450
یوں خبر کسے تھی میری تری مخبری سے پہلے
میں مسرتوں میں گم تھا تری دوستی سے پہلے
ترے حسن نے جگایا میرے عشق بے بہا کو
تری جستجو کہاں تھی مجھے شاعری سے پہلے
تو شریک زندگی ہے میں ہوں غم گسار تیرا
تیرا غم رہا ہے شامل میری ہر خوشی سے پہلے
دے اگر مجھے اجازت جو مرا ضمیر مجھ کو
میں تجھے خدا بنا لوں تری بندگی سے پہلے
ترے حسن کی کہانی مرے عشق کا فسانہ
بہت عام ہو چکا ہے غم عاشقی سے پہلے
تجھے رہنما بنا کر مجھے مل گئی ہے منزل
میں بہت بھٹک رہا تھا تری رہبری سے پہلے
کہو میر کارواں سے مجھے اس طرح نہ دیکھے
میں بڑا فراخ دل تھا کبھی دل لگی سے پہلے
یہ متاع رنج و غم اور شب ہجر کا یہ عالمؔ
تھا کہاں مرا مقدر تری بے رخی سے پہلے
افروز عالم
