خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ آپ کا سلامپاکستان میں دہشت گردی کا ابھار
آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزیوسف صدیقی

پاکستان میں دہشت گردی کا ابھار

از سائیٹ ایڈمن فروری 7, 2026
از سائیٹ ایڈمن فروری 7, 2026 0 تبصرے 49 مناظر
50

پاکستان اس وقت کسی مبہم خطرے سے نہیں گزر رہا بلکہ ایک کھلی حقیقت کا سامنا کر رہا ہے۔ دہشت گردی واپس آ چکی ہے اور اس بار اس نے نہ کسی دور دراز علاقے کو چنا ہے نہ کسی کمزور لمحے کا انتظار کیا ہے۔ دارالحکومت میں امام بارگاہ پر حملہ اور بلوچستان میں منظم یلغار یہ اعلان ہے کہ ریاست کو براہ راست چیلنج کر دیا گیا ہے۔

اسلام آباد میں عبادت گاہ کو نشانہ بنانا محض ایک سکیورٹی ناکامی نہیں بلکہ ریاستی رٹ، انٹیلی جنس دعووں اور برسوں سے دی جانے والی تسلیوں پر سوالیہ نشان ہے۔ اگر دارالحکومت میں یہ سب ممکن ہے تو پھر دور دراز علاقوں کے شہریوں کے لیے ریاست کی ضمانت کیا معنی رکھتی ہے۔

حملہ آور کے افغانستان سے روابط اور وہاں تربیت کے دعوے کوئی نئی کہانی نہیں۔ یہ وہی پرانی حقیقت ہے جسے ہم ہر واقعے کے بعد دہرا کر خاموش ہو جاتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ افغان سرزمین استعمال ہو رہی ہے بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کب تک ہو گی۔ کیا پاکستان کے پاس سفارتی دباؤ، عالمی فورمز اور ٹھوس حکمت عملی کے سوا صرف بیانات ہی رہ گئے ہیں۔

بلوچستان میں جو کچھ ہوا وہ کسی ایک دن کا واقعہ نہیں بلکہ ایک منظم منصوبہ تھا۔ مختلف علاقوں میں بیک وقت حملے، ریاستی اداروں کو نشانہ بنانا اور کچھ دیر کے لیے علاقوں پر کنٹرولislamabad حاصل کرنا واضح پیغام تھا کہ شدت پسند گروہ محض چھپ کر حملے نہیں کر رہے بلکہ طاقت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ یہ صورتحال محض امن و امان کا مسئلہ نہیں بلکہ ریاستی عمل داری کا امتحان ہے۔

سیکیورٹی فورسز کی جانب سے درجنوں دہشت گردوں کی ہلاکت یقیناً ایک بڑی کارروائی ہے لیکن یہاں ایک تلخ سوال کھڑا ہوتا ہے۔ کیا ہر بحران کا حل لاشوں کی گنتی تک محدود رہے گا؟ کیا ہم ہر چند ماہ بعد ایک نئے آپریشن، نئے اعداد و شمار اور نئے دعووں کے ساتھ یہی کہانی دہراتے رہیں گے؟

بھارت اور افغانستان کے کردار کا ذکر حکومتی بیانات میں تو ہوتا ہے مگر قوم کے سامنے کبھی پوری تصویر نہیں رکھی جاتی۔ اگر واقعی پاکستان ایک منظم پراکسی جنگ کا شکار ہے تو پھر قوم کو آدھی سچائی کیوں دی جاتی ہے۔ سفارتی محاذ پر ناکامیوں کو اندرونی بیانات سے چھپایا نہیں جا سکتا۔

اس تمام منظرنامے میں سب سے خطرناک پہلو اندرونی سہولت کار ہیں۔ دہشت گرد سرحد پار سے آ سکتے ہیں لیکن انہیں پناہ، معلومات اور راستے یہاں سے ملتے ہیں۔ یہ وہ سچ ہے جس پر بات کرنا ہمیشہ مشکل سمجھا گیا۔ جب تک اس ناسور کو جڑ سے نہیں کاٹا جائے گا، ہر کامیاب آپریشن عارضی ثابت ہو گا۔

عام شہری اس جنگ کا خاموش شکار ہے۔ وہ جو بازار میں خوف کے ساتھ نکلتا ہے، جو عبادت کے لیے جاتے ہوئے بھی مطمئن نہیں، جو اپنے بچوں کو سکول بھیجتے ہوئے دعا کرتا ہے۔ یہ وہ حقیقت ہے جو سرکاری بریفنگز میں نظر نہیں آتی مگر قوم کی رگوں میں سرایت کر چکی ہے۔

ایسے وقت میں قومی اتحاد کا نعرہ لگانا آسان ہے مگر اتحاد نعروں سے نہیں بنتا۔ اتحاد واضح پالیسی، شفاف مؤقف اور غیر مبہم فیصلوں سے بنتا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو سیاسی مفادات سے آزاد کیے بغیر کوئی کامیابی ممکن نہیں۔

آج پاکستان کو فیصلہ کرنا ہے۔ یا تو ہم ہر حملے کے بعد مذمت، تحقیقات اور بیانات کے دائرے میں گھومتے رہیں گے یا پھر ایک سنجیدہ، طویل المدتی اور بے رحم حکمت عملی اپنائیں گے۔ تاریخ انتظار نہیں کرتی۔ اگر ہم نے اب بھی خود کو دھوکے میں رکھا تو آنے والا وقت ہم سے کوئی رعایت نہیں برتے گا۔

ہم کہاں غلطی کر رہے ہیں؟
یہ سوال اب محض ایک جملہ نہیں رہا بلکہ ایک قومی چیخ بن چکا ہے۔ یہ سوال پوچھنا ضروری ہے کہ دارالحکومت میں، جہاں سیکیورٹی کا گھیرا سخت ترین ہونا چاہیے، وہاں ایک دہشت گرد کیسے بھاری مقدار میں دھماکہ خیز مواد لے کر مسجد تک پہنچ سکتا ہے؟ کیا ہماری انٹیلی جنس ناکام ہو گئی؟ کیا ہمارا سیکیورٹی نظام صرف کاغذوں پر ہے؟ یا ہم واقعی اپنے شہریوں کی حفاظت کو سنجیدگی سے نہیں لیتے؟

اسلام آباد جیسے شہر میں، جسے برسوں سے محفوظ ترین قرار دیا جاتا رہا، عبادت گاہ پر حملہ ہونا اس پورے بیانیے کو زمین بوس کر دیتا ہے۔ یہ محض ایک سکیورٹی بریک نہیں بلکہ ریاستی دعووں پر کاری ضرب ہے۔ اگر دارالحکومت میں یہ سب ممکن ہے تو پھر دور دراز علاقوں کے شہریوں کے لیے ریاست کی ضمانت کیا معنی رکھتی ہے۔

یہ پہلا واقعہ نہیں ہے اور بدقسمتی سے شاید آخری بھی نہیں ہوگا۔ پاکستان میں فرقہ وارانہ تشدد کی ایک طویل اور تاریک تاریخ ہے۔ شیعہ برادری خاص طور پر دہشت گردوں کا ہدف رہی ہے۔ کوئٹہ سے کراچی تک، پشاور سے اسلام آباد تک، خون کی ندیاں بہائی گئی ہیں۔ لیکن ہر واقعے کے بعد ہم وہی پرانا ڈرامہ دیکھتے ہیں۔ مذمتی بیانات، عارضی ہنگامہ آرائی، اور پھر سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے جب تک کہ اگلا حملہ نہ ہو۔

یہ معمول بن جانا دراصل ہماری سب سے بڑی ناکامی ہے۔ ہم نے سانحات کو وقتی خبروں میں بدل دیا ہے اور اجتماعی صدمے کو یادداشت سے نکالنے کی عادت ڈال لی ہے۔ چند دن شور، چند دن سیاسی بیانات اور پھر خاموشی۔ نہ احتساب ہوتا ہے، نہ پالیسی بدلتی ہے، نہ یہ طے کیا جاتا ہے کہ آخر دہشت گردی کا یہ سلسلہ رکتا کیوں نہیں۔

یہ حملہ خلا میں نہیں ہوا۔ یہ ہمارے معاشرے میں موجود نفرت، تعصب اور انتہا پسندی کا نتیجہ ہے۔ دہائیوں سے ہم نے اپنے نوجوانوں کو نفرت کا درس دیا ہے۔ مدرسوں میں، سوشل میڈیا پر، یہاں تک کہ ہمارے گھروں میں بھی، دوسرے فرقوں کے خلاف زہر اگلا جاتا رہا ہے۔ آج اس زہر کا پھل ہم سب کے سامنے ہے۔

ریاست اور معاشرہ دونوں اس زہر کو پنپنے دیتے رہے۔ کبھی اسے اظہار رائے کا نام دیا گیا، کبھی مذہبی آزادی کا لبادہ اوڑھا دیا گیا، اور کبھی سیاسی مصلحت کے تحت آنکھیں بند کر لی گئیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ نفرت نے جڑ پکڑ لی اور تشدد ایک جائز راستہ بنتا چلا گیا۔

حکومتی سطح پر بھی ہماری ترجیحات غلط رہی ہیں۔ ہم نے کبھی سنجیدگی سے انتہا پسند نظریات کا قلع قمع نہیں کیا۔ کبھی اچھے طالبان اور برے طالبان میں فرق کیا گیا، کبھی کچھ گروہوں کو اپنے وقتی سیاسی یا تزویراتی مقاصد کے لیے برداشت کیا گیا۔ آج وہی عفریت ہمارے شہروں، ہماری عبادت گاہوں اور ہمارے بچوں تک پہنچ چکا ہے۔

اسلام آباد کا واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مسئلہ اب سرحدوں یا قبائلی علاقوں تک محدود نہیں رہا۔ یہ ایک مکمل داخلی بحران بن چکا ہے جس میں بیرونی ہاتھ بھی ہے اور اندرونی سہولت کاری بھی۔ افغانستان سے آنے والے روابط پر بات ہوتی ہے مگر یہ سوال کم ہی اٹھایا جاتا ہے کہ یہاں انہیں سہولت کون فراہم کرتا ہے، راستے کون دکھاتا ہے اور خاموشی سے کون مدد کرتا ہے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ ہم سنجیدگی سے سوچیں۔ صرف مذمتی بیانات اور کارروائی کے وعدے کافی نہیں ہیں۔ ہمیں ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے جو کئی محاذوں پر بیک وقت کام کرے۔

انٹیلی جنس اور سیکیورٹی اداروں کو محض ردعمل دینے کے بجائے پیشگی کارروائی کے قابل بنانا ہوگا۔ خاص طور پر عبادت گاہوں، مذہبی اقلیتوں اور کمزور اہداف کی حفاظت کو ترجیح دینی ہوگی۔ نفرت انگیز تقاریر اور فرقہ وارانہ زہر اگلنے والوں کے خلاف بلا امتیاز سخت کارروائی ناگزیر ہے۔ چاہے وہ مسجد کے منبر سے ہو، سوشل میڈیا پر ہو یا کسی اور پلیٹ فارم پر۔ قانون کا اطلاق یکساں ہونا چاہیے۔

نصاب میں اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کو نفرت نہیں بلکہ رواداری، انسانیت اور بقائے باہمی کا درس دینا ہوگا۔ سماجی سطح پر مکالمے کی فضا پیدا کرنا ہوگی۔ مختلف فرقوں اور مسالک کے علماء اور دانشوروں کو ایک دوسرے کے سامنے بٹھانا ہوگا تاکہ نفرت کی دیواریں گرانے کا عمل شروع ہو سکے۔

آج جو خاندان ماتم کر رہے ہیں، جو بچے یتیم ہو گئے ہیں، جو زخمی ہسپتالوں میں تڑپ رہے ہیں، وہ ہم سب سے ایک سوال پوچھ رہے ہیں۔ کیا ہماری جان کی کوئی قیمت نہیں؟ کیا ہم محفوظ زندگی گزارنے کے حقدار نہیں؟

یہ صرف شیعہ برادری کا مسئلہ نہیں ہے۔ آج ان کی باری ہے، کل کسی اور کی ہو سکتی ہے۔ دہشت گردی کسی فرقے، مذہب یا قومیت کو نہیں دیکھتی۔ یہ انسانیت کے خلاف جنگ ہے اور اس جنگ میں خاموشی بھی جرم ہے۔

اسلام آباد کی اس سیاہ صبح نے ہمیں ایک بار پھر چیلنج کیا ہے۔ کیا ہم بیدار ہوں گے یا پھر سے سو جائیں گے؟ کیا ہم واقعی تبدیلی لائیں گے یا پرانے، ناکام طریقوں پر ہی چلتے رہیں گے؟ جواب ہم سب کو مل کر دینا ہے کیونکہ تاریخ خاموش قوموں کو معاف نہیں کرتی۔

یوسف صدیقی

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • سید سلمان گیلانی
  • عارفین
  • مدینہ منورہ کے کبوتر
  • ہرنام کور
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
اے بھگوائی
پچھلی پوسٹ
ہم رہے چپ چپ ہماری بے زبانی

متعلقہ پوسٹس

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

اپریل 14, 2026

پاک بحریہ کا کارنامہ

جنوری 22, 2026

اک مدت تک کوشش

مارچ 29, 2026

موتری

جنوری 16, 2019

حکایتِ عالمِ گمشدہ

دسمبر 1, 2024

گھریلو تشدد کا قانون

جنوری 26, 2026

سورۃ الملک: مالک ہونے کا وہم

فروری 13, 2026

طوفان کے بیچ سفرِ شجاعت

نومبر 27, 2024

مصنوعی ذہانت: انقلابِ ثانی یا پیغام ِ تباہی؟

ستمبر 15, 2023

بندگی و الوہیت

دسمبر 29, 2024

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Meesam Ali Agha on خیرات میں آئے ہوئے کاسے میں نہ آئے
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے

اسلامی گوشہ

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

” توکل ” کیا ہے

جون 2, 2026

یہ نور کس کا پھیل گیا ہے چمن...

مئی 26, 2026

مظہر ہے کبریا کا علیؑ مرتضیٰ کا نام

مئی 23, 2026

اردو شاعری

زندگی بھر فکر کرتے رہے

جون 2, 2026

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

جون 2, 2026

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان

جون 2, 2026

لمحوں کی قید کاٹ کے صدیوں میں آ...

جون 2, 2026

ممکن نہیں ہے جبر کی بیعت روا مجھے

جون 2, 2026

اردو افسانے

واپسی

جون 2, 2026

آسودگی

مئی 30, 2026

گم شدہ چراغ

مئی 30, 2026

دادا جان کی ٹھنڈی چھاؤں

مئی 26, 2026

چائے کی پیالی

مئی 24, 2026

اردو کالمز

کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

جون 3, 2026

ملازمت بہتر یا کاروبار

جون 3, 2026

کتاب «المتلذذون بالعلم»

جون 2, 2026

علم سے محبت کرنے والے

جون 2, 2026

لفظوں کا دیوتا اور سماج کی بے حسی

جون 2, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • غالب افسانہ

    جون 4, 2026
  • کہانی چل رہی ہے – تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ

    جون 4, 2026
  • کیا ہم سنجیدہ قوم ہیں!

    جون 3, 2026
  • ملازمت بہتر یا کاروبار

    جون 3, 2026
  • زندگی بھر فکر کرتے رہے

    جون 2, 2026
  • کتاب «المتلذذون بالعلم»

    جون 2, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

ولی دکنی اُردو غزل کا باوا...

جنوری 25, 2026

سایہ

دسمبر 11, 2024

معصوم تمنا

جون 29, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں