خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو افسانےسارس کی تارک الوطنی
اردو افسانےاردو تحاریرعلامہ راشد الخیری

سارس کی تارک الوطنی

از سائیٹ ایڈمن اپریل 1, 2023
از سائیٹ ایڈمن اپریل 1, 2023 0 تبصرے 79 مناظر
80

ارتشی کے وسیع میدان میں چاندنی رات آدھی سے زیادہ گزر چکی تھی اور دامن کوہ میں خاموش چشمہ کے کنارے ایک سارس کا جوڑا تارک الوطن ہونے کی تیاریاں کر رہا تھا۔ گو ان کے دماغ (یعنی احساس انسانی کا مرکز) اس قوت سے محروم تھے جو اس قصد کے نقائص و تکالیف ان کی آنکھوں کے سامنے پیش کردیتی، تاہم وطن کی مفارقت کا اثر ان کے اعضائے جسمانی، ان کی حرکات سکنات سے ظاہر تھا۔ دونوں خموشی کے ساتھ کھڑے پہاڑ کی بلند چوٹیوں کو حسرت کے ساتھ دیکھ رہے تھے۔ آبشار بلندی سے گرتے تھے اور اس بھولی بھالی مخلوق کی قوت سامعہ ہوا کے تیز جھونکوں کی بدولت معمول سے زیادہ کام کر رہی تھی۔ دو ڈیڑھ گھنٹہ تک یہ جوڑا قدرت کی اس دلچسپی اور وطن کے در و دیوار کو غور سے دیکھتا رہا، آخر چاند کی روشنی کا انحطاط سارس کی توجہ میں خلل انداز ہوا اور وہ آتش فشاں پہاڑ جو قمر چہار دہم کے اندر صاف و روشن نظر آرہے تھے، دھندلے دکھائی دینے لگے۔
زمین اپنے محور کے گرد چکر کھاتی ہوئی رات کو کنارِ صبح تک لے آئی۔ شیر اور چیتے جن کی دھاڑوں نے تمام جنگل سر پر اٹھا رکھا تھا، اپنے اپنے غاروں میں جانے شروع ہوگئے اور کسی خوش الحان پرند نے تاڑ کے درخت پر سے صبح صادق کا مژدہ سنایا۔
ایک خاص خیال میں اس قدر دیر تک متوجہ رہنے پر بھی نر کی قوت متخیلہ کچھ زیادہ کار آمد نہ ہوئی۔ وہ سوچ نہ سکا کہ غربت میں کیا کیا مصیبتیں پیش آئیں گی اور کیسی کیسی دقتیں اٹھانی پڑیں گی۔ چاند کی روشنی لمحہ بہ لمحہ پھیکی پڑ رہی تھی۔ سارس نے دفعتاً اپنا منہ مادہ کی طرف کیا، اس کے کندھوں پر اپنی گردن رکھی، اس کے کامنی پروں کو جو فاختائی مائل تھے آنکھوں سے لگایا اور اس طرح جذبات قلب پورے کرکے کہنے لگا: “چل چل پیاری مادہ! ایسے میں اڑ چلیں۔ ٹھنڈے ٹھنڈے بہت دور نکل جائیں گے ورنہ مشرقی شہسوار تختِ آسمان پر جلوہ گر ہو جائے گا اور پھر تیرے نازک بازو شاید گرم ہوا کا مقابلہ آسانی سے نہ کرسکیں۔ اٹھ اٹھ من موہنی مادہ چل کھڑی ہو، میری زندگی کی تمام خوشیاں تیرے ان چمکدار پروں میں پوشیدہ ہیں۔ تیرا یہ حسن دلفریب میری زندگی برقرار رکھنے اور مجھ کو ہمیشہ کامیاب بنانے کے لیے کافی ہے”۔
چونکہ سارس اپنے سفر کا ارادہ، اپنی تارک الوطنی کا قصد شام ہی سے ظاہر کر چکا تھا، اس لیے مادہ نے اپنے گلابی مائل سرخ رخسار قریب لاکر پہلے سچی محبت کا جواب دیا اور پھر اس طرح مخاطب ہوئی:
“مجھ کو حکم کی تعمیل میں عذر نہیں مگر کیا کروں قدرت نے میری سرشت میں یہ مادہ ودیعت کیا ہے کہ مرغزار کے پتے پتے کی جدائی، جہاں مَیں چھوٹی سے بڑی ہوئی، محسوس کروں۔ پہاڑ کی چوٹیاں اُس وقت سے میرے سامنے ہیں جب سے میری آنکھ کھلی، آبشاروں کی آوازیں اس وقت سے میرے کانوں میں ہیں جب سے میں ان کو سننے کے قابل ہوئی۔ یہ درختوں کے پتے اور کنار نہر کے خودرو پھول جو ہمیشہ سے میری آنکھوں میں بسے ہوئے ہیں، ان کا فراق مجھے سخت تکلیف دہ ہوگا۔ اُس پار پہنچ کر نئی زمین ہوگی، نیا آسمان، نیا دانہ، نیا پانی؛ مگر یہ سرزمین جس کے چپے چپے اور کونے کونے پر میرے قدم چلے ہیں، مجھ سے چھوٹ جائے گی؛ اور یہ ہوا جس نے مجھ کو تھپک تھپک کر لوریاں دی ہیں مجھ سے کوسوں دور ہوجائے گی۔ آخر مجھے معلوم تو ہو وہ کیا چیز ہے جس نے تم کو ایسا دل برداشتہ کیا کہ وطن جیسی چیز کو عمر بھر کے لیے خیر باد کہتے ہو؟”
سارس: میں نہیں چاہتا کہ ایسی جگہ زندگی بسر کروں جہاں بے وفا اور خود غرض انسان کا گزر ہو سکے۔ مجھے اندیشہ ہے کہ ایسی نفس پرور مخلوق کے خیالات سے متاثر ہو کر میری آئندہ نسل برباد ہو جائے گی۔
مادہ: تم مجھ کو اجازت دو تو میں اس قدر عرض کرنے کی جرأت کروں کہ ہمارا اس حد تک انسان سے نفرت کرنا ایک قسم کی محسن کشی ہے جو ہمارا شیوہ نہیں۔ دنیا بالکل اجاڑ ہوتی، ہم ہی جیسے کائیں کائیں کرنے والے چاروں طرف آباد ہوتے، کائنات کی کل ہستی یہ ہوتی کہ لنگوروں کی چھلانگیں، چیلوں کی چل ، ہرن چکائے، بارہ سنگے، سانپ، مچھلی، کینچوے، کچھوے وغیرہ وغیرہ۔
قدرت کو ضرورت تھی ایک ایسی مخلوق کی جو نظام عالم کی داد دے اور صنعتِ دنیا کو دیکھ کر صناع حقیقی کے کمال کا اعتراف کرے۔ پس انسان کی خلقت ضرورت ہے قدرت کی اور یہ اسی مخلوق کا کام تھا کہ اپنی محنت اور عقل کی بدولت پہاڑوں سے چشمے بہا دیے اور آسمان پر بے پر و بال اس طرح پہنچا کہ چاند تاروں کی حقیقت معلوم کرلی۔ کیا آپ کو اس سے انکار ہے کہ یہ طرح طرح کے میوے، یہ ہرے بھرے کھیت، یہ لہلہاتے ہوئے درخت جن سے ہمارے گرد و پیش کی زمین مالامال ہے، ہم کو محض انسان کی سعی سے میسر ہوئے؛ ورنہ پہاڑوں کے سنگریزے ہماری خوراک ہوتی اور کوہ آتش فشاں کا ملغوبہ ہمارا پانی۔
ایسی اچھی اور کارآمد مخلوق جس کی محنت سے ہم ہر طرح مستفید ہوں، اس قدر نفرت کی مُستوجب نہیں۔
سارس: مگر انسان جیسی دغاباز شے جو تیری نگاہ میں اشرف اور میری رائے میں ارذل ہے، ہرگز پسند کے قابل نہیں۔ اس کی سرشت میں دھوکا، اس کی طینت میں دغا اور اس کی گھٹی میں خود غرضی پڑی ہوئی ہے۔ افسوس میں نے صبح ہی صبح ایک نہایت منحوس چیز کا نام لیا، انسان! کیسا انسان؟ دغا باز مکار! جس کی محبت جھوٹی ،جس کی باتیں بناوٹی، جس کا دل ظلمت کدہ، سچا احساس اس سے کوسوں دور اور اچھے خیال اس سے میلوں پرے۔ دیکھ وہ سورج کی کرنیں پہاڑ کی چوٹیوں پر پڑنے لگیں۔ اب ہمارا یہاں بیٹھنا ٹھیک نہیں۔ افسوس آج کا سفر ملتوی ہوا، چل پہاڑ پر چل اور حیاتِ انسانی کی کیفیت مجھ سے سن۔
آٹھ دس برس کا عرصہ ہوا، میں بچہ ہی سا تھا۔ ایک رات جبکہ چاندنی چاروں طرف چھٹکی ہوئی تھی، میرے باپ نے باہر نکل کر دیکھا؛ درختوں کے پتوں اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر ایک نور سا برس رہا تھا۔ پیاری بی بی! تجھے کبھی پردیس جانے کا اتفاق نہیں ہوا۔ اگر راستہ میں میرا قدیمی مکان پڑا تو میں تجھے دکھاؤں گا کہ وہ کیسا پرفضا مقام ہے۔ دامن کوہ سے چشموں کا اترا اترا کر اور مچل مچل کر چلنا تجھ کو بتا دے گا کہ فطرت نے میری پرورش کے واسطے کیسی دلفریب اور دلچسپ جگہ انتخاب کی تھی۔ ہاں تو شبِ ماہ اپنا بناؤ سنگھار کیے پردۂ دنیا پر جلوہ گر تھی، والد مرحوم کا دل سیر کو چاہا۔ مجھے اور میری ماں کو ساتھ لیا اور ہم تینوں ہوا میں اڑے۔ تاروں نے بساطِ فلک کو جبینِ عروس بنا رکھا تھا۔ ہم کو کسی خاص جگہ پر جانا مقصود نہ تھا، ہوا کے جھونکوں نے پورب کی طرف دھکیل دیا اور ہم چاندنی کا لطف اٹھاتے اسی طرف کو روانہ ہو گئے۔
رات اٹھلا اٹھلا کے اپنا رستہ طے کر رہی تھی۔ ہم جزیرہ ارسیوان میں پہنچے تو ہمارا گزر قصر سلطانی پر ہوا۔ دیکھتے کیا ہیں کہ شہزادہ الیاس بھی ہماری طرح شب ماہ کا لطف اٹھا رہا ہے اور اس کی معشوقہ برابر میں بیٹھی ٹھنک ٹھنک کر باتیں کر رہی ہے۔ الیاس ٹکٹکی باندھے اس کی صورت دیکھ رہا تھا۔ کچھ عجب قسم کی محبت اُس کی آنکھوں سے ٹپک رہی تھی۔ چونکہ محبت کا وہ مادہ ہمارے دماغ اور جمال سے ارفع و اعلیٰ ہے، میں اس کی صراحت سے مجبور ہوں۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ شہزادی کی ایک ایک ادا الیاس کا کلیجہ مجروح کر رہی ہے۔ وہ دیوانہ وار شہزادی پر نثار ہو رہا تھا، کبھی اس کے نازک ہاتھ اپنی آنکھوں پر رکھتا تھا، کبھی آراستہ و پیراستہ زلف کو سونگھ کر جھومتا ، کچھ دیر تک تو اس طرح قلب مضطرب کو تسکین دی اور پھر بیتاب ہو کر کہنے لگا: “سلطنت کا لطف بھی اسی وقت تک ہے جب تک کہ تو میری آنکھوں کے سامنے ہو، ورنہ شہزادی تمام سامان عیش ہیچ ہے۔ لا گل اندام! اپنے پیارے ہاتھوں سے ایک جام تو دے”۔
شاید عورت کی فطرت ہی میں یہ داخل ہوگا کہ شہزادی الیاس کو اس قدر والہ و شیدا دیکھ کر بے انتہا خوش ہوئی۔ اس کے حسن کی چمک پہلے سے دوچند ہو گئی، گلاب سے رخساروں میں سرخی جھلکنے لگی اور ہونٹوں پر مسکراہٹ آ گئی۔ چاہتی تھی کہ آگے بڑھ کر شیشہ و ساغر اٹھائے، الیاس نے اس کا ہاتھ پکڑا اور کہنے لگا: “ان ہاتھوں کو اس قسم کی تکلیف دینا منشائے قدرت کے خلاف ہے”۔ یہ کہہ کر شہزادہ الیاس نے جام بلوریں آگے رکھا، شہزادی ساغر تیار کر رہی تھی کہ اتفاق سے شیشہ ٹوٹا اور کلائی بالکل لہو لہان ہو گئی۔ اس وقت الیاس کی بے چینی بیان نہیں ہوسکتی۔ آنکھ سے آنسو نکل پڑے، رومال بھگو کر کلائی پر باندھا اور کہنے لگا: “اس خون کا ہر قطرہ میرے کلیجہ سے نکل رہا ہے۔ کاش میرا پورا ہاتھ کٹ جاتا، میں مر جاتا، شہید ہو جاتا مگر میری وجہ سے اس سرخ وسفید کلائی کو یہ اذیت نہ ہوتی”۔
شہزادہ یہیں تک پہنچا تھا کہ میری ماں اپنے خاصۂ فطرت کے موافق والد مرحوم کی طرف متوجہ ہوئی اور کہنے لگی: “سچ یہ ہے، انسان سے زیادہ محبت کی قدر کوئی مخلوق نہیں کر سکتی”۔ یہ کہہ کر وہ اور اس کے پیچھے پیچھے ہم باپ بیٹے اڑے اور اپنے گھر کو واپس آئے۔
مجھے ٹھیک یاد نہیں کہ اس واقعہ کے کتنے روز بعد ایک روز میں سمتِ مشرق سے آرہا تھا، رستہ میں جزیرہ ارسیوان پڑا، میرے دل نے گوارا نہ کیا کہ شہزادی کو جس کے ساتھ مجھے اس رات اتنی ہمدردی ہو گئی تھی، بغیر دیکھے چلا جاؤں؛ چنانچہ میں قصر سلطانی پر ٹھٹکا۔ دوپہر کا سنسان وقت تھا اور گرمی نہایت شدت سے پڑ رہی تھی، دیکھتا کیا ہوں کہ الیاس غمگین و محزون پڑا رو رہا ہے دفعتاً ایک شخص آیا اور خط دے کر چلا گیا۔ مجھے سخت تعجب تھا کہ الیاس نے سیکڑوں مرتبہ وہ خط کھولا، پڑھا اور سر آنکھوں پر رکھا۔ آخر بآواز بلند کہنے لگا: “ظالم اب تک اسی ہٹ پر قائم ہے کہ شہزادی کی زندگی میں مجھ سے کسی تعلق کی امید بالکل فضول۔ خیر یہ کیا بڑی بات ہے، لاؤ آج اس قضیہ کا بھی فیصلہ کردوں”۔ یہ کہہ کر الیاس اندر گیا اور ایک خنجر آبدار لے کر باہر نکلا۔ اس کی دھار دیکھی اور کمر میں لگا کر اس کمرہ میں آیا جو میری آنکھوں کے سامنے تھا۔ آہ پیاری مادہ! آگے بیان کرتے ہوئے کلیجہ کٹتا ہے، وہی شہزادی جو کسی وقت الیاس کے دل پر اچھی طرح قابض اور تمام سلطنت کی مالک تھی، سر پر ہاتھ رکھے بیٹھی تھی اور آنکھ سے ٹپ ٹپ آنسو گر رہے تھے۔ الیاس کی صورت دیکھتے ہی شہزادی گھبرا کر اٹھی۔ گو وہ بالکل ساکت کھڑی تھی مگر سر سے پا تک ایک نا امیدی کی تصویر تھی۔ اس کی بڑی اور رسیلی آنکھیں جو اس وقت گلابی ہو گئی تھیں، بہ حسرت و یاس الیاس کے چہرے پر تھیں اور اس کے تکلیف دہ خیالات کی پریشانی کا اظہار اس کی صورت سے ظاہر تھا۔ نرم اور نازک رخسار گلاب کی پتیوں کی طرح آفات ناگہانی سے مرجھا چکے تھے اور وہ دل جس میں کبھی عشرت و شادمانی کا راج تھا، اس وقت مصائب کی پوٹ بنا ہوا تھا۔
پہلو میں ننھا سا دل رکھنے والی مادہ! مجھے اندیشہ ہے اب واقعات تجھ کو رُلا نہ دیں۔ جس وقت سفاک الیاس نے کمر سے خنجر نکالا، اس کی چمک دیکھ کر شہزادی سہم گئی، اوسان جاتے رہے، تھر تھر کانپنے لگی۔ الیاس آگے بڑھا،شہزادی کا ہاتھ پکڑ کر گھسیٹا اور کہا تیرا جام عمر لبریز ہوچکا۔ یہ خنجر تیرا کام تمام کر دے گا۔ ادھر آ اور مرنے کے واسطے تیار ہو۔

 

علامہ راشد الخیری

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • ہے خبر گرم
  • فطرت کے بھکاری
  • بیرسے ذائقہ بھی فائدہ بھی
  • گلچیں
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
لال کی تلاش
پچھلی پوسٹ
شہزادی کے بہ منت الفاظ

متعلقہ پوسٹس

کیوں کہ

مئی 3, 2026

پنڈ کی دعوت اور ککڑ کی شامت

مئی 21, 2020

شیر آیا شیر آیا دوڑنا

جنوری 21, 2020

جنسی ہراسمنٹ پر گالیاں، تھپڑ اور ویڈیو

نومبر 11, 2019

لالہ امام بخش

فروری 14, 2022

آدم بو

نومبر 26, 2020

برمی لڑکی

اپریل 21, 2019

بیٹی، تعلیم اور بدلتا ہوا دیہی معاشرہ

مارچ 21, 2026

سعودی عرب کا قومی دن اور پاکستان کا جذبۂ اخوت

ستمبر 23, 2025

محبت کی ریت میں

دسمبر 6, 2024

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ایم اے دوشی on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Bakhtiar Hussein on ماٹی قدم کریندی یار
  • Meesam Ali Agha on دو دلوں کے درمیان خاموشی کا فاصلہ
  • مسعود فیروزی on شعر شور انگیز

اسلامی گوشہ

مدح خیر الوری کے پیار میں آجاتے ہیں

اگست 30, 2026

آزاد نعتیہ نظم – حل

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

لباس کی شرعی حیثیت

اگست 4, 2026

اردو شاعری

نہیں خزاں ہی نشان قاتل

اگست 30, 2026

ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

اگست 30, 2026

عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

اگست 30, 2026

وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

اگست 30, 2026

ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

اگست 30, 2026

اردو افسانے

سرخ پینسلیں اور خستہ حال خیمہ

اگست 9, 2026

وہ درخت جو اپنے سائے سے رُوٹھ گیا

اگست 3, 2026

ماں کی خاموش دُعا

جولائی 24, 2026

پنجرے سے پرواز

جولائی 14, 2026

واپسی

جون 2, 2026

اردو کالمز

ایک نئے استعمار کا خاموش سفر

اگست 28, 2026

12 ربیع الاول : آمدِ مصطفیٰ ﷺ

اگست 26, 2026

"شہر نامہ سوم” ایک عمدہ ادبی اور تاریخی...

اگست 26, 2026

تیسری ہندکو کانفرنس

اگست 24, 2026

آقا کریم ﷺ کا احسان

اگست 23, 2026

باورچی خانہ

شنگھائی چکن

مئی 3, 2026

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں خزاں ہی نشان قاتل

    اگست 30, 2026
  • ہر گھڑی بس سوال کرتے ہیں

    اگست 30, 2026
  • عجب سے عجب تیرا اسلوب دنیا

    اگست 30, 2026
  • وہم ہے یا کہ گماں دیکھنا ہے

    اگست 30, 2026
  • ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    اگست 30, 2026
  • نہ بھٹکے ہیں نہ راستہ ہوا غلط

    اگست 30, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

باسط

جنوری 21, 2020

من و سلوی کیا ہے ؟

نومبر 24, 2024

نفسِ نازک کی راہِ فقر

مئی 27, 2025
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں