108
مانا کہ کوئی کام بھی اچھا نہیں کیا
لیکن تمہارے پیار کو رسوا نہیں کیا
مشکل پڑی تو آپ ہی نیلام چڑھ گئے
ہم نے پُرائی چیز کا سودا نہیں کیا
یاروں کا ہم سے ایک ہی شکوہ رہا سدا
ایسا نہیں کیا کبھی ویسا نہیں کیا
قصے میں جھوٹ سچ کی آمیزش تو کی مگر
تجھ سے تو یار کوئی بھی دھوکا نہیں کیا
چپ چاپ اپنی پیاس کے صحرا میں کھو گئے
دریا کے سامنے تو تماشا نہیں
ہم نے تو دوریوں سے بھی لذت کشید کی
اے حسنِ یار تجھ سے تقاضا نہیں کیا
ہم لوگ منظروں کی طرح عام ہو گئے
تُو نے تو اپنا راز ہی افشا نہیں کیا
افتخار شاہد
