خوش آمدید!
  • رازداری کی پالیسی
  • اردو بابا کے لیئے لکھیں
  • ہم سے رابطہ کریں
  • لاگ ان کریں
UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں
مرکزی صفحہ اردو تحاریرفطرت کے بھکاری
اردو تحاریراردو کالمزلبنیٰ مقبول غنیمؔ

فطرت کے بھکاری

لبنیٰ مقبول کا ایک اردو کالم

از سائیٹ ایڈمن اپریل 14, 2020
از سائیٹ ایڈمن اپریل 14, 2020 0 تبصرے 451 مناظر
452

فطرت کے بھکاری

گزرے وقتوں کا زکر ہے کہ ایک بہت بڑی سلطنت کا بادشاہ تھا- بادشاہ نہایت خوبرو اور حسین و جمیل تھا، ہر شہزادی کی دلی خواہش تھی کہ اس کی ملکہ بنے- لیکن کبھی کوئی اس کے دل کو نہیں بھایا- ایک دفعہ لشکر کے ساتھ اپنی سلطنت کے ایک پر رونق بازار سے گزرتے ہوئے اس کی نظر ایک بھکارن پر پڑی جو نہایت خوبصورت اور ملکوتی حسن کی مالک تھی- بادشاہ اس کو دیکھ کر مبہوت رہ گیا اور اپنا دل ہار بیٹھا، محل واپس آکر بھی جب کئی دن تک وہ بھکارن اس کے دل و دماغ سے نہ نکل پائی تو بادشاہ نے اس کو اپنی ملکہ بنانے کا فیصلہ کرلیا- اور اسطرح وہ بھکارن اُس سلطنت کی ملکہ بن گئی- بادشاہ بے انتہا خوش تھا لیکن پھر کچھ ہی مہینوں میں ملکہ کا حسن پھیکا پڑنا شروع ہو گیا اور وہ دن بدن کمزور اور لاغر ہوتی گئی-

بادشاہ نے پریشان ہو کر سلطنت کے ماہر طبیبوں کی خدمات حاصل کیں، لیکن ملکہ کی کیفیت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی یہاں تک کہ وہ بسترِ مرگ تک جا پہنچی- بادشاہ نے منادی کرائی کہ جو طبیب بھی ملکہ کا علاج کرے گا اس کو خطیر رقم اور بھاری انعام و اکرام سے نوازا جائے گا-

آخرکار ایک ماہر طبیب ملکہ کے علاج کی ذمہ داری لیتا ہے اور بادشاہ کو کہتا ہے کہ ملکہ کو کھانا دینے والی سب کنیزوں کو ملکہ کی خدمت سے ہٹا دیا جائے- بادشاہ حیران تو ہوتا ہے لیکن ہامی بھر لیتا ہے- طبیب مزید کہتا ہے کہ ملکہ کو اب جو بھی کھانا دیا جائے گا وہ محل کی بارہ کھڑکیوں پر رکھا جائے گا- بادشاہ اس پر بھی راضی ہوجاتا ہے- اُس دن ایسا ہی کیا گیا اور ملکہ کو محل کے باغیچے میں چہل قدمی کے لیے لے جایا گیا اور سب خدمتگاروں کو وہاں سے ہٹ جانے کا حکم دے دیا گیا-

ملکہ کی نظر کھڑکی میں رکھے کھانوں پر پڑی تو وہ بےاختیار وہاں پہنچی اور دونوں ہاتھوں سے اٹھا کر کھانا شروع کردیا۔ اسی طرح پھر وہ دوسری کھڑکی کی طرف گئی اور وہاں سے بھی کھانا کھایا، اس طرح کرتے کرتے جب وہ چوتھی کھڑکی کی طرف گئی تو اس کو وہ کھڑکی بند ملی، اس کے منہ سے آواز نکلنا شروع ہوگئی کہ
"اللہ کے نام پر کچھ دے دو”
بادشاہ ایک کونے میں کھڑا یہ سب نہایت حیرت سے دیکھتا رہا- ہر روز یہ عمل دہرایا جاتا اور حیرت انگیز طور پر ملکہ کی صحت دن بدن بہتر ہونے لگی اور وہ پھر سے پہلے کی طرح خوبصورت اور حسین و جمیل لگنے لگی-

بادشاہ طبیب سے اس سارے معاملے کے پیچھے چھپی حکمت دریافت کرتا تو طبیب کہتا ہے کہ آپ نے ایک بھکارن کو ملکہ تو بنا دیا لیکن مانگ کر کھانا اس کی فطرت میں شامل ہے تو آپ اس کے آگے بھلے دنیا جہان کی آسائشات لا کر رکھ دیں گے لیکن وہ کھانا اور کپڑا اس کے جسم کو نہیں لگے گا کیونکہ وہ مانگ کر کھانے میں ہی خوش اور مطمئن رہتی ہے اور یہی اسکی حقیقت ہے-

اب آپ سب یقیناً یہ سوچ رہے ہوں گے راقم الحروف نے کئی دفعہ کی پڑھی ہوئی یہ کہانی آپ کو کیوں سنائی تو جناب بحیثیت ایک پاکستانی قوم کے ہماری مثال بھی اس بھکارن کی طرح ہے جو مانگ کر کھانے کے عادی تھی، چاہے وہ غریب ہوں یا صنعتکار ہوں یا سیاست دان- اور متوسط طبقے کے کشادہ دل اور امدادی جذبات اس بادشاہ کی طرح ہیں جو اپنی محبت کے ہاتھوں مجبور ہو کر اس بھکارن کو ملکہ بنانے کے خواب دیکھتا ہے اور عملی طور پر پوری کوشش کرتا ہے کہ اس کی خواہشات کا پیٹ بھر سکے-

ان ساری باتوں کا پس منظر وہ وڈیو ہے جو حال ہی میں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی اور جس میں ایک غریب آدمی اس لاک ڈاؤن میں لوگوں اور حکومت کی طرف سے امداد کے طور پر دیے جانے والے راشن کو دکاندار کو فروخت کرنا چاہتا ہےاور یہ انکشاف کرتا ہے کہ اس وقت اس کے پاس کئی من اناج جمع ہوچکا ہے-

تو جناب یہ سب چکر اس نفسیات کا ہے جس میں ایک طرف امداد کرنے والوں کا جذبہ جو کہ ان لوگوں کو غریب سمجھ کر مدد کیے جا رہے ہیں اور دوسری طرف ان غریبوں کی مانگنے کی ہوس جو پوری نہیں ہو رہی اور وہ اس امداد کو اس لاک ڈاؤن نہیں بلکہ اپنی آئندہ نسلوں تک کا حق سمجھ کر وصول کرنا چاہ رہے ہیں-

افسوسناک بات یہ ہے کہ اس سب میں جو اصل غریب اور سفید پوش طبقہ ہے وہ ہی پس رہا ہے- کیوں کہ اس نے کبھی ہاتھ نہیں پھیلایا لہٰذا ان کا کسی کو پتا ہی نہیں چل پاتا اور وہ محروم کے محروم ہی رہتے ہیں-
مخیر حضرات دل کھول کر امداد تو دے رہے ہیں لیکن اس کے ثمرات اصل مستحقین تک نہیں پہنچ پا رہے-

امداد دیتے وقت کا فوٹو سیشن، سفید پوشی کی راہ میں سب سے زیادہ حائل نظر آتا ہے کہ اگر امداد قبول کر بھی لی جائے تو امداد قبول کرنے والا اپنی اولاد اور جاننے والوں میں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہ پاتا-

اس سب کا خوفناک پہلو یہ ہے کہ مانگنا اور مانگ کر بھی مطمئن نا ہونا بلکہ اس کو اپنی نسلوں تک کے لیے محفوظ کر لینے کی فکر اور ہوس ہمیں ہر سطح پر نظر آتی ہے اب چاہے وہ بھکاری ہوں یا سیاست دان یہ سب شاید ایسے ہی ہمارے خون میں شامل ہوچکی ہے اور ہر کوئی اپنی جگہ رہتے ہوئے نا صرف اپنے طریقے کار سے مانگ رہا ہے بلکہ اپنی نسلوں تک کو مستفید کرنا چاہتا ہے-

یہ کرپشن شاید اب ہمارے خون میں رچ بس گئی ہے- ہم بحیثیت قوم، مجموعی طور پر ان حالات میں قناعت اور اللہ پر یقین کے جذبے سے عاری نظر آتے ہیں- امداد دینے والوں کا جذبہ تو قابلِ رشک ہے لیکن جنکی امداد کی جا رہی ہے ان کی کرپشن بھی قابلِ دید ہے- معاملہ صرف اس ایک وڈیو کا نہیں کتنے لوگوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ لوگ بھی جن کو اس وقت راشن کی ضرورت نہیں امداد لینے والی قطاروں میں آگے سے آگے سمیٹنے کی فکر میں غلطاں نظر آتے ہیں- جسکو ایک تھیلا راشن اور امداد مل گئی اور وہ اس کے دو دن کی ضرورت کے لیے کافی ہے تو وہ پھر بھی پر سکون نظر نہیں آتا-

یہ کیسی سوچ ہے؟؟ یہ کیسا انداز ہے؟؟ لاہور اور کراچی میں غریب لوگ ٹولیوں کی شکل میں یہی کام کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں- امداد دینے والا گھروں میں جا کر چیک کرنے سے تو رہا- غریب کے خون میں کرپشن کی آمیزش شاید اس کا قصور نہیں- یہ تو وہ تربیت ہے جو قیامِ پاکستان سے اسے اپنے اطراف سے اور ماحول سے مل رہی ہے-
سیاستدانوں کا حال کسی سے ڈھکا چھپا نہیں- بہتی گنگا میں ہاتھ دھونا ان سے بہتر کس کو آتا ہے- جنہوں نے خود اپنی فکر تو کی ہی کی، اپنے بچوں کی خود سے زیادہ فکر کرتے ہوئے ان کے مستقبل کو محفوظ بنایا اور اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ان کی آئندہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی اتنا کچھ اسی کرپشن اور ملنے والی امداد سے جمع کر لیا ہے کہ یقیناً ان نسلوں کو مستقبل میں ان کے نام کی مالا جپنے کے علاوہ اور کوئی کام کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی-
تو غریب اور امیر اس وقت ایک ہی کشتی کا سوار نظر آتا ہے- چھوٹا بڑے سے سیکھتا ہے اور بڑا دماغ ہر دفعہ کچھ نیا لاتا ہے-
کس کو دوش دیں؟؟
ہمارے خون میں رچی بسی کرپشن کا خاتمہ کیسے ہوگا؟؟
علاقائی سطح پر غریب کی مدد ہو یا عالمی سطح پر غریب ملک کی حیثیت سے مدد…. کتنا جمع کیا جائے اپنے لیے…. بغیر دوسرے کا سوچے ہوئے؟؟
اس پوری کرپشن کو ٹھیک کرنے کے لیے جادو کی چھڑی کہاں سے لائی جائے گی؟؟
پہلا قدم کون اٹھائے گا؟؟؟

آپ؟؟ میں؟؟ غریب؟؟؟ امیر؟؟؟ یا سیاستدان اور صنعتکار؟؟
آئندہ کی فکر کرتے ہوئے جمع کرنا… اس سوچ کو روکنا اور قناعت کرنا اور دوسروں کو موقع دینا…. یہ سب کب اور کس طرح عملی طور پر ہوتا ہوا نظر آئے گا؟؟؟

پاکستان ایک ایسا بدقسمت ملک ہے کہ جہاں غریبوں، یتیموں اور مسکینوں کے حق پر بھی بڑی شان سے ڈاکہ ڈالا جاتا رہا ہے- بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا گیا۔ اپنے اپنے رشتے داروں کو نوازا گیا۔ مگر آج تک کون ان لٹیروں کو پکڑ سکا؟؟ پوری دنیا کورونا سے متاثر ہوٸی، دوسرے ملکوں کی حکومتوں نے خزانوں کے منہ کھول کر سب کو تنخواہیں ادا کی ہیں۔ کسی کو بیروزگار نہیں ہونے دیا۔

ہماری حکومت نے ایک احسن قدم اٹھایا کہ غریبوں کے لیے بارہ ہزار فی کس کے اعتبار سے مالی مدد کا اعلان کیا۔ لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ امداد درحقیقت مستحقین تک پہنچے- ہم سب کی حکومت وقت سے پرزور اپیل ہے کہ اس پروگرام کا حال بھی بینظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسا نہ ہو جائے۔ اس وقت حکومت کا عام غریب اور سفید پوش طبقے تک پہنچنا بہت ضروری ہے۔

لبنیٰ مقبول

آپ کو یہ پسند ہو سکتا ہے۔
  • اندھیر
  • میلاد االنبیؐ کی خوشی
  • انوکھی محبت
  • مِصری کی ڈلی
شئیر کریں 0 FacebookTwitterPinterest
سائیٹ ایڈمن

اگلی پوسٹ
یہی دعا ہے یہی ہے سلام عشق بخیر
پچھلی پوسٹ
تیرے بن زندگی

متعلقہ پوسٹس

دفتر سے محبت تک

جنوری 8, 2025

ماحول دوست رویے اور نوجوانوں کی ذمہ داریاں

مارچ 14, 2026

جلوس

جون 14, 2020

لیکن گومتی بہتی رہی

جنوری 3, 2020

آکسفورڈ میں جنگ اور بادشاہ کی مداخلت

فروری 6, 2023

ایک ریڈیالوجسٹ دوست کے لئے

مئی 3, 2018

نرم دل ایک نعمت

ستمبر 6, 2020

الزامات کا سیاست سے گہرا تعلق!

نومبر 17, 2020

قرآنِ کریم میں تدبر کیسے کریں؟

اپریل 4, 2026

یہاں کچھ ایسی انویسٹمنٹ ضرور کیجیے

مارچ 28, 2022

ایک تبصرہ چھوڑیں جواب منسوخ کریں۔

اگلی بار جب میں تبصرہ کروں تو اس براؤزر میں میرا نام، ای میل اور ویب سائٹ محفوظ کریں۔

اردو بابا سرچ انجن

زمرے

  • تازہ ترین
  • مشہور
  • تبصرے
  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • ساجن شاہ on ابوالفضل المعروف حضرت دیوان بابا
  • نعمان علی بھٹی on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • پیر انتظار حسین مصور on مطالعہ کی عادت اور ہماری نئی نسل
  • سردار حمادؔ منیر on بے حجاباں ایک دن اس مہ کو آنا چاہیے
  • سردار حمادؔ منیر on یا رسولِ خدا اشرفِ انبیاء

اسلامی گوشہ

مرا سخن سخنِ شاہکار ہو جائے

اپریل 6, 2026

سرکارؐ رازِ حق سے مجھے آشنا کریں

اپریل 6, 2026

قرآنِ کریم میں تدبر کیسے کریں؟

اپریل 4, 2026

ایک تھپڑ اور کئی سوال

مارچ 26, 2026

کلام نبویؐ کی کرنیں

مارچ 23, 2026

اردو شاعری

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

اپریل 15, 2026

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

اپریل 14, 2026

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

اپریل 14, 2026

دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے

اپریل 7, 2026

تمہیں میری محبت کا جو اندازہ نہیں ہوتا

اپریل 6, 2026

اردو افسانے

عورت کی تعلیم کی اہمیت

اپریل 7, 2026

اب بس کرو ماں

اپریل 4, 2026

باغ علی باغی (قسط اول)

اپریل 3, 2026

سونے کی بالیاں

مارچ 29, 2026

گل مصلوب

مارچ 25, 2026

اردو کالمز

مودی کا ہندو خطرے میں ہے

اپریل 11, 2026

طاقت کا توازن اور پائیدار امن!

اپریل 10, 2026

ماں بننے کا سفر اور جوائنٹ فیملی کا...

اپریل 8, 2026

سوچ کا انقلاب

اپریل 7, 2026

جنگ کے شعلے اور سسکتی انسانیت

اپریل 5, 2026

باورچی خانہ

چکن چیز رول

نومبر 5, 2025

ٹماٹر کی چٹنی

فروری 9, 2025

مٹر پلاؤ

جنوری 9, 2025

سویٹ فرنچ ٹوسٹ

جولائی 6, 2024

سادہ مٹن ہانڈی

جولائی 5, 2024

اردو بابا کے بارے میں

جیسے جیسے پرنٹ میڈیا کی جگہ الیکٹرونک میڈیا نے اور الیکٹرونگ میڈیا کی جگہ سوشل میڈیا نے لی ہے تب سے انٹرنیٹ پہ اردو کی ویب سائیٹس نے اپنی جگہ خوب بنائی ۔ یوں سمجھیے جیسے اردو کے رسائل وجرائد زبان کی خدمات انجا م دیتے رہے ویسے ہی اردو کی یہ ویب سائٹس بھی دے رہی ہیں ۔ ’’ اردو بابا ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے اردو بابا کے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

ایڈیٹر کا انتخاب

  • نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

    اپریل 15, 2026
  • لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    اپریل 14, 2026
  • کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی

    اپریل 14, 2026
  • خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

    اپریل 12, 2026
  • انجمن پنجاب

    اپریل 11, 2026
  • تنقید کیا ہے

    اپریل 11, 2026

مشہور پوسٹس

  • 1

    کھا کے سوکھی روٹیاں

    اپریل 27, 2020
  • 2

    حروفِ تہجی

    فروری 21, 2019
  • 3

    اکبرؔ الہ آبادی کی طنزیہ ومزاحیہ شاعری

    دسمبر 28, 2019
  • 4
    8.0

    ہم یوسفِ زماں تھے ابھی

    دسمبر 3, 2019
  • 5

    غزل کے عناصر

    نومبر 25, 2018
  • 6

    تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا

    اپریل 8, 2020

© 2026 - کاپی رائٹ اردو بابا ڈاٹ کام کے حق میں محفوظ ہے اگر آپ اردو بابا کے لیے لکھنا چاہتے ہیں تو ہم سے رابطہ کریں

UrduBaba
  • سرورق
  • اسلامی گوشہ
    • قرآن پاک پڑھیں
    • حمد و ثنا
    • تفسیر و احادیث
    • نعتیہ کلام ﷺ
    • سلام اہل بیت
    • اسلامی مضامین
  • اردو بابا سپیشل
    • اردو پیڈیا
    • اردو کوئز
    • تشریحات
    • حکایات
    • اردو تقریبات
    • باورچی خانہ
    • ادبی قصے
    • سوانح حیات
  • شعر و شاعری
    • اردو غزلیات
    • اردو نظم
    • ترانے اور ملی نغمے
  • اردو تحاریر
    • اردو افسانے
    • اردو کالمز
    • اختصاریئے
    • اردو تراجم
    • اردو ڈرامے
  • آپکا اردو بابا
  • اردو ڈاؤن لوڈز
    • اردو سافٹ ویئر
    • پی ڈی ایف کتابیں

یہ بھی پڑھیںx

شب زفاف جب داغدار ہو جائے...

نومبر 29, 2019

بے ادب سہیلیاں

دسمبر 29, 2019

والد صاحب

فروری 15, 2020
لاگ ان کریں

جب تک میں لاگ آؤٹ نہ کروں مجھے لاگ ان رکھیں

اپنا پاس ورڈ بھول گئے؟

پاس ورڈ کی بازیابی

آپ کے ای میل پر ایک نیا پاس ورڈ بھیجا جائے گا۔

کیا آپ کو نیا پاس ورڈ ملا ہے؟ یہاں لاگ ان کریں