103
نظر سے نم نہ گیا روح سے کسک نہ گئی
بدن سے جب تک اداسی مری چھلک نہ گئی
مری تو آہ بھی شاید ہوا سے بھاری ہے
زمین تک ہی رہی آسمان تک نہ گئی
میں سوچتا رہا جب تک دماغ شل نہ ہوا
میں دیکھتا رہا جب تک نگاہ تھک نہ گئی
وہ برشگال کہیں حافظے میں رہ گئی ہے
گھٹا برس گئی لیکن گرج چمک نا گئی
کرن نے سبزہ بھرے باغ سے گزر نا کیا
کہ جب تک اوس کے قطروں سے راہ ڈھک نا گئی
میں تجھ سے کٹ کے جلا شاخ صندلیں کی طرح
میں راکھ ہو گیا مجھ سے تری مہک نا گئی
شاہد ماکلی
