106
ان کی پلکوں پہ خواب کیا ٹھہریں
جن کی آنکھیں اداس رہتی ہوں
شادمانی کہاں سے آئے , جب
دل کی راہیں اداس رہتی ہوں
عین ممکن ہے روٹھ کر مجھ سے
اس کی بانہیں اداس رہتی ہوں
کون جانے کسی کی یادوں میں
سرد راتیں اداس رہتی ہوں
پھول کِھلتے نہیں کسی صورت
جب ہوائیں اداس رہتی ہوں
اس کی سنتا نہیں کوئی جس کی
داستانیں اداس رہتی ہوں
منزّہ سیّد
