خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپکا اردو باباانسانی تقدس ۔ سوشل میڈیا کے نرغے میں
آپکا اردو بابااردو تحاریراردو کالمزاویس خالد

انسانی تقدس ۔ سوشل میڈیا کے نرغے میں

اویس خالد کا ایک اردو کالم

از سائیٹ ایڈمن اپریل 29, 2020
از سائیٹ ایڈمن اپریل 29, 2020 0 تبصرے 839 مناظر
840

انسانی تقدس ۔ سوشل میڈیا کے نرغے میں

آج کل سوشل میڈیا پرچاروں طرف سے ایک طوفان بد تمیزی نظر آ رہا ہے۔بات جھوٹے لطیفوں،من گھڑت قصوں،بے سند باتوں،بیہودہ کہانیوں اوربے حیا تصویروں سے بہت آگے نکل چکی ہے۔ایک وقت تھا کہ بچوں کو غلط کام کرتے وقت بڑوں کا ڈر ہوتا تھا،اب صورتحال یہ ہے کہ "سیانے”خود بچوں کواپنے سیاسی عزائم کی تکمیل کے لیے غلط استعمال کر رہے ہیں۔اپنی ہی نوجوان نسل کو بھڑکا کر اور اُکسا کرسوشل میڈیا پر مخالف جماعتوں کے افراد کی کردارکشی جیسا قبیح فعل سرزدکروایاجا رہا ہے۔ غلاظت کا ایک انبار ہے جس کی بد بو سے انسانیت کا دم گھُٹ رہا ہے۔کمپیوٹر سے ہم انسانی منفعت کا تو کوئی کام نہ لے سکے البتہ انسانیت کوشرمسار کرنے کا ہنر خوب جان گئے۔آج بچہ بچہ مشکل سے مشکل ایڈیٹنگ ایپلیکیشن بآسانی استعمال کر سکتا ہے۔

کسی کی بھی شکل کو کسی کے ساتھ بھی کسی بھی حالت میں جوڑ سکتا ہے۔کسی کی طرف کسی بھی وقت کوئی بھی بات منسوب کر سکتا ہے۔وہ کہ جسے پورے انہماک کے ساتھ قرآن میں تفکر کرنا چاہیے تھا وہ اپنی تمام تر صلاحیتیں قرآن کے منافی سچ میں جھوٹ کی آمیزش کرنے میں ہمہ وقت مصروف عمل ہے۔ارشاد ربانی ہے:۔”بے سند باتیں کرنے والے غارت ہوئے”(سورۃ الزّٰاریٰت،پارہ: 26، آیت:10)۔ ہمارے ملک میں بد قسمتی سے اقتدارsocial کی جنگ نے دشمنی کے تمام اصول و ضوابط بھلا دیے ہیں۔باقاعدہ سوشل میڈیا سیل قائم کر کے جس قسم کی مہم جس انداز سے جس مقصد کے لئے چلائی جا رہی ہے اس سے کون واقف نہیں؟یہ ہمارے بچے جنہیں عکسِ خالد بن ولیدؓ بننا تھا جنہیں مثلِ مثنیؓ بننا تھا،وہ فیس بک پرخیالی طور پر مثالی پاکستان بنانے کی سعی لا حاصل کرتے نظر آتے ہیں۔عملی بنیادوں پر کوئی بھی کچھ کرنے کا نہ متحمل ہے نہ روادار ہے۔خرافات کا شکار قوم بھول گئی کہ روز قیامت ہمیں اپنے ایک ایک عمل کا حساب دینا ہے۔یوم محشر کہاں ڈھونڈتے پھریں گے ان ہزاروں لاکھوں افراد کو،جن کی تصاویر و اقوال وافعال کو بدل بدل کر ان کی حرمت و تقدس پر بہتان درازیاں کی تھیں۔یہ سیاست دان کیا سمجھتے ہیں کہ ایسے اپنے حریفوں کی کردار کشی کر کے وہ خود مقبول ہو جائیں گے؟کاش آپ تاریخ کا مطالعہ کرتے اور پڑھتے کہ قائد اعظمؒ نے کس عظیم مقصد کے لیے اور کس طریقے سے نوجوان طلبا کو سیاست میں داخل کیا تھا اور کس خوبصورت انداز سے انہوں نے ان کی صلاحیتوں کو بروے کار لاکر یہ عظیم مملکت قائم کی تھی۔شو مئی قسمت کہ ہمارے نوجوان تو پہلے ہی معیاری اسلامی نظریاتی تعلیم کے فقدان کی وجہ سے غیر نظریاتی ہو چکے ہیں۔اوپر سے ان کی رہنمائی کرنے والوں نے باقی کسر بھی پوری کر دی ہے۔مقبول وہی ہوتا ہے جو خدمت کرتا ہے۔اس کے علاوہ ہر راستہ محض خام خیالی ہے۔ اسلام نے شاید اسی وجہ سے تصویر کشی کو حرام قرار دیا تھا کہ ایک وقت آئے گا کہ اس کے زریعے انسان انسانوں کی کردار کشی کریں گے۔ ذاتی طور پر کوئی کسی نہیں جانتا مگر بڑے وثوق سے غلط بات پھیلائی جاتی ہے۔وہ دن جو اسلام کے نفاذ و تبلیغ کی کوششوں میں صرف ہونے چاہیے تھے،و ہ راتیں جو قرآن پڑھ پڑھ کر غور و فکر کرنے میں بسر ہونی چاہیے تھیں،وہ کبھی واپس نہ آنے والا عمر کا قیمتی حصہ دوسروں کی عزتوں کو پامال کرنے کی اسکیمیں بنانے میں گذر رہا ہے اورہر کوئی اس دوڑ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہا ہے۔اس جھوٹ سے اب انسانی زندگی کا کوئی پہلوبھی محفوظ نہیں رہا۔آگ لگانے والوں کے اپنے ہاتھ بھی جل رہے ہیں مگر دوسروں کی عزت اچھال کر ملنے والے لطف نے درد کے احساس کو چھپا رکھا ہے۔بنوانے والے کو پتہ ہے کہ وہ جھوٹ بنوا رہا ہے؛بنانے والے کو پتہ ہے کہ وہ جھوٹ بنا رہا ہے؛پڑھ کر محظوظ ہونے والا بھی اس کے غلط ہونے پرخوب یقین رکھتا ہے اور آگے پھیلانے والے کو بھی اس کی صداقت پر شبہ ہے۔خدا کے بندوں نے خدا کے کلام تک کو نہیں بخشا؛حدیث شہ ابرارؐ کو بھی نہیں چھوڑا۔بغیرحوالوں کے یا غلط حوالوں سے ذاتی اختراعات کا ٹڈی دَل ہے جو تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔

بقول راقم:
نہ توڈر ہے روز حساب کا،نہ ہی ہم کو خوف عذاب ہے
ہمیں چاہیے فقط مال بس،اسی مال میں تو قرار ہے
غور طلب نکتہ ہے کہ جو اسلام ہمیں اچھی بات کوبھی آگے سنانے سے پہلے تصدیق کر لینے کا حکم دیتا ہے وہ بھلا جھوٹی بات کو بغیر تحقیق کے پھیلانے پر ہمیں کیسے معاف کرے گا۔ایک مومن مسلمان کی حرمت جو کعبہ سے بھی ذیادہ بلند ہے وہ آج دوسروں کے ہاتھوں میں کھلونا بنی ہوئی ہے۔ بہترین مخلوق بہترین نصابِ حیات رکھنے کے باوجود بد ترین طرزِ زندگی اختیار کیے ہوئے ہے۔تنقید کا حق سب کو ہے۔مگر اس کے لیے اسلامی شعار کے مطابق وضع کردہ طریقہ کار ہی سب سے بہتر اور موثر ہے۔ذرا سوچ کر دیکھیے کہ کسی کے بارے میں جھوٹی باتیں بنا کر پھیلانے کی ضرورت کیا ہے جب کہ اصل خامیاں بڑی تعداد میں اورواضح انداز میں موجود ہیں،انہی کو بہتر انداز میں اخلاق کے دائرے میں رہتے ہوئے بیان کیا جائے تو کافی ہو گا۔ایک شخص کی صحیح خامی کو بھی بیان کرتے وقت اتنی مبالغہ آرائی سے کام لیا جاتا ہے کہ اس کی اصل خامی اندر ہی چھپ کے رہ جاتی ہے۔وہ بجائے اس کے کہ قابل نفرت سمجھا جائے الٹا ہمدردی کا مستحق بن جاتا ہے۔

مبالغہ آرائی کی وجہ سے تنقید میں وزن ہی نہیں رہتا تو تنقید کا اصل مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے۔صرف سیاسی طور پر نہیں بلکہ معاشرتی طور پر ہم سب اپنی اصل پہچان غلط کر رہے ہیں۔خدارا اس رجحان کو بدلیے۔اس آگ نے حرمت انسانی کے محل کو جلا کر راکھ کر دیا ہے اوراس راکھ میں سے اٹھتے دھویں میں انسانی شکل تک دیکھنا اب محال ہو گیا ہے۔خدا کے قہر کی بجائے اس کے فضل کو دعوت دینی چاہیے۔ہر وقت دوسروں پر نکتہ چینی کرنے کی بجائے ہمیں اپنی اصلاح کی فکر کرنی چاہیے۔ استغفار کا اہتمام کرنا چاہیے۔جھوٹ کی اس دنیا نے کئی گھرانوں کی خوشیوں کو نگل لیا ہے۔فریب کے اس سمندر میں کئی جانیں ڈوب چکی ہیں۔خدارا خیالی دنیا سے نکل کر حقیقت کی دنیا میں آنکھ کھولیں۔کاش کہ ندامت نصیب ہو،وہ ندامت جو توبہ کے گھر تک لے جائے اور معافی کا در کھُل جائے۔رمضان المبارک کے اس با برکت مہینے میں ہمیں اپنا محاسبہ کرنا چاہیے اور ہر قسم کے گناہوں کی صدق دل سے توبہ کر کے ایک اچھی اور خوب صٓورت زندگی کی طرف قدم بڑھانا چاہیے۔پوردگار راضی ہو گیاتو دنیا اور آخرت میں کامیابی ہے ورنہ جن کی محبت یانفرت میں ہم یہ سب کچھ کر رہے ہیں اس کا ہمیں کچھ بھی فائدہ پہنچنے والا نہیں ہے۔

اویس خالد

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • عشق، محنت اور خواب
  • ڈارون کا نظریہء ارتقاء اورجدید سائنس
  • وہ ملا تھا اور بس کچھ بھی نہیں
  • پاسپورٹ
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ریس کورس سے تانگے تک
پچھلی پوسٹ
جتنا بھی ہو گہرا پیار سہیلی سے

متعلقہ پوسٹس

خود سے جب بے زاری ہو

اپریل 6, 2020

چائے- پانی

دسمبر 16, 2019

ایک ایسی سوچ

جنوری 1, 2023

احمد عطا اللہ کی غزل گوئی

فروری 5, 2023

یہی نہیں کہ فقط شاعری دھڑکنے لگی

مارچ 3, 2022

ہر گھڑی اک نیا تقاضا ہے

اکتوبر 15, 2025

فرمان خداوندی

اگست 21, 2025

لاہور سے شیلا باغ تک

اگست 20, 2020

تم نے تو جان مار لی

مئی 9, 2025

یوں اپنے آپ سے بیٹھے

جولائی 6, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز

اسلامی گوشہ

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

اردو شاعری

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

اگست 30, 2026

ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

تیسری ہندکو کانفرنس

اگست 24, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط

    اگست 30, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

تہذیب و تمدن

اکتوبر 12, 2025

بیوی بچے پاس رکھ ’’فادر مدر‘‘...

جون 3, 2020

کرونا سے مکالمہ

مارچ 22, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں