خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباڈوبتا پاکستان 
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزایم اے دوشی

ڈوبتا پاکستان 

از سائیٹ ایڈمن اگست 31, 2025
از سائیٹ ایڈمن اگست 31, 2025 0 تبصرے 119 مناظر
120

کبھی کبھار انسان اپنی زندگی کو اس قدر عیش و عشرت میں ڈبو لیتا ہے کہ اسے یہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ اس کے اردگرد کون سی آفت بسی ہوئی ہے۔ وقت کی دوڑ، ذاتی مصروفیات اور کاروباری الجھنیں اسے اس طرح جکڑ لیتی ہیں کہ وہ اپنی ہی دائرۂ حیات میں محدود ہو کر رہ جاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اسے یہ خبر تک نہیں رہتی کہ اس کا پڑوسی کس حال میں ہے، اس کا دوست کس کرب سے گزر رہا ہے اور اس کا حلقۂ احباب کن مسائل میں الجھا ہوا ہے۔ کچھ لوگ زندگی کی رنگینیوں کے پیچھے بھاگتے ہوئے یہ تک بھول جاتے ہیں کہ ان کے گرد و نواح کے افراد بھی مشکلات میں سانس لے رہے ہیں۔ یوں ایک ایسا حصار وجود میں آتا ہے جس کے اندر تو روشنی ہے لیکن باہر اندھیروں کی لپٹیں ہیں۔

انسان جب رونقوں میں مگن رہتا ہے تو رفتہ رفتہ یہ بھولنے لگتا ہے کہ اس کے اردگرد کے لوگ کس اذیت میں ہیں۔ اگر وہ کسی ایسے پوش علاقے کا رہائشی ہے جہاں قریبی ہمسائے خوشحال دکھائی دیتے ہیں، تو یہ منظر اس کے ذہن پر ایک دھوکہ طاری کر دیتا ہے۔ اسے لگتا ہے گویا معاشرے میں ہر طرف آسودگی ہے، جیسے بھوک اور افلاس اب زمین سے رخصت ہو چکے ہوں۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ سماج کے دوسرے گوشوں میں آج بھی غربت، بے روزگاری اور بھوک اپنی پوری شدت کے ساتھ موجود ہیں۔ وہاں لوگ ایک نوالے کو ترستے ہیں اور خوشحالی کا سایہ بھی میسر نہیں۔

پاکستان میں حالیہ بارشوں نے ایسی تباہی مچائی ہے جو ملک کی تاریخ میں شاذ و نادر ہی دیکھی گئی ہو۔ جس سمت بھی نظر دوڑائیں، پانی بستیاں بہا لے گیا، کھیت اجاڑ گیا اور زندگیاں نگل گیا۔ یہ قدرتی آفت اپنے پیچھے صرف مٹی اور ملبہ نہیں چھوڑ گئی بلکہ ہمارے معاشرتی ڈھانچے کی کمزوری بھی بے نقاب کر گئی۔ ہم چونکہ اکثریت میں مسلمان ہیں، اس لیے ہر افتاد کو محض اللہ کی مشیت کہہ کر ٹال دیتے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ سانحہ ہمارے اپنے نظام کی کوتاہیوں کا آئینہ دار ہے۔ حکمران طبقے کی نااہلی، ناقص منصوبہ بندی اور بے حسی نے عوام کو مزید اذیت میں دھکیل دیا ہے۔ لوگ برسوں سے ٹیکس اور ووٹ دیتے ہیں، مگر بدلے میں صرف وعدے اور تقریریں پاتے ہیں۔ یہ بارشیں زمین پر گرتے ہی ایک سوالیہ نشان بن گئیں: آخر کب تک ہم اپنے ہی سیاسی سیٹ اپ کی نالائقیوں کا خمیازہ بھگتتے رہیں گے؟

اگر حالیہ بارشوں اور سیلابوں کو تاریخ کے آئینے میں دیکھیں تو یہ سب سے بڑی تباہ کاریوں میں شمار ہوں گے۔ لاہور کی مثال لیں تو پارک ویو سٹی ایک ایسا شاہکار ہے جو بظاہر دولت اور ترقی کا مظہر ہے، مگر اپنی جگہ غیر قانونی تجاوزات اور بے اصولیوں کی علامت بھی ہے۔ یہ سوسائٹی ندی نالے اور پانی کے قدرتی راستوں پر تعمیر کی گئی۔ 2008 میں قومی اسمبلی کے اجلاس میں بتایا گیا تھا کہ اسلام آباد اور راولپنڈی میں ایک سو پانچ ہاؤسنگ سوسائٹیاں غیر قانونی ہیں، لیکن اس کے باوجود نہ کوئی عملی اقدام ہوا نہ کوئی پالیسی بنی۔ آج محتاط اندازے کے مطابق پورے ملک میں پانچ ہزار سے زائد غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیاں موجود ہیں، جن میں سے بیشتر پانی کے قدرتی راستوں پر تعمیر کی گئیں۔ یہی وہ بنیادی وجہ ہے جس نے بارشوں کے پانی کو راستہ نہ دیا اور بستیاں ڈوب گئیں، زندگیاں اجڑ گئیں۔

قرآن و حدیث کے آئینے میں بھی یہ حقیقت بالکل واضح ہے۔ اسلام نے حکم دیا ہے کہ کسی کا راستہ روکا نہیں جا سکتا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "مسلمانوں کے لیے پانی، آگ اور چراگاہ مشترکہ ہیں۔” ایک اور روایت میں ہے کہ اگر ندی کے کنارے بھی وضو کر رہے ہو تو پانی ضائع نہ کرو۔ شریعت نے راستوں کے حقوق کی ادائیگی پر زور دیا ہے، مگر ہمارے ہاں انہی گزرگاہوں پر سوسائٹیاں تعمیر کر دی گئیں۔ یوں ریاست نے نہ صرف قانونی بلکہ شرعی احکام کی بھی کھلم کھلا خلاف ورزی کی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پارک ویو سٹی اور اس جیسی دیگر کئی سوسائٹیوں کے باعث ہزاروں لوگ متاثر ہوئے۔ سینکڑوں کو ہجرت کرنا پڑی، گھروں کی چھتیں ڈوب گئیں۔ یہ سانحہ صرف تعمیرات کا نہیں بلکہ انسانی ضمیر کی شکست کا بھی ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ ہم کیا کریں؟ اسباب اور مسائل سب واضح ہیں، لیکن اصلاح تبھی ممکن ہے جب ریاست غیر قانونی سوسائٹیوں کے خلاف سخت اور عملی اقدام کرے۔ قانون سازی کو محض کاغذوں سے نکال کر عمل میں لانا ہوگا۔ عوام کو بھی اپنی زمین اور ماحول کے حقوق پہچاننے ہوں گے۔ ترقی کا مطلب صرف بلند و بالا عمارتیں نہیں بلکہ فطرت کے راستوں کو بچانا بھی ہے۔ حکمرانوں کو چاہیے کہ محض امدادی اعلانات کے بجائے نکاسیٔ آب کے نظام کو بہتر بنائیں، ندی نالوں کو دوبارہ زندہ کریں اور تعمیرات کو قانون و شریعت کے مطابق پرکھیں۔

فیصلہ اب ہمارے ہاتھ میں ہے: کیا ہم آنے والی نسلوں کے لیے زمین اور فطرت کو محفوظ بنائیں گے یا اپنی غفلت کے باعث ان کے مستقبل کو بھی ڈبو دیں گے؟ یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ ہم اپنے ماضی سے سبق سیکھ کر مستقبل کو محفوظ بنائیں یا پھر آنے والی نسلوں کے لیے تباہی ہی ورثے میں چھوڑ جائیں۔

ایم اے دوشی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  •  لالہ جی​
  • موچنا
  • اب بس اس کے دل کے اندر داخل ہونا باقی ہے
  • سورہ الکوثر (منظوم ترجمہ)
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
پنجاب اُجڑ گیا
پچھلی پوسٹ
منٹو – ادبی قصے

متعلقہ پوسٹس

میٹھی سی چاندنی ہے

نومبر 14, 2025

پناہ چاہتے ہیں سیلاب سے

ستمبر 17, 2022

بریدہ سر تھے مرے خواب

نومبر 17, 2025

کِسی نے ہم سے کہا تھا گُلاب چھاپیں گے

نومبر 14, 2025

نیپال میں سیاسی بحران

ستمبر 10, 2025

آگہی آگ ہے

جنوری 10, 2021

محترمہ زیب النساء زیبی، نام ہے ایک عہد کا!

اگست 11, 2020

دنیا! ہالی وڈ کا اسٹوڈیو بن گئی ہے

اپریل 18, 2020

عرش بریں پرقیام اعلیٰ ہے

مارچ 5, 2020

یہی تو بات … گوارا نہیں محبت کو

مئی 28, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Ayesha khan on میری خوش فہمی تھی
  • Ayesha khan on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on جن کو دیدار میسر ہو ہر شام تیرا
  • سعیدہ on میری خوش فہمی تھی
  • صنم گل on مسدس نعتیہ نظم "مانگتا ہوں”

اسلامی گوشہ

زمیں کی بات کرتے ہیں

اکتوبر 11, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

ذکر محمد ﷺ

ستمبر 30, 2026

شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

ستمبر 26, 2026

مسدس نعت "معراجِ ثنا”

ستمبر 23, 2026

اردو شاعری

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ...

اکتوبر 11, 2026

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

اکتوبر 11, 2026

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

اکتوبر 11, 2026

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

اکتوبر 11, 2026

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے

اکتوبر 11, 2026

اردو افسانے

طاقت کا امتحان

ستمبر 27, 2026

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

اردو کالمز

مرد کے حصے کا ہجر

اکتوبر 11, 2026

مجھے وہاں جانا ہے

اکتوبر 10, 2026

شوقِ عبادت

اکتوبر 4, 2026

تاریخ کشی

اکتوبر 1, 2026

یہ اعزاز ہے ہماری مٹی کا

ستمبر 28, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا موبائل ایپ

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • زمیں کی بات کرتے ہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

    اکتوبر 11, 2026
  • مرد کے حصے کا ہجر

    اکتوبر 11, 2026
  • تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

    اکتوبر 11, 2026
  • میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی

    اکتوبر 11, 2026
  • یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ

    اکتوبر 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

سیاست نہیں ریاست بچاؤ

نومبر 20, 2025

بدلتے موسم

جون 22, 2025

سفید گھوڑا

مئی 7, 2023
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں