102
کسی کی یاد کا چہرہ
مرے ویران گھر کی ادھ کھلی کھڑ کی سے
جو مجھ کو بلاتا ہے
سمے کی آنکھ سے ٹوٹا ہوا تارا
جو اکثر رات کی پلکوں کے پیچھے جھلملاتا ہے
اُسے میں بھول جاؤں گی
ملائم کاسنی لمحہ
کہیں بیتے زمانوں سے نکل کر مسکراتا ہے
کوئی بھولا ہوا نغمہ فضا میں چپکے چپکے پھیل جاتا ہے
بہت دن سے کسی امید کا سایہ
کٹھن راہوں میں میرے ساتھ آتا ہے
اسے میں بھول جاؤں گی
پرانی ڈائری کی شوخ تحریروں میں
جو اِک نام باقی ہے
کسی منظر کی خوشبو میں رچی
جو راحتِ گمنام باقی ہے
ادھورے نقش کی تکمیل کا
جتنا بھی ، جو بھی کام باقی ہے
یہ جتنے دید کے لمحے
یہ جتنی شام باقی ہے
اسے میں بھول جاؤں گی
کسی کی یاد کا چہرہ
اسے میں بھول جاؤں گی
اسے میں بھول جاؤں گی
میں اکثر سوچتی تو ہوں
مگر وہ یاد کا چہرہ
مگر وہ ادھ کھلی کھڑکی
گلناز کوثر
