479
کسی مجبور کی آنکھوں کے اندر دیکھ لیتا ہوں
میں آنکھیں بند کر کے بھی سمندر دیکھ لیتا ہوں
مجھے جب شاہ کے دربار میں جانے کی خواہش ہو
پھٹی پوشاک میں پھرتا قلندر دیکھ لیتا ہوں
مرے دشمن نے دونوں ہاتھ جو پیچھے چُھپائے ہیں
مگر میں پھر بھی اُس کے پاس خنجر دیکھ لیتا ہوں
میرا وجدان لگتا ہے کہ میرے ساتھ چلتا ہے
میں اپنا سایہ جب قد کے برابر دیکھ لیتا ہوں
میں جب گھر کی سہولت سے یوں ہی بے زار ہو جاؤں
تو جا کے اپنے ہمسائے کا چھپر دیکھ لیتا ہوں
مجھے لگتا ہے مٹی میں کسی نے زہر ڈالا ہے
میں جب اِس گاؤں کی دھرتی کو بنجر دیکھ لیتا ہوں
در و دیوار کی وحشت پریشاں جب کرے صابرؔ
میں اپنے کمرے کی کھڑکی سے باہر دیکھ لیتا ہوں
ایوب صابر
