خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو بابااے تھاوزنڈ سپلینڈڈ سنز
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزتحقیق و تنقیدسیمیں کرن

اے تھاوزنڈ سپلینڈڈ سنز

از سائیٹ ایڈمن نومبر 29, 2020
از سائیٹ ایڈمن نومبر 29, 2020 0 تبصرے 60 مناظر
61

خالد حسینی کا ناول: اے تھاوزنڈ سپلینڈڈ سنز

آج زیر مطالعہ ناول کانام ہے ’‘ A Thousand Splendid Suns ”جس کے مصنف ہیں خالد حسینی۔ یہ وہی خالد حسینی ہیں جو اس سے پہلے دی ’‘ کائٹ رنر“ جیسا معروف ناول دے چکے ہیں۔ ان کا تعلق افغانستان سے ہے۔ خالد حسینی ایک ڈاکٹر ہیں جو اپنی بیوی اور دو بچوں کے ساتھ شمالی کیلفورنیا میں رہتے ہیں وہ 1965ء میں کابل میں پیدا ہوئے ان کے والد ایک ڈپلو میٹ تھے اور ماں فارسی اور تاریخ پڑھاتی تھیں، 1979 ء میں روسی حملے کے ایک سال بعد یہ خاندان امریکہ میں سیاسی پناہ لینے میں کامیاب ہو گیا اور یہ لوگ افغانستان سے امریکہ منتقل ہوگئے۔ خالد حسینی نے ناول کا انتساب یوں لکھا ہے ’‘یہ کتاب حارث اور فرح کے نام جو میری آنکھوں کا نور ہیں اور افعانستان کی عورت کے نام”

درحقیقت یہ ناول افغانستان کی دو عورتوں مریم جوؔ اور لیلی کیؔ سوچ، مزاج اور حالات کی عکاس ہے اوریہاں کہانی اس خوبی سے بیان کی گئی ہے کہ ناول کے آخر تک دلچسپی قائم رہتی ہے۔

ناول کا آغاز اس جملے سے ہوتا ہے ’‘ مریم پانچ برس کی تھی جب اس نے پہلی بار لفظ حرامی سنا۔ ”

جی ہاں مریم جو جلیل کی ناجائز اولاد ہے اور جو ہفتے میں ایک بار ہی اپنے باپ سے ملتی ہے اور اس روز وہ اس کے ساتھ فشنگ پہ جاتی ہے جلیل اس کے لئے مختلف تحائف لے کر آتا ہے جس کی بنا پہ کمسن مریم یہ سمجھتی ہے کہ وہ باپ کی پسندیدہ ہے جبکہ اس کی ماں ناؔنا اسے ہمیشہ حرامی کہ کر پکارتی ہے اور یہ بتاتی ہے کہ وہ دونوں اس کے باپ اور اس کی دونوں بیویوں کے لیے ناقابل قبول اور انتہائی غیر اہم ہیں۔

یہ اقتباس ملاحظہ کیجیے ’‘ اس وقت مریم نہیں سمجھی، وہ نہیں جانتی تھی کہ اس لفظ حرامی۔ ۔ ۔ باسٹرڈ۔ ۔ ۔ کا کیا مطلب ہے۔ نہ ہی اس کی عمر اتنی تھی کہ وہ اس نا انصافی کو سمجھ سکتی کہ یہ دراصل حرامی بچوں کے پیدا کرنے والے ہیں جو قابل احتساب ہیں نہ کہ حرامی جن کا گناہ صرف پیدا ہونا ہے۔ ”

مریم جوؔ نے زندگی کے ابتدائی آیام اپنی والدہ ناناؔ کے ساتھ ہرات سے کچھ فاصلے پر ایک ٹیلے پہ ایک کولباؔمیں گزارے۔ جہاں اس کی ماں نے اسے ہمیشہ بتایا کہ اس کا باپ اس سے جھوٹ بولتا ہے وہ ہمیں دھوکہ دیتا ہے وہ ہمیں کبھی قبول نہ کرے گا مگر مریم جو ؔنے اس حقیقت کوکبھی قبول نہ کیا تھا ایک دن مریم جو ؔ باپ کے گھر ہرات جانے کا فیصلہ کرلیتی ہے جو کہ اس کی زندگی کا رخ بدل دیتا ہے اس کو وہاں بدترین استقبال کا سامنا کرنا پڑتا ہے باپ ملنے سے انکار کردیتا ہے اور ناناؔ اس کے کھو جانے کے صدمے میں گلے میں رسہ ڈال کر خودکشی کرلیتی ہے اور یہ اس کی زندگی کا بدترین موڑ ہے جہاں جلیل کی بیویاں اس کی شادی اس سے عمرمیں کئی گنا بڑے مرد رشید، کہ جس کا تعلق کابل سے ہے، کردیتی ہیں۔

یہاں شمالی افغانستان اور جنوبی افعانستان کے لسانی فرق کو بڑی خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے۔ یہاں مریم جوؔ، مریم جانؔ کہلاتی ہے، مریم کئی دفعہ حاملہ ہوئی مگرہر دفعہ اس کا حمل ضائع ہوگیا یہ عمل رشید کے رویے کو اس کے لیے بدتر کرتا گیاجس کے نتیجے میں اسے شدید گھر یلو تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ جب اس کی شادی ہوئی وہ بہت کمسن لڑکی تھی اور رشید ایک ادھیڑ عمر مرد تھا۔

ناول کا دوسرا کردار لیلی ؔہے جو مریم جو ؔکے پڑوس میں رہتی ہے، جو ایک کمسن بچی کے طور پہ ناول میں ظاہر ہوتی ہے ایک پڑھے لکھے والدین کی اولاد جنھوں نے سوویت افغان جنگ میں اپنے دو بیٹے کھو دیے تھے جو وادیٔ پنج شیر سے کابل آئے تھے۔ جن کی ہمدردیاں شمالی اتحاد کے ساتھ تھیں۔ لیلی کا باپ ایک روشن خیال مرد تھا اور لیلی کی پرورش اچھے ماحول میں ہوئی۔ طارق اس کے بچپن کا دوست تھا جس سے اوائل عمری سے وہ محبت کرتی آئی تھی۔

ناول یہاں ایک موڑ لیتا ہے جب طالبان کابل پہ قابض ہوتے ہیں جس میں لیلی کا گھر سمیت اس کی ماں اور باپ سب کچھ ختم ہوجاتا ہے۔ اس کے بھائی اس سے پہلے ہی جنگ میں مارے جا چکے ہیں۔ یہ وہ موڑ وہ ہے جو افغانستان کے ہر تیسرے بچے کا مقدر بنا۔ یہ جنگ کی ہولناکیاں ہیں جو ان سے ان کے گھر اور ان کے پیارے، ماں، باپ سب کچھ چھین لے جاتے ہیں۔ ایک نوجوان لڑکی جو انتہائی خوبصورت بھی ہے اور کم سن بھی، کابل جیسے شہرمیں تنہا ہے۔

حالات کی ستم ظریفی اسے رشید کے نکاح میں لے آتی ہے۔ وہاں مریم جو اور لیلی کی پہلے چپقلش اور پھر لیلی کے گھر ایک لڑکی عزیزہ کی پیدائش کے بعد رشید کی لاتعلقی اور پھر بدترین تشدد مریم اور لیلی کے درمیان محبت کا ایک ایسا تعلق قائم کردیتا ہے جیسا ماں اور بیٹی کے درمیان ہی ممکن ہے۔ مریم اور لیلی کی محبت لازوال کہانیاں جنم دیتی ہے۔ عزیزہ جو مریم جو کی طرح ایک حرامی اولاد ہے جو طارق اور لیلی کی بیٹی ہے، طارق جو جنگ کی ہولناکیوں کا شکار ہوکر گم ہو چکا ہے۔

پھر حالات کا اس موڑ پہ آجانا کہ لیلی اور مریم جو اپنی جان بچانے کی خاطر رشید کا قتل کر بیٹھتی ہیں اور مریم کا لیلی کو بچانے کی خاطر الزام اپنے سر لے کر موت کو گلے لگالینا مریم کو کردار کی بلندی پہ لے جاتے ہیں۔ ایک ایسی عورت جو تمام عمر محروم محبت رہی اس کا محبت کی ایسی لازوال داستان رقم کر جانا یقیناً غیر معمولی عمل ہے۔ لیلی کو طارق مل جاتا ہے مگر اس حالت میں کہ وہ اپنی ایک ٹانگ کھو چکا ہے ان کا مہاجر بن کر پاکستان میں کوہ مری کے مضافات میں قیام پذیر رہنا اور پھر کابل واپسی۔ ۔ ۔ یہ کہانی کابل واسیوں کے ہاں جانے کتنے بے شمار خاندانوں کا مقدر ہے، جنھوں نے جنگ میں ہجرت کے کرب سہے، اپنے خاندان اور عزیز و اقارب لٹائے۔

ناول کے آخری صفحے سے ایک اقتباس دیکھیے ’‘ جب وہ کابل واپس آئے لیلیؔ کے لیے یہ انتہائی تکلیف دہ تھا کہ وہ نہیں جانتی تھی کہ مریم کو طالبان نے کہاں دفن کیا تھا۔ اس کی خواہش تھی کہ وہ مریم کی قبر پہ جائے کچھ دیر وہاں بیٹھے اور وہاں ایک دو پھول رکھ آئے مگر پھر لیلی نے محسوس کیا اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ مریم اس سے کبھی دور نہیں رہی۔ وہ یہاں ہے، ان دیواروں میں جنھیں انہوں نے ری پینٹ کیا، ان درختوں میں ہے جو انہوں نے مل کر لگائے، ان کمبلوں میں ہے جو بچوں کو گرم رکھتے ہیں۔ وہ ان تکیوں، کتابوں اور پنسلوں میں ہے۔ وہ بچوں کی ہنسی میں ہے، وہ عزیزہ کی آیتوں میں ہے جن کی وہ تلاوت کرتی ہے اوروہ ان دعاؤں میں ہے جو وہ قبلہ کی طرف جھک کر زیر لب پڑھتی ہے۔ اس سے بڑھ کر مریم لیلی کے دل میں ہے جہاں وہ ہزاروں سورجوں کی روشنی کی طرح چمک رہی ہے ”

خالد حسینی کہتے ہیں ’‘ میں امید کرتا ہوں ناول آ پ کو مجبور کردے گا کہ آپ افغان عورت کے لیے محبت اور ہمدردی محسوس کریں جس کی مصیبتیں دنیا کی حالیہ تاریخ میں بہت کم گروہوں سے مماثلت رکھتی ہیں۔ ”

ناول اس لائق ہے کہ ترجمہ ہوکر اردو قارئین تک بھی پہنچے۔

سیمیں کرن

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • روغن چراغ کا نہ فتیلہ چراغ کا
  • ذرا سی چھاؤں میسر ہے تھوڑا دَم لے لوں
  • جتنا بھی ہو گہرا پیار سہیلی سے
  • چترال کی شدید برفباری
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
سلویا پلاتھ کے ناول ’دی بیل جار‘ کا ایک جائزہ
پچھلی پوسٹ
نالۂ شب گیر: ایک ضروری مکالمہ عورتوں کے تعلق سے

متعلقہ پوسٹس

یہ تماشائے رنگ و بُو بھی مجھے

جون 13, 2020

یک طرفہ محبت

جنوری 5, 2022

یہ کس کہانی کا کردار ہو گیا ہوں میں

اگست 23, 2020

جشن کا سماں

ستمبر 5, 2025

پہاڑی ایسے سڑک سے لپٹ چکی ہو گی

جون 8, 2020

ایں دفتر بے معنی

جنوری 3, 2020

ذکر میرا تو خیالات سے پہلے بھی تھا

جولائی 28, 2020

صحت سب کے لیے

جنوری 23, 2020

نئے سال کے تقاضے اور کامیابی کی حکمت عملی

دسمبر 30, 2025

یوں خبر کسے تھی میری تری مخبری سے پہلے

مئی 2, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • سحر بونیرے on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • سید مسعود فیروزی on اردو افسانہ نقشِ تنقید
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل

اسلامی گوشہ

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

سلام اُن حیدرِ کرار کے

جون 21, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

باطل نصیریوں کا عقیدہ ذرا نہ ہو

جون 18, 2026

محرم الحرام کی پہلی تاریخ

جون 17, 2026

اردو شاعری

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے...

جون 29, 2026

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جون 29, 2026

جو اپنے یار سے درخواست کرنا

جون 29, 2026

حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

جون 29, 2026

جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

جون 29, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

جون 29, 2026

مرغوں کا عالمی ڈربا اور استعماریت کا دانہ

جون 26, 2026

خوش مزاجی اور حضور ﷺ

جون 22, 2026

اپنے نفس سے ہمیشہ خبردار رہنا سیکھیں

جون 19, 2026

محرم الحرام

جون 18, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

    جون 29, 2026
  • مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

    جون 29, 2026
  • وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

    جون 29, 2026
  • جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    جون 29, 2026
  • حدیثِ مہر و محبت میں شعر ہوتا ہے

    جون 29, 2026
  • جو اچھے ہوں وہ پہلی ہی نظر میں

    جون 29, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

امریکی موسیقار روڈ رگس

دسمبر 16, 2020

گلوبل وارمنگ اور آج کی ماں

مئی 19, 2019

پاکستان میں دہشت گردی کا ابھار

فروری 7, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں