خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریرپیاسی لڑکی، لمبے قد کا دولہا اور چوتھا صنعتی انقلاب
اردو تحاریراردو کالمزسید محمد زاہد

پیاسی لڑکی، لمبے قد کا دولہا اور چوتھا صنعتی انقلاب

سید محمد زاہد کا اردو کالم

از سائیٹ ایڈمن نومبر 23, 2019
از سائیٹ ایڈمن نومبر 23, 2019 0 تبصرے 482 مناظر
483

پیاسی لڑکی، لمبے قد کا دولہا اور چوتھا صنعتی انقلاب

بہت انوکھی لڑکی تھی وہ۔ باپ ملک کا مشہور باکسر، چھ فٹ پانچ انچ قد۔ رِنگ میں مخالف اس کی مار سے بے حال ہو جاتے تھے۔ اس کے مکے کوہساروں میں زلزلے کے جھٹکوں سے گرنے والے پتھروں کی طرح برستے تھے۔ رِنگ کے باہر اس کاشوق صرف جنس مخالف تک ہی محدود تھا۔ بھدے، چپٹے ناک اور موٹے ہونٹوں کے ساتھ بھی وہ اپنی جسامت اورحرکات و سکنات کی وجہ سے خواتین میں مقبول تھا۔ ان کی موجودگی میں اُس کے جذبات پہاڑی راستوں میں انہی پتھروں سے ٹکراکر اچھلنے والی ندی سے بھی زیادہ رواں ہوتے تھے۔ وہ اس میدان کا بھی شہ سوار تھا۔

ماں بھی کچھ کم نہ تھی، لان ٹینس کی کھلاڑی، کسرتی بدن کی مالک، جس کی پنڈلیاں اور بازو سٹیل کی پٹیوں سے بنے ہوے تھے۔ وہ اگر اکڑ کر کھڑی ہو جاتی تو باکسرکے برابر پہنچ جاتی تھی۔ ان دونوں کے ملاپ سے جو جوالا مکھی بھڑکی، اس سے وہ پیدا ہوئی۔

بہادر، طاقتور اور خوبصورت۔ مضبوط جسم کی جوان لڑکی، جس کا قد دونوں سے تھوڑا سا نکلتا ہوا۔ یونیورسٹی کے میدانوں میں مہو خرام ہوتی تو سوائے سرو کے پودوں کے کوئی چیز اس کے سر سے اونچی دکھائی نہیں دیتی تھی۔ پرندے اس کے اوپر سے گزرتے ہوے اپنا راستہ بدل لیتے کہ مبادہ وہ ہاتھ اٹھا کر انہیں پکڑ نہ لے۔ سکول میں تمام کھیلوں میں حصہ لیتی تھی۔ دوڑ میں دوسری لڑکیاں جہاں سو قدم اٹھا کر پہنچتیں وہ آدھے قدموں سے وہی فاصلہ طے کر لیتی تھی۔

یونیورسٹی پہنچ کر اسے کھیلوں سے نفرت ہو گئی اور اس نے گراؤنڈ میں جانابالکل چھوڑ دیا۔ اس کا زیادہ وقت کلاس رومز اور سہیلیوں کے ساتھ کینٹین پرگزرتا تھا۔ لڑکا جہاں بھی دیکھتی اس کی کوئی انوکھی رگ پھڑک اٹھتی اور اس کو نیچا دکھانے کی بھر پور کوشش کرتی۔ کلاس فیلوز، یونیورسٹی کے ملازم، کلرک، کوئی بھی اس کی ان حرکتوں سے بچ نہیں سکتاتھا۔ تمام طالب علم کینٹین بوائے کو چھوٹا کہہ کر پکارتے اور وہ ہمیشہ اسے ”او! ٹھگنے“ کہہ کر بلاتی تھی۔

یونیورسٹی میں پہلے ہی دن میری اوراس کی دوستی ہو گئی تھی۔ ایک دن مجھے کہنے لگی۔ ”آؤ کسی ٹی وی چینل چلتے ہیں اس میں جاب کریں گے۔ “ جب میں نے پو چھا کہ اس شعبہ میں ہی کیوں؟ تو کہنے لگی، ”سکول سے یونیورسٹی تک، کلاس روموں سے کھیلوں کے میدانوں تک میں جہاں بھی گئی، لوگوں میں گھل مل نہ سکی، ہر جگہ پر بونے ہی دیکھے۔ میں ان میں یوں لگتی تھی جیسے گدھوں میں زرافہ۔ سنا ہے کہ میڈیا میں لوگ اونچے لمبے قد کاٹھ اورکھلے ہاتھ پاؤں والے ہوتے ہیں۔ میں اس شعبہ میں جانا چاہتی ہوں جہاں میں اپنے آپ کو کسی اور سیارے کی مخلوق محسوس نہ کروں۔ “

نیا ابھرتا ہوا چینل تھا۔ ہمیں فوراً ہی ڈرامہ کے شعبہ میں بھیج دیا گیا۔ پروڈیوسر رحمان مردانہ وجاہت کا نمونہ تھا۔ ارباب نشاط سے بھرا ہوا اس کا کمرہ راجہ اندر کا اکھاڑہ ہی لگتا تھا۔ اس کے گرد حسیناؤں کا جمگھٹا لگا رہتا۔ خوبرو ماڈل اس کے آگے بچھ بچھ جاتی تھیں۔ اس نے اپنے پاس بٹھایا تفصیلی انٹر ویو لیا۔ اسے کہنے لگا، ”میں تم پر ایک ڈرامہ بناؤں گا اور اس کی ہیروئین تم بنوگی۔ “ پہلی مرتبہ میں نے اسے کسی مرد کے سامنے تھوڑا ججھکتے ہوئے دیکھا۔ واپسی پر میں نے پوچھا، ”آج کیا ہو گیا تھا؟ “

کہنے لگی، ”وہ مجھ پر لائن مار رہا تھا۔ میں سوچ رہی تھی، ابھی جواب دوں؟ “

اس کے بعدبھی وہ کئی دن اس کے کمرے میں جاتی رہی۔ اس کے دو ہی ٹھکانے تھے ایک اس کا کمرہ اور دوسرا کمپیوٹر سیکشن۔ کمپیوٹر سیکشن میں ایک چھوٹے دبلے پتلے سے لڑکے گل ریز کا ٹیبل اس کی مستقل آماج گاہ تھا۔ اس لڑکے میں پتا نہیں اسے کیا بات پسند آگئی تھی کہ ہمیشہ اس کی تعریفیں کرتی رہتی۔ ”بہت محنتی ہے۔ انتہائی ذہین ہے۔ جو بھی اس کو کام کہیں ضرور کرتا ہے۔ “ گل ریزکا چینل کے دفتر کے ساتھ ہی بہت بڑا گھر تھا۔ اس نے وہیں کمپیوٹر ورکشاپ بنائی ہوئی تھی اور وہ اس میں کچھ کمرے ملازمین کوکرائے پر بھی دیتا تھا۔ کچھ دنوں کے بعدوہ اس کے پاس ہی منتقل ہو گئی۔

عہد ہ، طاقت اور حسن مردوں کو مغرور بنا دیتے ہیں۔ اور اگر اردگرد حسین بت جمع ہوں تو ایسا انسان اپنے آپ کو خدا سمجھنا شروع کر دیتا ہے۔ رحمان بھی اپنے بارے میں کچھ ایسی ہی غلط فہمی کا شکار تھا۔ ایک دن کہنے لگا میں ہیرو، ہیروئینیں بناتاہوں اور میں انہیں تباہ بھی کر دیتاہوں۔ بنانا اور مٹانا میرے اختیار میں ہے۔ وہ اس کی طرف راغب ہو رہی تھی اگر چہ وہ عمر میں اس سے پندرہ سال بڑا اور قد میں تقریباً اتنے انچ ہی چھوٹا تھا۔

لیکن رحمان نے اس میدان میں اپنے جو ہر آزمائے تھے جہاں صنم خود ہی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اسے نہیں پتا تھا کہ وہ بھی انتہائی مغرور اورخود سر لڑکی ہے۔ ایک دن وہ انتہائی غصے میں اس کے کمرے سے باہر آئی اور سیدھی اپنی گاڑٰی میں جا کر بیٹھ گئی۔ میں اس کے پیچھے بھاگتی ہوئی گئی۔ پو چھا کیا ہوا؟ کہنے لگی، ”وہ ٹھگنا، بڑا ہیرو بنا پھرتا تھا۔ کہتا تھا میں بہت بڑا بت شکن ہوں۔ چھوٹے چھوٹے مندرگراکر کے بڑافاتح بنا پھرتا تھا۔ اسے معلوم نہیں تھا کہ غزنی کے محمود نے بھی بامیان کے اونچے پہاڑوں میں ایستادہ لمبے بت توڑنے کی ہمت نہیں کی تھی وہ بھی ہندوستان کے میدانوں میں آسان اہداف کو نشانہ بناتا رہا تھا۔ “

کہنے لگی، ”میری قسمت ہی ایسی ہے میں تو جس جام کو بھی پینے کے لئے ہاتھ میں لیتی ہو ں وہ ہونٹوں تک پہنچنے سے پہلے ہی چھلک چھلک کر خالی ہو جاتا ہے۔ نیا پیالہ اٹھاتی ہوں، اس کو بھرنے کے لئے کوئی ساقی میری طرف آتا ہے توسبو اس کے ہاتھ سے گر جاتا ہے۔ اب تو میں سو چتی ہو ں کہ تمام پیمانے پاؤں کی ٹھوکر سے خود ہی توڑ دوں اور مٹکے کو ہی اٹھا کر منہ سے لگا لوں۔ گھٹا گھٹ پیتی جاؤں، نشہ چڑھتا جائے، مستی بڑھتی جائے اورگھڑا کبھی ختم نہ ہو۔

پتا نہیں وہِ ٹھِلیاکہاں ہے جو مجھے بھی وصل کی لذتوں سے آشنا کر دے گا؟ لیکن میری بات یاد رکھنا اگر وہ پاتال میں بھی دبا کررکھا گیا ہو ا تو میرے بازو اتنے لمبے ہیں کہ میں اسے وہاں سے بھی باہر کھینچ لوں گی۔ اب میں اپنی تقدیر خود لکھوں گی۔ روایت شکن بنوں گی، تمام حدود توڑدوں گی اور میرا نصیب ضرور بخت ور ہوگا۔ ”

میری شادی ہو گئی اور میں دوسرے شہر چلی گئی۔

کچھ دیر کے بعد چینل کے دفتر جانا ہواتو گل ریز کے پاس گئی اس کے بارے میں پوچھا۔ کہنے لگا، ”آج کل چھٹیوں پر ہے گھر آکر خود ہی مل لینا۔ “

دوسرے ملازمین سے اس کے بارے میں پوچھا۔ طرح طرح کی باتیں سننے کو ملیں لیکن کسی کو بھی صحیح علم نہیں تھا۔ لب لباب یہ تھا کہ شاید اس نے شادی کر لی ہے۔ کسی کو بھی نہیں بلایا۔ کچھ دوستوں نے اسے کئی جگہ پر ایک لڑکے کے ساتھ دیکھا ہے۔ اونچا لمبا، گورا چٹا، پاکستانی نہیں لگتا۔ نین نقش مشرق بعید کے لوگوں جیسے ہیں لیکن قد افریقی ممالک کے لوگوں سے بھی زیادہ ہے۔

میرا تجسس بڑھتا جا رہا تھا۔ شام کو میں گل ریز کے گھر چلی گئی۔ پوچھا کہاں ہے؟ کہنے لگا تین دن سے اپنے کمرے میں بند ہے۔ میں تو اسے نہیں بلا سکتا تم دروازے پر دستک دے لو۔ میں نے فون کرنا مناسب سمجھا۔ جواب ملا آرہی ہوں۔ تقریباً آدھے گھنٹے کے بعد باہر آئی۔ بڑے جوش سے ملی۔ میں نے پو چھا، ”کہاں سے ملا؟ “

بولی، ”میں نہ کہتی تھی کہ میں اپنا بر ڈھونڈ ہی لوں گی۔ دنیا کی مجھے کوئی پرواہ نہیں۔ جب انہیں میری بھوک پیاس کی فکر نہیں تو میں بھی اپنا راستہ خود اپناؤں گی۔ دیکھ لو میں نے اپنے سے لمبے قد کا ساتھی پا ہی لیا۔ میں نے کہا تھا نا کہ میں اسے پاتال سے بھی نکال لاؤں گی۔ “

”آؤ۔ چلیں، کہیں بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں۔ “

ہم باہر کی طرف چل پڑے۔ چلتے چلتے کہنے لگی، ”گل ریز، ذرا سے دیکھ لینا۔ وہ اندر ہی ہے میں نے اسے چارجنگ پر لگا دیا ہے۔ اور اس کی کمپنی کو میل کر کے پو چھو کہ اس کا بیٹری ٹائم کیسے بڑھایا جا سکتا ہے؟ “

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • احساس محبت
  • رات کی مسافر
  • کفن میں ایک سو ایک سال
  • مادی و معنوی ترقی و کمال
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
زرداری صاحب کیخلاف مقدمہ
پچھلی پوسٹ
لگتا نہیں ہے جی مرا اُجڑے دیار میں​

متعلقہ پوسٹس

جدید دور میں اردو زبان کی اہمیت

ستمبر 15, 2025

اوور کوٹ

دسمبر 6, 2019

فیڈ آؤٹ فیڈاِن

جنوری 2, 2022

غیر آئینی بندوبست اور عوامی احتجاج

فروری 21, 2023

آزادی کے نعروں میں چھپی قانون شکنی

جنوری 25, 2026

ماٶں کی عالمی دن پر چند سطریں

جون 18, 2021

شہزاد نیر ایک آفاقی شاعر

جنوری 21, 2020

دنیا میں کچھ لوگ

دسمبر 2, 2025

میر صاحب کا زندہ عجائب گھر

مئی 27, 2024

جسوندر سنگھ بھلا کی یاد میں

اگست 22, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

شہزاد نیر ایک آفاقی شاعر

جنوری 21, 2020

کثیف روحیں

جنوری 30, 2021

عید مبارک

مارچ 21, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں