101
استعارے کی کیا ضرورت ہے
اور اشارے کی کیا ضرورت ہے
بند آنکھوں سے کر قبول مجھے
استخارے کی کیا ضرورت ہے
تیرے قدموں میں آن بیٹھی ہوں
اب اشارے کی کیا ضرورت ہے
میرے دامن میں تم سمائے ہو
چاند تارے کی کیا ضرورت ہے
دل کا دل پر ہے اندراج تو پھر
گوشوارے کی کیا ضرورت ہے
منزّہ سیّد
