آج کے جدید دور میں جہاں ترقی، ٹیکنالوجی اور سہولیات نے زندگی کو آسان بنا دیا ہے، وہیں ایک چیز ایسی ہے جو دن بدن کمزور ہوتی جا رہی ہے، اور وہ ہے "رشتوں کی مضبوطی”۔ ہم جتنا باہر کی دنیا میں آگے بڑھ رہے ہیں، اتنا ہی اندر سے خالی ہوتے جا رہے ہیں۔
رشتے صرف ناموں کا مجموعہ نہیں ہوتے، یہ احساسات، اعتماد اور قربانی کا حسین امتزاج ہوتے ہیں۔ مگر افسوس کہ آج ہم نے رشتوں کو بھی ایک لین دین کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ جہاں فائدہ نظر آئے وہاں محبت، اور جہاں ذرا سا نقصان ہو وہاں فاصلے۔
ہماری زندگی میں بہت سے لوگ آتے ہیں، کچھ وقتی ہوتے ہیں اور کچھ مستقل۔ لیکن اصل رشتہ وہی ہوتا ہے جو مشکل وقت میں بھی ساتھ کھڑا رہے۔ خوشیوں میں شریک ہونا تو آسان ہے، مگر دکھ میں ساتھ دینا ہی اصل امتحان ہے۔ آج کے دور میں یہی امتحان بہت کم لوگ پاس کرتے ہیں۔
ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ ہم دوسروں سے بہت زیادہ توقعات رکھتے ہیں، مگر خود ان پر پورا نہیں اترتے۔ ہم چاہتے ہیں کہ لوگ ہمیں سمجھیں، ہماری قدر کریں، مگر ہم خود دوسروں کے جذبات کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ یہی رویہ آہستہ آہستہ رشتوں کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔
انا (Ego) بھی رشتوں کی بربادی کی ایک بڑی وجہ ہے۔ ایک چھوٹی سی غلط فہمی کو ہم اپنی انا کی وجہ سے بڑھا دیتے ہیں، اور پھر وہی بات ایک بڑے فاصلے میں بدل جاتی ہے۔ اگر ہم تھوڑا سا جھکنا سیکھ لیں، معاف کرنا سیکھ لیں، تو بہت سے رشتے ٹوٹنے سے بچ سکتے ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر رشتہ کامل نہیں ہوتا۔ ہر انسان میں کمزوریاں ہوتی ہیں، لیکن اگر نیت صاف ہو اور دل میں خلوص ہو تو یہی کمزوریاں بھی خوبصورتی میں بدل جاتی ہیں۔ اصل چیز نیت اور رویہ ہوتا ہے، نہ کہ الفاظ۔
آج ہمیں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم رشتوں کو وقتی جذبات کے بجائے مستقل ذمہ داری سمجھیں۔ ان کو وقت دیں، ان کی قدر کریں، اور سب سے بڑھ کر ان میں سچائی اور خلوص پیدا کریں۔ کیونکہ وقت گزر جانے کے بعد صرف پچھتاوا رہ جاتا ہے، رشتے نہیں۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ رشتوں کی حقیقت یہی ہے کہ یہ اللہ کی ایک بڑی نعمت ہیں۔ اگر ہم ان کی قدر کریں تو یہ زندگی کو سکون اور خوشی سے بھر دیتے ہیں، اور اگر ہم انہیں نظر انداز کریں تو یہی رشتے زندگی کا سب سے بڑا خلا بن جاتے ہیں۔
خیر اندیش
نعمان علی بھٹی
