی ضرورت پڑے تو اُن کی طرف راغب ہونے ہر اُن بے چاروں کو دبا سا گلہ کرنے کی بھی جرات نہ ہو- جہاں حساسیت کی ہر تعریف اس انداز میں ہو کہ صرف اپنی ذات ہی کا تحفظ مقصود ہو اور کسی کی بھی دل ازاری اور بدزبانی کے جواب میں دوسرے شخص کو اپنے منصب اور اعلی تربیت کی بنیادوں پر خاموش رہنے میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہو- جہاں روایات کی پاسداری کا لحاظ خود کو آگ میں جھونک کر کئے جانے میں پزیرائی ملتی ہو – جہاں مہمان نوازی کیلئے خود کو گروی رکھنے میں احساسِ تفاخر ہو اور بے وقت، بے محل اور پیشگی اجازت طلب کئے بغیر کسی کے گھر چلے جانے اور میزبان سے بھر پور اور محبت بھرا استقبالیہ وصول کرنے کو تہذیب تصور کیا جاتا ہو-
لفظوں سے تعمیر کی جانے والی بلند مرتبت شخصیات ، معاشرتی آداب و رسومات اور اعلی اخلاقی اقدار عملی زندگی اور حقیقت میں ایک دوسرے سے باالکل مختلف ہوتی ہیں- جب بھوک لگتی ہے تو دنیا کی بڑی سے بڑی نعمت بھی کھانے کا نعم البدل نہیں ہو سکتی- کرب اور دکھ کی کیفیات میں خوشیوں کا جمِ غفیر بھی چہرے پر ایک پھیکی سی مسکراہٹ لانے سے قاصر ہے- اعتماد ٹوٹنے اور دل شکنی کے نتیجے میں کہے گئے الفاظ یا ردِ عمل کبھی بھی شائسگی کا مظہر نہیں ہو سکتے-ناکامی کو کسی طور بھی نہ تو خوش دلی سے قبول کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی فی الفور برداشت- اپنی ضروریات کو پسِ پشت ڈال کر دوسروں کیلئے کر گزرنے کے بعد صلے کی توقع نہ بھی ہو تو ہلکی سی پذیرائی کی اُمید بھی عین فطری ہے- ٹھکرائے جانے یا نظر انداز کئے جانے پر کوئی بھی ایسا کرنے والے کو توصیفی کلمات سے نہیں نوازے گا- محبت جیسے رشتے میں بھی کسی ایک فریق کا دوسرے فریق پر تسلط اور ذاتی معاملات میں بلا جواز مداخلت تعلقات میں کشیدگی یا اختتام پر منتج ہوتا ہے-
حتی کہ شاعری اور افسانوں میں بیان کی گئی کائنات کی حسین ترین عورت جس کی مہک اور لمس پر ہزار بار مر مٹنے کو جی چاہتا ہے اُس کے منہ یا جسم سے پھوٹنے والی نا خوشگوار باس اُس کے ساتھ اختلاط کے حسین ترین عمل کو بھی بیزاری میں بدل دیتی ہے- رشتوں کے مابین رنجشیں اور اُن کا اظہارہمشہ نامناسب ہی ہوگا- اپنی اولاد کے مقابلے میں دوسروں کے بچوں کیساتھ یکساں سلوک اور انصاف کا دعوی سستی شہرت کا حصول تو ہو سکتا ہے قلی طور پر قابلِ عمل ہر گز نہیں-عفو درگزر کی تلقین جتنی آسان ہے بدلہ نہ لینے کی خواہش اُتنی ہی مشکل اورتکلیف دہ ہے
تہذیبِ انسانی کے ارتقاء میں بہت سے عوامل کارفرما رہے کم و بیش سبھی معاشروں نے اس ضمن میں جو عمومی اصول وضع کیے اُن کی بنیاد مقامی رسوم و رواجات، عادات و اطوار، باہمی میل ملاپ اور آپسی لین دین پر ہی استوار کی گئ- فلسفے اور دیگر عمرانی علوم کی ترقی کے ساتھ ساتھ یہ ہی سب باتیں تہذیبِ انسانی کے ارتقاء کا بھی سبب بنیں- باالخصوص انقلابِ فرانس کے بعد یورپ کے معروضی، معاشرتی اور سیاسی حالات میں بڑی مظبوط اور مثبت تبدیلی آئی- پارلیمنٹ اور چرچ کے دائرہ کار اور اختیارات کے مابین ایک واضع لکیر کھینچ دی گئ اور حقوقِ انسانی کی اہمیت پر ہر کونے سے آوازیں بُلند ہونے لگیں تو انسانوں کے مابین اخلاقی اقدار کو بھر پور طریقے سے اُجاگر کر نے کی مہم کا آغاز ہوا- کتاب اور لفظ کی سحر آفرینی سے معاشرتی آداب، باہمی حقوق و فرائض اور بین الاقوامی تعلقات اور شائستگی پر زور دیا جانے لگا- ادبِ لطیف، موسیقی، مصوری اور شاعری پر ایک بار پھر سے بھر پور توجہ دی جانے لگی تاکہ افراد کی تربیت کی جا سکے اور اس ضمن میں سوویت یونین موجودہ روس نے اس مہم میں بھر پور کردار ادا کیا-مگر اس کیساتھ ہی اس تہذیبی ترقی کی کوششوں کے دوران ہی ایٹم بم گرانے اور بین الاقوامی جنگوں کا جنون بھی عالمِ انسانیت نے اپنی تباہی کی صورت دیکھا-
اس میں کوئی شک نہیں کہ کتاب نے انسانی زندگی میں ایک مثبت کردار ادا کیا اور انسانی ریوں میں ایک شائستہ انقلاب برپا کرنے کا موجب بنی- شاعری، مصوری، موسیقی اور رومانوی ادب نے انسانوں میں موجود حیوانی جذبات کی تزئین و آرائش کر کے اُن سے مثالی معاشروں کی تشکیل کی- افراد کو عزت و وقار سے جینے کے آداب سکھائے مگر ان سب باتوں کے باوجود کتاب اور الفاظ میں مقید کرداروں کی تلاش اور بیان کی گئی اخلاقیات کو بعینہہ اور حرف بہ حرف حقیقی انسانوں پر منطبق کرنا یا اُن سے اُسی رومانوی اخلاقیات کی توقع کرنا کسی طور بھی انصاف پسندی یا دانشمندی نہیں- میں یہاں اخلاقی انحطاط، بد عملی یا بے لگام سماجی ریوں کی دلالت نہیں کر رہا اور نہ ہی دوہرے معیار کی ترویج کا درس دینے کی جسارت کر رہا ہوں- بس سوال یہ ہے کہ کیسے فطری کمزوریوں اور جبلی خامیوں سے صرفِ نظر کیا جا سکتا ہے؟ ہم کیسے کسی سے کہہ سکتے ہیں کہ اُس سے کسی خاص رویے، عمل یا گفتگو کی توقع نہیں تھی- انسان بہت سی جہات کے مجموعہ کا مرکب ہے ممکن ہے جس بات پر وہ مسکرا رہا ہو وہی بات کوئی دوسرا اُس سے کہے تو وہ سیخ پا ہوجائے۔ حتمی اصول تو مشینوں کے ہوتے ہیں انسانوں کیلئے ممکن نہیں- بجلی کے بٹن پر کسی کی بھی انگلی لگے گی وہ کام کرے گا- گاڑی کے اگنیشن میں چابی ڈال کر اُسے کوئی بھی گھمائے گا وہ سٹارٹ ہو جائے گی کہ وہ کسی خاص لمس سے آ شنا نہیں- اس لیئے ہمیں انسانوں سے توقعات کیساتھ ساتھ اُن کے معروضی حالات، ذہنی کیفیات، ذاتی اور اجتماعی رحجانات کا ادراک بھی ہونا چاہیئے- ہر منصف جب تک مجرم کی جگہ کھڑا ہو کر نہیں سوچے گا وہ بہتر انصاف فراہم نہیں سکے گا- اور جب تک ہم انسانوں کو مافوق الفطرت، اکمل و کامل، اور غلطی سے مبرا تصور کرتے رہیں گے کبھی بھی ایک متوازن معاشرے کا قیام عمل میں نہیں آ سکے گا- دس بار بھی کوتاہیوں سے درگزر کر کے اگر ایک انسان بچا لیا جائے تو زندگی کا قرض ادا کرنے کیلئے کافی ہے

محبوب صابر

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • ہمِیں سے کرتا رہا گفتگو ہماری طرح
  • سورج اٹھائے ڈھونڈو گے ہم کو گلی گلی
  • زمین اور انسان
  • جنوبی پنجاب میں سیلاب
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
دو مناظر
پچھلی پوسٹ
آئیے ذرا خود کو بھی ٹٹولیئے

متعلقہ پوسٹس

آرامشِ سپید

نومبر 30, 2024

تنہائیوں کی رات بڑی دور تک گئی

جنوری 3, 2020

پاکستان کے تعلیمی مسائل

جولائی 23, 2024

اخلاقی روایات کی پائمالی

مئی 13, 2020

فلسفہ ماہ رمضان

اپریل 23, 2020

نادیدہ موت

مئی 2, 2020

دھند میں ڈوبی ساری فضا

مئی 28, 2024

کچھ تو نکلیں گی راز کی باتیں

جنوری 17, 2025

جنسی صلاحیت! ختم شد

جولائی 21, 2020

نِکّی

جنوری 15, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

رونا رُلانا

جنوری 25, 2020

خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ

مئی 9, 2020

خوابوں کی تعبیر نہیں ہے

ستمبر 27, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں