خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریرشعر اور واہ کا رشتہ
اردو تحاریراردو مزاحیہ تحاریرتالیف حیدر

شعر اور واہ کا رشتہ

تالیف حیدر کی مزاحیہ تحریر

از سائیٹ ایڈمن جنوری 27, 2020
از سائیٹ ایڈمن جنوری 27, 2020 0 تبصرے 391 مناظر
392

شعر اور واہ کا رشتہ 

میں عام طور پر اپنے حلقہء احباب میں کسی بھی شعر کی تعریف میں لفظ واہ بہت سنتا ہوں۔ یقیناً !یہ صرف میرے ہی حلقہء احباب تک محدود نہیں، بلکہ ایک عام رواج ہے۔لوگوں کا تاثر اکثر کسی اچھی چیز کو دیکھ کر یا کسی اچھی بات کو سن کر یہ ہی ہوتا ہے، اس کے باوجود شعر کے ساتھ واہ کا جو رشتہ ہے، وہ دیگر معاملات میں کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ یہ میرا مشاہدہ ہے کہ لوگ اکثر کسی تصویر کو دیکھ کر یا کسی اچھی عمارت کو دیکھ کر ایک دم سے واہ اس طرح نہیں کہتے جیسے شعر کو سن کر کہتے ہیں، عین ممکن ہے کہ کوئی اس صورت میں بھی واہ کو ایسے ہی ادا کرتا ہو جس طرح سماعتِ شعر کے بعد کیا جاتا ہے، لیکن یہ میرے مشاہدے میں کم ہی آیا ہے۔البتہ شعر پہ واہ کہنے والوں کو میں روز دیکھتا اور سنتا ہوں۔ اکثر میں اس بات پر غور بھی کرتا ہوں کہ کیا صرف ایک واہ سے کسی بھی شعر کی تاثیر کا مکمل اظہار ہو جاتا ہے؟ کیا واہ ایک ایسی طلسمی چھڑی ہے جس سے کسی بھی شعر کو ہانکا جا سکتا ہے؟ یقیناً! لفظ واہ کہنے کے لیے کسی لیاقت کی ضرورت نہیں، یہ بس لبوں سے یوں ادا ہوتا ہے جیسے ہر شعر کی غذا ہو۔

اگر آپ کو شعر گوئی اور شعر فہمی کا ملکہ حاصل ہے تو آپ نے اپنی زندگی میں کئی بار یہ تجربہ کیا ہوگا کہ کسی بھی شخص کو کیسا ہی کوئی شعر سنا یئے وہ یا تو خاموش رہے گیا یا اپنی گردن اثبات میں ہلا کر اس پر واہ کہہ دے گا۔ ایک واہ اور شعر کی ترسیل کے سارے مراحل طے۔ میں نے بہت سے شعر سنانے والے تو ایسے بھی دیکھے ہیں جو اپنے سامع یا قاری سے صرف واہ کی طلب کے لیے شعر پڑھتے ہیں۔ ایسے شعرا اپنا شعر پڑھ کر اکثر اپنے سامعین پر ایک طائرانہ نگاہ دوڑاتے ہیں اور یہ دیکھتے ہیں کہ کس کس کونے سے واہ کی صدا بلند ہوئی ہے اور کون سا کونہ خاموش ہے۔

واہ ایک اظہار کیفیت ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اس میں ایک بھر پور تاثر کی جھلک پوشیدہ ہے۔ خواہ آپ نے واہ کو ایمانداری سے ادا کیا ہو یا بے ایمانی سے مگر یہ لفظ ہمیشہ اپنا اظہار ایک جیسا رکھتا ہے۔ اس کی جعل سازی کو پکڑنا مشکل ہی نہیں بلکہ تقریباً نا ممکن ہے۔ ادھر کی بستیوں میں(میری مرا د بر صغیر سے ہے) جہاں اکثر اشیاء اور جذبات میں ملاوٹ پائی جاتی ہے واہ کی ایماندارانہ جھلک کم ہی دیکھنے کو ملے گی۔ مشاعرے بازوں کے یہاں تو یہ بالکل ہی مفقود ہے۔ ہر وہ شخص جو سچے دل سے واہ کہتا ہے، یقیناً اسے کسی سادےسے سادے شعر کو بھی بڑی باریکی سے سننا پڑتا ہے۔ اس کی کیفیت کے مکمل تاثر کو واہ کے لفظ میں تبدیل کرنے سے پہلے اس کی فنی باریکیوں کا معائنہ کرنا پڑتا ہے اور اس کے تمام محاسن و معائب کا حساب لگا کر اس لفظ کی ادائیگی کرنی ہوتی ہے۔ یہ ایک لمبا پروسس ہے، لہذا ایسے واہ کی ادائیگی میں اتنی تیزی جتنی عام طور پر دیکھنے میں آتی ہے، مشکل سے ملے گی۔ عین ممکن ہے کہ اس عمل میں بھی تیزی دیکھنے میں آ جائے، لیکن اس کا ادراک ہونا مزید مشکل کام ہے۔ کون شخص کس شعر میں کیا دیکھ رہا ہے اور کس وجہ سے اس کے منہ سے کسی شعر پر واہ نکل رہا ہے؟ یہ بھی سمجھنا ایک پیچیدہ عمل ہے۔ میرے ساتھ کئی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ میں نے کسی خاص نشست یا مشاعرے میں بہت اہم اہم لوگوں کو کسی شعر پر واہ کہتے سنا اور ان کا منہ تکتا رہا۔بعض سے اس تجسس کی بنیاد پر نظروں ہی نظروں میں یہ دریافت بھی کرنے کی کوشش کی کہ آپ نے شعر سنتے ہی فوری طور پر واہ کیوں کہا۔ مگر اکثر جواب ندارت رہا۔ ایسی صورت میں جبکہ میں کسی سے اس کی واہ کی وجہ طلب کرنے کے لیے اسے غور سے دیکھتا تو مجھے بدلے میں مزید ایک واہ سنائی دیتی۔ کچھ بے تکلف قابل اور شعر فہم دوستوں کے منہ سے یہ لفظ سن کر ان سے دریافت کیا تو انہوں نے کبھی کسی ایک لفظ کو قابل تحسین گردانہ، کبھی شعر کے صوتی نظام کو اپنی واہ کی وجہ بتایا، کبھی کسی بحر کو اور کبھی کسی تلمیح، استعارے اور تشبیہ کو۔بے شمار مرتبہ ایسا ہوا کہ کسی نے شعر سے اپنے کسی تجربے کو ملا دیا اور بعض مرتبہ اس کی پوری شرح بیان کرتے ہوئے اپنی واہ کی وجہہ بتائی۔ مجھے ان سب سے کوئی شکایت نہیں کہ واہ تو ان سب باتوں پہ بھی کی ہی جا سکتی ہے۔ مگریہ ذرا سوچنے کی بات لگی کہ کیا کسی ایک شعر میں ایسے ایک یا دو ہی نکتے ہوتے ہیں جن پر کوئی بھی شخص اولین صورت میں واہ کہہ دیتا ہے۔ یہ تو کسی شعر فہم شخص کا حال ہے کہ اس کو کم سے کم ایک یا دو چیزوں کی بہتری کا احساس ہوجاتا ہے۔ زیادہ تر تو واہ اس روایت کے تحت کہا جاتا ہے جو کہ شعری متن کے اظہار سے وابستہ ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ کسی ایک ایسے شعر میں جس میں لفظ کی تہہ میں معنی کا ایک نظام گردش کر رہا ہو، اس کے جتنے نکتے قاری یا سامع پر کھلتے جائیں گے اس کے منہ سے واہ کا لفظ ادا ہوتا رہے گا۔ لیکن اس عمل کے لیے ہمیں کسی ایک شعر کی قرات کم سے کم تین سے چار بار کرنی ہوگی۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اہم سماعتوں نے مشاعرے میں مکرر ارشاد کا نظام وضع کیا۔ ایک شعر جس کی کئی پرتے ہیں، جسے کئی معاملات سے جوڑا جا سکتا ہے، جو زندگی کے مختلف حالات و واقعات سے لگا کھاتا ہے، جو اپنی فنی باریکیوں کی وجہ سے دل پر اضطرابی کیفیت مرتب کرتا رہتا ہے، جس کا صوتی نظام اور آہنگ لرزہ دینے والا ہے وہ یقیناً مکرر کا حق دار ہے۔

ایسے شعروں پر وہ سماعتیں جو بالکل خالص ہیں وہ ہر بار نئے انداز میں واہ کہتی ہیں اور مختلف کیفیات کا شکار ہوتی رہتی ہیں۔ یہاں معاملہ یہ ہے کہ کسی تیلی، نائی اور پارچہ باف، کسی انجینئر، ڈاکٹر اور آرکیٹیک، کسی مزدور بھانڈ اور متشاعر کو کوئی شعر سناو، وہ واہ کہہ کر اپنا فرض پورا کر دیتا ہے۔گویا کہ شعر کسی تفہیم کا نہیں بلکہ واہ کا محتاج ہے۔ میں صرف اپنی بات کروں تو شعر پر واہ کہنا میرے لیے ہمیشہ سے ایک مشکل امر رہا ہے، یوں تو میں نے بھی اپنے بے تکلف دوستوں کی محفلوں میں بہت سے شعروں پر سر ہلا ہلا کر اور جھوم جھوم کر واہ واہ کا گیت گایا ہے، مگر یہاں بات انجم باہمی سے آگے کی ہے۔ مثلاً غالب اور میر کے اشعار کسی موسیقار کے منہ سے سن کر ایک دم سے واہ نکنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ میں یہاں مثال کے لیے اپنے ایک من پسند شاعر زیب غور ی کا ایک شعر لیتا ہوں:

ایک جھونکا ہوا کا آیا زیب
اور پھر میں غبار بھی نہ رہا

اس شعر پر میں واہ کہنے سے پہلے شاعر کے غبار نہ رہنے کی معنوی جہت پہ غور کروں گا، کیا وہ ہوا کہ چلنے سے پہلے غبار تھا، غبار اور بدن کے معنوی تقرب اور بعد پر غور کروں گا۔ پھر ہوا کے جھونکے کی تعبیر پہ سوال قائم ہوگا، شعر کی زمانی حیثیت پہ نظر جائے گی، اس اسلوب کی باریکیوں کا جائزہ لیا جائے گا۔ عروض کا نظام ذہن میں گردش کرے گا۔ شعر کے دونوں مصرعوں کے صوتی آہنگ پہ نظر گاڑنا ہوں گی۔ ان سب مرحلوں سے گزرنے کے بعد جب شعر کو صحیح یا پھر قرین قیاس معنی کے سانچے میں ڈھالوں گا تب واہ کا لفظ شائد منہ سے ادا ہو۔ اس عمل میں برجستگی کی خواہش عبث ہے۔ ایسا ممکن ہی نہیں ہے، خواہ ذہن کتنی ہی تیزی کا مظاہرہ کرے مگر کشاکشی میں جو وقت صرف ہونا ہے وہ مجھے مصنوعی واہ سےحتی الامکان دور رکھے گا۔ واہ کہنا کوئی شوخی نہیں اور نہ کوئی فیشن ہے۔ یہ تو ایک بڑی ذمہ داری ہے۔ غور سے دیکھو تو اس واہ کی لالچ نے ہی ہمارے مشاعروں کا معیار پست کیا ہے۔ غالب سے جو آسان کہنے کی فرمائش کی گئی تھی اس کے پیچھے بھی یہ ہی واہ واہی کار فرما تھی۔ ایک جملہ ہم اکثر ادیبوں کے منہ سے سنتے ہیں کہ میاں مرزا رفیع سودا واہ کے شاعر تھے۔ اس واہ سے غالباً ایک عام ذہن طربیہ مراد لے مگر ایک سوچتا ہوا ذہن اس سے تحسین کی فنی باریکیوں کی شناسائی مراد لے گا۔ یقیناً سودا واہ کے ہی شاعر ہیں کیوں کہ وہ نکتہ سنجی اور نکتہ فہمی کے متمنی ہیں۔ ان کی شاعری کی مثال واہ کا ایک اعلی نمونہ ہے۔ اس تناظر میں میر کا کلام جس آہ کے خانے میں فٹ کیا جاتا ہے وہ بھی واہ کی ہی ایک ارتقائی صورت ہے۔ شعر پر واہ کہنا ہر اس امر سے مشکل ہے جس حالت میں آپ کو کسی پیڑ کے نیچے لیٹے لیٹے کشش ثقل کی موجودگی کا احساس ہوجائے۔ جس طرح کوئی ایک نیا تجربہ انسانی زندگی میں ایک نئی بہار لاتا ہے اسی طرح ہر اس شعر پر جس پر قاری یا سامع واقعتاً واہ کہنے پر مجبور ہوجائے ایک نئے احساس سے وابستہ ہوتا ہے۔ واہ کہنا کسی انوکھی کیفیت سے دوچار ہونا ہے۔ کیوں کہ ہر وہ کیفیت جو انسانی قلوب پر اکثر گزرتی ہے وہ اس کے لیے اتنی متاثر کن نہیں رہتی کہ اس سے کسی نئی کیفیت متشکل ہو۔ شعر کا کام انسانی قلوب کی منجمد گرد کو ہٹا کر وہاں تحریک کیفیت پیدا کرنا ہوتا ہے اور جب وہ تحرک اپنے عروج پر پہنچتا ہے تب ہم بے ساختہ ایک واہ کے ذریعے اس کیفیت کا اظہار کرتے ہیں۔ لہذا پلک جھپکے ہی کسی شعر پر واہ کہنا اور کسی ایک شعر کی جھلک پاتے ہی اس سے مجموعہ کیفیت ظاہر کرنا ایک جعلی عمل ہے اور ہر سچا قاری اور سامع ایسی جعلی واہ سے کبھی اپنا رشتہ استوار نہیں کرتا۔

تالیف حیدر

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • اخلاق, اقدار اور معاش!
  • سوچ کا انقلاب
  • ہجویاتِ سودا
  • دیکھ کبیرا رویا
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
اتار لفظوں کا اک ذخیرہ غزل کو تازہ خیال دے دے
پچھلی پوسٹ
کچھ طبیعت ہی ایسی پائی ہے

متعلقہ پوسٹس

اردو بازار کے بزنس ٹائیکون

مئی 29, 2025

اردو غزل کی روایت اور اقبال

مئی 27, 2024

دنیا کا سب سے انمول رتن

مارچ 13, 2020

مولانا محمدحنیف شہید

اکتوبر 1, 2019

کہانی ایک رات کی

جولائی 7, 2020

آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے

اگست 9, 2022

کامیاب خارجہ پالیسی

ستمبر 21, 2025

گُل رخے

نومبر 2, 2019

دیکھ کبیرا رویا

فروری 3, 2020

جگرنرخ کے ٹکڑے

دسمبر 30, 2013

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

سرکارؐ رازِ حق سے مجھے آشنا کریں

اپریل 6, 2026

قرآنِ کریم میں تدبر کیسے کریں؟

اپریل 4, 2026

ایک تھپڑ اور کئی سوال

مارچ 26, 2026

کلام نبویؐ کی کرنیں

مارچ 23, 2026

اردو شاعری

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

اپریل 15, 2026

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

اپریل 14, 2026

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

اپریل 14, 2026

دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے

اپریل 7, 2026

تمہیں میری محبت کا جو اندازہ نہیں ہوتا

اپریل 6, 2026

اردو افسانے

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

گل مصلوب

مارچ 25, 2026

اردو کالمز

مودی کا ہندو خطرے میں ہے

اپریل 11, 2026

طاقت کا توازن اور پائیدار امن!

اپریل 10, 2026

ماں بننے کا سفر اور جوائنٹ فیملی کا...

اپریل 8, 2026

سوچ کا انقلاب

اپریل 7, 2026

جنگ کے شعلے اور سسکتی انسانیت

اپریل 5, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • تنقید کیا ہے

    اپریل 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

روپ

مئی 21, 2020

اودھ کی شام

جنوری 3, 2020

تاریخ کے وارث – پہلی قسط

جنوری 17, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں