528
یہاں سے چاروں طرف راستے نکلتے ہیں
ٹھہر ٹھہر کے ہم اس خواب سے نکلتے ہیں
کسی کسی کو ہے تہذیب دشت آرائی
کئی تو خاک اڑاتے ہوئے نکلتے ہیں
یہاں رواج ہے زندہ جلا دیے جائیں
وہ لوگ جن کے گھروں سے دیے نکلتے ہیں
عجیب دشت ہے دل بھی جہاں سے جاتے ہوئے
وہ خوش ہیں جیسے کسی باغ سے نکلتے ہیں
یہ لوگ سو رہے ہوں گے جبھی تو آج تلک
ظروف خاک سے خوابوں بھرے نکلتے ہیں
ستارے دیکھ کے خوش ہوں کہ روز میری طرح
جو کھو گئے ہیں انہیں ڈھونڈنے نکلتے ہیں
ادریس بابر

1 تبصرہ
بہترین کلام