106
تپش ہے کہ بڑھتی چلی جا رہی ہے
رگوں میں لہو کی بلاخیز رفتار کیسے سنبھالے
بھلا ایسی مشکل گھڑی کون ٹالے
بہت تیز جلتی ہوئی ایک ساعت
مری سانس جُھلسا رہی ہے
کٹیلی گھڑی شام سے
بھولے بسرے زمانوں کا اندھا بدن
میرے سینے پہ دھرتی چلی جا رہی ہے
مرا جسم بے معنی حرفوں تلے
پگھلے لاوے بھرا ایک پتھر
مسلسل مری جان دہکا رہا ہے
مرا دل مگر کن زمانوں کی
ٹھنڈک کی جانب
کھنچا جا رہا ہے
سپیدی بھری، آخری، نرم ٹھنڈک
اُدھر ایک کونے میں چکرا رہی ہے
تپش ہے کہ بڑھتی چلی جا رہی ہے
گلناز کوثر
