439
ابھی روشنی حاملہ ہو رہی ہے
قسم ہے تمھارے توجہ بھرے جسم کی
میں ابھی ارتقائی مراحل میں ہوں
جب کبھی
جستجو کا شرارا بجھے گا
زمیں سے ملے گا
سمندر کا دوجا کنارا
اگر گرد بیٹھے تو پردہ اٹھاؤں
خدا کے بدن سے
سنبھالو ابھی کچھ برس اپنے بوسے
مرے ہونٹ
پیچھے کسی جھیل پر رہ گئے ہیں
ابھی وقت کم ہے
زمیں کاٹ لی ہے
فلک بانٹ کر
کچھ ستاروں کو مٹھی میں لینا ہے
دو چار جنگوں کی دوری پہ ہیں
وصل کی کائناتیں
ابھی روشنی حاملہ ہو رہی ہے
چراغوں کی لو اپنے سینے کی ڈھلوان میں
روک رکھو
میں زرا
یہ بقا کی پہاڑی اتر لوں
تو ملتا ہوں تم سے
منیر جعفری

1 تبصرہ
واہ. پیاری نظم ہے