خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریربدلتے چہرے ۔۔۔ بدلتے حالات
اردو تحاریراردو مزاحیہ تحاریرحافظ مظفر محسن

بدلتے چہرے ۔۔۔ بدلتے حالات

حافظ مظفر محسن کی مزاحیہ تحریر

از سائیٹ ایڈمن جنوری 13, 2020
از سائیٹ ایڈمن جنوری 13, 2020 0 تبصرے 665 مناظر
666

بدلتے چہرے ۔۔۔ بدلتے حالات

مجھے وہ پرانا واقعہ یاد آ گیا جب ایک صبح فیمی کا فون آیا ۔۔۔
’’کچھ بینک کے کام ہیں اگر آپ آ جائیں تو مجھے سہولت ہو گی میرا خوف جاتا رہے گا ویسے بھی آج میرا دل چاہتا ہے کہ میں گاڑی اُس انداز میں چلاوں جو آپ کو پسند ہے آپ کو یقیناًیاد ہو گا جب ایک دفعہ میں نے شیخ زاہد ہسپتال کے پاس نہایت تیز رفتاری سے چلتی گاڑی اچانک موڑ دی تھی اور آگے پیچھے آتے ڈرائیوروں کی چیخیں نکل گئی ہوں گی ایک خوف سا طاری ہو گیا ہو گا اُس وقت آپ نے ہنستے ہوئے کہا تھا‘‘ ۔۔۔
’’تم پہلے دوبئی میں ٹرک تو نہیں چلاتی رہی؟؟؟؟‘‘ ۔۔۔
’’ہاں ہاں‘‘ ؟ ۔۔۔
’’تمہاری ڈرائیونگ سے ایسا لگتا ہے کہ تم واقعی یا تو دوبئی میں بڑے ٹرالر ریگستانوں میں چلاتی رہی ہو یا پھر اپنے لاہور شہر میں پٹھانوں کا رکشہ تمہاری ہاتھ چڑھا رہا ہو گا‘‘ ؟؟؟ ۔۔۔
’’اصل میں فیمی ۔۔۔ آپ کے انداز سے دو باتیں دکھائی دیتی ہیں ایک تو آپ نے بہت کم عمری میں گاڑی چلانا سیکھ لی ہو گی اور اُسی زمانے میں بد تمیزی کرنا بھی ۔۔۔ اسی لیے شاید بلا کا اعتماد ہے آپ کی ڈرائیونگ میں، آپ کے انداز میں اس کے علاوہ یہ بات حیران کن ہے کہ آپ کو گاڑی چلاتے دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے آپ نے کبھی بریک پہ پاؤں نہیں رکھا اور کبھی بھی گاڑی چلاتے ہوئے کسی قسم کا خوف محسوس نہیں کیا ہو گا‘‘ ۔۔۔
وہ اپنے مخصوص انداز میں قہقہہ لگاتی ہوئی پھر سے کہیں کھو سی گئی اور حسب معمول سلام دعا کیے بغیر اچانک اُس نے فون بند کر دیا ۔۔۔
میں چونکہ ٹھوکر سے مال روڈ نہر کنارے جا رہا تھا میں نے گاڑی کا رُخ اُس کے گھر کی طرف موڑ دیا تھوڑی ہی دیر میں ہم دونوں ایک پھٹیچر جیپ میں بیٹھے ہوئے تھے اس دوران میں نے اپنی گاڑی گلی میں پارک کر دی اور حسب معمول اِدھر اُدھر تالے لگا دئیے ۔۔۔ میری اس بات پر وہ خوب ہنسی وہی پرانے دور کے قہقہے لگاتی جو عام طور پر نازک اندام لڑکیوں کو نہیں جچتے لیکن اُس کا یہ انداز بڑا ہی دلکش تھا ۔۔۔
’’بدر یہ اتنے تالے نہ لگایا کرو اتنی رکاؤٹیں اچھی نہیں ہوتیں جس نے اس چار پہیوں والی کو منا لیا یہ اُسی کے ساتھ ہو جائے گی ۔۔۔ یہ چیزیں اُسی کی ہوتی ہیں جو انہیں لے جانے میں کامیاب ہو جائے‘‘ ۔۔۔
فیمی نے یہ بات کہتے ہوئے اپنے سراپا پر رعونت کے ساتھ نظر ڈالی، مغرور، خوبرو حسینہ کی طرح ۔۔۔ مجھے کبھی بھی یہ احساس نہیں ہوا کہ اُس نے میک اپ کیا ہو یا کسی بیوٹی پارلر کا رُخ کیا ہو یا ۔۔۔ وہ اپنے آپ پر توجہ دیتی ہو لیکن اچانک دیکھا ایک دم سے میں اُس کے ہاں پہنچا یا ۔۔۔ سر راہ کبھی اچانک آمنا سامنا ہوا تو بھی وہ حسین و جمیل عورت کی طرح ترو تازہ نظر آئی ۔۔۔ دکھ اور غم میں بھی اُس کی خوبصورتی مثالی ہوتی ہے اُس کے پاس کوئی بھی چیز ’’لوکل‘‘ نہ تھی ۔۔۔ سوائے ایک دو مردوں کے۔۔۔ ایک دن میں نے یہ بات مذاق مذاق میں کہہ ہی ڈالی ۔۔۔ تو مخصوص قہقہہ لگایا پھر کسی گہری سوچ میں گم ہو گئے اور پھر نہایت جرأت مندانہ انداز میں بولے ۔۔۔
’’نہ تو تم مشرقی ہو ۔۔۔ نہ ہی تم مغربی ہو، تم تو ان دونوں میں سے کوئی اعلیٰ سی ’’چیز‘‘ ہو جیسے سنبھال کے رکھنا ۔۔۔ جیسے تھامے رکھنا آسان کام نہیں‘‘ ۔۔۔
’’ویسے بھی ایسی چیزیں کم ہی کسی کے قابو میں رہتی ہیں لیکن ایک عورت کی حیثیت سے یہ تو بہر حال میرا فرض ہے نہ کہ میں اپنی اس ’’چیز‘‘ کو سنبھال کے رکھوں ۔۔۔ اِدھر اُدھر نہ ہونے دوں‘‘ ۔۔۔ اُس نے معنی خیز نظروں سے مغرورانہ انداز میں دیکھتے ہوئے نہایت محبت سے کہا ۔۔۔
’’یہ کیا‘‘ ۔۔۔ اچانک میرا پاؤں جیپ کے اندر پڑے ایک بڑے سے کپڑے کے ساتھ لگا اور اُس میں سے بہت سے نوٹ اِدھر اُدھر بکھر گئے ۔۔۔ اُس نے پھر قہقہہ لگایا یہ وہ پیسے تھے جو میں نے انعامی بانڈ کے ڈیلر سے کل شام AG آفس چوک سے لیے تھے ۔۔۔ اس ملک میں بہت سے ایسے ’’لوٹ مار‘‘ کرنے والے موجود ہیں جو شکل سے ’’سائیں لوک‘‘ لگتے ہیں لیکن ’’ممکن ہے کل کلاں کو وہ کسی جرمن یاں کینیڈا کی کمپنی کو پچاس ارب کا ’’جہاز‘‘ اپنی مرضی کی Specification کے مطابق بنوانے کا ’’آرڈر‘‘ جاری کر ڈالیں اور دنیا کے بڑے ’’ڈکیت‘‘ دیکھتے ہی رہ جائیں‘‘ ۔۔۔
دیکھو نہ تم ہی تو کہا کرتے تھے کہ تمہارے ہاتھ میں دولت کی لائن بڑی مضبوط ہے اور چھتیس سال کی عمر سے تمہارا ایک نیا دور شروع ہو جائے گا جس میں دولت کی ریل پیل ہو گی تمہارے پاس اس قدر دولت ہو گی جو سنبھالی نہ جا سکے گی۔ اس دوران اُس کے چہرے پر مکمل سنجیدگی طاری ہو گئی اور اُس نے کہا ’’بدر جب چند سال پہلے میں اپنے گھر سے نکلی تو میں نے اپنے باپ کو ایک زناٹے دار تھپڑ کے جواب میں کہا تھا کہ میں اب اُس وقت قصور واپس آؤں گی جب میرے پاس لاکھوں نہیں کروڑوں روپے ہوں گے اور میرے والد نے آہستہ سے کہا تھا ’’اور بے شمار لعنتیں بھی اُس وقت تک تم سمیٹ چکی ہو گی‘‘ اس دوران اُس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اُس نے گاڑی ایک طرف لگائی اُتر کر میری طرف آئی میں سمجھ گیا میں نے خود ہی اپنی سیٹ سے چھلانگ لگائی اور تیزی سے دوسری طرف جا کر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا ۔۔۔ کافی دیر تک ہم دونوں گاڑی میں خاموش بیٹھے رہے پھر میں نے خود ہی گاڑی سٹارٹ کی اور چل پڑا ۔۔۔ اس دوران اُس نے پھر خاموشی توڑی اور اپنے باپ کا کہا ہوا وہی اذیت ناک فقرہ دہرایا ۔۔۔
’’اور بے شمار لعنتیں بھی اُس وقت تک تم سمیٹ چکی ہو گی‘‘ ۔۔۔
گاڑی ذرا تیز چلائیں کہیں بینک بند نہ ہو جائے میری ہنسی نکل گئی ۔۔۔
’’محترمہ بہتر ہے آپ قصور سے ۔۔۔ لاہور واپس آ جائیں ۔۔۔ آپ کو کچھ نہیں کہا جائے گا کیونکہ پرانے فیصلوں پر شرمندہ یا پریشان نہیں ہوا کرتے ورنہ چلتی گاڑی کو بریکیں لگ جاتی ہیں یا پھر اُڑتا ہوا جہاز کسی بڑے طوفان میں گم ہو جاتا ہے اور آپ کے بقول ۔۔۔ ایک بار اُٹھایا قدم واپس نہیں مڑنا چاہیے ورنہ انسان کہیں کا نہیں رہتا‘‘ ۔۔۔ جدید دور کا تقاضہ ہے کہ انسان حالات کے مطابق چلنا شروع کر دے کیونکہ اب رسم و رواج بدل چکے ہیں یہاں تک کہ ’’فیس بک‘‘ پر ایسے بیٹے دکھائے جاتے ہیں جو سر عام ماں باپ کو ’’جوتے مارتے ہیں‘‘ اور پھر بھی ’’عزت دار‘‘ کہلاتے ہیں ۔۔۔
ویسے محترمہ اگر آپ پسند کریں تو مجھے بتائیں کہ کل جب شام کے وقت آپ AG آفس چوک میں یہ ایک کروڑ روپیہ اکیلے کیش کی صورت میں آپ لینے گئیں تو آپ کو اُس وقت کوئی خوف کیوں محسوس نہیں ہوا آپ پریشان کیو ں نہیں ہوئیں کیونکہ آج کے دور میں ایک کروڑ روپیہ بہت بڑی رقم ہے اور صرف چھتیس لاکھ کے لیے چند دن پہلے ڈاکوؤں نے شادمان چوک میں دو سکیورٹی گارڈ قتل کر ڈالے تھے اور سائیڈ پر چلتی ہوئی ایک لڑکی ڈاکوؤں کی گولیوں کا نشانہ بن گئی جو بعد میں ہسپتال جا کر دم توڑ گئی ۔۔۔
’’بدر ۔۔۔ یہ ایک کروڑ روپیہ میرے لیے کوئی اتنی بڑی رقم نہیں اسی پھٹیچر جیپ میں میں نے کروڑوں روپے اِدھر اُدھر شفٹ کیے اس کے علاوہ کروڑوں روپے کی دوسری ’’چیزیں‘‘ بھی لانے لے جانے کے لیے میں عام طور پر یہ پھٹیچر جیپ ہی استعمال کیا کرتی ہوں‘‘ ۔۔۔
ویسے سیاسی میدان میں کروڑوں ڈالر اسلام آباد سے دوبئی شفٹ کرنے والی ’’محبوبائیں‘‘ پاکستانی عدالتوں سے ’’باعزت‘‘ ضمانت کروا کے ضامن سمیت نجانے کس ملک میں چھپ کر ہنسی خوشی ’’باعزت‘‘ زندگی بسر کر رہی ہیں ۔۔۔
اور تم نے خود ہی مجھے اپنے علاقے کے اُس گاڑیوں کے ’’ڈینٹر‘‘ کے بارے میں بتایا تھا جس کے بارے میں ایک اخبار کے سنڈے میگزین میں اُس کا دو پورے صفحات کا فیچر چھپا تھا جس میں اُس ’’ڈینٹر‘‘ نے دعویٰ کیا تھا کہ ہالینڈ سے ایک عورت پاکستان آئی تھی اور اُس نے ’’جھورے ڈینٹر‘‘ کو تلاش کر کے کسی کا حوالہ دیا اور اُس سے ایک گاڑی تیار کروائی جس میں کئی کلو ’’ہیروئن‘‘ پیک کی گئی تھی ۔۔۔ وہ عورت چار ہفتے لاہور کی گلیوں میں اُس گاڑی کو دوڑاتی رہی کہ یہ راز کہیں رستے میں فاش نہ ہو جائے اور پھر وہ بڑی بے باکی سے وہ گاڑی ’’ہیروئن‘‘ سمیت ہالینڈ لے جانے میں کامیاب ہو گئی تھی ۔۔۔
میری ہنسی نکل گئی ’’آجکل وہ ’’جھورا ڈینٹر‘‘ ہر اسلامی مہینے کی گیارہ تاریخ کو اپنے گھر میں ایک محفل برپا کرتا ہے جہاں آنے والوں کو ختم درود کے بعد مٹن قورمہ وافر مقدار میں کھلایا جاتا ہے‘‘ ۔۔۔
وہ زور زور سے ہنسنے لگی اور پھر قہقہے لگاتے ہوئے بولی ’’بدر ۔۔۔ سچ سچ بتاؤ تم ہر مہینے کی گیارہ تاریخ کو وہ مٹن قورمہ ’’وافر مقدار‘‘ میں کھانے جاتے ہو نہ‘‘؟۔۔۔
اس دوران جب ہم ایبٹ روڈ سے ’’منو ہاؤس‘‘ کی طرف مڑے تو دو لڑکوں نے موٹر سائیکل میرے ساتھ کی اور پیچھے بیٹھے لڑکے نے پستول دکھا کر مجھے غصے سے کہا ’’پرس نکال دو‘‘ میں نے حسب معمول کالے شیشوں والی عینک اُتار کر جب اُن دونوں کو نہایت غور سے دیکھا تو دونوں قہقہے لگاتے بغیر پرس چھینے واپس مڑ گئے۔۔۔
وہ بائیں سیٹ پر بیٹھی زور زور سے ہنسنے لگی ۔۔۔ کافی دیر بعد اُس کی ہنسی رُکی تو اُس نے پھر قہقہہ لگایا ۔۔۔
’’لگتا ہے یہ دونوں کسی دور میں تمہارے شاگرد رہے ہوں گے ۔۔۔ استاد کو دیکھ کر دونوں ہی پرس چھینے بغیر واپس مڑ گئے حالانکہ اُنھیں اندازہ ہی نہیں تھا کہ اُن کے ’’استاد‘‘ کے پہلو میں بیٹھی خوبصورت لڑکی کے پاس پرس کے علاوہ ایک کروڑ کیش بھی ہے ۔۔۔
ہم دونوں زور زور سے قہقہے لگانے لگے ۔۔۔ گاڑیوں کا شور تھا ورنہ لوگ ہمارے قہقہے سن کر تالیاں بجاتے ۔۔۔ شور مچاتے ۔۔

حافظ مظفر محسن

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • اے عشق نبیﷺ
  • مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • اُلٹی دنیا
  • انسان ہوں پیالہ و ساغر نہیں ہوں میں
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
میں پا سکا نہ کبھی اس خلش سے چھٹکارا
پچھلی پوسٹ
پہلے انڈا آیا ۔ یا مرغی

متعلقہ پوسٹس

ڈھکا چہرہ

جنوری 24, 2020

روشنی کی سفارت ”آبجوئے نور”

مارچ 23, 2025

اچھے ہمسائے

اگست 9, 2022

انسدادِموروثی سیاست اور مہنگائی کا خاتمہ !

ستمبر 29, 2021

غلطی کا اعتراف

اپریل 1, 2023

شراب

جنوری 5, 2018

صفر کا مہینہ اعلی حضرت کا مہینہ

جولائی 23, 2026

مجاز سے مجاز لکھنوی تک کا سفر

دسمبر 5, 2025

ہم نا ماننے والے لوگ!

اگست 5, 2021

زبردستی کی شادی

اپریل 1, 2023

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Visal abbasi on نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اسلامی گوشہ

آمد

ستمبر 4, 2026

چلو چلیں

ستمبر 2, 2026

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

اردو شاعری

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

ستمبر 4, 2026

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں...

ستمبر 2, 2026

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

اگست 31, 2026

سچ سامنے آنے لگا ہے

اگست 31, 2026

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • سچ سامنے آنے لگا ہے

    اگست 31, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

پرندوں کا شکوہ

جولائی 21, 2020

زاہد محمود زاہد کا شعری لحن

جنوری 15, 2021

پہلے آپ اپنی قدر پہچانیے

جولائی 5, 2026
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں