123
لب بستہ ہی رہا میں مگر کچھ سنا تو تھا
مہمان رات بھر مرے گھر میں رہا تو تھا
اے دل گرفتہ ذوقِ جنوں کیا کہوں تجھے
مجھ پر وہ تیز دھوپ میں سایہ کشا تو تھا
یہ اور بات قافلے سرعت سے چل دیے
وہ شخص راہِ زیست میں اَب بھی کھڑا تو تھا
ڈھارس ذرا ہزیمتِ جاں میں بندھی رہی
تھوڑی سی دیر کیلئے طوفاں تھما تو تھا
کر دے عیاں تُو میری کہانی کو اے زمیں !
نقشِ لہو سے نقشِ کفِ پا ملا تو تھا
وہ کم نصیب جس کو ملامت ملی سدا
اس شہرِ کم نصیب میں اہلِ وفا تو تھا
یہ جو وصالِ شب ہے بہانہ ہے ہجر کا
ڈھلتے ہی رات اس نے یہ مجھ سے کہا تو تھا
ناصر یہ غم زمانۂ رفتہ کی بات ہے
اک نام سن کے درد سا دل میں اُٹھا تو تھا
ناصر ملک
