362
اشک در اشک بھرے آنکھ سنبھلنے لگی ہے
خواب کے کھیل سے اب یاد بہلنے لگی ہے
تو سمندر ہے اگر تیرا کنارہ میں ہوں
موج ہر سمت سے اب ضبط میں ڈھلنے لگی ہے
شہر کے شیشہ گرو ریت ہی تقسیم کرو
اب کے صحرا کی بھی تقدیر بدلنے لگی ہے
پھر کسی دھیان سے عرفان میں اترے ہونگے
روشنی جسم کے اندر سے نکلنے لگی ہے
ان ندی نالوں کی تحقیر نہ کرنا ہرگز
ایک امید کے اب آنکھ میں پلنے لگی ہے
ہجر کی دھوپ نے گھیرا ہے کئی بار ھمیں
حوصلہ مند کے پروائی بھی چلنے لگی ہے
تیرے چہرے پہ بھی دیکھے ہیں بدلتے منظر
اپنے اطراف بھی اک شام سی ڈھلنے لگی ہے
آس کی سبز رتیں آ کے ٹھر جائیں کہیں
ایک قندیل ہواؤں میں بھی جلنے لگی ہے
آسناتھ کنول
