خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےخودکشی کا اقدام
اردو افسانےاردو تحاریرسعادت حسن منٹو

خودکشی کا اقدام

اردو افسانہ از سعادت حسن منٹو

از سائیٹ ایڈمن فروری 4, 2020
از سائیٹ ایڈمن فروری 4, 2020 0 تبصرے 376 مناظر
377

خودکشی کا اقدام

اقبال کے خلاف یہ الزام تھا کہ اُس نے اپنی جان کو اپنے ہاتھوں ہلاک کرنے کی کوشش کی، گو وہ اس میں ناکام رہا۔ جب وہ عدالت میں پہلی مرتبہ پیش کیا گیا تو اس کا چہرہ ہلدی کی طرح زرد تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ موت سے مڈبھیڑ ہوتے وقت اس کی رگوں میں تمام خون خشک ہو کر رہ گیا ہے جس کی وجہ سے اس کی تمام طاقت سلب ہو گئی ہے۔ اقبال کی عمر بیس بائیس برس کے قریب ہو گی مگر مُرجھائے ہوئے چہرے پر کھنڈی ہوئی زردی نے اُس کی عمر میں دس سال کااضافہ کر دیا تھا اور جب وہ اپنی کمر کے پیچھے ہاتھ رکھتا تو ایسا معلوم ہوتا کہ وہ واقعی بوڑھا ہے۔ سُنا گیا ہے کہ جب شباب کے ایوان میں غربت داخل ہوتی ہے تو تازگی بھاگ جایا کرتی ہے۔ اس کے پھٹے پرانے اور میلے کچیلے کپڑوں سے یہ عیاں تھا کہ وہ غربت کا شکار ہے اور غالباً حد سے بڑھی ہوئی مفلسی ہی نے اسے اپنی پیاری جان کو ہلاک کرنے پر مجبور کیا تھا۔ اس کا قد کافی لمبا تھا جو کاندھوں پر ذرا آگے کی طرف جھکا ہوا تھا۔ اس جھکاؤ میں اُس کے وزنی سر کو بھی دخل تھا جس پر سخت اور موٹے بال، جیل خانے کے سیاہ اور کھر درے کمبل کا نمونہ پیش کررہے تھے۔ آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئی تھیں جو بہت گہری اور اتھاہ معلوم ہوتی تھیں۔ جھکی ہوئی نگاہوں سے یہ پتا چلتا تھا کہ وہ عدالت کے سنگین فرش کی موجودگی کو غیر یقینی سمجھ رہا ہے اور یہ ماننے سے انکار کر رہا ہے کہ وہ زندہ ہے۔ ناک پتلی اور تیکھی، اس کے ماتھے پر تھوڑا سا چکنا میل جما ہوا تھا جس کو دیکھ کر زنگ آلود تلوار کا تصور آنکھوں میں پھر جاتا تھا۔ پتلے پتلے ہونٹ جو کناروں پر ایک لکیر بن کر رہ گئے تھے۔ آپس میں سلے ہوئے معلوم ہوتے تھے۔ شاید اس نے ان کو اس لیے بھینچ رکھا تھا کہ وہ اپنے سینے کی آگ اور دُھوئیں کو باہر نکالنا نہیں چاہتا تھا۔ میلے پائجامے میں اُس کی سوکھی ہوئی ٹانگیں اوپر کے دھڑکے ساتھ اس طرح جڑی ہوئی تھیں کہ معلوم ہوتا تھا دو خشک لکڑیاں تنور کے منہ میں ٹھنسی ہوئی ہیں۔ سینہ چوڑا چکلا تھا مگر ہڈیوں کے ڈھانچے پر جس کی پسلیاں پھٹے ہوئے گریبان میں سے جھانک رہی تھیں گوشت سانولے رنگ کی جھلی معلوم ہوتا تھا سانس کی آمد و شد سے یہ جھلی بار بار پھولتی اور دبتی تھی۔ پیروں میں کپڑے کا جاپانی جوتا تھا جو جگہ جگہ سے بے حد میلا ہورہا تھا۔ دونوں جوتے انگوٹھوں کے مقام پر سے پھٹے ہوئے تھے ان سوراخوں میں سے اُس کے انگوٹھوں کے بڑھے ہوئے ناخن نمایاں طور پر نظر آرہے تھے وہ کوٹ پہنے ہوئے تھا جو اُس کے بدن پر بہت ڈھیلا تھا اس میلے اور سال خوردہ کوٹ کی خالی پھٹی ہوئی جیبیں بے جان مردوں کی طرح منہ کھولے ہوئے تھیں۔ وہ کٹہرے کے ڈنڈے پر ہاتھ رکھے اور سر جھکائے جج کے سامنے بالکل خاموش اور بے حس و حرکت کھڑا تھا۔

’’تم نے ۲۰ جون کو ہفتے کے دن مانا نوالہ اسٹیشن کے قریب ریل کی پٹڑی پر لیٹ کر اپنی جان ہلاک کرنے کی کوشش کی اور اس طرح ایک شدید جرم کے مرتکب ہوئے۔ جج نے ضمنی کاغذات پڑھتے ہوئے کہا ٗ بتاؤ یہ جرم جو تم پر عائد کیا گیا ہے کہاں تک درست ہے؟‘‘

’’جرم‘‘

اقبال اپنے گہرے خواب سے گویا چونک سا پڑا لیکن فوراً ہی اس کا وزنی سر جو ایک لمحے کے لیے اُٹھا تھا پھر بیل کی پتلی ٹہنی کے بوجھل پھل کی طرح لٹک گیا۔

’’بتاؤ یہ جرم جو تم پر عائد کیا گیا ہے کہاں تک درست ہے؟‘‘

جج نے سکول کے استاد کی طرح وہی سوال دہرایا جو وہ اس سے پہلے ہزار ہا لوگوں سے پوچھ چکا تھا۔ اقبال نے اپنا سر اُٹھایا اور جج کی طرف اپنی بے حس آنکھوں سے دیکھنا شروع کر دیا پھر تھوڑی دیر کے بعد دھیمے لہجے میں کہا

’’میں نے آج تک کسی جرم کا ارتکاب نہیں کیا‘‘

عدالت کے کمرے میں کامل سکوت طاری تھا شاید اس کا باعث اقبال کا دشت نما سراپا تھا جس میں بلا کی ہیبت تھی، جج اُس کی نگاہوں کے خوفناک خلا سے خوف کھا رہا تھا۔ کورٹ انسپکٹر نے جو جنگلے سے باہر بلند کرسی پر بیٹھا تھا کمرے کے سکوت کے دہشت ناک اثر کو دور کرنے کے لیے یوں ہی دو تین مرتبہ اپنا گلا صاف کیا ریڈر نے جو پلیٹ فارم پر بچھے ہوئے تخت پر جو جج کے قریب بیٹھا تھا مثلوں کے کاغذات اِدھر اُدھر رکھتے ہوئے اپنی پریشانی اور ڈر دُور کرنے کی سعی کی۔ جج نے ریڈر کی طرف معنی خیز نظروں سے دیکھا اور ریڈر نے کورٹ انسپکٹر کی طرف اور کورٹ انسپکٹر جواب میں اپنا حلق صاف کرنے کے لیے دو مرتبہ کھانسا جب کمرے کا خوف آمیز سکوت ٹُوٹا تو جج نے میز پر کہنیاں ٹکا کر سامنے پڑے ہوئے قلم دان کے ایک خانے میں سے لوہے کی چمکتی ہوئی پن نکال کر اپنے دانتوں کی ریخ میں گاڑتے ہوئے اقبال سے کہا :

’’کیا تم نے خودکشی کا اقدام کیا تھا؟‘‘

’’جی ہاں‘‘

یہ جواب اقبال نے ایسے لہجے میں دیا کہ اس کی آواز ایک لرزاں سرگوشی معلوم ہوئی۔ جج نے فوراً ہی کہا

’’تو پھر اپنے جرم کا اقبال کرتے ہو؟‘‘

’’جرم‘‘

وہ پھر چونک پڑا اور تیز لہجے میں بولا‘‘

آپ کس جرم کا ذکر کررہے ہیں؟ اگر کوئی خدا ہے تو وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ میں ہمیشہ اس سے پاک رہا ہوں۔ ‘‘

جج نے اپنے لبوں پر زور دے کر ایک بیمار مسکراہٹ پیدا کی تم نے خودکشی کا اقدام کیا اور یہ جرم ہے۔ اپنی یا کسی غیر کی جان لینے میں کوئی فر ق نہیں۔ ہر صورت میں وار انسان پر ہوتا ہے۔ اقبال نے جواب دیا اس جرم کی سزا کیا ہے؟ یہ کہتے ہوئے اس کے پتلے ہونٹوں پر ایک طنزیہ تبسم ناچ رہا تھا اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ سان پر چاقو کی دھار تیز کرتے وقت چنگاریوں کی پھوار گر رہی ہے۔ جج نے جلدی سے کہا

’’ایک دو یا تین ماہ کی قید۔ ‘‘

اقبال نے یہی لفظ تول تول کر دہرائے، گویا وہ اپنے پستول کے میگزین کی تمام گولیوں کو بڑے اطمینان سے ایک نشانے پر خالی کرنا چاہتا ہے

’’ایک دو یا تین ماہ کی قید!۔ ‘‘

یہ لفظ دہرانے کے بعد وہ ایک لمحہ خاموش رہنے کے بعد تیز و تند لہجے میں بولا

’’آپ قانون صریحاً موت کو طویل بنانا چاہتا ہے ایک آدمی جو چند لمحات کے اندر اپنی دکھ بھری زندگی کو موت کے سکون میں تبدیل کرسکتا ہے آپ اُسے مجبور کرتے ہیں وہ کچھ عرصے تک اور دُکھ کے تلخ جام پیتا رہے۔ جو آسمان سے گرتا ہے آپ اُسے کھجور پر لٹکا دیتے ہیں آگ سے نکال کر کڑاہی میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ کیا قانون اسی ستم ظریفی کا نام ہے؟‘‘

جج نے بارعب لہجے میں جواب دیا

’’عدالت ان فضول سوالات کا جواب نہیں دے سکتی‘‘

’’عدالت ان فضول سوالات کا جواب نہیں دے سکتی، تو بتائیے وہ کن متین اور سنجیدہ سوالوں کا جواب دے سکتی ہے؟ اقبال کے ماتھے پر پسینے کے سرد قطرے لرزنے لگے‘‘

کیا عدالت بتا سکتی ہے کہ عدالت کے معنی کیا ہے؟۔ کیا عدالت بتا سکتی ہے کے ججوں اور مسجد کے مُلاؤں میں کیا فرق ہے جو مرنے والوں کے سرہانے رٹی ہوئی سورہ ءِ یٰسین کی تلاوت کرتے ہیں؟ کیا عدالت بتا سکتی ہے کہ اس کے قوانین اور مٹی کے کھلونوں میں کیا فرق ہے؟۔ عدالت اگر ان فضول سوالوں کا جواب نہیں دے سکتی تو اس سے کہیے کہ وہ ان معقول سوالوں کا جواب دے؟‘‘

جج کے تیوروں پر خفگی کے آثار نمودار ہوئے اور اس نے تیزی سے کہا

’’اس قسم کی بے باکانہ گفتگو عدالت کی توہین ہے جو ایک سنگین جرم ہے‘‘

اقبال نے کہا

’’تو گفتگو کا کوئی ایسا انداز بتائیے جس سے آپ کی نیک چلن عدالت کی توہین نہ ہو‘‘

جج نے جھلا کر جواب دیا

’’جو سوال تم سے کیا جائے صرف اُسی کا جواب دو، عدالت تمہاری تقریر سننا نہیں چاہتی‘‘

’’پوچھیے! آپ مجھ سے کیا پوچھنا چاہتے ہیں؟‘‘

اقبال کے چہرے پر یاس کی دُھند چھارہی تھی اور اس کی آواز اس گجر کی ڈوبتی ہوئی گونج معلوم ہوتی تھی جو رات کی تاریکیوں میں لوگوں کو وقت سے باخبر رکھتا ہے۔ یہ سوال کچھ اس انداز سے کیا گیا تھا کہ جج کے چہرے پر گھبراہٹ سی پیدا ہو گئی اور اُس نے ایسے ہی میز پر سے کاغذات اُٹھائے اور پھر وہیں کے وہیں رکھ دئیے اور دانت کی ریخ میں سے پن نکال کر

’’پن کُشن میں گاڑتے ہوئے کہا

’’تم نے اپنی جان لینے کی کوشش کی اس لیے تم ازروئے قانون مستو جب سزا ہو۔ کیا اپنی صفائی میں تم کوئی بیان دینا چاہتے ہو؟‘‘

اقبال کے بے جان اور نیلے ہونٹ فرط حیرت سے کھلے کے کھلے رہ گئے اُس نے کہا بیان! آپ کس قسم کا بیان لینا چاہتے ہیں؟ کیا میں سراپا بیان نہیں ہوں؟۔ کیا میرے گالوں کی اُبھری ہوئی ہڈیا ں یہ بیان نہیں دے رہیں کہ غربت کی دیمک میرے گوشت کو چاٹتی رہی ہے؟۔ کیا میری بے نُور آنکھیں یہ بیان نہیں دے رہیں کہ میری زندگی کی بیشتر راتیں لکڑی اور تیل کے دُھوئیں کے اندر گزری ہیں؟ کیا میرا سوکھا ہوا جسم یہ بیان نہیں دے رہا کہ اُس نے کڑے سے کڑا دُکھ برداشت کیا ہے؟۔ کیا میری زرد بے جان اور کانپتی ہوئی اُنگلیاں یہ بیان نہیں دے رہیں کہ وہ ساز حیات کے تاروں میں اُمید افزا نغمہ پیدا کرنے میں ناکام رہی ہیں؟۔ بیان!۔ بیان!۔ صفائی کا بیان!۔ کس صفائی کا بیان؟۔ میں اپنے ہاتھوں سے اپنی زندگی کا خاتمہ کر رہا تھا اس لیے کہ مجھے جینے کی خواہش نہ تھی اور جسے جینے کی خواہش نہ ہو جوہر جینے والے کو تعجب سے دیکھتا ہو کیا آپ اس سے یہ چاہتے ہیں کہ وہ اس سنگین عمارت میں آ کر دو تین برس کی قید سے بچنے کے لیے جھوٹ بولے؟۔ جج صاحب آپ اُس سے بات کررہے ہیں جس کی زندگی قید سے بد تر رہی ہے‘‘

جج پر زرد رُو اقبال کی بے جوڑ جذباتی گفتگو کچھ اثر نہ کرسکی اور چار پانچ پیشیؤں کی یک آہنگ سماعت کے بعد اسے دو ماہ قید محض کا حکم سُنا دیا گیا سزا کا حکم مجرم نے بڑے اطمینان سے سُنا لیکن یکا یک اُس کے استخوانی چہرے پر زہریلی طنز کے آثار نمودار ہوئے اور اُس کے باریک ہونٹوں کے سرے بھنچ گئے، مسکراتے ہوئے اُس نے جج کو مخاطب کر کے کہا:

’’آپ نے مقدمے کی تمام کارروائی میں بہت محنت کی ہے جس کے لیے میں آپ کا شکر گزار ہوں۔ مقدمہ کی روئداد کو آپ نے جس نفاست سے ان لمبے لمبے کاغذوں پر اپنے ہاتھوں سے ٹائپ کیا ہے وہ بھی داد کے قابل ہے اور آپ نے بات بات میں تعزیرات کی بھاری بھر کم کتاب سے دفعات کا حوالہ جس پھرتی سے دیا ہے اس سے آپ کے حافظے کی خوبی کا اندازہ لگایا جاسکتاہے۔ قانون جہاں تک میں نے اندازہ کیا ہے ایک پردہ نشین خاتون ہے جس کی عصمت کے تحفظ کے لیے آپ لوگ مقرر کیے گئے ہیں اور مجھے اعتراف ہے کہ آپ نے اپنے فرائض کی انجام دہی میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کیا مگر مجھے افسوس ہے کہ آپ ایک ایسی عورت کی حفاظت کررہے ہیں جسے ہرچالاک آدمی اپنی داشتہ بنا کر رکھ سکتا ہے۔ ‘‘

’’یہ لفظ عدالت کی توہین خیال کیے گئے اور اس جرم کے ارتکاب میں اقبال کی زندانی میں دو ماہ اور بڑھا دئیے گئے۔ یہ حکم سُن کر اقبال کے پتلے ہونٹوں پر پھر مسکراہٹ پیدا ہوئی۔ اقبال نے زیرِ لب کہا

’’پہلے دو ماہ تھے، اب چار ہو گئے‘‘

اور پھر جج سے مخاطب ہو کر پوچھا آپ کو تعزیرات ہند کے تمام دفعات از بریاد ہیں۔ کیا آپ مجھے کوئی اسی توہین کی قسم کا بے ضرر جرم بتا سکتے ہیں۔ جس کے ارتکاب سے آپ کی عدالت میری گردن جلاد کے حوالے کرسکے۔ میں اس دنیا میں زندہ نہیں رہنا چاہتا۔ جہاں غریبوں کو جینے کے لیے ہوا کے چند پاکیزہ جھونکے بھی نصیب نہیں ہوتے اور جس کے بنائے قانون میری سمجھ سے بالاتر ہیں کیا آپ کا یہ قانون عجیب و غریب نہیں جس نے اس بات کی تحقیق کیے بغیر کہ میں نے خودکشی کا اقدام کیوں کیا، مجھے جیل میں ٹھونس دیا ہے؟۔ مگر ایسے سوال پوچھنے سے فائدہ ہی کیا۔ تعزیراتِ ہند میں غالباً ان کا کوئی جواب نہیں۔ ‘‘

اقبال نے اپنے تھکے ہوئے مُردہ کاندھوں کو ایک جنبش دی اور خاموش ہو گیا۔ عدالت نے اس کے سوال کا کوئی جواب نہ دیا۔

سعادت حسن منٹو

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • سفر نامہ بھارت – تیسری قسط
  • سندھ دریا کا پانی
  • کوکھ جلی
  • اقبالِ جرم
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
ٹامس ہارڈی ایک عظیم ناول نگار
پچھلی پوسٹ
سنترپنچ

متعلقہ پوسٹس

دوہزار بیس بھی گزر گیا!

جنوری 2, 2021

خوشیوں بھری پرسکون زندگی

اگست 7, 2022

اردو افسانہ ” دشا  "مصنف نظیر نظر جوہر

فروری 11, 2022

رقصِ شرر

جنوری 3, 2020

شیر خوار

مارچ 25, 2025

برطانیہ – بچوں کے تحفظ کا اصل سوال

جنوری 19, 2026

سورۃ الملک: مالک ہونے کا وہم

فروری 13, 2026

شہروں میں تفریحی سہولیات کی کمی

جنوری 8, 2026

پروفیسر رشید حسن خان

ستمبر 16, 2025

رشید حسرت کی شاعری کا تجزیاتی مطالعہ

اکتوبر 26, 2025

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • Visal abbasi on نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ

اسلامی گوشہ

آمد

ستمبر 4, 2026

چلو چلیں

ستمبر 2, 2026

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

اردو شاعری

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

ستمبر 4, 2026

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں...

ستمبر 2, 2026

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

اگست 31, 2026

سچ سامنے آنے لگا ہے

اگست 31, 2026

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

    ستمبر 4, 2026
  • آمد

    ستمبر 4, 2026
  • چلو چلیں

    ستمبر 2, 2026
  • سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

    ستمبر 2, 2026
  • نماز حضور ﷺ کے آنکھوں کی ٹھنڈک

    اگست 31, 2026
  • سچ سامنے آنے لگا ہے

    اگست 31, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

کے۔ٹو کتنا ضدی ہے؟؟

دسمبر 25, 2024

بنت ِحوا تشدد کی زد میں...

جولائی 13, 2022

تنہائی کا خالی سینہ اور باشک...

فروری 25, 2022
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں