118
ہم رہے چپ چپ ہماری بے زبانی چپ رہی
بیچ میں اس بے زبانی کے کہانی چپ رہی
جل رہا تھا گھر مرا اور میرے بس میں کچھ نہ تھا
اس زمیں کی چپ رہی خلق آسمانی چپ رہی
میری آنکھوں میں کسی خوشبو کا دیکھا عکس بھی
آفرینش اک کلی جو اصفہانی چپ رہی
اک بتِ مغرور نے نظریں چرائیں جان کر
کسمسا کر رہ گئی پھر بھی نشانی چپ رہی
شہ مریدوںؔ نےنئی اک چال سیکھی ہے ابھی
دھوکہ کھاتی ہی رہی ہر بار ہانیؔ، چپ رہی
وقت کے کچھ سورماؤں نے اجاڑا شہر کو
درد سہتی رہ گئی ہے ایک رانی چپ رہی
ایک بچی روئی تھی بابا شہادت پا گئے
میں نے بولا بات رتبے کی ہے، مانی، چپ رہی
جا رہا تھا کوئی تنہا زندگانی جھیل کر
قہقہوں میں وقت تھا دنیائے فانی چپ رہی
میں نے پوچھا چھوڑ کر حسرتؔ کو قد کتنا بڑھا
گر پڑے دو چار جگنو، پر دِوانی چپ رہی
رشید حسرتؔ
٠٦ فروری، ٢٠٢٦
