خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباانسان ہوں پیالہ و ساغر نہیں ہوں میں
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزمحبوب صابر

انسان ہوں پیالہ و ساغر نہیں ہوں میں

ایک اردو کالم از محبوب صابر

از سائیٹ ایڈمن جنوری 29, 2020
از سائیٹ ایڈمن جنوری 29, 2020 0 تبصرے 420 مناظر
421

” انسان ہوں پیالہ و ساغر نہیں ہوں میں”

کتاب اور حقیقی زندگی میں موجود بیشتر شخصیات اُس خاکے سے قطعی مختلف ہوتی ہیں جسے دلکش الفاظ کا بے داغ لباس پہنا کر اُس شخصیت کی عمدہ ترین تصویر کشی کی جاتی ہے یا پھر وہ خود جس انداز میں اپنے آپ کو اپنی تحاریر میں ظاہر کر رہیے ہوتے ہیں- میرے خیال میں ایک بہت بڑا جذباتی اور تجزیاتی خلا جو نہ صرف عام انسانوں بلکہ اعلی تعیلم یافتہ اذہان میں بھی کثرت سے پایا جاتا ہے وہ ہے حقیقی زندگی اور اس سے وابستہ تقاضوں سے عمومی بے خبری یا یکسر فرار ہو کر ایک ایسی تخیلیاتی اور افسانوی دُنیا کی تلاش جہاں بے عیب اور اعلی ترین اخلاقیات سے مزین افراد کی بہتات ہو- جو ایثار، محبت و یگانگت، وضع داری، حلم، برداشت اور باہمی عزت و تکریم سے مالا مال ہوں- جہاں بھوک و افلاس اور محرومیاں بھی ادائے بے نیازی سے کپڑوں پر لگی دھول کی طرح با آسانی جھاڑ دی جائیں- جہاں چوٹ لگے تو درد سے کراہنے کی بجائے ہونٹوں پہ مسکراہٹیں سجائے ہر کوئ درگزر کا راگ الاپتے ہوئے جھومتا پھرے-جہاں عزتِ نفس کا مجروح ہوجانا محض معمولی سی بات ہو اور ایسے جرم کا ارتکاب کرنے والے کو باآسانی معاف کر دیا جائے- جھوٹ کو ایسا نایاب خزانہ تصور کر لیا جائے جس کی کھوج میں بنی نوع انسان اپنی تخلیق سے لیکر آج تک سرگرداں ہے اور یہ کسی کے ہاتھ نہیں آ سکا لہذا اس پر ردِ عمل لا یعنی سی بات ہے
رشتوں میں منافقت، اُن کی حق تلفی اور محض مادی بنیادوں پر اُن سے فاصلہ رکھنے کو ایک صحت مند نفسیاتی مشغلہ تصور کر لیا جائے اور جب اُن نظر انداز کیے جانے والوں کی ضرورت پڑے تو اُن کی طرف راغب ہونے ہر اُن بے چاروں کو دبا سا گلہ کرنے کی بھی جرات نہ ہو- جہاں حساسیت کی ہر تعریف اس انداز میں ہو کہ صرف اپنی ذات ہی کا تحفظ مقصود ہو اور کسی کی بھی دل ازاری اور بدزبانی کے جواب میں دوسرے شخص کو اپنے منصب اور اعلی تربیت کی بنیادوں پر خاموش رہنے میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہو- جہاں روایات کی پاسداری کا لحاظ خود کو آگ میں جھونک کر کئے جانے میں پزیرائی ملتی ہو – جہاں مہمان نوازی کیلئے خود کو گروی رکھنے میں احساسِ تفاخر ہو اور بے وقت، بے محل اور پیشگی اجازت طلب کئے بغیر کسی کے گھر چلے جانے اور میزبان سے بھر پور اور محبت بھرا استقبالیہ وصول کرنے کو تہذیب تصور کیا جاتا ہو-
لفظوں سے تعمیر کی جانے والی بلند مرتبت شخصیات ، معاشرتی آداب و رسومات اور اعلی اخلاقی اقدار عملی زندگی اور حقیقت میں ایک دوسرے سے باالکل مختلف ہوتی ہیں- جب بھوک لگتی ہے تو دنیا کی بڑی سے بڑی نعمت بھی کھانے کا نعم البدل نہیں ہو سکتی- کرب اور دکھ کی کیفیات میں خوشیوں کا جمِ غفیر بھی چہرے پر ایک پھیکی سی مسکراہٹ لانے سے قاصر ہے- اعتماد ٹوٹنے اور دل شکنی کے نتیجے میں کہے گئے الفاظ یا ردِ عمل کبھی بھی شائسگی کا مظہر نہیں ہو سکتے-ناکامی کو کسی طور بھی نہ تو خوش دلی سے قبول کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی فی الفور برداشت- اپنی ضروریات کو پسِ پشت ڈال کر دوسروں کیلئے کر گزرنے کے بعد صلے کی توقع نہ بھی ہو تو ہلکی سی پذیرائی کی اُمید بھی عین فطری ہے- ٹھکرائے جانے یا نظر انداز کئے جانے پر کوئی بھی ایسا کرنے والے کو توصیفی کلمات سے نہیں نوازے گا- محبت جیسے رشتے میں بھی کسی ایک فریق کا دوسرے فریق پر تسلط اور ذاتی معاملات میں بلا جواز مداخلت تعلقات میں کشیدگی یا اختتام پر منتج ہوتا ہے-
حتی کہ شاعری اور افسانوں میں بیان کی گئی کائنات کی حسین ترین عورت جس کی مہک اور لمس پر ہزار بار مر مٹنے کو جی چاہتا ہے اُس کے منہ یا جسم سے پھوٹنے والی نا خوشگوار باس اُس کے ساتھ اختلاط کے حسین ترین عمل کو بھی بیزاری میں بدل دیتی ہے- رشتوں کے مابین رنجشیں اور اُن کا اظہارہمشہ نامناسب ہی ہوگا- اپنی اولاد کے مقابلے میں دوسروں کے بچوں کیساتھ یکساں سلوک اور انصاف کا دعوی سستی شہرت کا حصول تو ہو سکتا ہے قلی طور پر قابلِ عمل ہر گز نہیں-عفو درگزر کی تلقین جتنی آسان ہے بدلہ نہ لینے کی خواہش اُتنی ہی مشکل اورتکلیف دہ ہے
تہذیبِ انسانی کے ارتقاء میں بہت سے عوامل کارفرما رہے کم و بیش سبھی معاشروں نے اس ضمن میں جو عمومی اصول وضع کیے اُن کی بنیاد مقامی رسوم و رواجات، عادات و اطوار، باہمی میل ملاپ اور آپسی لین دین پر ہی استوار کی گئ- فلسفے اور دیگر عمرانی علوم کی ترقی کے ساتھ ساتھ یہ ہی سب باتیں تہذیبِ انسانی کے ارتقاء کا بھی سبب بنیں- باالخصوص انقلابِ فرانس کے بعد یورپ کے معروضی، معاشرتی اور سیاسی حالات میں بڑی مظبوط اور مثبت تبدیلی آئی- پارلیمنٹ اور چرچ کے دائرہ کار اور اختیارات کے مابین ایک واضع لکیر کھینچ دی گئ اور حقوقِ انسانی کی اہمیت پر ہر کونے سے آوازیں بُلند ہونے لگیں تو انسانوں کے مابین اخلاقی اقدار کو بھر پور طریقے سے اُجاگر کر نے کی مہم کا آغاز ہوا- کتاب اور لفظ کی سحر آفرینی سے معاشرتی آداب، باہمی حقوق و فرائض اور بین الاقوامی تعلقات اور شائستگی پر زور دیا جانے لگا- ادبِ لطیف، موسیقی، مصوری اور شاعری پر ایک بار پھر سے بھر پور توجہ دی جانے لگی تاکہ افراد کی تربیت کی جا سکے اور اس ضمن میں سوویت یونین موجودہ روس نے اس مہم میں بھر پور کردار ادا کیا-مگر اس کیساتھ ہی اس تہذیبی ترقی کی کوششوں کے دوران ہی ایٹم بم گرانے اور بین الاقوامی جنگوں کا جنون بھی عالمِ انسانیت نے اپنی تباہی کی صورت دیکھا-
اس میں کوئی شک نہیں کہ کتاب نے انسانی زندگی میں ایک مثبت کردار ادا کیا اور انسانی ریوں میں ایک شائستہ انقلاب برپا کرنے کا موجب بنی- شاعری، مصوری، موسیقی اور رومانوی ادب نے انسانوں میں موجود حیوانی جذبات کی تزئین و آرائش کر کے اُن سے مثالی معاشروں کی تشکیل کی- افراد کو عزت و وقار سے جینے کے آداب سکھائے مگر ان سب باتوں کے باوجود کتاب اور الفاظ میں مقید کرداروں کی تلاش اور بیان کی گئی اخلاقیات کو بعینہہ اور حرف بہ حرف حقیقی انسانوں پر منطبق کرنا یا اُن سے اُسی رومانوی اخلاقیات کی توقع کرنا کسی طور بھی انصاف پسندی یا دانشمندی نہیں- میں یہاں اخلاقی انحطاط، بد عملی یا بے لگام سماجی ریوں کی دلالت نہیں کر رہا اور نہ ہی دوہرے معیار کی ترویج کا درس دینے کی جسارت کر رہا ہوں- بس سوال یہ ہے کہ کیسے فطری کمزوریوں اور جبلی خامیوں سے صرفِ نظر کیا جا سکتا ہے؟ ہم کیسے کسی سے کہہ سکتے ہیں کہ اُس سے کسی خاص رویے، عمل یا گفتگو کی توقع نہیں تھی- انسان بہت سی جہات کے مجموعہ کا مرکب ہے ممکن ہے جس بات پر وہ مسکرا رہا ہو وہی بات کوئی دوسرا اُس سے کہے تو وہ سیخ پا ہوجائے۔ حتمی اصول تو مشینوں کے ہوتے ہیں انسانوں کیلئے ممکن نہیں- بجلی کے بٹن پر کسی کی بھی انگلی لگے گی وہ کام کرے گا- گاڑی کے اگنیشن میں چابی ڈال کر اُسے کوئی بھی گھمائے گا وہ سٹارٹ ہو جائے گی کہ وہ کسی خاص لمس سے آ شنا نہیں- اس لیئے ہمیں انسانوں سے توقعات کیساتھ ساتھ اُن کے معروضی حالات، ذہنی کیفیات، ذاتی اور اجتماعی رحجانات کا ادراک بھی ہونا چاہیئے- ہر منصف جب تک مجرم کی جگہ کھڑا ہو کر نہیں سوچے گا وہ بہتر انصاف فراہم نہیں سکے گا- اور جب تک ہم انسانوں کو مافوق الفطرت، اکمل و کامل، اور غلطی سے مبرا تصور کرتے رہیں گے کبھی بھی ایک متوازن معاشرے کا قیام عمل میں نہیں آ سکے گا- دس بار بھی کوتاہیوں سے درگزر کر کے اگر ایک انسان بچا لیا جائے تو زندگی کا قرض ادا کرنے کیلئے کافی ہے

محبوب صابر

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • گوارہ نہیں آج کل کی جدائی
  • سرِ بازار
  • اب اپنا اختیار ہے چاہے جہاں چلیں
  • بیخودی بھی حاملِ اقدار ہونی چاہیے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
دو مناظر
پچھلی پوسٹ
آئیے ذرا خود کو بھی ٹٹولیئے

متعلقہ پوسٹس

چند تصویرِبُتاں

دسمبر 15, 2019

امن بورڈ یا امن سے اکتاہٹ؟

مارچ 16, 2026

مرتا ہےتو مرجائے , مددکیوں کرےکوئی

جنوری 24, 2021

اقبال کی فکر اور غلطی ہائے مضامیں

دسمبر 4, 2019

مستقبل کا موسم

ستمبر 12, 2025

نہیں کوئی اپنا زمین و زماں میں

دسمبر 12, 2021

بساط اور فرہاد

فروری 1, 2023

ہو کے رنجور بہت دور تلک

اکتوبر 10, 2025

توبۃ النصوح – فصل دوم

اکتوبر 28, 2020

گلگت خان

جنوری 18, 2013

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ہم آج کہتے ہیں

جون 9, 2020

ان صحبتوں میں آخر

مئی 21, 2024

خامشی اپنی سُخن آثار کرنے کے...

دسمبر 6, 2019
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں