522
گلوں کو چھو کے شمیم دعا نہیں آئی
کھلا ہوا تھا دریچہ صبا نہیں آئی
ہوائے دشت ابھی تو جنوں کا موسم تھا
کہاں تھے ہم تری آواز پا نہیں آئی
ابھی صحیفۂ جاں پر رقم بھی کیا ہوگا
ابھی تو یاد بھی بے ساختہ نہیں آئی
ہم اتنی دور کہاں تھے کہ پھر پلٹ نہ سکیں
سواد شہر سے کوئی صدا نہیں آئی
سنا ہے دل بھی نگر تھا رسا بسا بھی تھا
جلا تو آنچ بھی اہل وفا نہیں آئی
نہ جانے قافلے گزرے کہ ہے قیام ابھی
ابھی چراغ بجھانے ہوا نہیں آئی
بس ایک بار منایا تھا جشن محرومی
پھر اس کے بعد کوئی ابتلا نہیں آئی
ہتھیلیوں کے گلابوں سے خون رستا رہا
مگر وہ شوخیٔ رنگ حنا نہیں آئی
غیور دل سے نہ مانگی گئی مراد اداؔ
برسنے آپ ہی کالی گھٹا نہیں آئی
ادا جعفری
