109
پیرہن اور بھی تابناک ہوا
جب تری رہ گزر کی خاک ہوا
جسم پر اوڑھ کے ردائے زخم
میں جیا تو کبھی ہلاک ہوا
مجھ کو کیسے وصولتا کوئی
میں غلط سے پتے پہ ڈاک ہوا
تب سے سیکھا ہے تیرنے کا ہنر
جب سے ہے بادبان چاک ہوا
کتنے چہرے ملول ہیں ساحل
شہر اک دشتِ خوفناک ہوا
ساحل سلہری
