خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےٹیڑھی لکیر
اردو افسانےاردو تحاریرسعادت حسن منٹو

ٹیڑھی لکیر

اردو افسانہ از سعادت حسن منٹو

از سائیٹ ایڈمن جنوری 15, 2020
از سائیٹ ایڈمن جنوری 15, 2020 0 تبصرے 299 مناظر
300

ٹیڑھی لکیر

اگر سڑک سیدھی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بالکل سیدھی تو اس پر اس کے قدم منوں بھاری ہو جاتے تھے۔ وہ کہا کرتا تھا۔ یہ زندگی کے خلاف ہے۔ جو پیچ در پیچ راستوں سے بھری ہے۔ جب ہم دونوں باہر سیر کو نکلتے تو اس دوران میں وہ کبھی سیدھے راستے پر نہ چلتا۔ اسے باغ کا وہ کونہ بہت پسند تھا۔ جہاں لہراتی ہوئی روشیں بنی ہوئی تھیں۔ ایک بار اس نے اپنی ٹانگوں کو سینے کے ساتھ جوڑ کر بڑے دلکش انداز میں مجھ سے کہا تھا۔

’’عباس اگر مجھے اور کوئی کام نہ ہو۔ تو بخدا میں اپنی ساری زندگی کشمیر کی پہاڑی سڑکوں پر چڑھنے اُترنے میں گزار دُوں۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا پیچ ہیں۔۔۔۔۔۔۔ ابھی تم مجھے نظر آ رہے ہو اور ایک موڑ مڑنے کے بعد میری نظروں سے اوجھل ہو جاتے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔ کتنی پُر اسرار چیز ہے۔۔۔۔۔۔۔ سیدھے راستے پر تم ہر آنے والی چیز دیکھ سکتے ہو، مگر یہاں آنے والی چیزیں تمہاری آنکھوں کے سامنے بالکل اچانک آجائیں گی۔۔۔۔۔۔۔۔ موت کی طرح اچانک۔۔۔۔۔۔۔ اس میں کتنا مزا ہے!‘‘

وہ ایک دُبلا پتلا نوجوان تھا۔ بے حد دُبلا۔ اس کو ایک نظر دیکھنے سے اکثر اوقات معلوم ہوتا کہ ہسپتال کے کسی بستر سے کوئی زرد رُو بیمار اُٹھ کر چلا آیا ہے۔ اُس کی عمر بمشکل بائیس برس کے قریب ہو گی۔ مگر بعض اوقات وہ اس سے بہت زیادہ عمر کا معلوم ہوتا تھا۔ اور عجیب بات ہے کہ کبھی کبھی اس کو دیکھ کر میں یہ خیال کرنے لگتا کہ وہ بچہ بن گیا ہے۔ اس میں ایکا ایکی اس قدر تبدیلی ہو جایا کرتی تھی کہ مجھے اپنی نگاہوں کی صحت پر شبہ ہونے لگ جاتا تھا۔ آخری ملاقات سے دس روز پہلے جب وہ مجھے بازار میں ملا تو میں اسے دیکھ کر حیران رہ گیا۔ وہ ہاتھ میں ایک بڑا سیب لیے اُسے دانتوں سے کاٹ کر کھا رہا تھا۔ اس کا چہرہ بچوں کی مانند ایک ناقابلِ بیان خوشی کے باعث تمتمایا ہوا تھا۔ اس کا چہرہ گواہی دے رہا تھا کہ سیب بہت لذیذ ہے۔ سیب کے رس سے بھرے ہوئے ہاتھوں کو بچوں کی مانند اپنی پتلون سے صاف کر کے اس نے میرا ہاتھ بڑے جوش سے دبایا اور کہا۔۔۔۔۔۔۔ عباس وہ دو آنے مانگتا تھا، مگر میں نے بھی ایک ہی آنے میں خریدا۔ ‘‘

اس کے ہونٹ ظفر مندانہ ہنسی کے باعث تھرتھرانے لگتے، پھر اس نے جیب سے ایک چیز نکالی۔ اور میرے ہاتھ میں دے کر کہا۔

’’تم نے لٹو تو بہت دیکھے ہوں گے۔ پر ایسا لٹو کبھی دیکھنے میں نہ آیا ہو گا۔۔۔۔۔ اوپر کا بٹن دباؤ۔۔۔۔۔۔۔ دباؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ارے دباؤ!‘‘

میں سخت متحیّر ہو رہا تھا۔ لیکن اُس نے میری طرف دیکھے بغیر لٹو کا بٹن دبا دیا جو میری ہتھیلی پر سے اُچھل کر سڑک پر لنگڑانے لگا۔۔۔۔۔ اس پر خوشی کے مارے میرے دوست نے اُچھلنا شروع کر دیا۔

’’دیکھو، عباس، دیکھو، اس کا ناچ۔ ‘‘

میں نے لٹو کی طرف دیکھا۔ جو میرے سر کے مانند گھوم رہا تھا۔ ہمارے ارد گرد بہت سے آدمی جمع ہو گئے تھے۔ شائد وہ یہ سمجھ رہے تھے۔ کہ میرا دوست دوائیاں بیچے گا۔

’’لٹو اٹھاؤ اور چلیں۔۔۔۔۔۔۔ لوگ ہمارا تماشہ دیکھنے کے لیے جمع ہو رہے ہیں!‘‘

میرے لہجے میں شاید تھوڑی سی تیزی تھی۔ کیونکہ اس کی ساری خوشی ماند پڑ گئی۔ اور اس کے چہرے کی تمتماہٹ غائب ہو گئی۔ وہ اُٹھا اور اس نے میری طرف کچھ اس انداز سے دیکھا کہ مجھے ایسا معلوم ہوا۔ جیسے ایک ننھا سا بچہ رونی صورت بنا کر کہہ رہا ہے۔ میں نے تو کوئی بُری بات نہیں کی پھر مجھے کیوں جھڑکا گیا ہے؟ اس نے لٹّو وہیں سڑک پر چھوڑ دیا۔ اور میرے ساتھ چل پڑا، گھر تک میں نے اور اس نے کوئی بات نہ کی۔ گلی کے نکڑ پر پہنچ کر میں نے اس کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔ اس قلیل عرصے میں اس کے چہرے پر انقلاب پیدا ہو گیا تھا۔ وہ مجھے ایک تفکر زدہ بوڑھا نظر آیا۔ میں نے پوچھا۔ کیا سوچ رہے ہو؟‘‘

اس نے جواب دیا۔

’’میں یہ سوچ رہا ہوں۔ اگر خدا کو انسان کی زندگی بسر کرنی پڑ جائے تو کیا ہو؟‘‘

وہ اسی قسم کی بے ڈھنگی باتیں سوچا کرتا تھا۔ بعض لوگ یہ سمجھتے تھے کہ وہ اپنے آپ کو نرالا ظاہر کرنے کے لیے ایسے خیالات کا اظہار کرتا ہے۔ مگر یہ بات غلط تھی۔ دراصل اس کی طبیعت کا رجحان ہی ایسی چیزوں کی طرف رہتا تھا جو کسی اور دماغ میں نہیں آتی تھیں۔ آپ یقین نہیں کریں گے۔ مگر اس کو اپنے جسم پر رستا ہوا زخم بہت پسند تھا۔ وہ کہا کرتا تھا۔ اگر میرے جسم پر ہمیشہ کے لیے کوئی زخم بن جائے تو کتنا اچھا ہو۔۔۔۔۔۔ مجھے درد میں بڑا مزا آتا ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اسکول میں ایک روز اس نے میرے سامنے اپنے بازو کو اُسترے کے تیز بلیڈ سے زخمی کیا۔ صرف اس لیے کہ کچھ روز اس میں درد ہوتا رہے ٹیکہ اس نے کبھی۔۔۔۔۔۔۔۔ اس خیال سے نہیں لگوایا تھا۔ کہ اس سے ہیضے، پلیگ یا ملیریا کا خوف نہیں رہتا۔ اس کی ہمیشہ یہ خواہش ہوتی تھی۔ کہ دو تین روز اس کا بدن بخار کے باعث تپتا رہے۔ چنانچہ جب کبھی وہ بخار کو دعوت دیا کرتا تھا۔ تو مجھ سے کہا کرتا تھا۔ عباس، میرے گھر میں ایک مہمان آنے والا ہے۔ اس لیے تین روز تک مجھے فرصت نہیں ملے گی۔ ‘‘

ایک روز میں نے اس سے پوچھا کہ تم آئے دن ٹیکہ کیوں لگواتے ہو۔ اس نے جواب دیا۔ عباس، میں تمہیں بتا نہیں سکتا کہ ٹیکہ لگوانے سے جو بخار چڑھتا ہے اس میں کتنی شاعری ہوتی ہے۔ جب جوڑ جوڑ میں درد ہوتا ہے۔ اور اعضا شکنی ہوتی ہے تو بخدا ایسا معلوم ہوتا ہے۔ کہ تم کسی نہایت ہی ضدی آدمی کو سمجھانے کی کوشش کر رہے ہو۔۔۔۔۔۔ اور پھر بخار بڑھ جانے سے جو خواب آتے ہیں۔ اللہ کس قدر بے ربط ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔ بالکل ہماری زندگی کی مانند!۔۔۔۔۔۔ ابھی تم یہ دیکھتے ہو کہ تمہاری شادی کسی نہایت حسین عورت سے ہو رہی ہے۔ دوسرے لمحے یہی عورت تمہاری آغوش میں ایک قوی ہیکل پہلوان بن جاتی ہے۔ ‘‘

میں اس کی ان عجیب و غریب باتوں کا عادی ہو گیا تھا، لیکن اس کے باوجود ایک روز مجھے اس کے دماغی توازن پر شبہ ہونے لگا۔ گزشتہ مئی میں مَیں نے اس سے اپنے استاد کا تعارف کرایا جس کی میں بے حد عزت کرتا تھا۔ ڈاکٹرشاکر نے اس کا ہاتھ بڑی گرمجوشی سے دبایا اور کہا۔

’’میں آپ سے مل کر بہت خوش ہُوا ہُوں۔ ‘‘

’’اس کے برعکس، مجھے آپ سے مل کر کوئی خوشی نہیں ہوئی۔ ‘‘

یہ میرے دوست کا جواب تھا۔ جس نے مجھے بیحد شرمندہ کیا، آپ قیاس فرمائیے کی اس وقت میری کیا حالت ہوئی ہو گی۔ شرم کے مارے میں اپنے استاد کے سامنے گڑا جا رہا تھا۔ اور وہ بڑے اطمینان سے سگریٹ کے کش لگا کر ہال میں ایک تصویر کی طرف دیکھ رہا تھا۔ ڈاکٹر شاکر نے میرے دوست کی اس حرکت کو بُرا سمجھا اور تخلیے میں مجھ سے بڑے تیز لہجے میں کہا۔

’’معلوم ہوتا ہے۔ تمہارے دوست کا دماغ ٹھکانے نہیں۔ ‘‘

میں نے اس کی طرف سے معذرت طلب کی اور معاملہ رفع دفع ہو گیا، میں واقعی بے حد شرمندہ تھا کہ ڈاکٹر شاکر کو میری وجہ سے ایسا سخت فقرہ سننا پڑا۔ شام کو میں اپنے دوست کے پاس گیا۔ اس ارادے کے ساتھ کہ اس سے اچھی طرح باز پُرس کروں گا۔ اور اپنے دل کی بھڑاس نکالوں گا۔ وہ مجھے لائبریری کے باہر ملا۔ میں نے چھوٹتے ہی اس سے کہا۔

’’تم نے آج ڈاکٹر شاکر کی بہت بے عزتی کی۔۔۔۔۔۔۔ معلوم ہوتا ہے تم نے مجلسی آداب کو خیرباد کہہ دیا ہے۔ ‘‘

وہ مسکرایا

’’ارے چھوڑو اس قصّے کو۔۔۔۔۔۔ آؤ کوئی اور کام کی بات کریں۔ ‘‘

یہ سن کر میں اس پر برس پڑا۔ خاموشی سے میری تمام باتیں سن کر اس نے صاف صاف کہہ دیا۔۔۔۔۔ اگر مجھ سے مل کر کسی شخص کو خوشی حاصل ہوتی ہے تو ضروری نہیں کہ اس سے مل کر مجھے بھی خوشی حاصل ہو۔۔۔۔۔۔ اور پھر پہلی ملاقات پر صرف ہاتھ ملانے سے میں نے اس کے دل میں خوشی پیدا کر دی۔۔۔۔۔۔ میری سمجھ میں نہیں آتا۔۔۔۔۔۔۔تمہارے ڈاکٹر صاحب نے اس روز پچیس آدمیوں سے تعارف کیا۔ اور ہر شخص سے انھوں نے یہی کہا، کہ آپ سے مل کر مجھے بڑی مسّرت حاصل ہوئی ہے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ ہر شخص ایک ہی قسم کے تاثرات پیدا کرے۔۔۔۔۔۔۔ تم مجھ سے فضول باتیں نہ کرو۔۔۔۔۔ آؤ اندر چلیں!‘‘

میں ایک سحر زدہ آدمی کی طرح اس کے ساتھ ہو لیا۔ اور لائبریری کے اندر جا کر اپنا سب غصہ بھول گیا۔ بلکہ یہ سوچنے لگا۔ کہ میرے دوست نے جو کچھ کہا تھا۔ صحیح ہے لیکن فوراً ہی میرے دل میں ایک حسد سا پیدا ہوا کہ اس شخص میں اتنی قوت کیوں ہے۔ کہ وہ اپنے خیالات کا اظہار بے دھڑک کر دیتا ہے۔ پچھلے دنوں میرے ایک افسر کی دادی مر گئی تھی۔ اور مجھے اس کے سامنے مجبوراً اپنے اوپر غم کی کیفیت طاری کرنی پڑی تھی۔ اور اس سے اپنی مرضی کے خلاف دس پندرہ منٹ تک افسوس ظاہر کرنا پڑا تھا۔ اس کی دادی سے مجھے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ اس کی موت کی خبر نے میرے دل پر کوئی اثر نہ کیا تھا۔ لیکن اس کے باوجود مجھے نقلی جذبات تیار کرنے پڑے تھے۔ اس کا صاف مطلب یہ تھا کہ میرا کریکٹر اپنے دوست کے مقابلے میں بہت کمزور ہے، اس خیال ہی نے میرے دل میں حسد کی چنگاری پیدا کی تھی۔ اور میں اپنے حلق میں ایک ناقابلِ برداشت تلخی محسوس کرنے لگا تھا۔ لیکن یہ ایک وقتی اور ہنگامی جذبہ تھا جو ہوا کے ایک تیز جھونکے کے مانند آیا اور گزر گیا۔ میں بعد میں اس پر بھی نادم ہوا۔ مجھے اس سے بے حد محبت تھی۔ لیکن اس محبت میں غیر ارادی طور پر کبھی کبھی نفرت کی جھلک بھی نظر آتی تھی۔ ایک روز میں نے اس کی صاف گوئی سے متاثر ہو کر کہا تھا۔

’’یہ کیا بات ہے کہ بعض اوقات میں تم سے نفرت کرنے لگتا ہوں‘‘

اور اس نے مجھے یہ جواب دے کر مطمئن کر دیا تھا۔

’’تمہارا دل جو میری محبت سے بھرا ہوا ہے ایک ہی چیز کو بار بار دیکھ کر کبھی کبھی تنگ آ جاتا ہے۔ اور کسی دوسری شے کی خواہش کرنے لگ جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر اگر تم مجھ سے کبھی کبھی نفرت نہ کرو۔ تو مجھ سے ہمیشہ محبت بھی نہیں کر سکتے۔۔۔۔۔۔۔ انسان اسی قسم کی الجھنوں کا مجموعہ ہے۔ ‘‘

میں اور وہ اپنے وطن سے بہت دُور تھے۔ ایک ایسے بڑے شہر میں جہاں زندگی تاریک قبر سی معلوم ہوتی ہے۔ مگر اسے کبھی ان گلیوں کی یاد نہ ستاتی تھی۔ جہاں اس نے اپنابچپن اور اپنے شباب کا زمانہ ءِ آغاز گزارا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا۔ کہ وہ اسی شہر میں پیدا ہوا ہے۔ میرے چہرے سے ہر شخص یہ معلوم کر سکتا ہے کہ میں غریب الوطن ہوں۔ مگر میرا دوست ان جذبات سے یکسر عاری ہے۔ وہ کہا کرتا ہے۔ وطن کی یاد بہت بڑی کمزوری ہے ایک جگہ سے خود کو چپک دینا ایسا ہی ہے جیسے ایک آزادی پسند سانڈ کو کھونٹے سے باندھ دیا جائے۔ اس قسم کے خیالات کے مالک کی جو ہر شے کو ٹیڑھی عینک سے دیکھتا ہو۔ اور مروّجہ رسوم کے خلاف چلتا ہو باقاعدہ نکاح خوانی ہو، یعنی پرانی رسوم کے مطابق۔ اس کا عقد عمل میں آئے۔ تو کیا آپ کو تعجب نہ ہو گا؟ ۔۔۔۔۔۔ مجھے یقین ہے کہ ضرور ہو گا۔ ایک روز شام کو جب وہ میرے پاس آیا۔ اور بڑے سنجیدہ انداز میں اس نے مجھے اپنے نکاح کی خبر سنائی۔ تو آپ یقین کریں میری حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی اس حیرت کا باعث یہ چیز تھی کہ وہ شادی کر رہا ہے نہیں، مجھے تعجب اس بات پر تھا۔ کہ اس نے لڑکی بغیر دیکھے، پرانے خطوط کے مطابق نکاح کی رسم میں شامل ہونا قبول کیسے کر لیا۔ جب کہ وہ ہمیشہ ان مولویوں کا مضحکہ اڑایا کرتا تھا۔ جو لڑکی اور لڑکے کو رشتہ ازدواج میں باندھتے ہیں؟ وہ کہا کرتا تھا۔

’’یہ مولوی مجھے بڈھے اور گنٹھیا کے مارے پہلوان معلوم ہوتے ہیں۔ جو اپنے اکھاڑے میں چھوٹے چھوٹے لڑکوں کی کشتیاں دیکھ کر اپنی حرص پوری کرتے ہیں۔ ‘‘

اور پھر وہ شادی یا نکاح پر لوگوں کے جمگھٹے کا بھی تو قائل نہ تھامگر۔۔۔۔۔۔ اس کا نکاح پڑھا گیا۔ میری آنکھوں کے سامنے مولوی نے۔۔۔۔۔۔ اس مولوی نے جس سے اس کو سخت چڑ تھی۔ اور جس کو وہ بوڑھا طوطا کہا کرتا تھا۔ اس کا نکاح پڑھا۔ چھوہارے بانٹے گئے۔ اور میں ساری کارروائی یوں دیکھ رہا تھا گویا سوتے میں کوئی سپنا دیکھ رہا ہوں۔ نکاح ہو گیا۔ دوسرے لفظوں میں ان ہونی بات ہو گئی۔ اور جو تعجب مجھے پہلے پیدا ہوا تھا۔ بعد میں بھی برقرار رہا۔ مگر میں نے اس کے متعلق اپنے دوست سے ذکر نہ کیا۔ اس خیال سے کہ شاید اسے ناگوار گزرے۔ لیکن دل ہی دل میں اس بات پر خوش تھا۔ کہ آخر کار اسے اس دائرے میں لوٹنا پڑا۔ جس میں دوسرے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ نکاح کرکے میرا دوست اپنے اصولوں کے ٹیڑھے منار سے بہت بُرح طرح پھسلا تھا۔ اور اس گڑھے میں سر کے بل آ گرا تھا۔ جس کو وہ بے حد غلیظ کہا کرتا تھا۔ جب میں نے یہ سوچا تو میرے جی میں آئی۔ کہ اپنے کج رفتار دوست کے پاس جاؤں۔ اور اتنا ہنسوں اتنا ہنسوں کہ پیٹ میں بل پڑ جائیں۔ مگر جس روز میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی۔ اسی روز وہ دوپہر کو میرے گھر آیا۔ نکاح کو تین مہینے گزر گئے تھے اور اس دوران میں وہ ہمیشہ اُداس اُداس رہتا تھا۔ اس کا چہرہ چمک رہا تھا۔ اور ناک جو چند روز پہلے بھدّی نیام کے اندر چھپی ہوئی تلوار کا نقشہ پیش کرتی تھی۔ اس پر سب سے نمایاں نظر آ رہی تھی۔ وہ میرے کمرے میں داخل ہوا۔ اور سگریٹ سلگا کر میرے پاس بیٹھ گیا۔ اس کے ہونٹوں کے اختتامی کونے کپکپا رہے تھے۔ ظاہر تھا کہ وہ مجھے کوئی بڑی اہم بات سنانے والا ہے۔ میں ہمہ تن گوش ہو گیا۔ اس نے سگریٹ کے دھوئیں سے چھلا بنایا۔ اور اس میں اپنی اُنگلی گاڑتے ہوئے مجھ سے کہا۔

’’عباس! میں کل یہاں سے جا رہا ہوں۔ ‘‘

’’جا رہے ہو؟‘‘

میری حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی۔

’’میں کل یہاں سے جا رہا ہوں۔ شاید ہمیشہ کے لیے۔ میں اس خبر سے تمہیں مطلع کرنے کے لیے نہ آتا۔ مگر مجھے تم سے کچھ روپے لینا ہیں۔ جو تم نے مجھ سے قرض لے رکھے ہیں۔۔۔۔۔ کیا تمہیں یاد ہے؟‘‘

میں نے جواب دیا۔

’’یاد ہے، پر تم جا کہاں رہے ہو؟ ۔۔۔۔۔۔ اور پھر ہمیشہ کے لیے۔۔۔۔۔؟‘‘

’’بات یہ ہے کہ مجھے اپنی بیوی سے عشق ہو گیا ہے۔ اور کل رات میں اسے بھگا کر اپنے ساتھ لیے جا رہا ہوں۔۔۔۔۔۔ وہ تیار ہو گئی ہے!‘‘

یہ سُن کر مجھے اس قدر حیرت ہوئی کہ میں بیوقوفوں کی مانند ہنسنے لگا۔ اور دیر تک ہنستا رہا۔ وہ اپنی منکوحہ بیوی کو جسے وہ جب چاہتا انگلی پکڑ کر اپنے ساتھ لا سکتا تھا، اغوا کرکے لے جا رہا تھا۔۔۔۔۔۔بھگا کر لے جا رہا تھا۔ جیسے جیسے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں کیا کہوں کہ اس وقت میں نے کیا سوچا۔۔۔۔۔۔۔ دراصل میں کچھ سوچنے کے قابل ہی نہ رہا تھا۔ مجھے ہنستا دیکھ کر اس نے ملامت بھری نظروں سے میری طرف دیکھا۔

’’عباس ! یہ ہنسنے کا موقع نہیں۔ کل رات وہ اپنے مکان کے ساتھ والے باغ میں میرا انتظار کرے گی، اور مجھے سفر کے لیے کچھ روپیہ فراہم کرکے اس کے پاس ضرور پہنچنا چاہیے۔ وہ کیا کہے گی۔ اگر میں اپنے وعدے پر قائم نہ رہا۔۔۔۔۔۔۔۔ تمہیں کیا معلوم، میں نے کن کن مشکلوں کے بعد رسائی حاصل کرکے اس کو اس بات پر آمادہ کیا ہے!‘‘

میں نے پھر ہنسنا چاہا۔ مگر اس کو غایت درجہ سنجیدہ و متین دیکھ کر میری ہنسی دب گئی اور مجھے قطعی طور پر معلوم ہو گیا۔ کہ وہ واقعی اپنی منکوحہ بیوی کو بھگا کر لے جا رہا ہے۔ کہاں؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ مجھے معلوم نہ تھا۔ میں زیادہ تفصیل میں نہ گیا۔ اور اسے وہ روپے ادا کر دئیے۔ جو میں نے عرصہ ہوا اس سے قرض لیے تھے۔ اور یہ سمجھ کر ابھی تک نہ دیے تھے کہ وہ نہ لے گا۔ مگر اس نے خاموشی سے نوٹ گن کر اپنی جیب میں ڈالے اور بغیر ہاتھ ملائے رخصت ہونے ہی والا تھا کہ میں نے آگے بڑھ کر اس سے کہا۔ تم جا رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن مجھے بھلا نہ دینا!‘‘

میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ مگر اس کی آنکھیں بالکل خشک تھیں۔

’’میں کوشش کروں گا۔ ‘‘

یہ کہہ کر وہ چلا گیا۔ میں بہت دیر تک جہاں کھڑا تھا بُت بنا رہا۔ جب اُدھر اس کے سُسرال والوں کو پتہ چلا۔ کہ ان کی لڑکی رات رات میں کہیں غائب ہو گئی ہے۔ تو ایک ہیجان برپا ہو گیا۔ ایک ہفتے تک انھوں نے اسے ادھر اُدھر تلاش کیا۔ اور کسی کو اس واقعہ کی خبر تک نہ ہونے دی۔ مگر بعد میں لڑکی کے بھائی کو میرے پاس آنا پڑا۔ اور مجھے اپنا ہمراز بنا کر اسے ساری رام کہانی سنانی پڑی۔ وہ بے چارے یہ خیال کر رہے تھے کہ لڑکی کسی اور آدمی کے ساتھ بھاگ گئی ہے اور لڑکی کا بھائی میرے پاس اس غرض سے آیا تھا کہ ان کی طرف سے میں اپنے دوست کو اس تلخ واقعے سے آگاہ کروں وہ بیچارہ شرم کے مارے زمین میں گڑا جا رہا تھا۔ جب میں نے اس کو اصل واقعہ سے آگاہ کیا تو حیرت کے باعث اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ اس بات سے تو اسے بہت ڈھارس ہوئی کہ اس کی بہن کسی غیر مرد کے ساتھ نہیں گئی۔ بلکہ اپنے شوہر کے پاس ہے۔ لیکن اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ میرے دوست نے یہ فضول اور نازیبا حرکت کیوں کی؟

’’بیوی اسی کی تھی جب چاہتا لے جاتا۔ مگر اس حرکت سے تو یہ معلوم ہوتا ہے جیسے۔۔۔۔۔۔ جیسے۔۔۔۔۔۔‘‘

وہ کوئی مثال پیش نہ کر سکا اور میں بھی اسے کوئی اطمینان دہ جواب نہ دے سکا کل صبح کی ڈاک سے مجھے اس کا خط ملا جس کو میں نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے کھولا۔ لفافے میں ایک کاغذ تھا جس پر ایک ٹیڑھی لکیر کھینچی ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔ خالی لفافہ ایک طرف رکھ کر میں اس عمود کی طرف دیکھنے لگا۔۔۔۔۔۔۔ جو میں نے بورڈ پر چپکے ہوئے کاغذ پر گرایا تھا۔

سعادت حسن منٹو

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • کم عمر ذہن اور ڈیجیٹل یلغار
  • کردار، کردار نگاری اور تخلیقیت
  • گلوبل وارمنگ اور آج کی ماں
  • سفر نامہ بھارت – چوتھی قسط
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
اپنے دُکھ مجھے دے دو
پچھلی پوسٹ
ایسا لگتا تھا کچھ خفا سا تھا

متعلقہ پوسٹس

امن و سکون کا راستہ: سنتِ رسول ﷺ

ستمبر 4, 2025

ظہران ممدانی

نومبر 5, 2025

ذرا اعتبار کر لے

نومبر 30, 2019

روشنی کے اندر زندگی

نومبر 24, 2024

مزدوری

جنوری 28, 2020

سفر در سفر

نومبر 14, 2021

میں جب ادھر سے نہ گزروں گا کون دیکھے گا

مئی 12, 2020

یہ گداز رس بھری گولائیاں

اکتوبر 16, 2020

ہیرا منڈی : ایک بلبل ہزار داستان

جون 5, 2020

ہمارے زوال کی پہلی سیڑھی!

اگست 28, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے

اسلامی گوشہ

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

” توکل ” کیا ہے

جون 2, 2026

یہ نور کس کا پھیل گیا ہے چمن...

مئی 26, 2026

مظہر ہے کبریا کا علیؑ مرتضیٰ کا نام

مئی 23, 2026

اردو شاعری

زندگی بھر فکر کرتے رہے

جون 2, 2026

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

جون 2, 2026

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان

جون 2, 2026

لمحوں کی قید کاٹ کے صدیوں میں آ...

جون 2, 2026

ممکن نہیں ہے جبر کی بیعت روا مجھے

جون 2, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

جون 3, 2026

ملازمت بہتر یا کاروبار

جون 3, 2026

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

لفظوں کا دیوتا اور سماج کی بے حسی

جون 2, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • کتاب «المتلذذون بالعلم»

    جون 2, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

کیا میں سورج پہ روشنی ڈالوں!

جولائی 14, 2020

سوہانجنا ۔ ایک کرشماتی درخت

مئی 19, 2024

پسماندگان

جنوری 15, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں