446
سیاہ رات کا طے کر لیا سفر آدھا
ابھی حیات کا ہے بوجھ دوش پر آدھا
کسی اداس پرندے کا اس پہ مسکن تھا
بہار رت میں جو سوکھا رہا شجر آدھا
کوئی خوشی بھی ملی تو مجھے ادھوری ملی
فلک سے رزق بھی نازل ہوا مگر آدھا
فریبِ چشم ہے یا وسعتِ بصیرت ہے
ہر آدمی مجھے آنے لگا نظر آدھا
ابھی سے بام پہ کیوں برق یہ چمکتی ہے
ابھی تو میں نے بنایا ہے اپنا گھر آدھا
مرے قریب ہے اور میری دسترس میں نہیں
مری دعا کا ہوا ہے ابھی ا ثر آدھا
عزائی شب کے اندھیرے سے خوف آتا ہے
چراغ جلنے سے کم ہو گیا ہے ڈر آدھا
(اعجاز عزائی)
