خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابازرداری صاحب کیخلاف مقدمہ
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزعلی عبد اللہ ہاشمی

زرداری صاحب کیخلاف مقدمہ

ایک اردو کالم از علی عبد اللہ ہاشمی

از سائیٹ ایڈمن نومبر 23, 2019
از سائیٹ ایڈمن نومبر 23, 2019 0 تبصرے 567 مناظر
568

زرداری صاحب کیخلاف مقدمہ

زرداری صاحب کیخلاف وہ سیاسی مقدمات جو نوے کی دہائی میں ن لیگ نے بنائے انکا جواب تو میاں نواز شریف کی ‘معذرت’، چیئرمین احتساب کمیشن سیف الرحمٰن کے ‘پاوں پڑنے’ اور بعد ازاں عدالتوں سے ‘بریت’ میں موجود ہے۔ رہ گیا میاں صاحب کے آخری دور میں کھڑا کیا گیا "میگا منی لانڈرنگ سکینڈل” تو سالہا سال کے میڈیا ٹرائل، بڑھکوں اور الزامات کا مختصر احوال یہ ہے کہ تقریباً پانچ ماہ سے زرداری صاحب قید ہیں اور بدماشیہ اتحاد ابھی تک ان پر الزام لگانے سے قاصر ہے۔

میرا عنوان آج سیاسی مقدمات نہیں ہیں۔ پاکستان جیسی مقبوضہ ریاست میں سیاسی مقدمات بدماشیہ کی قدرت کے غماز ہوتے ہیں۔ اگر کوئی شخص انکی بابت کئیے گئے پراپوگنڈے سے متاثر ہو جائے تو وہ بذاتِ خود جاہل اور کچے پکے معدے کا مریض ہے۔ اہلِ علم و دانش اچھی طرح جانتے ہیں کہ آصف زرداری نے اس ملک کی مقتدر بدماشیہ کی دشمن نمبر 1 سے شادی کی تھی۔ اگر وہ ایک دھیلے کی کرپشن بھی کرتا تو بھٹو خاندان کے لہو کے پیاسے زرداری سمیت بھٹو خاندان کو نشانِ عبرت بنا دیتے۔ ابھی کچھ نہیں کیا تو مسٹر ٹین پرسنٹ، قبضہ گروپ، قاتل اور پتہ نہیں کیا کیا کہا گیا مگر تاریخ گواہ ہے کہ ججوں سے لیکر سالہا سال الزامات کی تشہیر پر مامور صحافی تک اپنے اپنے الزامات پر شرمندہ ہو کر مرے۔

مجید نظامی ذاتی زندگی میں خائین اور تا عمُر بدماشیہ کا اول نمبر ٹاوٹ تھا۔ ان الزامات کے جھوٹا ہونے پر اس سے بڑھ کر دلیل کیا ہوگی کہ تیس سال کردار کشی کرنے کے بعد اسی مجید نظامی نے آصف علی زرداری کو "مردِ حُر” کا خطاب دیا۔ مسئلہ نہ کچے پکے معدے والے ہیں نہ ہی نسل در نسل بدماشیہ کے چٹے بٹے، میری تحریر کا مرکزی مقدمہ زرداری دور میں اٹھنے والے سوالات ہیں جنہوں نے پارٹی کی ساکھ اور ووٹر کو متاثر کیا۔ یہاں دو ذیلی واقعہ بیان کرنا ضروری ہے تاکہ مضمون رفتار پکڑ سکے۔

بی بی کی شہادت کے بعد حامد میر سیالکوٹ بار میں بطور مہمان آئے۔ 27 دسمبر پر بات کرتے میر صاحب نے بتایا کہ 2007 وطن واپسی کے بعد ایک انٹرویو میں وقفے کے دوران انہوں نے محترمہ سے انکی پارٹی آئیڈیالوجی اور پاکستان واپسی پر بیانات میں تضاد کیجانب اشارہ کیا تو جواب میں بی بی صاحبہ نے کہا، "دیکھو حامد، تم میرے بھائی ہو، تم جانتے ہو میں نے بڑی مشکل سے دباو ڈلوا کر مشرف کو مجبور کیا ہے کہ وہ حقیقی اپوزیشن کو ملک میں آنے دے۔ تم فکر نہ کرو، میں اقتدار میں آئی تو ہوگا وہی جو میرے ملک میری عوام کے حق میں بہتر ہوگا۔۔”

بینظیر بھٹو قتل کیس میں پیپلزپارٹی حکومت کے وکیل ایم اظہر چودھری صاحب سے میری یاد اللہ ہے۔ ایکدن میں نے ان سے سوال کیا کہ بی بی صاحبہ کے قتل کیس کا کیا بنے گا؟ انہوں نے کہا کہ "اس کیس میں کچھ بھی نہیں ہے۔ قتل کرنے والے بی بی کیساتھ بم دھماکے میں مارے گئے، گرفتار شدگان راستہ دکھانے والے یا سونے کیلئے جگہ فراہم والے ہیں جن پر کچھ ثابت نہیں ہو سکتا۔ بلاسٹ کیسز میں سب سے اھم موقع واردات سے اکٹھے کیئے گئے شواہد ہوتے ہیں جنہیں گواہیوں کیساتھ کرابوریٹ کر کے پراسیکیوشن اپنا کیس بناتی ہے۔ پرویز مشرف نے دھماکے کے آدھے گھنٹے کے اندر جائے وقوعہ دُھلوا کر سارے ثبوت مٹا دیئے تھے۔ خالد شہنشاہ کو ایجنسیوں اور بیت اللہ محسود کو امریکہ نے مار دیا۔ اور چار گرفتار ملزمان کیخلاف کوئی گواہی دینے کو تیار نہیں ہے لہذا اس کیس میں کچھ نہیں بنے گا”۔

تو جو کچے معدے والے پیپلز پارٹی پر الزام دھرتے ہیں کہ ہم نے بی بی کے قاتلوں کو سزا نہیں دی انکو اول تو یہ حقائق پتہ ہونے ضروری ہیں دوسرا یہ کہ اس کیس میں ہماری الگ سے رجسٹرڈ ایف آئی آر کا مرکزی ملزم پرویز مشرف ہے جسے 2014 کے دھرنے کی آڑ میں راحیل شریف نے ملک سے بھگا دیا۔

دوسرا مقدمہ کہ ہم نے پرویز مشرف کو گارڈ آف آرنر کیوں دیا؟ تو آئینِ پاکستان کے سرِ ورق پر لکھا ہے کہ "یہ آئین اپنے اندر تمام قوتیں و اختیارات صدرِ پاکستان کے عہدے میں رکھتا ہے” یعنی تمام آئینی اختیارات کا سرچشمہ صدر کی کرسی ہے، وزیراعظم سمیت تمام ادارے صدرِ پاکستان کی کرسی میں رکھے اختیارات سے ملکی نظام چلاتے ہیں۔ مشرف بیشک آمر تھا مگر لیگل فریم ورک آرڈر کے بعد وہ ملک کا آئینی صدر تھا جسکے استغفے پر آصف زرداری کی کابینہ نے نہیں بلکہ اسکے اپنے ادارے فوج نے اسے گارڈآفآرنر دیا جو اسکا آئینی استحقاق بھی تھا۔ بددیانت لوگ بس یہ نہیں بتاتے کہ اسی آصف زرداری نے پرویز مشرف کے مواخذے کی تحریک پیش کی اور ذلیل ہو کر اترنے سے بچنے کیلئے مشرف نے خود استغفی دیکر اپنی جان بچائی۔

ایک اور مقدمہ جو آصف زرداری کیخلاف بنایا گیا کہ جب بی بی صاحبہ نے اپنے قتل کی سازش میں ممکنہ سازش کنندگان میں پرویز الہی کا نام بھی دیا تھا تو پھر آصف زرداری نے اسے ڈپٹی پرائم منسٹر کیسے لے لیا؟ بی بی صاحبہ کا شک کا اظہار اپنی جگہ مسلمہ ہے لیکن زرداری صاحب نے اس کیس پر اقوامِ متحدہ اور اسکاٹ لینڈ یارڈ دونوں سے تفتیش کروائی تھی جو سارے کے سارے کُھرے پرویز مشرف اور اسکے ادارے کیطرف نکلتے تھے تو پھر ایک بیگناہ کو صرف اس لیئے راندہِ درگاہ کر دیتے کہ ہمارا شک غلط تھا؟ ایم کیو ایم اور اے این پی کی مسلسل بلیک میلنگ کو ختم کرنے اور حکومت کے استحکام کیلئے اگر ہم نے ق لیگ کو حکومت میں شامل کیا تو اس میں جہالت زادوں کے پیٹ میں مروڑ کیوں اُٹھتے ہیں؟

رہ گئی یہ بات کہ ناہید خان سمیت بی بی صاحبہ کے بہت سے معتمدوں کو فارغ کیوں کیا گیا تو بی بی صاحبہ نے 1986 میں وطن واپسی پر پارٹی غداروں سمیت ان تمام مہبوت الحواس لیڈران کو فارغ کیا جنہیں یہ زُعم تھا کہ وہ بھٹو صاحب کیساتھ کام کرنے کیوجہ سے موجودہ لیڈرشِپ(بی بی) سے زیادہ معاملات کو سمجھتے ہیں اور پھر ہر قائد کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنی ٹیم چُنے۔ دوسرا ناہید خان محترمہ کی 1983 سے تنخواہ دار سیکرٹری تھی جسے جام صادق کے انگلینڈ والے گھر سے امپورٹ کر کے بی بی صاحبہ پاکستان لائیں اور صفدر عباسی کو 1988 میں بی بی صاحبہ کا پرنسپل سیکرٹری بنایا گیا۔ ناہید اور صفدر کی شادی کے بعد ان دونوں نے جیالوں کیلئے فائنل بیرئیر کا روپ دھار لیا اور انکی ہزاروں زیادتیاں پارٹی تاریخ کا حصہ ہیں۔ بی بی کی شہادت کیساتھ ہی ناہید خان کے خمیر میں اسکی جائے پیدائش (راولپنڈی کے کُوفے) کی مٹی نے اپنا رنگ دکھایا اور وہ فوراً ہی قاتلوں کی آلہ کار اور بی بی کے ورثاء کی دشمن بن گئی۔ اس نے بدماشیہ کے پراپوگنڈے بینیفیشری کا ماوتھ پیس بن کر اوچھے سے اوچھا حملہ کیا مگر آصف علی زرداری یا بھٹو خاندان کی گریس یہ ہے کہ انہوں نے اس نمک حرام ملازمہ کو پلٹ کر "فِٹے منہ” تک نہیں کہا حالانکہ جیالوں کی نظر سے اسکے سر میں 500 جُوتے واجب تھے۔

کرپشن کے نئے پرانے سارے کیس اور یہ اخلاقی مقدمے جو بُوٹ چاٹ سیاستدانوں اور پارٹی غداروں سمیت آلہ کار صحافیوں نے آصف زرداری کے کردار پر لگائے ان سب کا فیصلہ زمین و آسمان دونوں پر ہونا باقی ہے۔ زمینی عدالتوں سے سُرخرو ہونے میں اب دیر نہیں ہے لیکن جن کچے معدے والے کارکنوں نے بجائے (سازش) پراپوگنڈے کو سمجھنے کے درست مان لیا وہ تاریخی گدھے ہیں اور دُنیا جانتی ہے کہ ایک بُوٹ دماغ گدھا مکے کا حاجی تو بن سکتا ہے بھُٹو کا جیالا نہیں رہ سکتا لہذا خس کم جہاں پاک۔۔

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • فوج پر تنقید : پاکستان کے لیے خطرہ
  • عکس ھو سکتا ھوں
  • جاؤں گی اب نہ آپ کی
  • لمبا قصّہ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
خونی تھوک
پچھلی پوسٹ
پیاسی لڑکی، لمبے قد کا دولہا اور چوتھا صنعتی انقلاب

متعلقہ پوسٹس

یوں خبر کسے تھی میری تری مخبری سے پہلے

مئی 2, 2020

چراغ تلے خاموشی

دسمبر 22, 2024

ترے فقیر کا تیور

مارچ 4, 2025

شام کی بارش

مارچ 6, 2023

لگ رہا ہے اب اکیلے مجھ کو ڈر

ستمبر 19, 2020

ان صحبتوں میں آخر

مئی 21, 2024

جو سیر انجم و خورشید کا ارادہ کیا

ستمبر 25, 2023

گلشن امید کی بہار

جنوری 16, 2026

دین کو ابنِ علی نے

ستمبر 8, 2023

دل مرا سوچ کے اس بات کو ڈر جاتا ہے

جولائی 11, 2021

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز

اسلامی گوشہ

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

اردو شاعری

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

اگست 30, 2026

ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

تیسری ہندکو کانفرنس

اگست 24, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط

    اگست 30, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

سانسوں میں اک شور بپا ہے

مئی 18, 2020

آپریشن بنیان المرصوص

مئی 8, 2026

زندگی کے ساتھ سمجھوتہ کِیا

اگست 15, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں