خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباڈوبتا پاکستان 
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزایم اے دوشی

ڈوبتا پاکستان 

از سائیٹ ایڈمن اگست 31, 2025
از سائیٹ ایڈمن اگست 31, 2025 0 تبصرے 51 مناظر
52

کبھی کبھار انسان اپنی زندگی کو اس قدر عیش و عشرت میں ڈبو لیتا ہے کہ اسے یہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ اس کے اردگرد کون سی آفت بسی ہوئی ہے۔ وقت کی دوڑ، ذاتی مصروفیات اور کاروباری الجھنیں اسے اس طرح جکڑ لیتی ہیں کہ وہ اپنی ہی دائرۂ حیات میں محدود ہو کر رہ جاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اسے یہ خبر تک نہیں رہتی کہ اس کا پڑوسی کس حال میں ہے، اس کا دوست کس کرب سے گزر رہا ہے اور اس کا حلقۂ احباب کن مسائل میں الجھا ہوا ہے۔ کچھ لوگ زندگی کی رنگینیوں کے پیچھے بھاگتے ہوئے یہ تک بھول جاتے ہیں کہ ان کے گرد و نواح کے افراد بھی مشکلات میں سانس لے رہے ہیں۔ یوں ایک ایسا حصار وجود میں آتا ہے جس کے اندر تو روشنی ہے لیکن باہر اندھیروں کی لپٹیں ہیں۔

انسان جب رونقوں میں مگن رہتا ہے تو رفتہ رفتہ یہ بھولنے لگتا ہے کہ اس کے اردگرد کے لوگ کس اذیت میں ہیں۔ اگر وہ کسی ایسے پوش علاقے کا رہائشی ہے جہاں قریبی ہمسائے خوشحال دکھائی دیتے ہیں، تو یہ منظر اس کے ذہن پر ایک دھوکہ طاری کر دیتا ہے۔ اسے لگتا ہے گویا معاشرے میں ہر طرف آسودگی ہے، جیسے بھوک اور افلاس اب زمین سے رخصت ہو چکے ہوں۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ سماج کے دوسرے گوشوں میں آج بھی غربت، بے روزگاری اور بھوک اپنی پوری شدت کے ساتھ موجود ہیں۔ وہاں لوگ ایک نوالے کو ترستے ہیں اور خوشحالی کا سایہ بھی میسر نہیں۔

پاکستان میں حالیہ بارشوں نے ایسی تباہی مچائی ہے جو ملک کی تاریخ میں شاذ و نادر ہی دیکھی گئی ہو۔ جس سمت بھی نظر دوڑائیں، پانی بستیاں بہا لے گیا، کھیت اجاڑ گیا اور زندگیاں نگل گیا۔ یہ قدرتی آفت اپنے پیچھے صرف مٹی اور ملبہ نہیں چھوڑ گئی بلکہ ہمارے معاشرتی ڈھانچے کی کمزوری بھی بے نقاب کر گئی۔ ہم چونکہ اکثریت میں مسلمان ہیں، اس لیے ہر افتاد کو محض اللہ کی مشیت کہہ کر ٹال دیتے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ سانحہ ہمارے اپنے نظام کی کوتاہیوں کا آئینہ دار ہے۔ حکمران طبقے کی نااہلی، ناقص منصوبہ بندی اور بے حسی نے عوام کو مزید اذیت میں دھکیل دیا ہے۔ لوگ برسوں سے ٹیکس اور ووٹ دیتے ہیں، مگر بدلے میں صرف وعدے اور تقریریں پاتے ہیں۔ یہ بارشیں زمین پر گرتے ہی ایک سوالیہ نشان بن گئیں: آخر کب تک ہم اپنے ہی سیاسی سیٹ اپ کی نالائقیوں کا خمیازہ بھگتتے رہیں گے؟

اگر حالیہ بارشوں اور سیلابوں کو تاریخ کے آئینے میں دیکھیں تو یہ سب سے بڑی تباہ کاریوں میں شمار ہوں گے۔ لاہور کی مثال لیں تو پارک ویو سٹی ایک ایسا شاہکار ہے جو بظاہر دولت اور ترقی کا مظہر ہے، مگر اپنی جگہ غیر قانونی تجاوزات اور بے اصولیوں کی علامت بھی ہے۔ یہ سوسائٹی ندی نالے اور پانی کے قدرتی راستوں پر تعمیر کی گئی۔ 2008 میں قومی اسمبلی کے اجلاس میں بتایا گیا تھا کہ اسلام آباد اور راولپنڈی میں ایک سو پانچ ہاؤسنگ سوسائٹیاں غیر قانونی ہیں، لیکن اس کے باوجود نہ کوئی عملی اقدام ہوا نہ کوئی پالیسی بنی۔ آج محتاط اندازے کے مطابق پورے ملک میں پانچ ہزار سے زائد غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیاں موجود ہیں، جن میں سے بیشتر پانی کے قدرتی راستوں پر تعمیر کی گئیں۔ یہی وہ بنیادی وجہ ہے جس نے بارشوں کے پانی کو راستہ نہ دیا اور بستیاں ڈوب گئیں، زندگیاں اجڑ گئیں۔

قرآن و حدیث کے آئینے میں بھی یہ حقیقت بالکل واضح ہے۔ اسلام نے حکم دیا ہے کہ کسی کا راستہ روکا نہیں جا سکتا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "مسلمانوں کے لیے پانی، آگ اور چراگاہ مشترکہ ہیں۔” ایک اور روایت میں ہے کہ اگر ندی کے کنارے بھی وضو کر رہے ہو تو پانی ضائع نہ کرو۔ شریعت نے راستوں کے حقوق کی ادائیگی پر زور دیا ہے، مگر ہمارے ہاں انہی گزرگاہوں پر سوسائٹیاں تعمیر کر دی گئیں۔ یوں ریاست نے نہ صرف قانونی بلکہ شرعی احکام کی بھی کھلم کھلا خلاف ورزی کی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پارک ویو سٹی اور اس جیسی دیگر کئی سوسائٹیوں کے باعث ہزاروں لوگ متاثر ہوئے۔ سینکڑوں کو ہجرت کرنا پڑی، گھروں کی چھتیں ڈوب گئیں۔ یہ سانحہ صرف تعمیرات کا نہیں بلکہ انسانی ضمیر کی شکست کا بھی ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ ہم کیا کریں؟ اسباب اور مسائل سب واضح ہیں، لیکن اصلاح تبھی ممکن ہے جب ریاست غیر قانونی سوسائٹیوں کے خلاف سخت اور عملی اقدام کرے۔ قانون سازی کو محض کاغذوں سے نکال کر عمل میں لانا ہوگا۔ عوام کو بھی اپنی زمین اور ماحول کے حقوق پہچاننے ہوں گے۔ ترقی کا مطلب صرف بلند و بالا عمارتیں نہیں بلکہ فطرت کے راستوں کو بچانا بھی ہے۔ حکمرانوں کو چاہیے کہ محض امدادی اعلانات کے بجائے نکاسیٔ آب کے نظام کو بہتر بنائیں، ندی نالوں کو دوبارہ زندہ کریں اور تعمیرات کو قانون و شریعت کے مطابق پرکھیں۔

فیصلہ اب ہمارے ہاتھ میں ہے: کیا ہم آنے والی نسلوں کے لیے زمین اور فطرت کو محفوظ بنائیں گے یا اپنی غفلت کے باعث ان کے مستقبل کو بھی ڈبو دیں گے؟ یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ ہم اپنے ماضی سے سبق سیکھ کر مستقبل کو محفوظ بنائیں یا پھر آنے والی نسلوں کے لیے تباہی ہی ورثے میں چھوڑ جائیں۔

ایم اے دوشی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • چراغ حوصلہ رکھیں شباب آئے گا
  • ناگزیر
  •  جنگل کا قانون​
  • سہمے ہوئے تھے لوگ جو خطبوں کے وار سے
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
پنجاب اُجڑ گیا
پچھلی پوسٹ
منٹو – ادبی قصے

متعلقہ پوسٹس

"انسانیت سب سے بڑی عبادت ہے

ستمبر 22, 2025

گلابی سورج

فروری 16, 2020

آن لائن شاپنگ کی دراز رسی

اکتوبر 10, 2025

وہ آ کے لوٹ گیا ، کائنات ختم ہوئی

مئی 28, 2020

کبوتروں والا سائیں

فروری 6, 2020

چنگاریوں کا رقص

مئی 11, 2020

شاید سمجھ رہے ہیں ہمارا خدا نہیں

اکتوبر 10, 2025

جب سے تشنہ اُس دہلیز سے پلٹی ہیں

مئی 19, 2020

پہلو میں ترے رات گزاروں میں کسی دن

دسمبر 31, 2019

عدم ذات

جنوری 4, 2020

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

رب تعالیٰ پر بھروسہ

مئی 11, 2026

احتساب اور چھٹائی کا قدرتی عمل

مئی 3, 2026

چشمِ کرم سے مجھ کو بھی سرکارﷺ دیکھیے

مئی 1, 2026

اللہ کی محبت کے رنگ

اپریل 21, 2026

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

اردو شاعری

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی...

مئی 15, 2026

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

مئی 11, 2026

میں نے دیکھا جگ میں ایسا

مئی 11, 2026

ماں : رحمتوں کا سائباں

مئی 9, 2026

ہنسایا گر نہیں جاتا ، رلایا بھی نہیں...

مئی 8, 2026

اردو افسانے

کیوں کہ

مئی 3, 2026

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

اردو کالمز

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

مئی 18, 2026

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

مئی 17, 2026

کیا ہم بے وقوف ہیں؟

مئی 16, 2026

پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

مئی 15, 2026

پاکستان میں انگریزی کا تسلط کیوں برقرار ہے؟

مئی 14, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

    مئی 18, 2026
  • کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

    مئی 17, 2026
  • کیا ہم بے وقوف ہیں؟

    مئی 16, 2026
  • موبائل سے بڑھ کر کون

    مئی 16, 2026
  • پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟

    مئی 15, 2026
  • بیگمات کی پراسرار علالتیں اور ریسٹورنٹ سینڈروم

    مئی 15, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

کوئی میرے خوابوں سے

نومبر 9, 2025

کچہری بس سٹاپ

دسمبر 20, 2021

وہ بے بسی کہ جسم میں

نومبر 8, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں