خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابامحمد ایوب صابرؔ کا شعری آہنگ
آپکا اردو بابااردو تحاریرایوب صابرساحل سلہریمقالات و مضامین

محمد ایوب صابرؔ کا شعری آہنگ

از سائیٹ ایڈمن جنوری 14, 2021
از سائیٹ ایڈمن جنوری 14, 2021 0 تبصرے 63 مناظر
64

محمد ایوب صابرؔ کا شعری آہنگ

محمد ایوب صابرؔ بطورشخص اور شاعر دونوں اعتبار سے لائق تحسین ہیں۔ وہ گذشتہ دو دہائیوں سے بڑے اعتماد کے ساتھ اُردو غزل کہہ رہے ہیں۔ان کے تین شعری مجموعے‘‘اعزاز کی قیمت’’، ‘‘اذانِ سحر’’ اور ‘‘اسلاف کی دستک’’ اشاعت پذیر ہو چکے ہیں۔ان کا اولین شعری مجموعہ‘‘اعزاز کی قیمت’’ ۲۰۰۶ء میں دعا پبلی کیشنز ،لاہور سے شایع ہوا۔ ان کا یہ شعری مجموعہ مقصدی شاعری میں ایک عمدہ اضافہ ہے۔صابرؔ کی غزلوں میں اصلاح معاشرہ کےعناصر نمایاں ملتے ہیں۔ ان کی شاعری کا اختصاص یہ ہے کہ انسانی اقدار کی عکاسی کرتی ہے۔محمدایوب صابرؔ وطن، قوم، امتِ مسلمہayub sabir اور اسلامی تہذیب وثقافت سے محبت کرنے والا اصیل شاعر ہے۔انھوں نے اپنی غزلوں میں اسلاف کے کارناموں اور مسلمانوں کی عظمتِ رفتہ کا بہت ذکر کیا ہے۔ انھوں نے بالخصوص اسلامی روایات اور طرز معاشرت کو اپنی شاعری میں بیان کیا ہے۔ وہ اکثر اشعار میں مسلمانوں کی زبوں حالی اور مٹتے ہوئے اسلامی و ملّی کلچر پر نوحہ کناں نظر آتے ہیں۔اس ضمن میں یہ شعر ملاحظہ کیجیے:
مسلماں کس نے ہے تیرا ،گریباں چاک کر ڈالا
تری ماضی میں جو عزت تھی اس کو خاک کر ڈالا

محمد ایوب صابرؔ مسلمانوں کو متحد اور یکجا دیکھنے کا آرزو مند ہیں۔وہ مسلمانوں کو بھائی چارے ،خلوص اور انسانی ہمدردی سے رہنے کی تلقین و تاکید کرتےہیں۔اس حوالے سے یہ شعر دیکھیے:
اُمتِ مسلمہ ترا اتحاد اب اکسیر ہے
ہو سکے ممکن تو جینے کی یہی تدبیر ہے

صابرؔ نے عالمی تناظر میں امتِ مسلمہ کے مسائل کو بیان کیا ہے۔وہ امتِ مسلمہ کا خیرخواہ ،محافظ ،رہبر اور نگران ہے:
ایک ہو جاؤ مسلمانو ، عداوت چھوڑ دو
اپنے دست و بازو سے کرنا بغاوت چھوڑ دو

محمد ایوب صابرؔ سمجھتے ہیں کہ ‘‘اعزاز’’ انسان کی محنت ومشقت کا ثمر ہوتا ہے۔ آدمی اس کے حصول میں عمر گزار دیتا ہے ۔انھوں نے اعزاز کو فن کا اعتراف کہا ہے۔ وہ اعزاز کو انمول سمجھتے ہیں،یہ شعر دیکھیے:
سینے پہ لگا تمغہ کہیں بیچ نہ دینا
بازار میں ملتی نہیں اعزاز کی قیمت

محمدایوب صابرؔ کی شاعری میں اصلاحی رنگ بے حد غالب ہے ،اُنھوں نے مسلمانوں کو اپنے شان دارماضی اورشناخت کااحساس دلایا ہے۔ انھوں نے اپنی انقلابی افکار کو شعری پیکر عطا کرتے ہوئے موجودہ مسلم حکمرانوں کی بزدلی کا ماتم کیا ہے۔ ایوب صابر شاعرانہ لہجے میں ایک مصلح کے روپ میں نظر آتے ہیں۔ وہ اسلامی دنیا کی ترجمانی کے ساتھ ساتھ عالمی منظر نامہ پر بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اُنھوں نے سقوطِ بغداد پر یہ اشعار کہے:
بغداد کے سب اہل مکیں کانپ رہے ہیں
سمٹے ہوئے کچھ گوشہ نشیں کانپ رہے ہیں
دنیا میں وہ تہذیب و تمدن کا نشاں تھے
اقدارِ مسلماں کے امیں کانپ رہے ہیں

محمد ایوب صابرؔ کی شاعری بڑی سبق آموز ہے ۔انھوں نے اسلام کے عقائد وتہذیب کو زیادہ موضوع بنایا ہے۔ انھوں نے انسان اور انسانی زندگی کی تعمیر وتخریب کے عوامل کوبھی اپنے شعری متن کا حصہ بنایا ہے۔ کہیں کہیں وہ اپنے ترقی پسند ہونے کا اعلان بھی کرتے ہیں۔ انھوں نے انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف بھی آواز بلند کی ہے اور مزدور کے ساتھ مکمل ہمدردی کااظہار بھی کیا ہے۔ صابرؔ نے غریب ،مظلوم ،نچلےاور پسے ہوئے طبقے کی نمایندگی کی ہے اور غریب کے استحصال پر مزاحمت کی ہے۔ اس ضمن میں یہ اشعار ملاحظہ کیجیے:
چیختے ہیں مظلوم بچارے
وقت کا حاکم بہرا دیکھا
مال پرایا اپنا کر کے
چور کو دیتے پہرا دیکھا

میں کسی منصف سے اب ، فریاد تک کرتا نہیں
میرا حق چھینا گیا ہے عادلوں کے درمیاں

محمد ایوب صابرؔ کی اردو غزل کا آہنگ اسلامی اور انقلابی ہے۔ ان کی ہنر آفرینی یہ ہے کہ انھوں نے موضوعات کو نبھانے کے لیے رومانوی طرز اظہار اپنایا ہے۔ اس کی ایک عمدہ مثال یہ ہے:
اندھیری شب میں صابرؔ کس لیے مایوس بیٹھے ہو
کسی جگنو سے تم نے استفادہ کر لیا ہوتا

ایوب صابر کی شاعری اسلامی اور عوامی موضوعات کا حسین امتزاج ہے۔ انھوں نے قرآن سب سے بڑا رہبر اور اسلام بہترین دین کے بیانیے کو اس طرح شعری پیکر عطا کیا ہے:
نیکی سے بڑا دنیا میں ، جوہر نہ ملے گا
بڑھ کر کوئی قرآن سے رہبر نہ ملے گا
دنیا کے مذاہب کو ذرا غور سے دیکھو
کوئی بھی دین اسلام سے بہتر نہ ملے گا

محمد ایوب صابرؔ نے اپنی غزلوں میں قوم کی عظمتِ رفتہ کی بازیابی کی ہے ۔وہ عزم ونظریے کا شاعر ہے۔ انھوں نے اسلاف کی اقدار اور وقت کے ہاتھوں بدلتی اور مٹتی ہوئی تہذیب کو موضوع بنایا ہے۔ ‘‘اعزاز کی قیمت’’ اور‘‘اذانِ سحر’’ کے بعد ‘‘اسلاف کی دستک ’’میں بھی ایوب صابر نے اقوام عالم میں سرخرو ہونے کے مضامین خوب نبھائے ہیں۔ انھوں نے اخلاقی اقدار کی پامالی ،عدل و انصاف کے فقدان اور اسلاف کے کارناموں کو شاعری کا حصہ بنایا ہے۔ صابرؔ ایک لمحہ کے لیے بھی قیدِ ماضی سے رہا نہیں ہوا ،وہ کہتا ہے کہ جو قومیں اپنے اسلاف کے کارہائے نمایاں اور ماضی کو بھول جاتی ہیں وہ دنیا میں کبھی ترقی کی منازل طے نہیں کر سکتیں۔ انھوں نے بالخصوص نئی نسل کو پیغام دیا ہے کہ اپنے اسلاف کی اقدار کی پاسداری کرو گے تو کام یابی تمھارے قدم چومے گی۔ ان کے مطابق معاشرے میں پھیلنے والی بے یقینی ،مایوسی،ناامیدی اور کم ہمتی اسلاف کی اقدار کو نظر انداز کرنے کا نتیجہ ہے:
شعورِ ذات میں شامل ہے گر اسلاف کی دستک
تو پھر کردار میں کیسے نہ ہو اوصاف کی دستک
مرے اجداد نے تو علم کے ابواب کھولے ہیں
یونہی گونجے گی صدیوں تک مرے اسلاف کی دستک

محمد ایوب صابر کی ساری شاعری خالصتاً فکراور خیال کی آئینہ دار ہے۔ انھوں نے شعریت ،نغمگی ،ندرت،سلاست ،روانی، تسلسل، مصرعوں کی بنت اورنشست وبرخاست پر زیادہ توجہ نہیں دی تاکہ یہ شعری تقاضے اس کی مقصدیت کے راستے میں حائل نہ ہوں۔صابرؔ کی شاعری پڑھ کر یہ احساس ابھرتا ہے کہ وہ ایک منبر پر کھڑا خطیب ہے جو للکار للکار کر واعظ کر رہا ہے اور قاری اس کے سامنے دو زانو ہو کر بیٹھا ہوا سامع معلوم ہوتا ہے۔ شاید اسی وجہ سے ان کی شاعری میں اسلاف کی عظمت کا شعور ابھرتا ہے۔ یہ اشعار دیکھیے:
وہ پرندہ کس طرح کرتا زمانے کی تلاش
کر نہیں پایا جو اپنے آشیانے کی تلاش
منکشف ہوتا نہیں ہے اس پہ رازِ زندگی
جو حقیقت چھوڑ کے رکھے فسانے کی تلاش

اس افراتفری ،بے یقینی ،سیاسی اور اقتصادی بحران اور سماجی واخلاقی اقدار کی پامالی کے دور میں صابرؔ نے عوام کے ذہنوں پر اپنے انقلابی اور واعظانہ فکر وخیال سے زبردست دستک دی ہے۔ اس حوالے سے انھوں نے معاشرتی بے اعتدالیوں اور ناہمواریوں پر طنز کے نشتر چلائے ہیں ۔اسی لیے ان کی شاعری میں شعری جمال کم اور داخلی آہنگ زیادہ نظر آتا ہے۔ وہ قوم کی شکست وریخت پر بڑے کرب سے گزرتا ہے اور عوامی مسائل اور مصائب پر اندر ہی اندر کڑھتا ہے:
اک شخص کے گلے میں اٹکی ہوئی ہے چیخ
اپنے مکاں کی گرتی وہ دیوار دیکھ کر
آنکھوں کا پانی پلکوں کی سرحد پہ آ گیا
خیموں میں سر جھکائے وہ لاچار دیکھ کر

اکیسویں صدی کی اردو غزل کے اس جمگھٹےمیں محمد ایوب صابر کی غزل منفرد اسلوب ،مضامین اور اصلاحی وانقلابی آمیزش سے الگ شناخت بنانے میں کام یاب ہو گئی ہے۔ وہ معاصر اردو غزل نگاروں کی صف میں آگے آگے چلتے معلوم ہوتے ہیں۔ صابرؔ نے غزل سے جدید دور کے تقاضوں کے مطابق اصلاح معاشرت کا کام لیا ہے یہ انداز انھیں منفرد اور اختصاصی شاعر کے زمرے میں لاتا ہے۔اس حوالے سے محمد ایوب صابر کے یہ اشعار ملاحظہ کیجیےاور مجھے اجازت دیجیے:
آج بھائی بھائی میں دولت کی خاطر جنگ ہے
کیسے کہہ دوں یہاں حرص وہوس باقی نہیں

جس دھرتی میں پیوست ہوں مظلوم کے آنسو
اُس دھرتی پہ کہتے ہیں کہ بارش نہیں ہوتی

احترامِ آدمیت کا نہیں جن کو خیال
وہ مسلط ہو رہے ہیں حکمراں در حکمراں

وہ اپنے جگر گوشوں کو ہی بیچنا چاہے
جس باپ سے بچوں کی کفالت نہیں ہوتی

اُس ملک میں ہر شخص پریشان ہے صابرؔ
جس ملک میں ہمدرد قیادت نہیں ہوتی

وہ جس نے جھگڑے کیے تخت وتاج کی خاطر
کوئی بھی کام کیا ہے سماج کی خاطر

ڈاکٹر ساحل سلہری

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • آبنائےہرمز وارڈ ، ڈونلڈ ٹرمپ اور عالم لوھار
  • مچلتی ہیں تری یادیں بہاروں میں
  • گل ریگزار پریشہ اور اس کا محبوب
  • کتے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
پیرہن اور بھی تابناک ہوا
پچھلی پوسٹ
خلقتِ نور کلام

متعلقہ پوسٹس

بادشاہت کا خاتمہ

جنوری 21, 2020

دیکھ کبیرا رویا

فروری 3, 2020

شادی کی بریانی

مئی 9, 2020

دست زلیخا

جنوری 2, 2020

چراغِ تعلّق بجھا دینے والے!

جون 13, 2020

لفظ میرے مری تحریر نہیں رہنی ہے

دسمبر 15, 2019

عجب باتیں کھٹکتی ہیں

جولائی 6, 2021

مناجات

جولائی 8, 2020

دیوار کے پہلو سے بجھے دیپ اٹھا دیں

جنوری 22, 2020

درد ہونٹوں میں جو دبا رہے گا

اکتوبر 28, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

اب بس اس کے دل کے...

مئی 13, 2020

ترا تخیّل کمالِ فن سے خیال...

نومبر 6, 2020

سمرقند و بخارا اور آکسفورڈ

نومبر 22, 2022
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں