109
جو شجر دیتا تھا سایہ وہ شجر کٹنے لگا
آج دنیا سے مرے دل کا نگر کٹنے لگا
ہے جدا ئی کا یہ موسم کس قدر مجھ پہ گراں
اب مجھے محسوس ہوتا ہے جگر کٹنے لگا
پہلے ملتا تھا سکوں اْس سایہئ دیوار سے
اوراب دیوار کے سائے سے سر کٹنے لگا
میری آنکھوں میں یہ دنیا ہوگئی معدوم کیا
رفتہ رفتہ اْن کی یادوں کا اثر کٹنے لگا
دوستو! اس شہر میں جیسے کوئی اپنا نہیں
کیا مصیبت ہے کہ مجھ سے ہر بشر کٹنے لگا
اُڑ کے اب کوئی پرندہ شاخ پر آتا نہیں
جیسے ہر شاخِ شجر سے اُس کا پَر کٹنے لگا
چاند بھی شیدائی ہے اے سوزؔ میرے چاند کا
یہ خوشی ہے کہ محبت کا سفر کٹنے لگا
محمد علی سوزؔ
