103
زندگی چار دن کی مہلت ہے
سب کو بس ایک جیسی عجلت ہے
آئیے ، بیٹھیے اور اب کہیے
آپ کو مجھ سے کیا شکایت ہے
وہ جو تُم سے گریز کرتے ہیں
یہ بھی اُن کی بڑی عنایت ہے
جھوٹ اور سچ ہیں دونوں جاں کا وبال
مصلحت میں بڑی سہولت ہے
مانیے یا نہ مانیے لیکن
آپ کو بھی مری ضرورت ہے
دل کی رگ رگ نچوڑ لیتا ہے
عشق میں یہ بڑی مصیبت ہے
کون آئے گا آپ کی خاطر
چھوڑیے ، کس کو اتنی فرصت ہے
خاور اُن سے بھی تو کہو اِک دن
ہاں مجھے آپ سے محبت ہے
ایوب خاور
